14
Muharram

(حلال کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں (پہلی قسط

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
اسلام نے دنیا کو بیش بہا عطیات دیے ہیں ان میں سے ایک اس کا انتہائی لطیف، نفیس اور پاکیزہ ’’نظام اکل و شرب‘‘ ہے۔ جس کی حساسیت کا اندازہ وہی شخص کرسکتا ہے جس کے سامنے اس حوالے سے قرآن و سنت کے احکامات پوری طرح واضح ہوں۔ قرآن حکیم میں ایک جگہ تمام اہل ایمان کو اور دوسری جگہ انبیا کو اپنی ماکولات کو ’’طیب‘‘ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چند آیات و احادیث ملاحظہ ہوں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ 
یا ایھا الناس کلو مما فی الارض حلالا طیبا ولا تتبعوا خطوات الشیطن انہ لکم عدو مبین۔ (البقرۃ: ۱۶۸)
ترجمہ: اے لوگو

مزید پڑھیے

12
Jumadi ul Awwal

وہ مصنوعات جن میں قلیل مقدار میں حرام شامل ہو

بعض  غذائی مصنوعات جو کسی غیرمسلم ملک سے درآمد کی جاتی ہیں یا مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں اور ان میں کوئی حرام جزء بھی شامل ہوتاہے، مگر وہ جزء مقدار میں اتنا کم ہوتا ہے کہ پورے پروڈکٹ کے مقابلے اس کی نسبت بہت کم بالکل  نہ ہونے کی برابر ہوتی ہے، مثلا ہزار لیٹر محلول میں ایک لیٹر الکحل ہو تو اس کی نسبت ہزاواں حصہ بنتی ہے  گویا کہ پانی کے ہزار قطروں میں ایک قطرہ حرام کا ہے۔

اگر مقدار کی اس کمی کو مدنظر رکھیں اور اس کے ساتھ کچھ اورعقلی  اور نقلی دلائل کا اضافہ کرلیں تو نظر بظاہر ایسے پروڈکٹ کا خوردنی استعمال جائز ہونا چاہیے،مثلا:

1۔        شراب جب بدل کر سرکہ بن جائے تو بالاتفاق وہ حلال ہوجاتا ہے حالانکہ ماہرین کے بقول اس میں پھر بھی دو فیصد شراب کے ا

مزید پڑھیے

5
Jumadi ul Awwal

دردی الخمر (Tartaric Acid)

مائع اشیاء  جیسے تیل،شہد اور شراب کی تہہ میں جو تلچھٹ رہ جاتی ہے اسے دردی کہتے ہیں، اسے روبہ یعنی خمیرہ بھی کہا جاتا ہے جو شیرہ پر شراب بنانے کی غرض سے ڈالا جاتا ہے۔دردی الخمر شراب کی تلچھٹ اور کدورت کو کہتے ہیں۔اس پر اتفاق ہے  کہ  عام شرابوں کی طرح یہ بھی:

 حرام ہے۔

نجس  ہے۔

اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز  وحرام ہے۔

حنفیہ کے علاوہ دیگر مسالک  میں اس کا  ایک قطرہ پینا بھی  حد کا موجب ہے،البتہ   احناف کے نزدیک  ا گر نشے سے کم مقدار میں  دردی خمر استعمال کرلیا جائے تو حد واجب نہیں ہوگی کیونکہ  یہ شراب  کی تلچھٹ اور کدورت ہوتی ہے اور اس طرح رغبت اور شوق سے نہیں پی جاتی جس ط

مزید پڑھیے

11
Ramadan

رمضان فضائل ومسائل

رمضان المبارک ہزاروں رحمتوں اوربرکتوں کواپنے دامن میں لئے ہم پرسایہ فگن ہے،اوریہ بابرکت مہینہ ایمان وتقوی کامہینہ ہے،جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پرخاص رحمت وبخشش نازل فرماتے ہیں۔حدیث شریف میں آتاہے کہ اس کاپہلاعشرہ رحمت،دوسرابخشش اورتیسرادوزخ سے آزادی کاہے۔اس ماہ مبارک میں نورانیت میں اضافہ،روحانیت میں ترقی،اجروثواب میں زیادتی اوردعائیں قبول کی جاتی ہیں۔اس مبارک مہینے کواللہ تعالیٰ نے اپنامہینہ قراردیاہے،گویااس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ انسان کواپنابندہ بناناچاہتے ہیں،اورانسان کواس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک سے ٹوٹاہوارشتہ جوڑلیں۔اس ماہ مبارک میں دربارِالٰہی سے کسی سائل کوخالی ہاتھ،کسی امیدوارکوناامیداورکسی طالب کوناکام ونامرادنہیں رکھاجاتا۔

بلکہ ہرشخص ک

مزید پڑھیے

9
Ramadan

فوڈ کے متعلق حلال اسٹینڈرڈز

اسلام تمام زمانوں اور پورے انسانوں کے لیے ہے اس لیے اس کی تعلیمات اورہدایات بھی ابدی،آفاقی اور عالمگیر نوعیت کی ہیں۔قرآن کریم جب نمازو روزہ اورحج اورزکواۃ کو بیان کرتاہے تو یأیھا الذین آمنو ‘‘کہہ کر صرف مسلمانوں کو مخاطب کرتاہے مگر جب وہ آفاقی اصولوں،عالمی قدروں اورزمان ومکان سے بے نیاز اپنے عمومی اصولوں کو بیان کرتاہے تو اس کا طرزخطاب بدل جاتاہے،لہجے میں تغیر آجاتاہے اور روئے سخن مسلمانوں کے بجائے تمام انسانوں سے ہوجاتاہے اور وہ خصوصی طرزخطاب کو چھوڑکر عمومی طرز بیان اختیار کرلیتاہے۔چنانچہ جب حلال وحرام کے بیان کا معاملہ آتاہے تو جنس و نوع، ،مذہب وملت اور رنگ ونسل سے قطع نظر کرکے یاأ یھاالذین آمنو کے بجائے یاأ یھاالناس کے ذریعے خطاب کرتاہے۔اس طرح وہ مسلمانوں کے ساتھ،یہودیوں،عیسائیوں،ہندوؤں اوربڈہستوں سب کو شامل کرلیتاہے۔


مزید پڑھیے