1
Muharram

کونسل کے ۱۹۷ ویں اجلاس کے سفارشات و ملاحظات

بسم الله الرحمن الرحيم

ایجنڈا آئٹم نمبر۱:

کونسل کے ۱۹۷ ویں اجلاس کی روداد برائے توثیق

 

          اس ایجنڈے میں کونسل کے ا۹۷ ویں اجلاس  مورخہ ۲۰/ ۲۱ جنوری ۲۰۱۵ء کی روداد کے مسودے کی توثیق مطلوب ہے، اس سلسلے میں درج ذیل نکات قابل غور ہیں:

 

۱۔ ایجنڈا آئٹم نمبر ۳:

(i)  تعدد  ازدواج کے لیے نفقہ پر قادر ہونا:

تعدد ازدواج کے لیے نفقہ پر قادر ہونا ائمہ اربعہ میں سے کسی کے نزدیک شرط نہیں،البتہ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی کے ہاں نفقہ پر قدرت نہ رکھنے والے کے لیے دوسرا نکاح کرنا مناسب نہیں ہے، اس کے باوجود اگر وہ نکاح کرے تو نکاح  منعقدہوجائے گا ،تاہم یہ شخص گناہ گار ہوگا، ایسی صورت میں حاکم وقت کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ اسے نکاح سے روکے۔

ملاحظات:

          ۱۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں بھی نفقہ پر قدرت نہ رکھنے والے کے لیے نکاح کرنا مکروہ ہے۔

          ۲۔ریسرچ نوٹ کے خلاصہ میں شق نمبر ۲ میں اسے شرط قرار دے کر یہ کہا گیا ہے کہ " اس کا ہرگز یہ مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی شخص نفقہ پر قادرنہ ہونے کے باوجود نکاح کرے تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا، نکاح کے انعقاد میں کوئی اختلاف نہیں"، شرط کی تعریف یہ ہے کہ جس کے نہ ہونے سے مشروط بھی نہ پایا جائے، اس تعریف کے مطابق نفقہ پر قادر ہونے کودوسرے نکاح کے لیے  شرط قرار دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ قدرت ہونے کی صورت میں نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا ، جب کہ ایسا نہیں ، لہذا عبارت کی تصحیح ضروری ہے،ائمہ ثلاثہ کے مذہب کے بیان میں یہ کہا جائے کہ ان کے ہاں دوسری شادی کے لیے نفقہ پر قدرت شرط نہیں، تاہم قدرت نہ رکھنے والے کے لیے دوسری شادی مکروہ ہے۔

۳۔  یہ کہا گیا کہ "شوافع و حنابلہ پہلی شادی کے لیے قدرت کو شرط نہیں قرار دیتے ،کیوں کہ وہاں گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، لہذا نفقہ پر قدرت کو شرط نہیں کہا،  لیکن دوسری یا تیسری شادی میں اس ابتلاء کا اندیشہ نہیں ، لہذا دوسری شادی کو پہلی شادی پر قیاس کرکے اس کے لیے بھی نفقہ پر قدرت کو شرط قرارنہ  دینا درست نہیں"، اس سلسلے میں  عرض ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں امام نووی رحمہ  اللہ کے بقول نفقہ پر قدرت نہ رکھنے والے شخص کے لیے پہلا نکاح ہی مکروہ ہے، لہذا دوسرا نکاح بھی مکروہ ہی ہوگا، امام احمدرحمہ اللہ  کے ہاں ابن قدامہ کی تصریح کے مطابق اس شخص کے لیے نکاح کرنا مستحب ہے جس کی نفسانی خواہش اس پر غالب نہ ہوں، چاہے وہ نفقہ پر قادر ہو یا نہ ہو، جو شخص شادی شدہ ہو وہ اسی مرتبہ میں داخل ہے، پہلی شادی کی وجہ سے اس کی نفسانی خواہشات مغلوب ہوگئی ہیں، اس کے لیے نکاح مستحب ہے، چاہے نفقہ پر قادر ہو یانہ ہو۔

 

حوالہ جات

القسم الثالث ، من لا شهوة له ، إما لأنه لم يخلق له شهوة كالعنين ، أو كانت له شهوة فذهبت بكبر أو مرض ونحوه ، ففيه وجهان ؛ أحدهما ، يستحب له النكاح ؛ لعموم ما ذكرنا والثاني ، التخلي له أفضل ؛ لأنه لا يحصل مصالح النكاح ، ويمنع زوجته من التحصين بغيره ، ويضر بها ، ويحبسها على نفسه ، ويعرض نفسه لواجبات وحقوق لعله لا يتمكن من القيام بها ، ويشتغل عن العلم والعبادة بما لا فائدة فيه والأخبار تحمل على من له شهوة ؛ لما فيها من القرائن الدالة عليها .

وظاهر كلام أحمد أنه لا فرق بين القادر على الإنفاق والعاجز عنه ، قال : ينبغي للرجل أن يتزوج ، فإن كان عنده ما ينفق ، أنفق ، وإن لم يكن عنده ، صبر ، ولو تزوج بشر كان قد تم أمره .واحتج { بأن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصبح وما عندهم شيء ، ويمسي وما عندهم شيء } { وأن النبي صلى الله عليه وسلم زوج رجلا لم يقدر على خاتم حديد ، ولا وجد إلا إزاره ، ولم يكن له رداء } أخرجه البخاري قال أحمد ، في رجل قليل الكسب ، يضعف قلبه عن العيال : الله يرزقهم ، التزويج أحصن له ، ربما أتى عليه وقت لا يملك قلبه .

وهذا في حق من يمكنه التزويج ، فأما من لا يمكنه ، فقد قال الله تعالى : وليستعفف الذين لا يجدون نكاحا حتى يغنيهم الله من فضله .

( المغني لابن قدامة، كتاب النكاح ۱۴/ ۳۵٦ )

الفصل الأول فيمن يستحب له النكاح الناس ضربان تائق إلى النكاح وغيره فالتائق إن وجد أهبة النكاح استحب له سواء كان مقبلا على العبادة أم لا

 وإن لم يجدها فالأولى أن لا يتزوج ويكسر شهوته بالصوم فإن لم تنكسر به لم يكسرها بالكافور ونحوه بل يتزوج

 وأما غير التائق فإن لم يجد أهبة أو كان به مرض أو عجز بجب أو تعنين أو كبر كره له النكاح لما فيه من التزام ما لا يقدر على القيام به من غير حاجة وإن وجد الأهبة ولم يكن به علة لم يكره له النكاح لكن التخلي للعبادة أفضل

روضة الطالبين وعمدة المفتين - (7 / 18)

قلت ومقتضاه الكراهة أيضا عند عدم ملك المهر والنفقة لأنهما حق العبد أيضا وإن خاف الزنا لكن يأتي أنه يندب الاستدانة له

حاشية رد المختار على الدر المختار - (3 / 6)

يمنع إذا لم يقدر على نفقة المرأة مواهب الجليل لشرح مختصر الخليل - (5 / 20)

 ( والشرط ما يلزم من عدمه العدم ) للمشروط ( ولا يلزم من وجوده وجود ولا عدم ) له

طريقة الحصول على غاية الوصول - (1 / 42)

والناس في النكاح على ثلاثة أضرب ؛ منهم من يخاف على نفسه الوقوع في محظور إن ترك النكاح ، فهذا يجب عليه النكاح في قول عامة الفقهاء ؛ لأنه يلزمه إعفاف نفسه ، وصونها عن الحرام ، وطريقه النكاح .

المغني في فقه الإمام أحمد بن حنبل الشيباني ـ مشكول - (14 / 353)

(ii) سزائے قید کی وجہ سے فسخ نکاح:

اس مسئلہ پر بحث کرنے سے پہلے دو باتیں توجہ طلب ہیں:

۱۔ایک مرتبہ جماع عورت کا حق ہے، اس سے زائددیانۃ حق ہے، البتہ عورت کو اس حق سے بالکلیہ محروم کرنا درست نہیں، تاہم اگر شوہر ایک مرتبہ یہ حق ادا کرے اور پھر چھوڑ دے تو عدالت کے ذریعہ اسے حاصل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے بنیاد بنا کر نکاح ختم کروایا جاسکتاہے۔

۲۔اگر شوہر نفقہ دینے پر قادر نہ ہو تو عورت عدالت میں مقدمہ دائر کرکے نکاح ختم کرواسکتی ہے۔

لہذا جس شخص کو سزائے قید ہوئی ہو اور اس کی بیوی کے لیے نفقہ کی کوئی سبیل نہ ہو تو اس کے مطالبہ پر عدالت شرائط کو مدنظر رکھ کر نکاح فسخ کرسکتی ہے، اگر اس کی بیوی کے نان نفقہ کی کوئی راہ ہوتو صرف اس وجہ سے اس کا نکاح فسخ نہیں کیا جائے گا کہ اس عورت کے حقوق زوجیت ادا نہیں ہورہے، کیوں کہ پہلے یہ بات بیان کی جاچکی ہے کہ ایک سے زائد مرتبہ جماع عورت کا دیانۃ حق ہے، قضائے قاضی کے تحت یہ نہیں آسکتا۔

جب عورت کو فسخ نکاح کا حق نہیں تو یہ حیلہ اختیار کرنا درست نہیں کہ شوہر اور عورت کو ملاقات کا موقع دیا جائے، اس میں عورت کی عزت نفس مجروح ہوسکتی ہے۔

 

حوالہ جات

ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا ولا يبلغ مدة الإيلاء إلا برضاها ويؤمر المعتبد بصحبتها أحيانا وقدره الطحاوي بيوم وليلة من كل أربع لحرة وسبع لأمة

في الرد: قوله ( ويسقط حقها بمرة ) قال في الفتح واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة لكن لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة   ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به اه  قال في النهر في هذا الكلام تصريح بأن الجماع بعد المرة حقه لا حقها اه

 قلت فيه نظر بل هو حقه وحقها أيضا لما علمت من أنه واجب ديانة  قال في البحر وحيث علم أن الوطء لا يدخل تحت القسم فهل هو واجب للزوجة وفي البدائع لها أن تطالبه بالوطء لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه وإذا طالبته يجب عليه ويجبر عليه في الحكم مرة والزيادة تجب ديانة لا في الحكم عند بعض أصحابنا وعند بعضهم عليه في الحكم اه

وبه علم أنه كان على الشارح أن يقول ويسقط حقها بمرة في القضاء أي لأنه لو لم يصبها مرة يؤجله القاضي سنة ثم يفسخ العقد أما لو أصابها مرة واحدة لم يتعرض له لأنه علم أنه غير عنين وقت العقد بل يأمره بالزيادة أحيانا لوجوبها عليه إلا لعذر ومرض أو عنة عارضة أو نحو ذلك وسيأتي في باب الظهار أن على القاضي إلزام المظاهر بالتكفير دفعا لضرر عنها بحبس أو ضرب إلى أن يكفر أو يطلق وهذا ربما يؤيد القول المار بأنه تجب الزيادة عليه في الحكم فتأمل

( الدر المختار مع رد المحار، كتاب النكاح ، باب القسم ۳/ ۲٠۲ و ۲٠۳ ط:سعيد)

وأفاد البهنسي أنها لو تزوجته على أنه حر أو سني أو قادر على المهر والنفقة فبان لخلافه أو على أنه فلان ابن فلان فإذاا هو لقيط أو ابن زنا كان لها الخيار فليحفظ

(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الطلاق ، باب العنين و غيره ۳/ ۵٠۱ ط: سعيد)

 

                     

 

 

 

 

 

 

 

 

(iii)میاں بیوی کے اختلاف کی صورت میں تحکیم کی صورت:

       اگر میاں بیوی کےدرمیان اختلاف ہوجائے تو اس اختلاف کے دو صورتیں ہیں:

          ۱۔ اختلاف ایسا  ہو کہ دونوں کے درمیان نباہ نہ ہورہا ہو، دونوں یا کوئی ایک فریق نکاح ختم کرنا چاہ رہا ہو،ایسی صورت میں جس کی طرف سے نکاح ختم کرنے کا اختیار دیا گیا ہو ثالث  اس کی جانب سے نکاح ختم کرسکتا ہے،چاہے وہ قاضی ہو یا عام شخص۔

          ۲۔ فریقین یاان میں سے کوئی ایک نکاح ختم کرنا نہ چاہتا ہو ایسی صورت میں ثالث ، چاہے قاضی ہو یا عام شخص، نکاح ختم نہیں کرسکتا۔

 

حوالہ جات

قوله فَابْعَثُوا حَكَماً مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَماً مِنْ أَهْلِها على أن الذي من أهله وكيل له والذي من أهلها وكيل لها كأنه قال فابعثوا رجلا من قبله ورجلا من قبلها فهذا يدل على بطلان قول من يقول إن للحكمين أن يجمعا إن شاءا وإن شاءا فرقا بغير أمرهما

(أحكام القرآن للجصاص ، ۳/ ۱۵٠ دار احياء التراث العربى ـ بيروت)

 

 

 

 

 

 

 

 

(iv)حق زوجیت ادا کرنے کے بعد نامردی لاحق ہونے کی وجہ سے فسخ نکاح:

       یہ بات گزر چکی ہے کہ ایک مرتبہ جماع عورت کا حق ہے، اگر شوہر اس پر قادر نہیں تو اس کی وجہ سے نکاح ختم کیا جاسکتا ہے، البتہ ایک بار کے علاوہ جماع عورت کادیانۃ حق ہے جسے وہ عدالت کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتی اور  اس کی وجہ سے نکاح ختم نہیں کیا جاسکتا، لہذا اگر کوئی شخص ایک مرتبہ جماع کرنے کے بعد نامرد ہوجائے تو اس کی وجہ سے عورت کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔

 

حوالہ جات

( فلو جب بعد وصوله إليها ) مرة ( أو صار عنينا بعده ) أي الوصول ( لا ) يفرق لحصول حقها بالوطء مرة

و في الرد: قوله ( لحصول حقها بالوطء مرة ) وما زاد عليها فهو مستحق ديانة لا قضاء بحر عن جامع قاضيخان  ويأثم إذا ترك الديانة متعنتا مع القدرة على الوطء ط·

( الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الطلاق، باب العنين و غيره ۳/ ۴۹۵ ط: سعيد)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایجنڈا آئٹم نمبر ۴:

جمہور صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین خاص کر ائمہ اربعہ کا یہ موقف ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دےتو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، اگر کسی مجبوری کی وجہ سے طلاق دینی پڑے تو ایک طلاق دے کر ضرورت پوری کی جاسکتی ہے، تین طلاقیں دیناضرورت سے زائداور خلاف سنت ہے،حکومت اس کے سد باب کے لیے مناسب مواقع پر تعزیری سزا نافذ کرسکتی ہے۔

ہمارے کورٹوں کے باہر بنے بنائے تین طلاقوں کے اسٹامپ ملتے ہیں، جسے داخلہ فارم کی طرح پر کردیا جاتا ہے، اس کے سدباب کے لیے بھی تعزیری سزا کا حکم جاری کیا جاسکتا ہے۔

البتہ یہاں یہ مسئلہ قابل توجہ ہے کہ شدید غصہ میں دی جانے والی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر شوہر قسم کھا لے تو اس کی بات کا عتبار ہوگا یا نہیں؟

 

 شدید غصہ میں دی جانے والی طلاق:

طلاق بسا اوقات مجبوریوں کی وجہ سے سوچ بچار کے بعد دی جاتی ہے، لیکن عموما جب شوہر بیوی پر غصہ ہوتا ہے، اسے انتہائی سزا یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ بیوی کو طلاق دے دے، پیار و محبت میں کوئی طلاق نہیں دیتا، اس لحاظ سے تھوڑا بہت غسہ میں دی جانے والی طلاق کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔

البتہ شدید غصہ ہو جس میں اسے اپنے اوپر اختیار نہ ہو، اس طلاق کے بارے میں بعض حضرات نے طلاق واقع نہ ہونے کا کہا ہے، البتہ فقہائے احناف کے نزدیک ایسے شخص کی طلاق واقع ہوجائے گی۔

لہذا ایسے شخص کے دعوی کا عتبار ہی نہیں جو یہ کہے کہ میں شدید غصہ کی حالت میں طلاق دی تھی، اب مجھ سے قسم لے کر میری بات مانی جائے۔

 

 

 

حوالہ جات

مطلب في طلاق المدهوش  وقال في الخيرية غلط من فسره هنا لا يلزم من التحير وهو التردد في الأمر ذهاب العقل  وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش فأجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان اه

 قلت وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها إنه على ثلاثة أقسام أحدها أن يحصل له مبادي الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده وهذا لا إشكال فيه الثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله اه ملخصا من شرح الغاية الحنبلية لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال ويقع طلاق من غضب خلافا لابن القيم اه

 وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش لكن يرد عليه أنا لم نعتبر أقوال المعتوه مع أنه لا يلزم فيه أن يصل إلى حالة لا يعلم فيها ما يقول ولا يريده

 وقد يجاب بأن المعتوه لما كان مستمرا على حالة واحدة يمكن ضبطها اعتبرت فيه واكتفى فيه بمجرد نقص العقل بخلاف الغضب فإنه عارض في بعض الأحوال لكن يرد عليه الدهش فإنه كذلك

 والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر ولا ينافيه تعريف الدهش بذهاب العقل فإن الجنون فنون ولذا فسره في البحر باختلال العقل وأدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش ويؤيد ما قلنا بعضهم العاقل من يستقيم كلامه وأفعاله إلا نادرا والمجنون ضده

 وأيضا فإن بعض المجانين يعرف ما يقول ويريده ويذكر ما يشهد الجاهل به بأن عاقل ثم يظهر منه في مجلسه ما ينافيه فإذا كان المجنون حقيقة قد يعرف ما يقول ويقصده فغيره بالأولى فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل نعم يشكل عليه ما سيأتي في التعليق عن البحر وصرح به في الفتح والخانية وغيرهما وهو لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر إن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول وسعه الأخذ بشهادتهما وإلا لا اه

 فإن مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول يقع طلاقه وإلا فلا حاجة إلى الأخذ بقولهما إنك استثنيت وهذا مشكل جدا إلا أن يجاب بأن المراد بكونه لا يدري ما يقول أنه لقوة غضبه قد ينسى ما يقول ولا يتذكره بعد وليس المراد أنه صار يجري على لسانه ما لا يفهمه أو لا يقصده إذ لا شك أنه حينئذ يكون في أعلى مراتب الجنون ويؤيد هذا الحمل أنه في هذا الفرع عالم بأنه طلق وهو قاصد له لكنه لم يتذكر الاستثناء لشدة غضبه هذا ما ظهر لي في تحرير هذا المقام والله أعلم بحقيقة المرام  ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب وهو أنه قال في الولوالجية إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين فقوله لا يحفظه بعده صريح فيما قلنا والله أعلم

(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الطلاق ۳/ ۲۴۴ ط: سعيد)

عن أنس أن عمر كان إذا أتى برجل طلق امرأته ثلاثا أوجع ظهره وسنده صحيح

فتح الباري، كتاب الطلاق، باب من جوز الطلاق الثلاث ۹/ ۳۶۲ ط: دار المعرفة - بيروت

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایجنڈا آئٹم نمبر ۵:

          عورت كو قاضی و جج بنانے کے سلسلے میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں:

          ۱۔ قضا کا اہل وہ شخص ہے جو گواہی کا اہل ہو، کیوں قاضی اور گواہ اپنے سامنے موجود شخص پر ولایت اور برتری رکھتے ہیں، لہذا جس طرح عورت حدود و قصاص کے علاوہ معاملات میں گواہی دے سکتی ہے اسی طرح حدود و قصاص کے علاوہ امور میں قاضی بھی بن سکتی ہے۔

          ۲۔ اگر عورت کو قاضی بنایا گیااور اس نے حدود اور قصاص کے علاوہ میں کوئی فیصلہ کیا تو وہ درست ہوگا، تاہم عورت کو قاضی مقرر کرنے والے کو گناہ ہوگا۔

۳۔ ملک کا عدالتی نظام اس کی فلاح و ترقی کا ضامن ہوتا ہے، اس کے چلانے والے ایسے افراد ہوں جو مظبوط قوت ارادی اور حاکمانہ صلاحیت رکھتے ہوں، اپنے اعصاب پر قابو پانے اور قوت فیصلہ رکھنے میں بجز چند جزئی مثالوں کے مرد اس میدان میں عورتوں پر فوقیت رکھتے ہیں، لہذا قرین قیاس ہے کہ یہ اہم عہدہ مردوں کے سپرد کیا جائے۔

 

حوالہ جات

قال : ( ويجوز قضاء المرأة فيما تقبل شهادتها فيه ) إلا أنه يكره لما فيه من محادثة الرجال ومبنى أمرهن على الستر

(الاختيار لتعليل المختار، كتاب أدب القاضي ۲/ ۹٠ دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان)

( قوله وتقضي المرأة في غير حد وقود ) ؛ لأنها أهل للشهادة في غيرهما فكانت أهلا للقضاء لكن يأثم المولي لها للحديث { لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة } رواه البخاري وفي فتح القدير ألا ترى أنها تصلح شاهدة وناظرة في الأوقاف ووصية على اليتامى ا هـ .

فظاهره صحة تقريرها في النظر والشهادة في الأوقاف وإن لم يكن بشرط الواقف وقد أفتيت فيمن شرط الشهادة في وقفه لفلان ثم من بعده لولده فمات وترك بنتا أنها تستحق وظيفة الشهادة واستغربه بعض القضاة ولا عبرة به بعدما ذكرنا ، وأما سلطنتها فصحيحة وقد ولي مصر امرأة تسمى شجرة الدر جارية الملك الصالح بن أيوب وفي الخلاصة لو قضت في الحدود والقصاص فرفع إلى قاض آخر فأمضاه ليس لغيره أن يبطله ا هـ

( البحر الرائق، كتاب القضاء

ایجنڈا آئٹم نمبر ۵:

 

مسلم فیملی لاز آرڈیننس1961ء کی دفعہ 8 کا نیا متن

 

کونسل  کی تجویز کردہ دفعہ کے متعلق

 

کونسل کی تجویز کردہ دفعہ کی یوں تعبیر مناسب معلوم ہوتی ہے:

 

دفعہ 8۔تفویض طلاق اور خلع  کابیان :

۱۔ اگر معاہدہ معاہد ہ کے وقت  یا اس کےبعد،بیوی کو یا کسی اور کو،شوہر نے اصالۃ یا وکالۃ ،مشروط یا غیرمشروط طورپر حق طلاق تفویض کیا  ہو تو بیوی شرائط کے تابع ،اگر کوئی ہوں،حق تفویض کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنے اوپر طلاق واقع کرسکتی ہے۔

توضیح:اگر شوہر نے  حق طلاق تفویض کرتے ہوئے طلاق کا کوئی عدد یا وصف ذکر نہ کیا ہو تو بیو ی کو صرف ایک طلاق رجعی کے ایقاع کاحق ہوگا۔

۲۔لفظ خلع یا مباراۃ یا ان کے ہم معنی الفاظ کے ذریعے کسی مالی عوض کے بدلے ،جس پر زوجین متفق ہوں ،رشتہ زوجیت ختم کرنے کو خلع کہتے  ہیں۔

تشریح

خلع اور طلاق کا فرق یہ ہے کہ طلاق شوہر کا خود اختیاری عمل ہے مگرخلع  باہمی رضامندی سے  نکاح کی تنسیخ ہے۔خلع اور طلاق بالمال  میں وجہ امتیاز یہ ہے کہ خلع میں خاص الفاظ کا استعمال ضروری ہے البتہ باہمی رضامندی دونوں میں شرط ہے۔ اس لیے  زوجین   میں سے کوئی ایک یکطرفہ طور پریا عدالت کی مداخلت سے اس حق  کوبروئے کا رنہیں لاسکتا جب تک کہ فریق ثانی  کی  رضامند نہ ہو۔

مباراۃ یہ ہے کہ بیوی کے شوہر کے ذمہ ہر ایسے حق سے دست بردار ہوجائے جو جو نکاح سے تعلق رکھتا ہو۔

  تجویز

کونسل اگر دفعہ 8 کو جامع بنانا چاہے جیساکہ رپورٹ میں اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے تو پھر متذکرہ دفعہ میں زوجیت کے خاتمہ کے تمام اسباب سمو نے کی ضرورت ہوگی۔مثلا یہ کہ حنفیہ کے نزدیک وہ اسباب جو طلاق کے حکم میں درج ذیل ہیں:

طلاق

خلع

ایلاء

لعان

عیب کے سبب تفریق(مع جملہ اقسام)

شوہر کا اسلام سے  انکار

وہ اسباب جو فسخ کے حکم میں ہیں،مثلا:

خیار بلوغ

ارتداد زوج(طرفین کے نزدیک)

غبن فی المہر

عدم کفاء ت

حرمت مصاہرت

فساد عقد یا بطلان عقد کے سبب تفریق،وغیرہ

 

 

 

 

ایجنڈا آئٹم نمبر ۶:

 

عدالت کے ذریعے خلع کا حصول۔۔۔موجودہ صورت حال اور درپیش مسائل

 

خلع کے بارے  میں چند نکات عرض خدمت ہیں:

۱۔یہ درست ہے کہ موجودہ عدالتی نظام میں خلع کے ذریعے بیوی کے لیے شوہر سے خلاصی بہت آسان ہے اور تقریبا خلع کے ہر مقدمے میں فیصلہ اسی کے حق میں ہوتا ہے۔دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات واقعۃ بیوی مظلوم ہوتی ہے اور شوہر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ بیوی کو بساتا ہے اور نہ طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع دینے پر آمادہ ہوتا ہے ۔اس کا مقصد صرف بیوی کو ستانا اور دکھ دینا ہوتا ہے چنانچہ اس قسم کے جملے بھی  شوہر سے سننے کو ملتے ہیں کہ جس طرح اس کے دانت سفید ہیں اس طرح اس کے بال سفید ہوجائیں گے مگر میں پھر بھی اسے نہیں چھوڑوں گا۔ جب ان حالات میں بیوی عدالت سے خلع حاصل کرلیتی ہے تو شوہر اسے  شرعی قانون کے تحت چیلنج کرلیتا ہے حالانکہ اس کامقصد شریعت پر عمل نہیں بلکہ اپنی ضد پوری کرنا اور بیوی کو نیچا دکھانا مقصد ہوتا ہے۔سوال یہ ہے ایسی مظلوم عورتوں کے پاس کیا چارہ کار ہے؟

۲۔اگر جواب یہ ہو کہ وہ تنسیخ نکاح  کے اسباب کے تحت نکاح فسخ کراسکتی ہے تو  اول تو اس قانون کے تحت بیوی کے  لیے مقدمہ جیتنا ہی مشکل ہے،ثانیا یہ کہ لوگ خلع اور تنسیخ کے فرق سے آگاہ نہیں اور وکلاء بھی خلع کے ذریعے مقدمہ کے اندراج کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ خلع کا قانون  واضح طور پر عورت کے حق میں ہے اور اس کے ذریعے ڈگری کا حصول تقریبا یقینی ہوتا ہے۔

۳۔پیرا نمبر 2 کے جواب میں  یہ حل تجویز کیا ہےجاتا ہے  کہ اگرعورت نے کسی شرعی بنیاد پر فسخ نکاح کا دعوی دائر کیا ہو،چاہے وہ کسی بھی امام کے نزدیک فسخ نکاح کا سبب ہو اور عدالت نے اپنے فیصلے میں خلع کا لفظ استعمال کیاہو تو اس فیصلے کو فسخ نکاح ہی قرار دیا جائے گا اور صرف لفظ کے خلع کے استعمال سے وہ خلع نہیں قرار دیا جائے گا۔

۴۔مگر اس پر چند اشکالات ذہن میں آتے ہیں،اول  یہ کہ تنسیخ نکاح کے لیے جس طرح شرعا قابل قبول وجہ کا ہونا ضروری ہے،اسی طرح شرعی ضابطہ شہادت کی رعایت بھی لازم ہے مثلا بیوی  نے اگر گواہان کے ذریعے عدم ادائیگی نان ونفقہ کو ثابت نہیں کیا ہے اور عدالت نے اس بنیاد پر بیوی کے حق میں مقدمہ ڈگری کردیا اگر چہ لفظ خلع کااستعمال کیاتو کیا ایسا فیصلہ جو شہادت گزارے بغیر دے دیا گیا ہو ،درست قرار پائے گا؟

دوسرا اشکال اس عموم پر پیدا ہوتا ہے جو تنسیخ نکاح کے سبب میں کیا جاتا ہے کہ کوئی بھی ایسی وجہ جو کسی بھی امام کےنزدیک وجہ فسخ بن سکتی ہے ،اگر تنسیخ نکاح  کے سبب میں اس قدر عموم برتا جائے تو بعض مذاہب میں معمولی باتوں پر بھی بیوی کو فسخ کا حق ہے،اس طرح نکاح کا رشتہ کچے دھاگے کے مانند بہت آسانی سے توڑا جاسکے گا ۔

اس کے علاوہ یہ الجھن بھی باقی رہتی ہے کہ عدالت بیوی سے مہر بھی معاف کراتی ہے حالانکہ تنسیخ میں معاوضہ نہیں ہوتا اور اگر یہ کہا جائے کہ مہر کی معافی کی حد تک عدالتی فیصلہ کالعدم ہے تو پھر ایک اور شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قضا  میں تجزی ہوسکتی ہے کہ ایک حد تک ہی وہ نافذ ہو؟

ان وجوہ کی بناء پر جب تک  کوئی موافق شرع قانون نافذ نہیں ہوتا درج ذیل طریقوں میں سے کسی ایک کو بحث ومباحثہ کے بعد اختیار کیا جاسکتا ہے۔

۱۔خلع کے کیس میں وجہ خلع کوئی معقول شرعی سبب ہو اور مدعیہ نے اسے شرعی ضابطہ کے مطابق ثابت بھی کیا ہو تو اسے شرعا درست تسلیم کیاجائے اور مہر کے متعلق بیوی کو مشورہ دیا  جائے کہ ازروئے دیانت اس پر مہر کی واپسی واجب ہے۔

۲۔عدالتی فیصلے کو مجتھد فیہ میں قضا ء کی وجہ سے درست تسلیم کرلیا جائے کیونکہ سلف میں ایسے فقہاء بھی گزرے ہیں جو خلع کا حق سلطان کو دیتے ہیں اور یہ معلوم ہے کہ مجتھد فیہ امور میں قضاء قاضی رافع للخلاف ہوتا ہے۔

۳۔ اگر تجویز 2 میں تامل محسوس ہو تو عدالتی فیصلہ کا جائزہ لیا جائے اور مدعیہ بھی الگ سے احوال معلوم کیے جائیں ،ان دو امور کے بعد اگر مدعیہ مفتی کےضمیر کو مطمئن کرلے کہ واقعی خلع کےلیے معقول وجوہ موجود ہے تو اسے خلع کے نفاذ کا فتوی کیا جائے اور اگر معلوم ہو کہ خلع کسی معقول شرعی بنیاد پر حاصل نہیں کیا گیا ہےتو اسے جمہور کے مذہب کے مطابق شرعا غیر معتبر قرار دیا جائے۔

 

 

 

 

ایجنڈا آئٹم نمبر ۷:

 

قرآن کریم کے الفاظ کے تلفظ میں آسانی کے لیے ہجا اور رسم الخط

 

          اس آئٹم میں قرآن آسان تحریک، لاہور کی جانب سے شائع کردہ قرآن کریم کے بارے میں بحث ہے، اس قرآن کریم  میں یہ انداز اپنایا گیا ہے کہ عربی متن کے ساتھ نیچے ہجے جوڑ کر الفاظ کے تلفظ کو بیان کیا گیا ہے، شعبہ ریسرچ کی جانب سے موصول شدہ رائے کے بارے میں درج ذیل ملاحظات ہیں:

۱۔مذکورہ قرآن کریم کے نسخے میں مثلاً  “تبرك الذي بیده الملك”  کو یوں لکھا گیا ہے "ت با ر کل،     ل ذ ی ،  ب ی د ہل،مل ک"، جو کہ رسم عثمانی کے صریح مخالف ہے، علماء کرام نے لکھا ہے کہ رسم عثمانی کا اتباع واجب ہے ، اس کے علاوہ دوسرے رسم الخط میں، اگرچہ وہ عربی ہی کیوں نہ ہو، قرآن کی کتابت جائز نہیں ہے،جب رسم عثمانی کو چھوڑ کر عام املائی قواعد کے مطابق قرآن کریم لکھنا ممنوع ہے تو اس طرح ٹکڑوں ٹکڑوں میں قرآن کریم کے الفاظ لکھنا کیوں کر جائز ہوسکتا ہے؟

۲۔ بچوں کو قرآن کریم سکھانے کا یہی طریقہ صحابہ کرام کے زمانے سے چلا آرہا ہے کہ وہ اسی رسم الخط کو سامنے رکھ کر بچوں کو ہجے کراتے آئے ہیں، الفاظ کو اس طرح توڑ توڑ کر لکھنے کا ان کے ہاں رواج نہیں تھا، جب کہ اس وقت اس کی ضرورت زیادہ  محسوس کی جاسکتی تھی، کیوں کہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی، ابتدا میں پڑھانے والے عربی تھے، جن کا ہر جگہ پہنچنا آسان نہیں تھا۔

۳۔ قرآن کریم کا معجزہ ہے کہ اللہ تعالی نے اسے عرب قوم  کے علاوہ عجمیوں کے لیے بھی پڑھنے ، سمجھنے اور نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے، چھوٹے چھوٹے بچے اسے یاد کرتے ہیں، اپنی مادری اور پدری زبانوں کی طرح اسے پڑھ سکتے ہیں، عجم سے تجوید و قراءت کے کئی ائمہ پیدا ہوئے،یہ اللہ تعالی کے اسی وعدہ کا مشاہدہ ہےجسے اس نے قرآن کریم میں بیان  کیا ہے:

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ [ القمر: ۱۷]

لہذا  ان  خیالی مشکلات کو سامنے رکھ کر رسم عثمانی کی اتباع کے اجماعی حکم کو پامال نہیں کیا جاسکتا۔

۴۔ مذکورہ تحقیق میں بعض علماء کی طرف جو جواز کا قول منسوب ہے اس سے مرادرسم عثمانی کو چھوڑ کر  معروف املائی طریقے کے مطابق عربی لکھنا ہے، اس طرح کاٹ کاٹ کر عربی لکھنا ، جس سے الفاظ ایک دوسرے میں خلط ہوجائیں، ایک کلمہ دوسرے کے ساتھ لکھا جائے اس طریقہ سے لکھنے کا کوئی بھی قائل نہیں۔

۵۔ رسم عثمانی کی مخالفت کرکے قرآن لکھنا چاہے تبعا ہو یا اصالۃ جائز نہیں۔

 

خلاصہ بحث :

قرآن آسان تحریک کی اختیار کردہ صورت ناجائز ہے، اس طرح سے لکھنے سے رسم عثمانی کی مخالفت لازم آتی ، امت کا اس پر اتفاق ہے کہ رسم عثمانی کی مخالفت ناجائز ہے۔

لہذا" البتہ زیر غور معاملہ میں 'قرآن آسان تحریک ' نے جو صورت اختیار کی ہے ۔۔۔۔ اس اعتبار سے کچھ گنجائش معلوم ہوتی ہے۔۔۔۔ اس سے روکنا ہی زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے" جیسے ہلکے الفاظ استعمال کرنے سے مذکورہ صورت کا فی نفسہ جواز معلوم ہوتا ہے، جو  اس معاملہ کی سنگینی پر اثر انداز ہورہا ہے، زیر نظر تحقیق میں علماء اربعہ کی نصوص سے قرآن کریم کے رسم کی حفاظت کے بارے میں کافی سخت موقف سامنے آیا ہے، اس کی روشنی میں قرآن آسان تحریک کی صورت کی سختی سے تردید کرنی چاہیے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایجنڈا آئٹم نمبر ۸:

 

اشاعت قرآن پاک (ریکارڈنگ و طباعتی اغلاط کا خاتمہ) بل ۲۰۱۳ ء

 

          یہ ایجنڈا 'اشاعت قرآن پاک (ریکارڈنگ و طباعتی اغلاط کا خاتمہ) بل ۲۰۱۳ ء کے عنوان سے ہے ، یہ بل  وزارت مذہبی امور ، اسلام آبادنے کونسل سے آراء طلب کرنے کے لیے بھیجا ہے،یہ بل قومی اسمبلی میں اشاعت قرآن پاک( ریکارڈنگ / طباعتی اغلاط کا خاتمہ) ایکٹ ۱۹۷۳ء کی دفعات نمبر ۲، ۴ اور ۵ میں ترمیم کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

          ان ترمیمات کے سلسلے میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں:

 

 دفعہ ۲ میں ترمیم:

          اس دفعہ میں دو طرح کی ترمیم کی سفارش کی گئی ہے۔

پہلی ترمیم:

دفعہ ۲ کے پیراگراف (الف الف )کے بعد "سنبھالنے" کے معنی کی وضاحت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان مقدس اوراق کو سمندر، دریا یا صاف پانی کی ندی میں ڈالا جائےیا اسے مناسب طریقہ سے دفنایا جائےیا اس کو دوبارہ استعمال کے لیے ری سائیکل کیا جائے۔

اس بارے میں چند گزارشات درج ذیل ہیں:

               

الف۔ قرآن کریم کے شہید اوراق کودریا یا ندی میں تلف کرنا:

اگرقرآن کریم کے اوراق پرانے ہوجائیں تو اس کی جلد بندی کرکے ، قابل استعمال بنانے کی حتی الامکان کوشش کی جائے، یہ نیکی کا کام ہے، جس پر اللہ تعالی سے اجر کی امید ہے۔

البتہ اگر مصحف اس قدر پرانا ہوجائے کہ اس سے فائدہ حاصل کرنا ممکن نہ رہے تو اسے تلف کیا جائے گا، تلف کرنے کی کیفیت اور صورت میں بہتر یہ ہے کہ ان اوراق کو گندگی سے دور کسی محفوظ مقام میں دفن کیا جائے، اگر گہرے پانی میں ڈال دیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں۔

پانی میں بہانے کی صورت میں اس بات کا دھیان رہے کہ یہ اوراق زیادہ گہرے پانی میں بہائے جائیں، اس کے لیے بہتر ہے کہ بحری جہازوں کے ذریعہ انہیں گہرے سمندر میں بہایا جائے، اسی طرح اگر دریا کے اس حصے میں یہ اوراق بہانا درست ہیں جو زیادہ گہرے ہیں، جن میں اوراق ڈالنے سے یہ اندیشہ نہیں کہ وہ کنارے پر آجائیں گے، البتہ دریا کے کم گہرے پانی میں اور ندی میں یہ اوراق بہانا جائز نہیں، کیوں کہ کم گہرے پانی میں ڈالنے کے بعد وہ کنارے پر آجائیں گے، جس سے ان کی تحقیر و توہین ہوگی۔

صاحب در مختار علامہ حصکفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

قرآن کریم جب اس قدر بوسیدہ ہوجائے کہ پڑھا نہ جاسکے تو اسے مسلمان کی طرح دفن کیا جائے گا۔ (۱)

          علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ حاشیہ میں لکھتے ہیں :

 اسے صاف کپڑے میں ڈال کر ، ایسی جگہ میں دفن کیا جائے جسے پیروں سے روندا نہ جاتا ہو،اس کے لیے لحد یعنی گڑھے کی جانب بل نما بنا کر اس مین اسے دفن کیا جائے، کیوں کہ اس کے بغیر دفن کرنے کی صورت میں قرآن کریم کے اوپر مٹی ڈالی جائے گی، جس میں ایک گنا تحقیر ہے، تاہم اگر اس گڑھے کے اوپر چھت نما بنا ئی جائے، جس سے مٹی اندر نہ جائے تو یہ اچھی صورت ہے، نیز فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کو دفن کرنے میں اس کی اہانت نہیں ، بلکہ اکرام ہے، تاکہ وہ بے اکرامی سے بچ سکے۔ (۲)

 

          الدر المختار میں ہے :

وہ کتابیں جن سے نفع حاصل نہیں کیا جاسکتا ہو ان سے اللہ تعالی ، فرشتوں اور رسولوں کے نام مٹا کر باقی کو جلا لیا جائے، ان کتابوں کو پانی میں اسی طرح ڈالنے میں کوئی حرج نہیں یا دفن کردیا جائے، یہ دفن کرنا  بہتر صورت ہے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام  کو دفن کیا جاتا ہے۔ (۳)

          اس کے حاشیہ میں علامہ شامی لکھتے ہیں:

قرآن کریم جب پرانا ہوجائے اور اس سے پڑھنا مشکل ہو تو اسے آگ میں نہیں جلائیں گے، امام محمد نے اسی جانب اشارہ کیا ہے، اسی قول کو ہم لیتے ہیں، اس کو دفن کرنا مکروہ نہیں ہے، مناسب ہے کہ اسے پاک کپڑے میں لپیٹا جائے۔ (۴)

 

ب۔ کیا قرآن کریم کے اوراق کو ری سائیکل کرنا جائز ہے؟

          پرانے کاغذکوپانی میں دھو کر، اس کا  ایک خاص قسم کا پیسٹ بنا کر اسے ری سائیکل کیا جاتا ہے، جس کے بعد نیا کاغذ وجود میں آتا ہے، قرآن کریم کے اوراق کو ری سائیکل کرنا جائز نہیں، جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

۱۔ قرآن کریم کا صفحہ عزت و احترام کا ایک مقام رکھتا ہے، اس طرح مشینوں میں پیسنے  اورپیسٹ بنانےمیں ایک طرح کی بے حرمتی ہے، جس سے قرآن کریم کے صفحات کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، اس ساری کارروائی کو دیکھنے والااسے عصر حاضر میں قرآن کریم کو سنبھالنے کا موثر ترین ذریعہ نہیں کہہ سکتا۔

۲۔ ان صفحات کو ری سائیکل کرکے اگر عام مقصد کے استعمال کا کاغذ بنایا جائے تو اس میں بھی اس کاغذ کی توہین ہے۔

۳۔ ان صفحات کو ری سائیکل کرنے کے عمل میں اس بات کا دھیان رکھا جائے کہ کوئی غیر مسلم اسے ہاتھ نہ لگائے، اسی طرح جو مسلمان بے وضو ہو وہ بھی انہیں ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ (۵)

۴۔ اس ری سائیکل کے عمل سے ماہیت تبدیل نہیں ہوتی کیوں کہ کاغذ کاغذ ہی رہتا ہے، صرف اوصاف کی تبدیلی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ماہیت تبدیل ہونے کی وجہ سے اسے دوسرے مقاصد میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔(۶)

 

دوسری ترمیم:

پیراگراف ( ددد) کے بعد "شہید یا بوسیدہ" لفظ کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ اس سے مراد پھٹے پرانے اوراق، غیر قانونی تحریر اور قرآن پاک کی نقول کی غیر معیاری جلد سازی ہے۔

اس عبارت میں دو باتیں توجہ طلب ہیں:

 

الف۔ غیر قانونی تحریر ،سے کیا مراد ہے؟

          شہید یا بوسیدہ کی تشریح " غیر قانونی" کرنے میں ایک گنا ابہام ہے، "غیر قانونی تحریر" کی وضاحت نہیں، اس سے کوئی سمجھنے والا یہ سمجھ سکتا ہے کہ مثلا اگر کوئی قرآن کریم چھاپنے والا ادارہ اگر رجسٹرڈ نہیں تو وہ قرآن کریم حکومت ضبط کرکے تلف کرسکتی ہے، اگر چہ وہ صحیح اور قابل استعمال ہی کیوں نہ ہوں، یہ مال کا ضیاع اور قرآن کریم کی بر حرمتی ہے، لہذا اس امر کی وضاحت از حد ضروری ہے کہ "غیر قانونی تحریر"کے لفظ کی وضاحت کی جائے، اگر یہی مراد ہے تو اس لفظ کو حذف کیا جائے۔

 

ب۔ کیا قرآن پاک کی غیر معیاری جلد سازی کی وجہ سے اسے تلف کیا سکتا ہے؟

مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ قرآن کریم کو جب تک پڑھا جاسکتا ہواسے تلف نہیں کیا جائے گا، لہذا اگر قرآن کریم کے کسی نسخہ کی جلد سازی معیاری نہیں تو اس کی وجہ سے اسے تلف نہیں کیا جائے گا، یہ اس کی بے حرمتی ہے۔

 

 

 

خلاصہ بحث:

۱۔ "قرآن کریم کے اوراق کو  سنبھالنے " کا بہترین طریقہ اسے اچھے طریقے سے دفن کرنا مراد ہے، سمندر یا دریا کے گہرے پانی میں ڈالنا بھی جائز ہے، البتہ صاف ندی یا کم گہرے دریا میں ان اوراق کو ڈالنا جائز نہیں۔

۲۔ قرآن کریم کے اوراق کو ری سائیکل کرنا جائز نہیں، جیسا کہ کونسل کی رپورٹ برائے سال   ۸۷/ ۱۹۸۶ ء میں درج ہے۔

۳۔ غیر قانونی تحریر کی وضاحت کی جائے۔

۴۔ غیر معیاری جلدسازی کی وجہ سے قرآن کریم کو تلف کرنا جائز نہیں۔

 

 

حوالہ جات

(۱) المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيه يدفن كالمسلم

( الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الطهارة ۱/ ۱۷۷ ط: سعيد)

(۲)  قوله ( يدفن ) أي يجعل في خرقة طاهرة ويدفن في محل غير ممتهن لا يوطأ و في الذخيرة وينبغي أن يلحد لا ولا يشق له لأنه يحتاج إلى إهالة التراب عليه وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقفا بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا ا هـ ···· قوله ( كالمسلم ) فإنه مكرم وإذا مات وعدم نفعه يدفن وكذلك المصحف فليس في دفنه إهانة له بل ذلك إكرام خوفا من الامتهان

( رد المحتار، كتاب الطهارة ۱/ ۱۷۷ ط: سعيد)

(۳) الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء

( الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة ٦/۴۲۲ ط:سعيد)

(۴) وفي الذخيرة المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ ولا يكره دفنه وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة

( رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة ٦/۴۲۲ ط:سعيد)

(۵) ( و ) يحرم ( به ) أي بالأكبر ( وبالأصغر ) مس مصحف أي ما فيه آية كدرهم وجدار وهل مس نحو التوراة كذلك ظاهر كلامهم لا ( إلا بغلاف متجاف ) غير مشرز

( الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الطهارة ۱/ ۱۷۳ ط: سعيد)

(۶) وعبارة المجتبى جعل الدهن النجس في صابون يفتوى بطهارته لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى ا هـ ···· قلت لكن قد يقال إن الدبس ليس فيه انقلاب حقيقة لأنه عصير جمد بالطبخ وكذا السمسم إذا درس واختلط دهنه بأجزائه ففيه تغير وصف فقط كلبن صار جبنا وبر صار طحينا وطحين صار خبزا بخلاف نحو خمر صار خلا وحمار وقع في مملحة فصار ملحا وكذا دردي خمر صار طرطيرا وعذرة صارت رمادا أو حمأة فإن ذلك كله انقلاب حقيقة إلى حقيقة أخرى لا مجرد انقلاب وصف كما سيأتي والله أعلم

( رد المحتار، كتاب الطهارة، باب الأنجاس ۱/ ۳۱٦ ط: سعيد)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایجنڈا آئٹم نمبر ۹:

 

خواجہ سراوں کے حقوق و ویلفیئر کے لیے مسودہ بل

 

          اس ایجنڈے میں خواجہ سراوں کے ویلفیئر اور بہبود کے لیے مسودہ بل کی بابت استفسار ہے، جس کے بارے میں چند گزارشات درج ذیل ہیں:

          ۱۔اسلام معاشرے کے ہر فرد کے حقوق اور مرتبے کی رعایت کرنے کا حکم دیتا ہے،  خواجہ سراوں کو ہمارے معاشرے میں وہ مقام حاصل نہیں جس کی اسلام نے تلقین کی ہے، اس لحاظ سے یہ بل ایک گراں قدر خدمت ہے، تاہم یہ حقیقت بھی پوشیدہ نہیں کہ بہت سے مرداپنے آپ کو یا تو مصنوعی ہیجڑے ظاہر کرتے ہیں یا آپریشن کے ذریعہ اپنی مردانگی زائل کردیتے ہیں، اس سلسلے میں  حکومت کو مناسب قانونی اقدامات کرنے چاہئیں، دفعہ نمبر ۹ میں ذکر کردہ "طبی تشخیصی بورڈ" اس سلسلے میں کردار ادا کرسکتی ہے، لہذا بل میں اس امر کی طرف بھی توجہ دی جائے۔

          ۲۔ دفعہ نمبر ۱(ii) میں اس ایکٹ کا نفاذ وفاقی دارالحکومت تک محدود رکھا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ دیگر علاقہ جات کے خواجہ سرا اس بل کی سہولیات سے محروم رہیں گے، اس ایکٹ کے فوائد کو عام کرنے  کے لیے  اس یکٹ کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے۔

          ۳۔ دفعہ ۲ (ب )میں خواجہ سرا کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے "جس کی جنس واضح نہ ہو"، یہ خنثی مشکل کی تعریف ہے، جس شخص کی مرد و عورت دونوں طرح کی شرمگا ہیں ہوں  وہ خنثی کہلاتا ہے،پھر اگر مرد کی علامات غالب ہوں تو مرد کے احکام لاگو ہوں گے، اگر عورت کی علامات غالب ہوں تو عورت والے احکام جاری ہوں گے، ایسے اشخاص کے اعضا میں عام طور پر ڈھیلا پن پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے ان سے امتیازی سلوک کرتا ہے، ایسے افراد کے حقوق کے لیے اس بل میں جگہ نہیں، انہیں اس بل کا حصہ بنایا جائے۔ (۱)

          ۴۔ دفعہ ۳ (3)میں بورڈ کی قانونی حیثیت کا بیان ہے، اس سلسلے میں یہ امر قابل توجہ ہے کہ بورڈ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟  یہ ایک وقف ادارہ ہوگا یا حکومتی ادارہ؟

          ۵۔  دفعہ ۸ (ج) میں خواجہ سراوں کو تعلیم و روزگار میں حق دلانے کا ذکر ہے، انہیں یہ  حق دیا جائے، البتہ اگر ان میں مرد کی علامات غالب ہوں تو انہیں عورتوں کے ساتھ اختلاط سے بچایا جائے، اگر ان میں عورتوں کی علامات غالب ہوں تو انہیں  مردوں کے اختلاط سے بچایا جائے اور ان کے پردے کی رعایت برتی جائے، خنثی مشکل کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ وہ عورتوں کے احکام پر عمل کرے۔ (۱)

          ۶۔ دفعہ ۸ (ج ۔v) میں پرائیوٹ اداروں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ خواجہ سراوں کو اپنے ہاں ملازم رکھیں، خواجہ سراوں کو ملازم نہ رکھنے کی صورت میں ان پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ ہر ماہ ۸ ہزار روپے بطور تنخواہ فنڈ میں جمع کرائیں، یہ پابندی عائد کرنا اور اس کی پاسداری نہ کرنے والے پر فنڈ میں رقم جمع کرنے کا جرمانہ لازم کرنا درست نہیں ہے۔

          ۷۔ دفعہ ۸ (ض )میں ذکرکردہ دن کو خواجہ سراوں کا قومی دن منانے کی تجویز مناسب معلوم نہیں ہوتی، جس پر آگے جا کر یہ نتیجہ مرتب ہونے کے قوی امکان ہے کہ وہ اس دن قومی سطح پر چھٹی کا مطالبہ کریں۔

 

حوالہ جات

(۱) وهو ذو فرج وذكر أو من عري عن الاثنين جميعا  فإن بال من الذكر فغلام وإن بال من الفرج فأنثى وإن بال منهما فالحكم للأسبق وإن استويا فمشكل ولا تعتبر الكثرة ) خلافا لهما هذا قبل البلوغ ( فإن بلغ وخرجت لحيته أو وصل إلى امرأة أو احتلم ) كما يحتلم الرجل ( فرجل وإن ظهر له ثدي أو لبن أو حاض أو حبل أو أمكن وطؤه فامرأة وإن لم تظهر له علامة أصلا أو تعارضت العلامات فمشكل ) لعدم المرجح وعن الحسن أنه تعد أضلاعه فإن ضلع الرجل يزيد على ضلع المرأة بواحد ذكره الزيلعي وحينئذ ( فيؤخذ في أمره بما هو الأحوط ) في كل الأحكام

 قلت لكن قدمنا أنه لا يجب الغسل بالإيلاج فيه وأنه لا يتعلق التحريم بلبنه فتنبه ( فيقف بين صف الرجال والنساء و ) إذا بلغ حد الشهوة ( تبتاع له أمة تختنه من ماله ) لتكون أمته أو مثله (ويكره أن يختنه رجل أو امرأة ) احتياطا ولا ضرورة لأن الختان عندنا سنة ( وإن لم يكن له مال فمن بيت المال ثم تباع ) أو يزوج امرأة ختانة لتختنه لأنه إن كان ذكرا صح النكاح وإن أنثى فنظر الجنس أخف ثم يطلقها وتعتد إن خلا بها احتياطا ( ويكره له لبس الحرير والحلي ولا يخلو به غير محرم ) وإن قبله رجل ثبتت حرمة المصاهرة ( ولا يسافر بغير محرم ) لاحتمال أنه امرأة ( وإن قال أنا رجل أو امرأة لا عبرة به ) في الصحيح لأنه دعوى بلا دليل ( وقيل يعتبر ) لأنه لا يقف عليه غيره لكن في الملتقى بعد تقرر إشكاله لا يقبل وقيل يقبل

 قلت وبه يحصل التوفيق ويضعف ما نقله القهستاني عن شرح الفرائض اللسيد وغيره إلا أن يحمل على هذا فتنبه ( ولو مات قبل ظهور حاله لم يغسل ويمم بالصعيد ) لتعذر الغسل ( ولا يحضر ) حال كونه مراهقا ( غسل ميت ذكر أو أنثى وندب تسجية قبره ويوضع الرجل بقرب الإمام ثم هو ثم المرأة إذا صلى عليهم ) رعاية لحق الترتيب وتمام فروعه في أحكامه من الأشباه بل عندي تأليف مجلد منيف ( وله ) في الميراث ( أقل النصيبين ) يعني أسوأ الحالين به يفتى كما سنحققه

 وقالا نصف النصيبين فلو مات أبوه وترك معه ( ابنا ) واحدا ( له سهمان وللخنثى سهم ) وعند أبي يوسف له ثلاثة من سبعة وعند محمد له خمسة من اثني عشر

 وعند أبي حنيفة له سهم من ثلاثة ( لأنه لأقل ) وهو متيقن به فيقتصر عليه لأن المال لا يجب بالشك حتى لو كان الأقل تقديره ذكرا قدر ابنا كزوج وأم وشقيقة هي خنثى مشكل فله السدس على أنه عصبة لأنه الأقل ولو قدر أنثى كان له النصف وعالت إلى ثمانية ولو كان محروما على أحد التقديرين فلا شيء له كزوج وأم وولديها وشقيق خنثى فلا شيء له لأنه عصبة ولو قدر أنثى كان النصف وعالت إلى تسعة ولو مات عن عمه وولد أخيه خنثى قدر أنثى وكان المال للعم والله تعالى أعلم

( الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الخنثى ٦/ ۷۲۷ إلى ۷۳۱ ط: سعيد)

(۲) والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال

( رد المحتار، كتاب الحدود، مطلب في التعزير بأخذ المال ۴/ ٦۲ ط: سعيد)

 

 

 

 

 

 

 

ایجنڈا آئٹم نمبر ۱۰:

 

اس ایجنڈے میں عدالت عالیہ لاہور، کے ایک فیصلے کا حوالہ ہے، جس میں مدعی نے دعوی کیا ہے  کہ مسماۃ فاطمہ، مدعی علیہا کے بطن سے اس کی بیٹی ہے،لیکن یہ ولادت شرعی نکاح کے نتیجے میں نہیں ہوئی، بلکہ اس نے اس کا رحم کرایہ پر لیا تھا، ایک تیسرے شخص نے نطفہ لے کر رحم میں داخل کیا تھا، لہذا حضانت کی مدت پوری ہونے کے بعدبچی اس کی کفالت میں دی جائے۔

اصل مسئلہ پر کلام کرنے سے پہلے یہ کہنا چاہوں گا کہ  ایسی عورت کے لیے "متبادل ماں" کی تعبیر استعمال کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا جو اپنا رحم کرایہ پر دے، اس تعبیر سے اس عمل کی شناعت کم ہوتی ہے۔

          ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے متعلق چند گزارشات درج ذیل ہیں:

 

۱۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا شرعی حکم:

اولاد کا حصول نعمت خداوندی ہے یہ نعمت بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ دے دیتے ہیں اور بعض کو اس سے محروم کردیتے ہیں، قرآن کریم میں ہے :

يهب لمن یشاء اناثا و يهب لمن يشاء الذكور أو يزوجهم ذكرانا و إناثا و يجعل من يشاء عقيما انه علیم قدیر
[سورة الشوریٰ:۹۴]

اس نعمت کے حصول کے لیے مردکواللہ تعالیٰ نے چارعورتوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے کی اجازت دی ہے،لہٰذا اگر بحکم خداوندی اولاد نہ ہورہی ہو تو دوسری شادی کرلی جائے، رہاٹیسٹ ٹیوب کے ذریعےاولاد کا حصول تو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش غیرفطری طریقہ ہے،جس میں مرد کے مادہ منویہ اوراس کے جرثومےغیر فطری طریقے مثلاً جلق یا عزل  وغیرہ کے ذریعے سے حاصل کرکے عورت کے رحم میں غیرفطری طریقے سے ڈالے جاتے ہیں ، اگر اس عمل میں شوہر اور بیوی کا ہی نطفہ ہو اور نطفہ کو رحم میں خود شوہر رکھے تو اس طریقہ کو بوجہ مجبوری اختیار کرنے کی اجازت ہے، لیکن اگر نطفہ کسی غیر مرد یا غیر عورت کا ہو یا نطفہ کو رحم میں کوئی غیر مرد رکھے تو اس کی کسی طور اجاز ت نہیں کیوں کہ عورت کی شرمگاہ سترکا حصہ  ہے، کسی غیر مرد کے لیے اسے دیکھنا اور چھونا  جائز نہیں،نیزبچہ پیدا کرنا فرض یا واجب امر نہیں ہے، نہ ہی بچہ پیدا نہ ہونے سے انسان کی جان یا کسی عضو کی ہلاکت کا خطرہ ہوتا ہے، لہذاکوئی شرعی ضرورت یا اضطراری کیفیت نہیں پائی جاتی، جس کی وجہ سے بدن کے پوشیدہ حصے خصوصاً شرمگاہ کو اجنبی مرد کے سامنے کھولنے  یا چھونے کی اجازت دی جائے، اجنبی مرد و عورت کے نطفوں کو ملانے کی وجہ سے حرمت مصاہرت ایک کھیل بن جائے گا، نسب کی حفاظت مشکل ہوجائے گی، پرورش ،ولایت اور میراث کے مسائل بھی پیچیدگی کا شکار ہوجائیں گے، غرضیکہ یہ عمل

کئی قباحتوں کا مجموعہ ہےبنا بریں اس سے بچنا نہایت ضروری ہے۔
          فتاوی شامی میں ہے:

( إلا ) النظر لا المس ( لحاجة ) كقاض وشاهد يحكم ( ويشهد عليها ) لق ونشر مرتب لا لتتحمل الشهادة في الأصح ( وكذا مريد نكاحها ) ولو عن شهوة بنية السنة لا قضاء الشهوة ( وشرائها ومداواتها ينظر ) الطبيب ( إلى موضع مرضها بقدر الضرورة ) إذ الضرورات تتقدر بقدرها وكذا نظر قابلة وختان وينبغي أن يعلم امرأة تداويها لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف

قوله ( وختان ) كذا جزم به في الهداية والخانية وغيرهما وقيل إن الاختتان ليس بضرروة يمكن أن يتزوج امرأة أو يشتري أمه تختنه إن لم يمكنه أن يختن نفسه كما سيأتي وذكر في الهداية الخافضة أيضا لأن الختان سنة للرجال من جملة الفطرة لا يمكن تركها وهي مكرمة في حق النساء أيضا كما في الكفاية وكذا يجوز أن ينظر إلى موضع الاحتقان لأنه مداواة ويجوز الاحتقان للمرض وكذا للهزال الفاحش على ما روي عن أبي يوسف لأنه أمارة المرض هداية لأن آخره يكون الدق والسل فلو احتقن لا لضرورة بل لمنفعة ظاهرة بأن يتقوى على الجماع لا يحل عندنا كما في الذخيرة  قوله ( وينبغي إلخ ) كذا اطلقه في الهداية و الخانية وقال في الجوهرة إذا كان المرض في سائر بدنها غير الفرج ويجوز النظر إليه عند الدواء لأنه موضع ضرورة وإن كان في موضع الفرج فينبغي أن يعلم امرأة تداويها فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو صيبها وجع لا تحتمله يشتروا منها كل شيء إلا موضع العلة ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن موضع الجرح اه فتأمل والظاهر أن ينبغي هنا للوجوب قوله ( سراج ) ومثله في الهداية قوله ( وكذا تنظر المرأة إلخ ) وفي كتاب الخنثى من الأصل أن نظر المرأة من الرجل الأجنبي بمنزلة نظر الرجل إلى محارمه لأن النظر إلى خلاف الجنس أغلظ هداية والمتون على الأولى فعليه المعول

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر و المس ٦/ ۳۷٠ ط:سعيد)

 

۲۔ اگر زانی اقرار کرے تو کیا اس بچے کا نسب اس سے ثابت ہوگا؟

 

اگر زانی اقرار کرے کہ پیدا ہونے والا بچہ اس کا ہے تو اس بچہ کا نسب اس سے ثابت نہیں ہوگا، بلکہ وہ ماں کی طرف منسوب ہوگا۔

 

( وأما ) دعوى النسب فالكلام في النسب في الأصل في ثلاثة مواضع في بيان ما يثبت به النسب وفي بيان ما يظهر به النسب وفي بيان صفة النسب الثابت أما ما يثبت به النسب فالكلام فيه في موضعين أحدهما في بيان ما يثبت به نسب الولد من الرجل والثاني في بيان ما يثبت به نسبه من المرأة أما الأول فنسب الولد من الرجل لا يثبت إلا بالفراش وهو أن تصير المرأة فراشا له لقوله عليه الصلاة والسلام الولد للفراش وللعاهر الحجر  .

وقوله عليه الصلاة والسلام الولد للفراش أي لصاحب الفراش إلا أنه أضمر المضاف فيه اختصارا كما في قوله عز وجل { واسأل القرية } ونحوه والمراد من الفراش هو المرأة فإنها تسمى فراش الرجل وإزاره ولحافه وفي التفسير في قوله عز شأنه { وفرش مرفوعة } أنها نساء أهل الجنة فسميت المرأة فراشا لما أنها تفرش وتبسط بالوطء عادة ودلالة الحديث من وجوه ثلاثة : أحدها : أن النبي عليه الصلاة والسلام أخرج الكلام مخرج القسمة فجعل الولد لصاحب الفراش والحجر للزاني فاقتضى أن لا يكون الولد لمن لا فراش له كما لا يكون الحجر لمن لا زنا منه إذ القسمة تنفي الشركة والثاني أنه عليه الصلاة والسلام جعل الولد لصاحب الفراش ونفاه عن الزاني بقوله عليه الصلاة والسلام وللعاهر الحجر لأن مثل هذا الكلام يستعمل في النفي والثالث أنه جعل كل جنس الولد لصاحب الفراش فلو ثبت نسب ولد لمن ليس بصاحب الفراش لم يكن كل جنس الولد لصاحب الفراش وهذا خلاف النصفعلى هذا إذا زنى رجل بامرأة فجاءت بولد فادعاه الزاني لم يثبت نسبه منه لانعدام الفراش وأما المرأة فيثبت نسبه منها لأن الحكم في جانبها يتبع الولادة على ما نذكر إن شاء الله تعالى وقد وجدت

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (14 / 225)

 

خلاصہ کلام :

 

عورت کے لیے اپنا رحم کرایہ پر دینا جائز نہیں،  اگر اس نے ایسا کیا تو  گناہ گار ہوگی، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ عورت کی طرف منسوب ہوگا، مرد کی طرف اس کینسبت نہیں کی جائے گی

 

 

ایجنڈا آئٹم نمبر۱۱ :

 

متروکہ وقف املاک بورڈ کی طرف سے تعلیمی مقاصد کے لیے زمین کی الاٹمنٹ

 

          اس ایجنڈے میں یہ معاملہ زیر غور ہے کہ  غیر مسلموں کی متروکہ وقف زمین کو مدرسہ کے لیے طویل المیعاد لیز کے لیے دی جاسکتی ہے یا نہیں؟

          اس سلسلے میں دو باتیں قابل غور ہیں:

 

۱۔ مذکورہ زمین  کے وقف کی نوعیت:

          مذکورہ زمین کو وقف کرتے وقت واقف نے کیا صراحت کی تھی ؟ اس کی وضاحت کہیں نہیں ہے، لہذا اس سلسلے میں واقف کے قول اور صراحت کا اعتبار کیا جائے گا۔(۱)

 

۲۔ غیر مسلم کا وقف مسلمان کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

          اگر غیر مسلم واقف نے اپنی املاک وقف کرتے ہوئے مخصوص مذہب کے فقراء و مسحقین کی شرط نہیں لگائی تو مسلمان اسے استعمال کرسکتے ہیں، جیسا کہ مذکورہ تحقیقی نوٹ میں تفصیلا ذکر کیا گیا ہے۔(۲)

 

۳۔ وقف کو طویل مدت کے لیے کرایہ پر لینا جائز ہے؟

          واقف کے علاوہ کوئی اور شخص وقف کی زمین کو تین سال سے زیادہ مدت کے لیے کرایہ پر نہیں دے سکتا، اگر تین سال سے زیادہ مدت کے لیے کرایہ پر دینے کی ضرورت پیش آئے تو اس کے لیے یہ صورت اپنائی جائے کہ کئی ٹکڑوں میں یہ معاملہ کیا جائے، مثلا یہ کہا جائے کہ یہ جگہ ہم آپ کو تیس سال کے لیے تیس معاہدوں کے ساتھ کرایہ پر دیتے ہیں، لہذا ایک معاہدہ میں وقف کا  طویل المیعاد معاہدہ نہ کیا جائے، بلکہ متفرق معاہدوں میں کیا جائے، تاہم کسی عذر کی وجہ سے  آگے آنے والے معاہدوں کو ختم کرنے کا اختیار ہوگا۔  (۳)

 

حوالہ جات

(۱)شرط الواقف كنص الشارع

( الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الوقف ۴/ ۴۳۳ ط: سعيد)

(۲) ( وشرطه شرط سائر التبرعات ) كحرية وتكليف ( وأن يكون ) قربة في ذاته معلوما

و في الرد: قوله ( وإن يكون قربة في ذاته ) أي بأن يكون من حيث النظر إلى ذاته وصورته قربة ··· بخلاف الذمي لما في البحر وغيره أن شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء أو على مسجد القدس بخلاف الوقف على بيعة فإنه قربة عندهم فقط أو على حج أو عمرة فإنه قربة عندنا فقط فأفاد أن هذا شرط لوقف الذمي فقط لأن وقف المسلم لا يشترط كونه قربة عندهم بل عندنا كوقفنا على حج وعمرة بخلافه على بيعة فإنه غير قربة عندنا بل عندهم

( الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الوقف ۴/ ۳۴٠ و ۳۴۱ ط:سعيد)

(۲) ( ولم تزد في الأوقاف على ثلاث سنين ) في الضياع وعلى سنة في غيرها كما مر في بابه والحيلة أن يعقد عقودا متفرقة كل عقد سنة بكذا فيلزم العقد الأول لأنه ناجز لا الباقي لأنه مضاف وللمتولي فسخه  خانية  وفيها لو شرط الواقف مدة يتبع إلا إذا كانت إجارتها أكبر نفعا فيؤجرها القاضي لا المتولي لأن ولايته عامة

 قلت وقدمنا في الوقف أن الفتوى على إبطال الإجارة الطويلة ولو بعقود وسيجيء متنا فليراجع وليحفظ ( فلو آجرها المتولي أكثر لم تصح ) الإجار وتفسخ في كل المدة لأن العقد إذا فسد في بعضه فسد في كله فتاوي قارىء الهداية

و في الرد: قوله ( على ثلاث سنين ) محله ما إذا آجره غير الواقف وإلا فله ذلك وفي القنية آجر الواقف عشر سنين ثم مات بعد خمس وانتقل إلى مصرف آخر انقضت الإجارة ويرجع بما بقي في تركة الميت ط عن سري الدين ··· قوله ( متفرقة ) عبارة الخانية مترادفة قال ويكتب في الصك استأجر فلان بن فلان أرض كذا أو دار كذا ثلاثين سنة بثلاثين عقدا كل عقد سنة بكذا من غير أن يكون بعضها شرطا في بعض اه

 ولينظر هل يشترط أن يعقد على كل سنة بعقد مستقل أو يكفي قوله استأجرت ثلاثين سنة بثلاثين عقدا فينوب عن تكرار العقود والظاهر الأول لقوله والحيلة أن يعقد عقودا مترادفة  تأمل

( الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الإجارة ٦/ ٦ و ۷ ط: سعيد)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایجنڈا نمبر ۱۴ :

 

پنجاب اسمبلی کے بلز

 

صوبائی اسمبلی پنجاب بچہ شادی ممانعت 2015ء

 

۱۔قانون بندش نکاح بچگان ،کم سن لڑکے اور لڑکی کے نکاح کو ناجائز نہیں بلکہ قابل سزا ٹھہراتا ہے ۔

۲۔کونسل بھی نکاح صغار کے متعلق جواز کی رائے دے چکی ہے۔

۳۔شریعت میں نکاح نابالغان کی صحت شک وشبہ سے بالاتر ہے۔

جب ان تینوں وجوہ سے نکاح نابالغان درست ومنعقد ٹھہرا توانعقاد عقد  کے نتیجے میں احکام عقد بھی ظاہر ہوں گے،احکام عقد،عقد کے آثار ونتائج  ہیں اور  آثار ونتائج  زوجین کے حقوق وفرائض ہیں،المختصر عقد کے نتیجے میں  لامحالہ زوجین کو حقوق حاصل ہوں گے،دوسری طرف کونسل رائے دے چکی ہے کہ نکاح نابالغان منعقد تو ہے مگر رخصتی جائز نہیں  ہے،کونسل کا علی الاطلاق رخصتی کو ناجائز کہنے سےتمام  ہی صورتوں میں رخصتی ناجائز ٹھہرتی ہے حالانکہ کچھ ایسی صورتیں بھی ممکن ہیں جن میں ازروئے شرع  رخصتی جائز ہو،مثلا:

لڑکا بالغ ہو اور لڑکی  نابالغہ ہو مگرقابل جماع ہو ۔

یہ صورت بھی نکاح نابالغان میں داخل ہے اورقانون میں ممنوع اور  کونسل کے نزدیک مشروع ہے مگر کونسل کی رائے کے مطابق اس میں رخصتی  ناجائز ہے  حالانکہ اگر شوہر نے:

۱۔مہر معجل ادا کردیا ہے۔

۲۔اور وہ بیوی کو مقام عقد سے مسافت شرعی  کی مقدار فاصلہ پر منتقل نہیں کرتا ۔

تو اسے حق حاصل ہے  کہ وہ بیوی کے والدین سے رخصتی کا مطالبہ کرے، مگر کونسل کی رائے کے مطابق اس صورت میں بھی رخصتی ناجائز  ہے،جس سے لازم آرہاہے کہ کونسل عقد کو تسلیم کرتی ہے مگر اس  کے اثر اور نتیجہ کو تسلیم نہیں کرتی اور شوہر   کو اس کا شرعی حق دینے  پر تیار نہیں ، دکتور قدری باشا لکھتے ہیں:

مادة 208:۔یجوز للزوج ان کان مامونا و أوفی المرأة صداقها ،أن ینقلها من حیث تزوجها فیما هو دون

 

مسافة القصر

(الاحکام الشرعية فی الاحوال الشخصية،ط:دارالسلام،سنة 2007ء ،ج1ص459)

2۔کونسل کا قانون بندش نکاح بچگان کو خلاف شرع کہنا درست ہے ،کیونکہ  یہی جمہور کی رائے ہے البتہ اس سلسلے میں سلطنت عثمانی کےعائلی قوانین  کو  بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

الف۔سلطنت نے اپنے عائلی قوانین بنام  “قرار حقوق العائلة فی النکاح المدنی”   میں نکاح نابالغان کو ناجائز کہا ہے، ملاحظہ کیجیے:

مادة:7۔لا یجوز لاحد ان یزوج الصغیر  الذی لم یتم السابعة عشرة  من عمره ولا الصغیرة التی لم تتم التاسعة من عمره

(دارابن حزم،الطبعة الاولی 1424ھ،ص519)

ب۔شیخ مصطفی زرقا ء  نے “مشروع قانون الأحوال الشخصية الموحد” میں بھی  اسی قسم  کی رائے دی ہےکہ نکاح نابالغان ناجائز ہے۔

المادۃ:21۔یشترط لکمال أهلية الزواج أن یتم الفتی ثمانی عشرة سنة قمرية والفتاة ست عشرة سنة·

(الطبعة الأولی 1416 ھ دارالقلم ص61)

ج۔اسلامی ممالک میں اردن اور شام وغیرہ  میں نکاح نابالغان کی بندش کا قانون عائد ہے:

(قانون الاحوال الشخصية الأردنی الفصل الاول المادة 5 فی شروط أهلية الزواج)

یشترط فی أهلية الزواج ان یکون الخاطب والمخطوبة عاقلین وان یتم الخاطب السنة السادسة عشرة وان تتم المخطوبة الخامسة عشرة من العمر·

یشترط فی أهلية الزواج العقل والبلوغ

المادة 15،قانون الاحوال الشخصية السوری

د۔نکاح صغار کے جواز اور عدم جواز کی بنیاد اس امرپر ہے کہ ولی کو اپنے زیر ولایت نابالغ پر ولایت اجبار حاصل ہے یا نہیں؟ جمہور کی رائے اثبات میں  ہے ،مگر سابق فقہاء میں سے شیخ ابوبکر الاصم،ابن شبرمہ اور عثمان البتی کے نزدیک ولی کو صرف مجنون اور معتوہ پر ولایت اجبار حاصل ہے اور نابالغ  پرنہیں ،بعض اسلامی ممالک میں اسی نظریہ کی بنیاد پر نکاح نابالغان کو ناجائز کہا گیا ہے،مگر جمہور کا مذہب  لغۃ ،روایۃ  اوردرایۃ ہرپہلوسےانتہائی مضبوط اور قوی ہے ،اس لیے کونسل  کا کم سن بچوں کے نکاح کو درست تسلیم کرتے ہوئے مروج قانون میں اصلاح کی سفارش بالکل درست   اور موافق شرع ہے ۔

 

مسلم فیملی لاز پنجاب2015ء

 

کونسل نے جن ترامیم پر اپنا نقظہ نظر ظاہر کیا ہے وہ درست ہے تاہم  اضافی دفعہ 9 کی شق 1 کی ذیلی جزء الف پر کونسل نے جو رائے ظاہر کی ہے وہ شرعی نقطہ نگاہ سے درست معلوم نہیں ہوتی،کونسل تجویز کرتی ہے کہ :

 بچے کی دیکھ بھال اور تعلیم وتربیت کی ذمہ داری باپ کی ہے اور اگر باپ نہ ہو یا فوت ہوجائےیا اوباش  نشے وغیرہ کا عادی ہو اور اس کے پاس رہنے سے بچہ/بچی کی تعلیم،تربیت اور تحفظ میں خرابی کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں ماں یا نانی ماں کو ذمہ داری سپرد کی جاسکتی ہے تاہم خرچہ کی ذمہ داری باپ پر ہوگی۔

 

ملاحظہ:

خرچہ کی ذمہ داری باپ پر عائد کرنے میں تو کوئی شرعی سقم نہیں بشرطیکہ نابالغ اپنا مال نہ رکھتا ہو ،مگر دیکھ بھال اور تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری ماں  کو اور اس کی عدم موجودگی یا عدم اہلیت یا عدم رضامندی کی صورت میں نانی ماں کو سپرد کرنا  اس وقت جائز ہے جب بچہ یابچی کی مدت حضانت نہ گزری ہو۔اگر بچہ سات سال کا اوربچی نو سال کی ہوچکی ہے تو  حق پرورش ماں یا نانی  کو سپرد کرنا شرعی پرورش اولاد کے احکام کے خلاف ہے ،کیوں کہ مدت حضانت کی تکمیل کے بعد بچہ عصبہ کی تحویل  میں آجاتا ہے  ، عصبہ میں الاقرب فالاقرب کا قاعدہ کارفرما ہوتا ہے یعنی جو رشتے میں جتنا زیادہ قریب ہے وہ اتنا ہی مقدم ہے ، قریب پر قریب تر کو اور قریب تر پر قریب ترین کو فوقیت حاصل ہے ،چنانچہ درج ذیل ترتیب  کے مطابق عصبہ کو حق کفالت ہوتاہے:

1۔ باپ

۲۔ دادا

۳۔ پڑدادا

۴۔ سگا بھائی

۵۔ باپ شریک بھائی

۶۔ سگے بھائی کا لڑکا  ( سگابھتیجا )

۷۔باپ شریک بھائی کا لڑکا  ( سوتیلا بھتیجا )

۸۔ سگا چچا

۹۔ باپ شریک چچا  ( سوتیلا چچا )

۱۰۔ سگے چچاکا لڑکا

۱۱۔ باپ شریک چچا کا لڑکا

۱۲۔ باپ کا حقیقی چچا

۱۳۔ باپ کا پدری چچا

۱۴۔ دادا کا حقیقی چچا

۱۵۔ دادا کا پدری چچا

عصبہ میں اور زیر پرورش میں اتحاد دینی شرط ہے۔عصبہ کامحرم ہونا شرط ہے یا نہیں ؟ لڑکے کے معاملے میں ایسی کوئی شرط نہیں لیکن لڑکی کی پرورش کا  معاملہ ہو تو مجوزہ عصبہ کا محرم ہونا بھی شرط ہے ،مزید شرط یہ ہے کہ عصبہ فاسق نہ ہو ،فسق سے مراد یہ ہے کہ عصبہ سے بچی کی ذات اور مال کے متعلق فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔

درج بالا تفصیل کے مطابق  اگر باپ پرورش کی اہلیت نہیں رکھتا تو پرورش  کا حق قریب ترین عصبہ یعنی دادا اور پھر بھائی اور پھر بھتیجے اور پھر چچا کوسپرد ہوگا، مگر ماں یا نانی کو  حق پرورش نہ ہوگا کیوں کہ ماں  یاقریب ترین عورتوں کو مدت حضانت میں تو حضانت کا حق ہے ،مگر اس  مدت کی تکمیل کے بعد یہ حق قریب ترین عصبہ(باپ) کو منتقل ہوجاتا ہےاور باپ کے بعد دادا وغیرہ  کوکفالت کا حق حاصل ہوتا ہے۔

الحاصل ماں یا نانی کویا قریب ترین عزیزہ کو صرف مدت حضانت میں حق حضانت ہے،مدت حضانت گزرجانے کے بعد یہ حق عصبہ کو منتقل ہوجاتا ہے،اس لیے مدت حضانت مکمل کرنے والے کم سن کو ماں یا نانی کی تحویل میں دینے کی سفارش غیر شرعی ہے، البتہ اگر زیر پرورش  نے ابھی مدت حضانت مکمل نہیں کی ہے تو پھر بلاشبہ حضانت کا اولین حق ماں کو اور پھر نانی کو ہے، مگر باپ سے ماں کو بچہ کی منتقلی اس بات کاقرینہ ہے کہ بچہ مدت حضانت مکمل کرکے مدت کفالت میں داخل ہوچکا ہے۔

 

حوالہ جات

 

( قوله: ثم العصبات بترتيبهم ) يعني إن لم يكن للصغير أحد من محارمه من النساء و اختصم فيه الرجال فأولاهم به أقربهم تعصيبا لأن الولاية للأقرب ، البحر

قال الرملی اوکان له احد من محارمه من النساء الا انه ساقط الحضانة فانه کالمعدوم۔

(منحة الخالق:4/169)

ولو كان لها ثلاثة إخوة كلهم على درجة واحدة بأن كانوا كلهم لأب وأم أو لأب ، أو ثلاثة أعمام كلهم على درجة واحدة ؛ فأفضلهم صلاحا وورعا أولى فإن كانوا في ذلك سواء ؛ فأكبرهم سنا أولى بالحضانة

(بدائع3/460 )

فيقدم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا ثم الأخ الشقيق ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ الشقيق ثم ابن الأخ لأب ، وكذا كل من سفل من أولادهم ثم العم شقيق الأب ثم لأب ، وأما أولاد الأعمام فإنه يدفع إليهم الغلام فيبدأ بابن العم لأب وأم ثم ابن العم لأب

(البحر الرائق : 4/169)

وأما شرطها فمن شرائطها العصوبة فلا تثبت إلا للعصبة من الرجال ويتقدم الأقرب فالأقرب الأب ثم الجد أبوه وإن علا ثم الأخ لأب وأم ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم ثم ابن العم لأب ، إن كان الصبي غلاما وإن كانت جارية فلا تسلم إليه ؛ لأنه ليس بمحرم منها ؛ لأنه يجوز له نكاحها فلا يؤمن عليها .

وأما الغلام فإنه عصبة وأحق به ممن هو أبعد منه ثم عم الأب لأب وأم ثم عم الأب لأب ثم عم الجد لأب وأم ثم عم الجد لأب

(بدائع الصنائع : 3/460)

ومنها : اتحاد الدين فلا حق للعصبية في الصبي إلا أن يكون على دينه كذا ذكر محمد وقال : هذا قول أبي حنيفة وقياسه ؛ لأن هذا الحق لا يثبت إلا للعصبة واختلاف الدين يمنع التعصيب وقد قالوا في الأخوين إذا كان أحدهما مسلما والآخر يهوديا والصبي يهودي : إن اليهودي أولى به ؛ لأنه عصبة لا المسلم ، والله عز وجل الموفق .

(بدائع الصنائع المرجع السابق )

لا حق لغير المحرم في حضانة الجارية ولا للعصبة الفاسق على الصغيرة كذا في الكفاية

(الفتاوی الهندية : 1/542/ط: رشیدية )

 

 

قانون فیملی کورٹس پنجاب 2015ء

 

فیملی کورٹس کا قانون ،شرعی  ضابطہ دیوانی کے تحت تفصیلی اور گہرا غوروخوض چاہتا ہے ،اس لیے کسی دوسرے مناسب موقع پر اس پر اظہار خیال کردیا جائے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایجنڈا آئٹم نمبر ۱۶:

 

میڈیکل تعلیم کے بعد لاش کی تدفین،قانون سازی کی ضرورت

 

انسان بحیثیت  انسان قابل احترام ہے خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔

اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا احترام اور زیادہ ہے۔

اگروہ  زندہ نہیں مردہ ہے تو قابل رحم ہے اور اس کے بے احترامی یا بے ادبی کا گناہ اس پہلو سے زیادہ ہے کہ اس  سے معافی تلافی اب ممکن نہیں۔

اور اگر لاش مسلمان مرد کے بجائے مسلمان عورت کی ہے تو پردے اورستر کے پہلو سے اس کا احترام اور زیادہ اور احکام اور زیادہ سخت  ہیں، یہاں تک کہ عورت کی میت کو ہاتھ لگانا تو درکنار وہ  اجنبی کی نگاہ کے نیچے بھی نہیں جاسکتی چنانچہ اس کا شوہر بھی اس کے برہنہ جسم کو ہاتھ نہیں لگاسکتا۔

اب ذرا غور کیجیے کہ اسلام نے مسلمان میت کو کس قدر بلند مرتبہ اور قابل رشک مقام بخشا ہے اور ہمارے مسیحا کیا  مسیحائی کررہے ہیں!!؟؟

میت کو تختہ مشق بنانے اور چیر پھاڑکرنے کے بعداس کا اصل حق تو یہ ہے کہ اسے مسنون طریقے سے غسل اور کفن دیا جائے،اس کا جنازہ پڑھاجائے اور ساتھ قبرستان تک جایا جائے ،اسے قبر میں مدفون  کیا جائے اور پھر اپنے نیک اعمال میں اسے یاد رکھا جائے،مگر مسلمان ملک میں چھلنی چھلنی  لاش کو ،تراشیدہ وخراشیدہ میت کو اور قوم کے مفاد میں کٹے اور نوچے ہوئے جسم  کو جنازہ تک نصیب نہیں ہوتا اور اسے آخری آرام گاہ لیجانے کے بجائے کچرے اور فضلے کی طرح ضائع کردیا جاتا ہے۔

کون سامذہب،کہاں کا قانون اور کس قسم کا فلسفہ  اخلاق اس کی اجازت دیتا ہے،اسے صریحا لاش کی بے حرمتی ،انسانیت کی تذلیل ، شدید سنگ دلی اور انتہائی قساوت قلبی  کے علاوہ اور کیا کہاجاسکتا ہے؟

مسلمان جس طرح حین حیات قابل احترام ہے اسی طرح بعد از ممات بھی اس کا احترام باقی رہتا ہے ،اسے ایذا دینا ایسا ہی ہے جیسا ایک زندہ انسان کو ایذا دینا،سرکار دوعالم ﷺ کا یہ فرمان مشہور ہے  کہ :

عن عائشة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال : كسر عظم الميت ككسره حيا

( سنن أبي داود، كتاب الجنائز، باب فى الحفار يجد العظم هل يتنكب ذلك المكان ۳ / ۲٠۴ ط:دار الكتاب العربي ـ بيروت )

اس شنیع فعل کی وجہ قانون کی سستی اورمعاشرے کی غفلت بھی ہے، مگر اصل وہ ذہنیت ہے جو خوف خدا اور فکر آخرت سے عاری ہے اور جس  کی مذہبی احکامات کے متعلق معلومات نہ ہونے کے برابر ہے، مسلمان اطباء کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو وہ فن طبابت کے ساتھ شرعی علوم کے بھی ماہر ہواکرتے تھے،دارالعلوم دیوبند میں عالم وفاضل کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد علم طب پڑھایا جاتا تھا ، مگر ہمارا  شعبہ طب سے  منسلک طبقہ اسلامی طب کی تاریخ  اور اسلامی اصول واحکام سے برائےنام واقف ہوتا ہے، سرکار یہ ضرورت ہی محسوس نہیں کرتی کہ میڈیکل کی تعلیم کے ساتھ شرعی احکام کا جاننا بھی کوئی ضروری چیز ہے،اسی کانتیجہ وہ ظلم اور قساوت ہے جو مراسلہ نگار نے بیان کیا ہے۔

مراسلہ نگار کوکونسل کی طرف سے جوابی مراسلہ میں یہ بھی باور کرانا چاہیےکہ لاشوں اور انسانی اعضاء کو بلا اکرام واحترام ضائع کرنے کی اصل وجہ وہ قانون ہے جو میڈیکل تعلیم اورپوسٹ مارٹم کی غرض سے  بضرورت اور بلاضرورت کھلم کھلا لاشوں کی چیر پھاڑ کی اجازت دیتا ہے اور اس سلسلے میں کسی حدود وقیود کا قائل نہیں  چنانچہ مرد وزن کی مخلوط جماعت ایک برہنہ لاش  پر طبی تجربات کرتی ہے،ادھر اخباری اطلاعات کے مطابق  الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں واقع شہر کے واحد شعبہِ پوسٹ مارٹم میں "مورٹیشنز" یعنی پوسٹ مارٹم کے لیے پیشہ ور سٹاف کی عدم موجودگی کے باعث یہ کام پچھلے 19 سال سے ہسپتال کی صفائی سُتھرائی کرنے والے مسیحی سینٹری ورکروں سے لیا جا رہا ہے۔

زیادہ صاف لفظوں میں نجاست  وغلاظت صاف کرنے والے غیر مسلم لاش کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔

ان دومثالوں اور اس سے پہلے کی بحث سے مقصود یہ ہے کہ اصل خرابی ناقص تعلیم اور غیر شرعی قانون میں ہے،تعلیم سے ذہنوں  میں بگاڑ پیدا ہوا اور قانون نے  اسے راستہ  اور مواقع فراہم کردیے چنانچہ نتیجہ سامنے ہے ۔

کونسل کے باربار استفسار کے جواب میں  میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا یہ دو دوسطری جواب کہ  میڈیکل اینڈ ڈینٹل ادارہ جات کی طرف سے اپنائے جانے والے ضابطہ کے مطابق  جنازہ کے بعد دفن کردیا جاتا ہے،ناکافی ہے۔

کونسل کو میڈیکل کونسل  کے جوابی مراسلہ  میں محولہ  پورے ضابطہ کا جائزہ لینا چاہیے کیونکہ معیار کسی ادارے کا ضابطہ نہیں بلکہ شریعت ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایجنڈا آئٹم نمبر ۱۸:

 

شرعی پردہ کے بنیادی احکام

 

چہرے کے پردے کے متعلق   چند گزارشات

 

چہرے کے پردہ کے متعلق احکام کاحاصل یہ ہے کہ اجنبی  کے لیے عورت کاپورابدن سترہے۔جن حضرات نے “إلا ما ظهر منها ” کی تفسیرچہرے اورہتھیلیوں سے کی ہے ان کے نزدیک چہرہ اورہتھیلیاں حجاب سے مستثنی ہوگئیں، اس لیے ان کاکھلا رکھنا جائزہوگیاجیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتاہےاورجن حضرات نے’’الاماظھرمنھا‘‘سے برقع، جلباب وغیرہ مرادلیا ہے وہ ان اعضاء کے کھلا  رکھنے کوناجائزکہتے ہیں جیسا کہ حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتاہے۔

جنہوں نے جائزکہاہے ان کے نزدیک بھی یہ شرط ہے کہ فتنے کاخطرہ نہ ہو،مگرعورت کی زینت کاسارامرکزاس کاچہرہ ہے ، اس لیے اس کوکھولنے میں  عدم خوف فتنہ شاذونادر ہے،اس لیے انجام کار مجوزین کے نزدیک  بھی عام حالات میں چہرہ کاکھولنا جائزنہیں۔

ائمہ اربعہ میں سے امام مالک،امام شافعی،احمدبن حنبل رحمہم اللہ تینوں نے چہرہ اورہتھیلیاں کھولنے کی مطلقاً اجازت نہیں دی، خواہ فتنے کاخوف ہویانہ ہو،امام اعظم ؒ کے نزدیک اگرخوف فتنہ ہوتواجازت نہیں اورچونکہ عادۃ ًیہ شرط مفقود ہے ،اس لیے فقہاء حنفیہ نے بھی غیرمحرموں کے سامنے چہرہ اورہتھیلیاں کھولنے کی اجازت نہیں دی۔

حاصل یہ کہ باتفاق ائمہ اربعہ عورت کاضرورتاً گھرسے اس طرح نکلناکہ عورت برقع،چادروغیرہ میں پورابدن چھپائے مگرچہرہ اورہتھیلیاں کھول کرمردوں کے سامنےآئے شرعاً ناجائزوحرام ہے۔

اس لیے اب پردہ کے صرف دودرجے ہی رہ گئے ہیں ایک اصل مقصود یعنی عورتوں کاگھروں کی چاردیواری میں رہنااوربلاضرورت باہرنہ نکلنا۔

دوسرابرقع وغیرہ کے ساتھ نکلنا ضرورت کی بناپر بوقت ضرورت اوربقدرضرروت۔

پردہ سے متعلق مسالک فقہاء کے ملاحظہ کیجیے:

مسلک شوافع:

ویحرم نظرفحل بالغ الیٰ عورة حرة کبیرة اجنبية وکذا وجهها و کفيهاعندخوف فتنة وکذا عندالامن علی الصحیح [المنهاج للنووی1/301کتاب النکاح]

مسلک حنابلہ:

فاما نظرالرجل الی الاجنبية من غیرسبب فانه محرم الی جمیعها فی ظاهر کلام احمد ، قال احمدلایاکل مع مطلقته هو اجنبی لایحل له أن ینظر اليها کیف یاکل معها لینظر الیٰ کفها لایحل له ذالک

[المغنی لابن قدامة /460،دارالفکر]

مسلک مالکیہ:

مواھب الجلیل شرح مختصرالخلیل میں ہے:

یجوزالنظرللشابةالاجنبية الحرة فی ثلاثة مواضع:للشاھد وللطبیب ونحوہ وللمخاطب،وروی عن مالک عدم جوازه للمخاطب،ولایجوزلتعلم علم ،ولاغیره ، انتهى مواهب الجللیل شرح مختصرالخلیل 5/22،عالم الکتب]

مذہب حنفیہ:

حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار:

منع نظر الوجه من الشابة ولومن غیر شهوة الالضرورة ثم قال واذا کان الناظرالیٰ وجه المرأة الاجنبية هو الرجل فلیجتنبه هذا دلیل الحرمة و هو الصحیح۔

[4/185رشیدية]

 

 

 

سوال 4۔ کے متعلق:

۴۔سوال:اگرچہرے کامکمل پردہ لازم ہے توراستہ دیکھنے میں ،چلنے میں تکلیف کاازالہ کیسے کیاجائے؟

جواب:واضح رہے کہ مسلم عورتوں کے لیے اصل حکم یہ ہے کہ وہ گھرکی چاردیواری میں رہیں،باہرنہ نکلیں،وقرن فی بیوتکن، قرآن کریم کا واضح فرمان ہے،لیکن اگرکسی وقت باہرنکلنے یاکسی غیرمحرم کے سامنے آنے کی طبعی یاشرعی ضرورت پیش آجائے توبوقت ضرورت بقدرضرورت باہرجانایاکسی غیرمحرم کے سامنے آنے کی شرعاً اجازت ہے بشرطیکہ مکمل پردے کے ساتھ ہو۔اس پریہ شبہ کہ اگرمکمل پردے کے ساتھ نکلنے کی اجازت ہے توراستہ دیکھنے کی تکلیف کاازالہ کیسے کیاجائے توشریعت مطہرہ نے مکمل پردے کاحکم دیاہے لیکن راستہ دیکھنے کے لیے ایک آنکھ کھلارکھنے کی اجازت دی ہے جبکہ آج کل اس طرح برقعے دستیاب ہیں جس میں قدرے باریک کپڑالگاہوتاہے یاجالی داربرقعہ بھی استعمال کیاجاسکتاہے۔جس میں پردے کالحاظ بھی ہے اورراستہ دیکھنے ضرروت بھی پوری ہورہی ہے۔

روی ابن جریرالطبری فی تفسیرقولہ(یدنین عليهن من جلابیبهن) عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة عن قوله( قُلْ لأزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ) قال: فقال بثوبه، فغطى رأسه ووجهه، وأبرز ثوبه عن إحدى عينيه.[20/325]

عن علي عن ابن عباس، قوله( يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ) أمر الله نساء المؤمنين إذا خرجن من بيوتهن في حاجة أن يغطين وجوههن من فوق رءوسهن بالجلابيب ويبدين عينا واحدة.[ایضاً20/324]