(غذائی مصنوعات میں حلال وحرام کے اصول (پہلی قسط

1۔ کائنات اور اس کے اندر جو کچھ ہے وہ انسان کے فائدے کے لیے ہے ۔انسان ان اشیاء سے اسی وقت فائدہ اٹھاسکتا ہے جب شرعا اس کے لیے فائدہ اٹھانا جائز بھی ہو۔اس لیے راجح یہی ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے۔اگر چہ حرمت اور توقف کے اقوال بھی ہیں،مگر جمہور کا قول یہ ہے کہ اصل اباحت ہےاور یہی راجح ہے۔
حاشیۃ ردالمحتار:1/113
اقول:وقد صرح فی التحریر بان المختار ان الاصل الاباحۃ عند الجمہور من الحنفیۃ والشافعیۃ اھ وتبعہ تلمیذہ العلامۃ قاسم،وجری علیہ فی الھدایۃ من فصل الحداد،وفی الخانیۃ من اوائل الحظر والاباحۃ
الأشباه والنظائر: 1 / 66
وفي شرح المنار للمصنف : الأشياء في الأصل على الإباحة عند بعض الحنفية ، ومنهم الكرخي وقال بعض أصحاب الحديث : الأصل فيها الحظروقال أصحابنا : الأصل فيها التوقف بمعنى أنه لا بد لها من حكم لكنا لم نقف عليه بالعقل ( انتهى ) .
وفي الهداية من فصل الحداد : إن الإباحة أصل ۔
2۔ اباحت کا قاعدہ ان اشیاء کے بارے میں ہے جن سے نصوص خاموش ہیں۔ جن اشیاء کو نصوص میں حلال یا حرام قرار دیا گیا ہے وہ نص کی دلالت کے مطابق حلال یا حرام ہوں گی،وھو واضح۔
3۔ اصل اشیاء میں اباحت ہے مگر بعض اشیاء اس قاعدے سے مستثنی ہیں،مثلا گوشت اور فروج میں اصل حرمت ہے اور عبادات میں حظر وتوقف ہے وغیرہ
الأشباه والنظائر: 1 / 67
الأصل في الأبضاع التحريم ولذا قال في كشف الأسرار شرح فخر الإسلام الأصل في النكاح الحظر وأبيح للضرورة
4۔ جس طرح اصل حلت ہے اور حرمت کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اسی طرح اصل طہارت ہے اور نجاست کے لیے دلیل کی ضرورت ہے کیونکہ نجاست عارض ہے ،اس لیے جہاں کوئی دلیل نہ ہو وہاں طہارت کے اثبات کے لیے دلیل کی ضرورت نہ ہوگی کیونکہ اصل کے اثبات کے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی:
الاشباہ والنظائر:1/8
شک فی وجود النجس فالاصل بقاء الطہارۃ
5۔ حلت اور طہارت اصل اور یقینی ہیں تو ان کے رفع کے لیے بھی یقینی دلیل کی ضرورت ہوگی محض وہم اور شک سے حرمت اور نجاست کا حکم نہیں دیا جاسکے گا:
الحدیقۃ الندیۃ شرح الفریقۃ المحمدیۃ:2/710
لا حرمۃ الا مع العلم لا مع الشک والظن لان الاصل فی الاشیاء الحل
وایضا:2/721
الحرمۃ بالیقین والعلم وھو لم یتیقن ولم یعلم ان عین مااخذہ حرام
6۔ اگر دلائل متعارض ہوں تو احتیاط پرعمل ہوگا اور احتیاط یہ نہیں کہ کسی چیز کو حرام قرار دے دیا جائے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ اصل پرعمل کیا جائے اور اصل اباحت ہے۔
انظر:رد المحتار:کتاب الاشربۃ 5/326ط:مصطفی البابی مصر
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی اللہ تعالی باثبات الحرمۃ او الکراھۃ الذین لابد لھما من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل وقد توقف النبیﷺ مع انہ ھو المشرع فی تحریم الخمر ام الخبائث حتی نزل النص القطعی اھ
7۔ بے بنیاد خبروں اور جھوٹی افواہوں کا کوئی اعتبار نہیں:
ردالمحتار:2/102
لا مجرد الشیوع من غیر علم بمن اشاعہ کما قد تشیع اخبار یتحدث بھا سائز اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعھا
8۔ کوئی چیز خیرمحض یا مجموعہ شر نہیں بلکہ نفع اور نقصان دونوں ہی پہلو اپنے اندر رکھتی ہے، یہاں تک کہ ایک ہی چیز ایک شخص کے لیےمفید اور دوسرے کے لیے مضر ہوتی ہے بلکہ ایک ہی شخص کے لیے ایک پہلو سے مفید اوردوسرے پہلو سے ضرر رساں ہوتی ہے،یا اس کے بعض خواص مفید اور بعض مضر ہوتے ہیں ،اس لیے جس چیز میں نفع کا پلہ نقصان پر بھاری ہوگا وہ جائز اور حلال ہوگی اور جس چیز میں نقصانات کو فوائد پر غلبہ ہوگا وہ حرام اور ناجائز ہوگی۔قرآن کریم نے خمر کی خوبیوں کا بھی اعتراف کیا ہے مگر چونکہ نقصان کا پہلو اس میں غالب ہے اس لیے اسے حرام قرار دیا ہے:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا [البقرة : 219]
9۔ غذا ئی مصنوعات میں جو طیب ہے وہ حلال ہے اورجو خبیث ہے وہ حرام ہے۔طیب کا لفظ موقع ومحل کی مناسبت سے مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ہر چیز میں طیب کا وصف اس کی مخصوص نوعیت کے مطابق مختلف ہوتا ہےمثلا جب غذا کے ساتھ اسے استعمال کیا جائے اور طعامِ طیب کہا جائے تو مطلب حلال غذا ہوگا ،زمین کے ساتھ بطور صفت کے طیب کا لفظ بڑھادیا جائے تو معنی قابل کاشت زمین ہوتا ہے، جب یہ عورت کی صفت کے طور پر استعمال ہوتو مطلب پاکباز اور پاک دامن عورت ہوتا ہے،ریحِ طیب ملائم ہوا کو کہتے ہیں اورطعام ِطیب کا مطلب ہے عمدہ اور مرغوب غذا۔
لسان العرب –(1/563) ابن منظور:
( طيب ) الطِّيبُ على بناء فِعْل والطَّيِّب نعت وفي الصحاح الطَّيِّبُ خلاف الخَبيث قال ابن بري الأَمر كما ذكر إِلا أَنه قد تتسع معانيه فيقال أَرضٌ طَيِّبة للتي تَصْلُح للنبات ورِيحٌ طَيِّبَةٌ إِذا كانت لَيِّنةً ليست بشديدة وطُعْمة طَيِّبة إِذا كانت حلالاً وامرأَةٌ طَيِّبة إِذا كانت حَصاناً عفيفةً ومنه قوله تعالى الطيباتُ للطَّيِّبين وكلمةٌ طَيِّبة إِذا لم يكن فيها مكروه وبَلْدَة طَيِّبة أَي آمنةٌ كثيرةُ الخير ومنه قوله تعالى بَلْدَة طَيِّبة ورَبٌّ غَفُور ونَكْهة طَيِّبة إِذا لم يكن فيها نَتْنٌ وإِن لم يكن فيها ريح طَيِّبة كرائحةِ العُود والنَّدِّ وغيرهما ونَفْسٌ طَيِّبة بما قُدِّرَ لها أَي راضية وحِنْطة طَيِّبة أَي مُتَوَسِّطَة في الجَوْدَةِ وتُرْبة طَيِّبة أَي طاهرة ومنه قوله تعالى فَتَيَمَّمُوا صَعيداً طَيِّباً وزَبُونٌ طَيِّبٌ أَي سَهْل في مُبايعَته وسَبْيٌ طَيِّبٌ إِذا لم يكن عن غَدْر ولا نَقْض عَهْدٍ وطعامٌ طَيِّب للذي يَسْتَلِذُّ الآكلُ طَعْمه ابن سيده طَابَ الشيءُ طِيباً وطَاباً لذَّ وزكَا
حلال کا مطلب ہے جس کی شرعاً اجازت ہو۔کسی چیز کی ممانعت یا تو اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ جائز ملکیت نہیں ہوتی یعنی اس میں دوسرے کاحق ہوتاہے اورکبھی کوئی چیز اپنی ذات کی وجہ سے ممنوع وحرام ہوتی ہے،خواہ اس میں غیر کا حق ہو یا نہ ہو ۔ہمارا مقصود یہی دوسری قسم ہے۔اول الذکر کے متعلق فقہ کے دوسرے ابواب میں بحث ہوتی ہے۔
10۔ طیب اور خبیث دو متضاد اصطلاحات ہیں اور قرآن کریم نے ان دونوں کو مقابلے میں ذکر کیا ہے۔طیب میں حلال کی جملہ انواع سمٹ کرآجاتی ہیں اور خبیث میں حرام کی تمام شاخیں جمع ہوجاتی ہیں۔آگے اسباب حرمت کے بیان میں اس کی تفصیل آجائے گی۔
وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ [الأعراف : 157]
الصحاح في اللغة(1/434)
الطیب:خلاف الخبیث
جاری ہے