رمضان فضائل ومسائل

رمضان المبارک ہزاروں رحمتوں اوربرکتوں کواپنے دامن میں لئے ہم پرسایہ فگن ہے،اوریہ بابرکت مہینہ ایمان وتقوی کامہینہ ہے،جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پرخاص رحمت وبخشش نازل فرماتے ہیں۔حدیث شریف میں آتاہے کہ اس کاپہلاعشرہ رحمت،دوسرابخشش اورتیسرادوزخ سے آزادی کاہے۔اس ماہ مبارک میں نورانیت میں اضافہ،روحانیت میں ترقی،اجروثواب میں زیادتی اوردعائیں قبول کی جاتی ہیں۔اس مبارک مہینے کواللہ تعالیٰ نے اپنامہینہ قراردیاہے،گویااس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ انسان کواپنابندہ بناناچاہتے ہیں،اورانسان کواس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک سے ٹوٹاہوارشتہ جوڑلیں۔اس ماہ مبارک میں دربارِالٰہی سے کسی سائل کوخالی ہاتھ،کسی امیدوارکوناامیداورکسی طالب کوناکام ونامرادنہیں رکھاجاتا۔
بلکہ ہرشخص کے لئے رحمت وبخشش کی عام صدالگتی ہے۔اس ماہ مبارک کاایک ایک لمحہ ہزاروں برس کی زندگی اورطاعت وعبادت سے بھاری وقیمتی ہے۔اس میں خیرکے طلبگاروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اورشرکے طلبگاروں کاراستہ روک دیاجاتاہے۔یہ نیکیاں کمانے کاسیزن ہے،یہ وہ ماہِ مبارک ہے جس میں فرض عمل کاثواب سترگنابڑھادیاجاتاہے،اورنفل عبادت کاثواب فرض کے برابرعطاکیاجاتاہے،یہ صبروغمخواری ،گناہوں کی مغفرت اوردوزخ سے آزادی کامہینہ ہے،اس ماہ عظیم کی ہرشب میں ساٹھ ہزار افرادکی بخشش کی جاتی ہے،اوربعض روایات کے مطابق ہرشب میں چھ لاکھ افراددوزخ سے آزادکیے جاتے ہیں،یہ ماہ مبارک تمام مہینوں کاسردارہے۔سرورکونینﷺنے احادیث مبارکہ میں اس مہینے کے بیشمارفضائل ارشادفرمائے ہیں، چنانچہ ایک حدیث ہے کہ :جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے توشیاطین اورسرکش جنات جکڑلیے جاتے ہیں اوردوزخ کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں،ان میں سے کوئی دروازہ رمضان ختم ہونے تک نہیں کھولاجاتا،اورجنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جن میں سے کوئی دروازہ رمضان ختم ہونے تک بندنہیں کیاجاتا۔(ترمذی)
روزہ کی فضیلت:صبح صادق سے غروب آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے پینے اورنفسانی خواہشات چھوڑدینے کوروزہ کہتے ہیں،رمضان کے روزے اسلامی ارکان میں سے ایک رکن اورفرض عین ہیں،قرآن مجید،احادیث نبویہ اوراجماع امت سے ثابت ہیں،رمضان کے روزوں کی فرضیت کوماننے کے باوجودروزہ نہ رکھنے والافاسق اورگناہ کبیرہ کامرتکب ہے۔نیزروزہ کی نسبت تمسخرکے کلمات کہنامثلاًیہ کہناکہ روزہ وہ رکھیں جن کے گھرکھانااناج دانہ نہ ہویایہ کہ ہم سے بھوکانہیں مراجاتایہ کفریہ کلمات ہیں،ایمان سلب ہونے کااندیشہ ہے۔
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دارکے لیے بہت ساری فضیلتیں بیان فرمائی ہیں،چنانچہ ایک روایت میں ہے:
(۱)نبی کریمﷺنے فرمایا:جنت کے آٹھ دروازے ہیں،جن میں سے ایک کانام ریان(یعنی سیرابی کرنیوالا)ہے، اس سے صرف روزے دارہی داخل ہوں گے۔(بخاری،مسلم)
(۲)آنحضرتﷺنے فرمایا:روزے اورقرآن بندے کے لیے سفارش کریں گے،روزے کہیں گے اے رب!ہم نے اس کودن میں کھانے سے اوردیگرخواہشات سے روک دیالہذااس کے حق میں ہماری سفارش قبول فرمالیجیے،قرآن عرض کرے گامیں نے رات کواسے سونے نہ دیالہذااس کے حق میں میری سفارش قبول فرمالیجیے،چنانچہ دونوں کی سفارش قبول کرلی جائے گی۔(بیہقی)
(۳)رسول اللہﷺنے ارشادفرمایااللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں(یعنی حدیث قدسی ہے)کہ ابن آدم کاہرعمل تواس کے لیے ہوتاہے،سوائے روزے کے کہ یہ روزہ صرف میرے لیے ہوتاہے (یعنی اس میں ریاکاری کودخل نہیں)اورمیں بذات خودہی اس کی جزادوں گا۔(بخاری،مسلم)
(۴)سرکاردوعالمﷺنے ارشادفرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد(ﷺ)کی جان ہے کہ روزہ دارکے منہ کی بو(جوفاقہ سے پیداہوتی ہے)اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبوسے زیادہ خوشبودارہے۔(بخاری)
روزہ نہ رکھنے پروعید:آقائے دوعالمﷺکاارشادہے :جس نے بلاکسی شرعی رخصت اوربلاکسی مرض کے(جس میں روزہ چھوڑناجائزہو)رمضان کاروزہ چھوڑدیاتواگرچہ بعدمیں اس کورکھ لیاتب بھی ساری عمرکے روزوں سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔(مسنداحمد)یعنی رمضان کاایک روزہ چھوڑدیاتوعمربھرکے روزے رکھنے سے بھی وہ فضیلت اوراجروثواب نہ پائے گا،جورمضان میں روزہ رکھنے سے ملتاہے،گوقضاکاایک روزہ رکھنے سے حکم کی تعمیل ہوجائے گی۔
روزے سے متعلق چندمسائل:
(۱)رمضان کاروزہ صحیح ہونے کے لئے نیت کرناضروری ہے،اورنیت دل کے ارادے کانام ہے،اوراتنی نیت کرلیناکافی ہے کہ ’’آج میراروزہ ہے‘‘یارات کویہ ارادہ کرلے کہ کل میراروزہ ہوگا،نیت کے الفاظ زبان سے اداکرناضروری نہیں،البتہ زبان سے نیت کااظہارکرنابہتر ہے،اورسحری کے لئے اٹھنااورسحری کھانانیت کے قائم مقام ہے، اور ہر روزے کی نیت الگ الگ کرناضروری ہے
(۲)روزے کی حالت میں مسواک کرنادرست ہے،مسواک ترہویاخشک روزہ میں ہروقت کرسکتے ہیں،البتہ منجن،ٹوتھ پاؤڈر،ٹوتھ پیسٹ یاکوئلہ سے روزہ میں دانت صاف کرنامکروہ ہے
(۳)روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگاناجائزہے،نیزروزے کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے یالگانے کی ضرورت ہوتودوائی ڈالنایالگانابھی جائزہے
(۴)روزے کی حالت میں ناک اورکان میں دواڈالنادرست نہیں،اس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے اورقضالازم ہوگی
(۵)روزے کی حالت میں انجکشن لگواناجائز ہے ،خواہ انجکشن گوشت میں لگوائے یارگوں میں،دونوں صورتوں میں روزہ فاسد نہ ہوگا
(۶)روزے کے دوران جسم کے زائدبال مونڈنا،کٹواناجائزہے،اس سے روزے پراثرنہیں پڑتا،نیزناخن کاٹنابھی درست ہے اس سے روزے پرکوئی اثرنہیں پڑتا
(۷)روزے کے دوران جسم کے کسی بھی حصہ سے خون نکلے توروزہ فاسد نہیں ہوگا،البتہ وضوٹوٹ جائے گا،نیزروزہ کے دوران خون دینے یاخون لگوانے کی ضرورت ہوتوخون دینااورلگوانابھی جائزہے
(۸)روزے کے دوران سگریٹ نوشی سے روزہ فاسد ہوجائے گاقضابھی لازم ہوگی،’’نسوار‘‘اور’’گل‘‘ کے استعمال کابھی یہی حکم ہے
(۹)اگرروزے کے دوران بلااختیاراوربلاقصدخودبخودقے ہوگئی توروزہ فاسد نہیں ہوگا،چاہے قے تھوڑی ہویازیادہ،دونوں صورتوں میں روزہ برقراررہے گا،البتہ قصداًمنہ بھرکرقے کرنے سے یایہ کہ بے اختیارمنہ بھرکرقے ہوئی اورپھرآدمی نے قصداًچنے کے برابریااس سے زیادہ حلق میں لوٹائی توان دوصورتوں میں روزہ ٹوٹ جاتاہے،بشرطیکہ روزہ یادہو
(۰۱)رمضان المبارک کے احترام کی خاطردن کے وقت ہوٹل بندرکھناضروری ہے،خواہ کھانے پینے والے کسی بھی مذہب کے ہوں،یہ مبارک مہینہ شعائراللہ میں سے ہے،اوراللہ اللہ کے شعائرکااحترام ضروری ہے۔
منکرات رمضان:lہمارے معاشرے میں یہ رائج ہے کہ اس ماہ مبارک میں اشیائے خوردونوش وضروریات کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں،دکانداراس مہینے میں من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں،اوراسے کمائی کاخاص سیزن سمجھتے ہیں،یہ ذہنیت اسلامی روح کے یکسرخلاف ہے،اس کے برعکس یہ ہوناچاہئے کہ اس ماہ مبارک کے طفیل قیمتیں کم ہوجائیں،اوردکاندارکم سے کم منافع پرقناعت کریں،اس مہینے میں خریداروں سے جس قدررعایت کی جائے گی وہ بھی صدقہ میں شمارہوگی،اوراس کی بدولت کاروبارمیں برکت ہوگی،ماہ مبارک میں روزمرہ کے استعمال کی چیزیں ارزاں کرنابھی احترام رمضان کاایک شعبہ ہے۔
lکمسن بچوں کوروزہ رکھواکراخبارات میں تصاویرشائع کرنادرست نہیں ہے،اس میں ایک توریاکاری پائی جاتی ہے دوسرایہ کہ اس عمل کے ذریعے کمسنی ہی میں بچے کے ذہن میں یہ بیج بودیاجاتاہے،گویاروزہ رکھنامقصودنہیں بلکہ شہرت مقصودہے،سب جانتے ہیں کہ ریاکاری نیکیوں کی آری ہے،اس کے ہوتے ہوئے کوئی نیکی‘نیکی نہیں رہتی،اورتصاویرشائع کرنامستقل گناہ کبیرہ ہے،بچے سے ایک نیک عمل کرواکرخودگناہ کبیرہ میں مبتلاہوناعقلمندی نہیں۔
lافطارکی دعوتیں دی جاتی ہیں،یہ دعوت درست اورنیک کام ہے،مگراب ان دعوتوں کارواج زورپکڑگیاہے،اوران مواقع پرنمازمغرب لوگ بالکل چھوڑدیتے ہیں،یاجماعت ترک کردیتے ہیں،یہ ایک عظیم خسارہ ہے،ایسی دعوت کاکیامزہ رہااورکیساثواب ؟کہ دعوت انسانی کی وجہ سے دعوت رحمانی(نماز)میں شرکت سے محرومی ہوگئی۔
lبہت سارے لوگ روزے میں وقت گزاری کے لئے مختلف گناہوں میں مبتلاہوجاتے ہیں،جن میں غیبت ،گاناسنناوغیرہ شامل ہیں،جب کہ ان گناہوں کی موجودگی میں روزے کاکوئی ثواب انسان کوحاصل نہیں ہوتا،روزے کی حالت میں تمام معاصی(غیبت،چغل خوری،بدنگاہی،فحش کلامی،گالم گلوچ،لعن طعن،غلط بیانی)اورنفسانی خواہشات سے بچناضروری ہے،اسی طرح لایعنی اورفضول کلام اروکھیل کودشطرنج،تفریح تماشے،ٹیلی ویڑن اورفلم بینی،گانے سننا وغیرہ میں اوقات ضائع کرنے سے بھی اپنے آپ کوبچانالازمی ہے،حدیث شریف میں فرمایاگیاہے کہ جوشخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنے اورغلط کام کرنے سے پرہیزنہ کرے تواللہ تعالیٰ کواس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔
دعائیں:افطارکے وقت کی دعا:
اَللّٰھْمَّ لَکَ صْمْتْ وَبِکَ اٰمَنْتْ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتْ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتْ۔(مشکوۃ)
اس کے علاوہ دیگردعائیں بھی ثابت ہیں۔
چاراہم کام:
(۱)لاالہ الااللہ کی کثرت
(۲)استغفارمیں لگے رہنا
(۳)جنت نصیب ہونے کاسوال
(۴)دوزخ سے پناہ میں رہنے کی دعاکرنا۔
lاول عشرے کی دعا:
رَبِّ اغْفِرْوَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرْ الرَّاحِمِیْنَ
۔دوسرے عشرے کی دعا:
اَسْتَغْفِرْاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کْلِّ ذَنْبٍ وَاَتْوبْ اِلَیْہِ۔
تیسرے عشرے کی دعا:
اَللّٰھْمَّ اِنَّکَ عَفْوٌّ تْحِبّْ الْعَفْوَ فَاعْفْ عَنَّا۔
[انتخاب از:روزے کے مسائل کاانسائیکلوپیڈیا،سال بھرکے مسنون اعمال،رمضان:فضائل ومسائل،ماہ رمضان:فضائل ومسائل،مسائل رمضان]