روزہ کی حکمتیں و فلسفہ

اسلام میں روزے ماہ شعبان ۲ ہجری میں مدینہ منورہ میں فرض ہوئے اور ان کے لئے رمضان کا مہینہ مخصوص کیا گیا۔ اس سے پہلے رسول اللہ ﷺ اپنے طور پر مختلف دنوں میں نفلی روزے رکھا کرتے تھے(۱)۔ماہ رمضان میں روزے رکھنے کا حکم قرآن مجید کی آیت میں موجود ہے:یایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام ۔۔۔۔۔لعلکم تشکرون۔(البقرۃ:۱۸۳۔۱۸۵)
ان آیت سے دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں:
۱۔روزے کے تین بڑے مقصد ہیں :(الف)تقوی(ب)خد ا کی تکبیر وتعظیم کا جذبہ پیدا کرنا۔(ج)اور خدا کا شکر کرنا۔
چنانچہ روزے کی تمام حکمتیں اور فضیلتیں اسی کے گرد گھومتی ہیں۔روزہ انسان کی جسمانی و روحانی ترقی کا باعث ہے۔چنانچہ طبی مشاہدات بتاتے ہیں کہ بسا اوقات انسان کا بھوکھا رہنا اس کی صحت کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے ۔بعض بیماریوں کا یہ حتمی علاج ہے۔اسی طرح بہت سے جسمانی فضلوں کی تخفیف کا ذریعہ ہے۔جس طرح زمین کو ایک عرصے تک کاشت نہ کیا جائے تو اس کی زرخیز ی میں اضافہ ہوجاتا ہے اسی طرح انسان کے نظامِ ہضم کو ایک ماہ آرام دینے سے وہ پہلے سے زیادہ فعال ا ور متحرک ہوجاتا ہے۔
عبادات میں یکسوئی کے لئے روزہ انتہائی مفید ہے ا س لئے کہ نسان کا معدہ محفوظ اور دل و دماغ غبارسے پاک رہتے ہیں جو روحانی یکسوئی اور صفائی کا سبب بنتے ہیں۔
روزے کے دوران میں دن بھر کی بھوک ہمارے گرم اور مشتعل قُوی کو ٹھنڈا کرنے کا کام دیتی ہے۔اسی طرح روزہ در اصل ایک روحانی تربیت ہے ۔قرآن مجید میں دو مواقع پر روزہ رکھنے والوں کو السائحون اور السائحات فرمایا ہے ،جس کے معنی سفر کرنے کے ہیں۔ (۱۳)اس سائح کے لفظ میں یہ بتلاگیا ہے کہ روزہ دار ایک روحانی سفر کرنے والا ہے۔
قبولیت دعا کا بھی روزے سے گہر ا تعلق ہے۔اس لئے قرآن میں رمضا ن کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر قربِ الٰہی اور دعاؤں کی قبولیت کا ذکر کیا گیا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
’’ جب میرے بندے تجھ سے سے میرے متعلق دریافت کرلیں تو انہیں بتادو کہ میں قریب ہوں،میں دعا کرنے والے کی دعا کو جب وہ مجھے پکارتا ہے قبول کرتا ہوں،پس لوگوں کو چاہئے کہ میری فرمانبرداری کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پائیں‘‘(البقرۃ:۱۸۶)۔
خلاصہ یہ کہ روزہ صرف ظاہری بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ در حقیقت قلب و روح کی غذا اور تسکین کا ذریعہ ہے۔(۲)آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جو شخص جھوٹ اور برے کام نہیں چھوڑتا اللہ تعالی کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی ضرورت نہیں(۳)۔
اسلام نے روزے کے بدلے میں جو فدیے اور کفار ے کا احکام دئے ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سب مواقع پر روزے کا بدل غریبوں کو کھانا کھلانا قراردیا گیا ہے۔در اصل یہ بھی اسلام کی اس معاشی کفالت کا ایک حصہ جو فلاح عامہ کے سلسلے میں ضرورت مندوں کی امداد اور تحفظ کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔یہ غرباء کے ساتھ نیکی کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔روزہ دار کی افطاری اور اسے کھانا کھلانا بھی اس معاشی کفالت کا ایک حصہ ہے اور اس کا بڑا اجر بیان کی گیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روزہ افطار کرانے والے کو روزہ دار جتنا ثواب ملے گا۔یہ بھی فرمایا کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔(۴)
روزہ رکھنے میں انبیاء کی مختلف سنتیں رہی ہیں:حضرت نوح علیہ السلام ہمیشہ روزہ سے رہتے تھے۔حضرت داؤد علیہ السلام ایک دن اور حضرت عیسی علیہ السلام دو دن چھوڑ کر روزہ رکھا کرتے تھے۔(۱۱)جب کہ رسول اللہ ﷺ کی اپنی خاص ترتیب تھی۔اتنے روزے رکھا کرتے تھے کہ لوگ کہتے کہ آپ افطار ہی نہیں کریں گے اور کبھی کبھار اتنا وقفہ کرتے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب روزہ نہیں رکھیں گیں۔صرف رمضان کے پورے روزے رکھا کرتے تھے۔(۱۲)
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس امت کو ’’امۃ وسطا ‘‘کے لقب سے یاد کیا کہ اس کی تعلیمات و احکامات متوسط، معتدل اور طبیعت کے موافق ہیں۔چناچہ اس امت پرماہِ رمضان میں صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک پورے مہینے کے روزے فرض کئے گئے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی(المتوفی ۱۱۷۶ھ)اپنی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘(۲:۱۴۴) میں اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ ایک مہینہ کے لگاتارروزے ا س لئے فرض کئے گئے تاکہ نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی عادت ہوجا ئے ورنہ ایک یا دو ہفتہ کی مدت کم ہے۔اسی طرح اگر ۳ دن کاطویل روزہ رکھوالیا جاتا تو اس کا کوئی فائدہ ظاہر نہیں ہوتا۔دو مہینہ کے روزے استطاعت سے زیادہ ہوجاتے۔ رات کا روزہ اس لئے نہیں رکھا گیا کہ عموما رات کو کھانے پینے کی خواہشات پر قابو ممکن ہوتا ہے کہ انسان سو کر وقت گذار سکتا ہے۔اسی طرح مغرب تک کا پور ا وقت اس لئے مقرر کیا گیا کہ اگر اس سے پہلے افطار کی اجازت ہوتی تو سوائے دوپہر کے کھانے کی تاخیر کے علاوہ اور کوئی نقصان نہ ہوتا۔
اس کی تعیین لوگوں پر نہیں چھوڑی گئی۔ورنہ عذر،سستی اور کاہلی کا دروازہ کھل اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا دروازہ بند ہوجاتا۔اس لئے کہ مقصود پوری امت کا ایک چیز پر،ایک زمانہ میں جمع کرنا تھاتاکہ سب کے لئے سہولت و آسانی ہو‘‘۔
۲:روزہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے ہر امت پر فرض تھا۔(۵)
روزہ سابقہ شریعتوں میں:
حضرت حسن(المتوفی۱۱۰ھ)،شعبی(المتوفی۱۰۳ھ) اور قتادہ(۱۱۸ھ) رحمہم اللہ سے منقول ہے کہ نصاری( عیسائیوں) پر بھی رمضان کے روزے فرض تھے لیکن گرمی و سردی کی مشقت سے بچنے کے لئے ان کے پادریوں نے موسم بہار میں روزوں کو تبدیل کردیا اور کفارے کے طور پر دس دن بڑھا کر اسے چالیس تک پہنچادیا۔کچھ عرصے کے بعد ان کا بادشاہ بیمار ہوگیا تو اس نے نذر مانی کہ اگر میں صحت یاب ہوگیا تو روزوں میں ایک ہفتہ کا اضافہ کردونگا،یہاں تک کے اس کے بعد آنے والے بادشاہ نے اسے ۵۰ تک بڑھادیا۔(۶)
عیسائیوں کے نزدیک روزے کا وقت آدھی رات سے ظہر تک ہوتا تھا اور ان کے بعض علاقوں میں گوشت اور پنیر کے علاوہ ہر چیز کھانے اور پینے کی اجازت ہوتی تھی۔(۷)
بنو اسرائیل( یہودیوں) پر بھی رمضان کے روزے فرض کئے گئے تھے۔(۸)لیکن وہ اس کے بدلے میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اس خیال سے کہ اس دن فرعون کو دریا میں غرق کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ انہوں نے بھی مختلف واقعات اور حادثات کی یاد میں روزے رکھنا شروع کردئے۔
ہندو مت میں بھی روزے کا ثبوت ملتا ہے۔سب سے زیادہ افرا ط کا شکار بھی یہی قوم رہی ۔دسیوں دن وہ روزے سے ہی رہتے تھے،نہ کچھ کھاتے نہ پیتے،اور بچپن سے ہی اس کی مشق کرتے تھے۔(۹)
سرکارِ دو عالم ﷺ سب سے آخری نبی ہیں۔آپ کی امت پر بھی روزے فرض کئے گئے جس کی نوعیت سب سے انوکھی اور بشری تقاضوں کے مطابق ہے ۔اس پر تین دور گذرے:
۱: ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ ہر مہینے ۳ دن اور عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔شعبان ۲ ہجری میں سورۃ بقرہ کی مذکورہ آیتیں نازل ہوئیں جس سے رمضان کا روزہ فرض کردیا گیا۔
۲:لیکن اب تک یہ اختیار تھاکہ چاہے روزہ رکھے یا مسکین کو کھانا کھلادے اگر چہ وہ مقیم ہی کیوں نہ ہوتا،چنانچہ اللہ تعالی نے دوسری آیت ’’شہر رمضان اللذی ‘‘نازل کر کے مقیم کے لئے یہ اختیار ختم کردیا جب کہ مسافر اور مریض کے لئے رخصت باقی رکھی گئی۔
۳:اب تک مسلمانوں کی عادت یہ رہی تھی کہ سونے سے پہلے تک کھاتے پیتے اور جماع کرتے تھے لیکن سونے کے بعد ان چیزوں سے پھر رک جاتے تھے۔لہذا اللہ تعالی نے قرآن کی آیت :’’احل لیلکم لیلۃالصیام‘‘ نازل فرماکر اس میں تیسری تبدیلی فرمادی حتی کہ افطاری کے بعد ایک مسلمان ان تمام پابندیوں سے آزاد رہتا ہے۔ (۱۰)
المراجع و المصادر
۱۔معارف السنن:۵/۳۲۶،مجلس الدعوۃ و التحقیق،جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن،کراچی۔
۲۔اردو دائرہ معارف اسلامیہ:۱۲/۲۵۵،شعبہ اردو،پنجاب یونیورسٹی،لاہور۔
۳۔صحیح البخاری :کتاب الصوم،باب من لم یدع قول الزور والعمل بہ۔
۴۔سنن الترمذی،باب ما جاء فی فضل من فطر صائما۔
۵۔احکام القرآن للجصاص الحنفی(المتوفی۳۷۰ھ):۱/۲۱۵،ط:دار احیاء التراث العربی ۱۴۰۵ھ۔
۶۔تفسیر مظہری:۱/۱۸۸،مکتبہ رشیدیہ۱۴۱۲ھ۔
۷۔دائرۃ المعارف(عربی):المعلم البطرس البستانی،ط:دار المعرفۃ لبنان،۱۱/۶۹۔
۸۔الجامع لاحکام القرآن:شمس الدین القرطبی(المتوفی ۶۷۱ھ):۲/۲۷۴،ط:دار الکتب المصریۃ،القاہرۃ ۱۳۸۴ھ
۹۔اردو دائرہ معارف اسلامیہ:۱۲/۲۵۵،شعبہ اردو،پنجاب یونیورسٹی،لاہور۔
۱۰۔تفسیر القرآن العظیم:ابو الفداء اسمعیل بن عمر بن کثیر (المتوفی۷۷۴ھ):۱/۳۶۶،دار الکتب العلمیہ ۱۴۱۹ھ۔
۱۱۔حجۃ اللہ البالغۃ:۲/۱۵۶،زمزم پبلیشرز
۱۲۔صحیح البخاری :کتاب الصوم،باب صوم شعبان۔
۱۳۔لسان العرب:ابن منظور(۷۱۱ھ)،۶:۴۵۲،ط:دار احیاء التراث العربی۔