24
Ramadan

قدیم قرآنی مصاحف اور ملتِ اسلامیہ کی قرآنی خدمات کا تعارف

قدیم قرآنی مصاحف اورملتِ اسلامیہ کی قرآنی خدمات کا تعارف 
تعارف
زیر نظر تحریر مشہور زمانہ شخصیت علامہ محمد زاہد کوثری ؒ کے مضمون ’’مصاحف الأمصار وعظیم عنایۃ ھذہ الأمۃ بالقرآن الکریم فی جمیع الأدوار‘‘کا ترجمہ ہے۔
علامہ ؒ کی علمی وتحقیقی شخصیت کی قدر دانی وہی حضرات کر سکے جوخود علم و تحقیق کے دبستان سے وابستگی رکھتے تھے، اور جنہوں نے علامہ ؒ کی تحریرات میں اس جوہر گرانمایہ کا ادراک کر لیا تھا۔ علامہؒ کی مستقل تصنیفات اور متفرق تحریرات علامہؒ کے ذوق تحقیق کی عکاس ہیں۔
ہر علمی شخصیت کے موافقین اور مخالفین ہر زمانے میں موجود رہے ہیں، چنانچہ اس روایت سے علامہ ؒ کو بھی سابقہ پڑا اور علمی میدان میں آپ ؒ کے بھی مخالفین اور موافقین دونوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔گو کہ علامہ ؒ کا طرز تحریرکچھ شدت آمیز ہے، لیکن یہ علمی پختگی کی وہی قابل تعریف قسم ہے جس کو علمی تصلب کہا جاتا ہے۔اردو دان اہل علم عربی زبان سے ناآشنائی کے باعث دیگر عرب عبقری شخصیات کی طرح علامہ ؒ کی تحریرات سے بھی کما حقہ استفادہ نہیں کرسکے، لہٰذا علامہ ؒ کی شخصیت کا تحقیقی پہلو ان کی نظر سے اوجھل رہا ہے۔ علامہ ؒ کے شائع شدہ مضامین کے مجموعے بنام ’’مقالات الکوثری‘‘ سے ایک مضمون کا ترجمہ جملہ اہل علم کے لئے عموماً اور اردو دان طبقے کے لئے خصوصاً پیش خدمت ہے۔اگرچہ کسی بھی زبان کا ترجمہ، خواہ کسی زبان میں کیا جائے، اس کے اصل قالب کی مکمل ترجمانی بہرحال نہیں کرسکتا، تاہم فی الجملہ اس کے مقاصد کے سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔(از مترجم) 

حفاظت قرآن؛ اہل اسلام کا ایک بے مثل کارنامہ:
تاریخ انسانی میں گزری امتوں میں سے کسی امت نے بھی اپنی آسمانی کتاب کی اس قدر حفاظت نہیں کی، جس قدر اس امت محمدیہ (علی صاحبھا الصلوۃ والسلام )نے قرآن کریم کی حفاظت ، قرآن کریم کی تدریس اور ہر اس علم و فن کی تدوین کا اہتمام کیا جس کا قرآن کریم سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق تھا۔ یہ اہتمام اسلام کی صبح نو سے تاحال جاری ہے اور جب تک خداوند تعالیٰ نے چاہا، یہ اہتمام اسی طرح جاری رہے گا۔ اس طرح باری تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وہ وعدہ سچ کردکھایاجو اس فرمان گرامی میں باری تعالیٰ نے فرمایا تھا: ’’إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ ‘‘ (۱)
کیا کبھی تاریخ میں ایسی مثال گزری ہے کہ کہ کسی امت نے مدتوں گزر جانے کے باوجود کسی سماوی کتاب کی حفاظت کا اس قدر اہتمام کیا ہوکہ اس کو چھوٹوں اوربڑوں، جوانوں اور بوڑھوں سب نے اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا ہو ؟اور پھر ان میں کسی خاص جگہ کی تحدید نہ ہو بلکہ شہروں، بستیوں اور دیہاتوں سب جگہ یہ ایک عام معمول بن گیا ہو؟یہاں تک کہ اگربڑے بڑے شہروں سے دور کسی دیہات میں بھی کوئی قاری ایک کلمے میں بھول چوک سے غلط پڑھ لے تو وہاں بھی ایسا شخص دستیاب ہو جو اس کی غلطی پر اس کو تنبیہ کر کے درست کلمے کی طرف اس کی رہنمائی کر سکے۔ سوائے قرآن کریم کے اس طرح کسی اور کتاب کی مثال نہیں دی جاسکتی ۔
جس روز سے قرآن کریم نازل ہوا، اسی وقت سے اس امت نے اس کی حفاظت کا انتظام کر رکھا ہے، اور تمام اسلامی ممالک میں مدتوں سے اس کے حفظ کا دستورعام چلا آرہا ہے۔اس بات میں صرف وہی شخص شک کر سکتا ہے جو چاشت کے وقت سورج کے موجود ہونے میں شک کرے یا واضح حقائق میں اپنی کسی نفسانی غرض کی وجہ سے اس بات کو مشکوک ظاہر کرنے کی کوشش کرے۔

حفاظت قرآن کا نبوی لائحہ عمل:
آپ ﷺ قرآن کریم کے ایک ایک حصے کے نزول کے بعد اس کی حفاظت کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔آپﷺ صحابہ کرامؓ کو قرآن کریم سیکھنے ، سکھانے ، یاد کرنے اور سینوں میں محفوظ کرنے کی خصوصی ترغیب فرمایا کرتے تھے، اور اس ترغیب میں ان کو یوں ارشاد فرماتے :
’’ خیرکم من تعلّم القرآن وعلَّمہ ‘‘۔
ترجمہ:’’ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو خود قرآن کریم سیکھے اور لوگوں کو سکھائے‘‘۔
اس سلسلے میں کئی ایک صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں۔
قرآن کریم کے تھوڑا تھوڑا نازل ہونے نے صحابہ کرامؓ کے قرآن کریم کے حفظ کرنے اور اس کے احکام کی معرفت حاصل کرنے کو بھی بہت آسان کر دیا تھا۔ باری تعالیٰ کے اس فرمان گرامی میں اسی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے:’’وَقُرْآنًا فَرَقْنَاہُ لِتَقْرَأہٗ عَلٰی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنَاہُ تَنْزِیْلاً ‘‘ (۲ )۔
مجلس نبوی میں اس وقت کتابت کر سکنے والوں کی تعداد چالیس سے متجاوز تھی،ان میں سے کاتبین وحی قرآن کریم کے نزول کے فوراً بعد ہی صحابہ کرامؓ کی موجودگی ہی میں اس ذکر حکیم کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کر لیا کرتے تھے۔ خود صحابہ کرامؓ اس سلسلے میں وحی لکھنے اور لکھوانے میں حسب استطاعت و قدرت جلدی فرمایا کرتے تھے، اور صحابہ کرامؓ آپ ﷺ کے سامنے صبح شام اس کی تلاوت کیا کرتے تھے ، تاکہ جس طرح آیت نازل ہوئی ہے ،اسی طرح سینے میں محفوظ ہو جائے(اور اس میں کوئی کمی بیشی نہ رہ جائے)۔اسی اہتمام اور عنایت کا نتیجہ تھا کہ کفار مسلمانوں پر طرح طرح کی باتیں بنایا کرتے تھے، جیساکہ باری تعالیٰ نے ان کی یہ باتیں قرآن کریم میں ذکر فرمائی ہیں۔ ارشاد گرامی ہے:’’وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا إِنْ ھٰذَا إِلاَّ إِفْکُ افْتَرَاہُ وَأَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ آخَرُوْنَ فَقَدْ جَاءُ وْا ظُلْمًا وَّزُوْرًا وَقَالُوْا أَسَاطِیْرُ الْأَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَھَا فَھِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلًا ‘‘ ۔ (۳)

اہل صفہ کی خدمات:
صحابہ کرامؓ میں سے جن فقرأ صحابہ کرامؓ کے گھر بار نہ تھے، مسجد نبوی کا صفہ ان کا ٹھکانہ ہوا کرتا تھا، اور وہ آپ ﷺ کی نگرانی میں قرآن کریم پڑھتے پڑھایا کرتے تھے ۔یہ سب کچھ آپ ﷺکے انہیں قرآن کریم یاد کرنے اور سیکھنے سکھانے کی ترغیب فرمانے کا نتیجہ تھا،یہاں تک کہ مسجد نبوی میں ان کی تلاوت سے ایک بھنبھناہٹ کی آواز گونجا کرتی تھی۔انہی کے بارے میں باری تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: ’’وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ ‘‘ ۔(۴)
صفہ نامی چبوترا صرف ناداروں کے ٹھہرنے کی ہی جگہ نہ تھی، بلکہ قرآن کریم حفظ کرنے اور اس کے احکام کی درس و تدریس کا باقاعدہ مدرسہ بھی تھا۔انہی اہل صفہ میں سے آپ ﷺ نے کئی ایک کو مختلف قبائل کی طرف انہیں قرآن پڑھانے اور دینی تعلیمات سکھلانے کے لئے روانہ بھی فرمایا تھا۔مدینہ منورہ (زادھا اللّٰہ شرفًا)میں جب ہجرت سے قبل آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو اہل مدینہ کو قرآن کریم سکھلانے کی غرض سے روانہ فرمایا تھا، اسی وقت سے وہاں قراء کرام کا ایک گھر تھا ،جہاں قراء کرام باہر سے آکر ٹھہرا کرتے تھے۔آپ ﷺ نے ایک طرف قراء صحابہؓ میں سے چنیدہ اشخاص کو قرآن کریم سکھلانے کے لئے مختص فرما رکھا تھا،اور دوسری طرف لوگوں کو حکم فرمایا تھا کہ وہ ان کے پاس جا کر قرآن کریم سیکھیں، چنانچہ مدینہ منورہ قراء کرام سے بھر گیا تھا۔انہی میں سے آپ ﷺ قراء کرام کی جماعتیں نومسلم قبائل کی طرف قرآن کریم پڑھانے، اور دین سکھلانے کی غرض سے بھیجا کرتے تھے۔ان قراء کرا م کی تعداد بہت ہی زیادہ تھی۔ان کے اسمائے گرامی سیرت کی مفصل کتابوں اور صحابہ کرامؓ کے حالات پر مشتمل کتابوں میں ذکر کئے گئے ہیں۔ان میں سے صرف بئر معونہ کے واقعے میں دھوکے سے شہیدکئے جانے والوں کی تعدادتقریباً ستر تھی۔اس واقعے سے نبی کریم ﷺ کو اس قدر صدمہ پہنچا تھا کہ آپ ﷺنے مسلسل ایک ماہ تک فجر کی نمازمیں دعائے قنوت پڑھ کران دھوکہ دہندگان قبائل یعنی قبیلۂ رعل ،قبیلۂ ذکوان اور قبیلۂ عصیہ کے لئے بددعا فرمائی تھی۔
اس اندوہ ناک حادثے کے بعد صحابہ کرامؓ کا قرآن کریم کے حفظ کرنے کااہتمام مزید بڑھ گیا تھا۔ قرآن کریم کی تدریس میں صحابہ کرامؓ کا عام معمول یہ تھا کہ وہ چند چند آیات کر کے سکھلایا کرتے تھے، چند سورتیں ایک کو اور چند سورتیں دوسرے کو پڑھاتے ، تاکہ ہر کوئی اپنے اپنے سبق کو اچھی طرح یاد کرلے اوراس طرح ہر ممکن طریقے سے حفاظ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔بعض ان میں سے ایسے تھے جن کو مکمل قرآن کریم یاد تھا، اور بعض ایسے تھے جنہیں چند سورتیں یاد ہوتیں، جن میں ان کے ساتھ دیگر لوگ بھی شریک ہوتے، اس طرح قرآن کریم کا بقیہ حصے کا حفظ مختلف جماعتوں پر تقسیم تھا۔جنہوں نے قرآن کریم یاد نہیں کیا تھا، ان میں سے بھی اکثر کی حالت یہ تھی کہ اگر کسی قاری کو قرآن کریم کی کی کسی آیت میں غلطی ہو جاتی تو وہ اس قاری کو تنبیہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے تھے۔یہ ان کی تلاوت کی کثرت اور اس پر مداومت کا نتیجہ تھا۔ بعض حفاظ کرام عام جہری نمازوں اور خاص طور پر فجر کی نماز میں امامت کرتے ہوئے سات بڑی بڑی سورتوں میں سے کسی کی تلاوت کیا کرتے تھے، بلکہ اس سے بڑھ کر بعض صحابہ کرامؓ مثلاً حضرت عثمانؓ اور حضرت تمیم داریؓ جیسے حضرات کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک رکعت میں پورا قرآن کریم پڑھا کرتے تھے۔تابعین ؒ میں سے امام ابو حنیفہ ؒ کے بارے میں بھی منقول ہے کہ آپ ؒ نے ایک رکعت میں پورے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی ہے۔اسلاف میں ایسے حضرات کی تعداد تو بہت ہے جن کے بارے میں یوں منقول ہے کہ وہ ہرسال رمضان المبارک میں ساٹھ قرآن کریم ختم فرمایا کرتے تھے۔ اہل علم میں سے جو حضرات قدرے سُست تھے، ان کا بھی ایک ماہ میں ایک قرآن کریم ختم کرنے کا عام معمول تھا۔ان میں بھی غلبہ ان حضرات کا تھا جو ایک ہفتے میں ایک قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے۔
باری تعالیٰ نے اہل عرب صحابہ کرامؓ کو جوقوتِ حافظہ مرحمت فرمائی تھی، اس کی وجہ سے اُنہیں قرآن کریم کا یاد کرنا بہت سہل تھا۔اہل عرب کو قصائد ، خطبات ، شواہد اور امثال کا اس قدر ذخیرہ سینوں میں محفوظ تھا کہ اس نے اقوام عالم کو انگشت بدنداں کردیا تھا اور اپنی قوت حافظہ کا سکہ منوالیا تھا۔البتہ جو بیمار دل اور بے جا بغض رکھنے والے ہیں، اُنہیں اس واضح بات کے تسلیم کرنے میں بھی تردد رہا ہے۔اہل عرب کے اس عمومی رویے ہی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کے یاد کرنے میں ان کا کیا حال ہوگا ،جس نے ان کے دلوں کو موہ لیا تھا اور اس کے الفاظ کی بلاغت اوراس کے معانی کے اس زورِ بیان نے جو قرآن کریم کے حکیم اور سزاوار حمد و ثنا کی طرف سے نازل شدہ ہونے کا اعلان کرتا ہے، ان کی بصیرت کو خیرہ کر دیا تھا ؟

رمضان میں نبی کریم ﷺ کا جبریل علیہ السلام کے ساتھ دور قرآن: مفہوم وحکمت:
آپ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ ہر سال جبریل ؑ کے ساتھ رمضان المبارک میں قرآن کریم کا ایک مرتبہ دور فرمایا کرتے تھے۔ اور جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ ﷺ رفیق اعلیٰ سے جاملے، اس سے پچھلی رمضان آپ ﷺ نے دو مرتبہ یہ دور فرمایا تھا۔
دور اس طرح ہوتا ہے کہ پہلے ایک شخص پڑھے اور دوسرا سنے، اس کے بعد دوسرا پڑھے اور پہلا سنے، اس لئے کہ لفظ’’ معارضۃ‘‘(جو کہ حدیث شریف میں وارد ہے) مشارکت (یعنی دو طرفہ ہونے )کا تقاضہ کرتا ہے۔ اس طرح درحقیقت آپﷺکے ہر سال جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کی تعداد دو ہوئی اورسن وفات سے پچھلی رمضان اس کی تعداد چار ہوئی۔آپ ﷺ کو اس طرح دو مرتبہ دور کرنے سے معلوم ہو گیا کہ اب رفیق اعلیٰ سے ملاقات کا وقت قریب ہوا چاہتا ہے، چنانچہ آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کو جمع فرمایا اور ان کے سامنے آخر ی مرتبہ پورا قرآن کریم پیش فرمادیا۔

سبعہ وعشرہ قراء ات کا تواتر؛امام شوکانیؒ اور شیخ حسن خان قنوجیؒ کا مغالطہ:
اس آخری مرتبہ جو آپ ﷺ نے قرآن کریم صحابہ کرامؓ کو سنایا، وہ قرآن کریم کی انہی دیگر قر آت متواترہ ہی کا حصہ ہیں جو مختلف طبقات میں منقول چلی آرہی ہیں، لہٰذا ان میں سے کسی ایک حرف کے انکار پر بھی کفر کا حکم لاگو ہوگا۔البتہ ان قر آت متواترہ میں سے بعض وہ ہیں جن کا متواتر ہونا عوام کو بھی واضح طور پر معلوم ہے، اور بعض وہ ہیں جن کا علم خاص قراء ماہرین ہی کو ہے ، عوام کو ان کا علم نہیں ۔چنانچہ پہلی قسم کی قرء ات میں سے کسی کا انکار بالاتفاق کفر ہو گا، جب کہ دوسری قسم کی قرء ات کا انکار اس وقت کفر شمار ہو گا جب دلائل کے قائم کردینے کے باوجود بوجہ عناد کوئی شخص ان کا انکار کرے،لہٰذا قرء ات سبعہ یا قرء ات عشرہ متواترہ کی تحقیر و تضعیف بہت ہی خطرناک معاملہ ہے،اگرچہ شوکانیؒ اور صدیق حسن خان قنوجیؒ نے اس کی جسارت کی ہے۔جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ فن قرء ات کے شیخ امام شمس الجزری ؒ نے باقاعدہ قرء ات عشرہ کے راویوں کے اسمائے گرامی اپنی کتاب ’’منجد المقرئین‘‘ میں طبقہ در طبقہ شمار فرمائے ہیں، جس کی روشنی میں ہر صاحب عقل پر قرء ات عشرہ کا جملہ طبقات میں تواتر بلا شک و شبہ واضح ہوجاتا ہے۔مزید یہ کہ امام جزری ؒ نے ہر طبقے کے تمام رواۃ کا احاطہ نہیں کیا ہے۔
شوکانیؒ اور قنوجیؒ کا ابن جزریؒ کی طرف منسوب کلام کے ذریعے نتیجے کے طور پراپنے فاسد گمان کو ثابت کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔آپ ابن جزریؒ کی خود اپنی کتاب ’’المنجد‘‘کی عبارت دیکھیے جو تواتر کے متعلق انہوں نے تحریر فرمائی ہے۔ ابن جریرؒ نے ابن عامرؒ کی بعض قرء ات کے متعلق جو کچھ کہا ہے، وہ بھی ایک نری لغزش ہے، جو ماقبل میں بیان کردہ دو اقسام میں سے دوسری قسم میں سے ہے۔یہی کچھ حال زمخشری کی رائے کا بھی ہے جو انہوں نے کشاف میں ذکر کی ہے، اللہ ہمیں ان لغزشوں سے محفوظ فرمائے۔ابن جریرؒ فن قرء ات میں ماہر نہیں ہیں، اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس کو صحیح طرح پڑھا پڑھایا ہے، اور ان کی لغزش کا سبب بھی ان کی یہی لاعلمی ہے، جیسا کہ فن قرء ات کے ماہرین نے ان پر تبصرہ فرمایا ہے۔
یہ بالکل بجا ہے کہ مصحف متواتر میں سورتوں اور آیات کی ترتیب، ترتیب نزولی کے موافق نہیں ہے، بلکہ یہ ترتیب متواتر وہی ہے جو نبی کریم ﷺ نے وفات سے قبل آخری مرتبہ صحابہ کرامؓ کے سامنے جو قرآن کریم سنایا ، اس میں پیش فرمائی تھی۔ اس سے قبل آپ ﷺ کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی آپ ﷺ سورتوں اور آیات کے درمیان اس کی جگہ ارشاد فرما دیا کرتے تھے،جیسا کہ یہ بھی قرآن کریم کی اجزاء بندی کے متعلق صحیح حدیث میں منقول ہے کہ آپﷺ نے سورتوں کی باقاعدہ ترتیب صحابہ کرامؓ کے سامنے بیان فرمائی تھی۔

سورتوں کی ترتیب توقیفی:
حاصل یہ کہ درست تحقیق کے مطابق سورتو ں کی باہمی ترتیب بھی اسی طرح توقیفی ہے ،جس طرح آیات کی باہمی ترتیب توقیفی ہے۔ واقعہ بھی یہی ہے ، اس لئے کہ سورتوں اور آیات کی ترتیب کے بغیر مرتب انداز میں قرآن کریم صحابہ کرامؓ کے سامنے پیش کیسے فرمایا جاسکتا تھا؟ قرآن کریم مکمل طور پر چمڑے کے رقعوں ، ہڈیوں اور پتوں وغیرہ پر عہد نبوی ہی میں لکھا جا چکا تھا، اور ان تمام اجزاء کی( جنہیں نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں تحریر کیا گیا تھا) صحابہ کرامؓ اپنے گھروں میں حفاظت فرمایا کرتے تھے،نیز انہیں یاد بھی کرتے رہتے تھے،بلکہ اسی طریقے کے مطابق جس کو ہم نے ماقبل میں بیان کیا، صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد نے مکمل قرآن کریم حفظ کر رکھاتھا(۵)۔بعض صحابہ کرامؓ سے اس سلسلے میں حفاظ صحابہ کرامؓ کی جو تعداد مروی ہے،وہ راوی کے اپنے علم اور کسی خاص قبیلے میں ان کی پائی جانے والی تعداد کے مطابق ہے۔ جو شخص بھی اس سلسلے میں ان روایات کا تتبع کرے گا ،وہ اس بات میں شک نہیں کر سکتا۔ عرصہ قبل جو کچھ ہم نے علوم قرآن کریم کے متعلق تقریر قلمبند کروائی تھی ، اس میں اس خاص موضوع کے متعلق تفصیل سے بحث کی تھی۔( ۶)
ایک ہی مصحف میں تمام سورتوں اور آیات کا جمع کرنا عہد نبوی میں اس وجہ سے ممکن نہیں ہو سکاتھا کہ آخری وحی الٰہی کے نزول اور آپ ﷺ کے رفیق اعلیٰ سے مل جانے کی مدت بہت تھوڑی تھی، اور واضح بات ہے کہ نزول قرآن کریم ہی کے زمانے میں ایک مصحف میں جمع ہونے کا تصور ہو بھی کیسے سکتا ہے؟۔عہد صدیقی میں صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت کی زیر نگرانی، ہر سورت علیحدہ مصحف اور اوراق میں آیات کی ترتیب کے ساتھ حضرت زید بن ثابتؓ کے خط سے تحریر ہوئی۔کتابت کا طرز وہی رکھا گیا جو آپ ﷺ کی موجودگی میں تحریر کیا گیا تھا،جب کہ دو گواہوں کے ذریعے یہ ثابت بھی ہو جاتا کہ یہ تحریر آپ ﷺ کے سامنے ہوئی ہے۔یہ طرز عمل درحقیقت آپ ﷺ کے سامنے اور صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں ہونے والی طرز کتابت کی حفاظت میں بطور مبالغہ اختیار کیا گیا تھا۔یہاں گواہوں کی ضرورت اصل قرآن کریم کے الفاظ کے ثبوت کے لئے ہرگز نہ تھی، اس لئے کہ حفاظ صحابہ کرامؓ کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ حضرت خزیمہؓ کی حدیث سے بھی واضح طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ شہادت ان لکھے ہوئے قطعات کے آپ ﷺ کے سامنے لکھے ہوئے ہونے پر لی جاتی تھی۔

حضرت ابو بکر صدیقؓ اور جمع قرآن کریم:
جنگ یمامہ میں صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی تعداد کا بیک وقت شہید ہو جانا،حضرت عمرؓ کی اس رائے کا باعث تھا کہ قرآن کریم کوصحف میں نقل کردیا جائے۔حضرت ابو بکر صدیقؓ کا اس بارے میں اول تردد کرنا اس اندیشے کی بنا پر تھا کہ پھر قرآن کریم کی حفاظت کے لئے ،قرآن کریم یاد کرنے سے زیادہ انحصار کتابت پر ہوجائے گا اور لوگ قرآن کریم یاد کرنے میں سستی برتنے لگیں گے ۔ یہ تردد اس لئے نہیں تھا کہ آپؓ قرآن کریم کی نفس کتابت میں کوئی حرج محسوس کر رہے تھے۔خود باری تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’رَسُوْلٌ مِّنَ اﷲِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً ‘‘ (۷) اس آیت کریمہ کے ہوتے ہوئے قرآن کریم کے صحف میں نقل کرنے پر تردد کا تصور بھی کیسے کیا جاسکتا ہے؟
صحابہ کرامؓ عام یاجنگی اسفار کے دوران اپنے ساتھ قرآن کریم کا کوئی حصہ مکتوب صورت میں اس لئے نہیں رکھتے تھے کہ کہیں دشمن اس کو پاکر اس کی بے حرمتی نہ کریں، نیز اس بارے میں وہ نبی کریم ﷺکے اس ارشاد مبارک کو مدنظر رکھتے تھے کہ آپ ﷺ نے دشمن کی سرزمین میں قرآن لے کر جانے سے ممانعت فرمائی تھی۔ جنگ یمامہ کے شہداء قراء صحابہ کرامؓ بھی آپ ﷺ کی اسی ممانعت کی بنا پر آپ ﷺ کی موجودگی میں لکھی ہوئی قرآنی تختیاں اپنے گھروں میں چھوڑ کر جنگ پر روانہ ہوئے تھے۔ ممکن تھا کہ قرآن کریم کوان تختیوں سے صحف میں منتقل کرنے سے پہلے اسی طرح کا کوئی اور حادثہ رونما ہو جائے اورپھر قرآن کریم کے جمع کرنے میں حفاظ صحابہ کرامؓ کی یاد داشت کی مدد سے قرآن کریم منتقل کیا جائے ، اس طرح وہ رسم الخط جو نبی کریم ﷺ کے سامنے صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں اختیار کیا گیا تھا ،ضائع ہوجائے۔درحقیقت حضرت عمرؓ کی پیش کردہ تجویزکی بنیاد یہی ہے۔اسی تجویز پر ابو بکر صدیقؓ سمیت تمام صحابہ کرامؓ کا اتفاق بھی ہوگیا، اس طرح حضرت زیدؓ کے خط سے صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت کی زیر نگرانی ہر ہر سورت کی آیات علیحدہ علیحدہ مصاحف میں جمع کر دی گئیں، چنانچہ ان متفرق صحیفوں سے سینکڑوں مصاحف تحریر کیے گئے۔

حضرت عثمانؓ اورجمع قرآن :
جب اسلامی فتوحات کی کثرت ہوئی اور دور دراز شہروں میں تلاوت میں اغلاط کثرت سے پیش آنے لگیں،تب صحابہ کرامؓ کاحضرت عثمانؓ کے عہد مبارک میں اجماع ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے صحیفوں کے ذریعے معروف قراء کی نگرانی میں چند مصاحف تیار کیے جائیں اور انہیں مسلم علاقوں کی طرف روانہ کیا جائے،تاکہ تمام شہروں کے لوگ اپنے اپنے مصاحف کا صحابہ کرامؓ کی نگرانی میں تیار شدہ مصاحف سے تقابل کر کے اپنی اغلاط درست کرسکیں، اور تلاوت وکتابت کے سلسلے میں بھیجے گئے مصحف کی اتباع کریں، نیز دیگر تمام مصاحف جنہیں مختلف افراد نے انفرادی طور پر تحریر کیا ہے اور اس میں غلطی کی شکار ہوئے ہیں، ان کو چھوڑ دیں۔اس پر کسی صحابیؓ نے انکار نہیں فرمایا، بلکہ خود ابی ابن کعبؓ کتابت میں حضرت زیدؓ کے جملہ مددگاروں میں سے ایک تھے۔
ذہبیؒ کو جو یہ اصرار ہے کہ حضرت ابی بن کعبؓ کی وفات پہلے ہو چکی تھی تو یہ ان کا وہم ہے۔بلکہ ان سے بڑھ کر حضر ت ابن مسعودؓ نے (باوجود یہ کہ انہوں نے کتابت کا کام سپرد نہ کیے جانے پر کچھ برا منانے کا اظہار کیا تھا)اس اہم کام میں مفوضہ جماعت کی موافقت اور مدد فرمائی،جیسا کہ منقول ہے کہ جب ان کی خدمت میں کچھ لوگ کسی سلسلے میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ان کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: ’’قرآن کریم تمہارے پیغمبر کی طرف سات دروازوں سے سات حروف پر نازل ہوا ہے‘‘۔حضرت زید بن ثابتؓ وہ مرکزی شخصیت تھے، جنہیں کتابت کا یہ کام بنیادی طور پر سپرد ہواتھا، ان کے ساتھ حضرت عثمانؓ کے عہد میں ایک جماعت بھی معاونت کرتی تھی۔اسی طرح عہد صدیقی میں بھی حضرت زیدؓ ہی کا کتابت میں مرکزی کردار تھا۔لہٰذا اگر حضرت عثمانؓ نے حضرت زیدؓ کو قرآن کریم کی نقل و کتابت کا کام سپرد کیا تھا تو اس پر حضرت ابن مسعودؓ کے ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی، اس لئے کہ عہد صدیقی میں وہ یہ کام انجام دے چکے تھے۔ان دونوں زمانوں میں حضرت زیدؓ کے اختیار کی وجہ یہی تھی کہ وہ کتابت وحی کے لئے جملہ کاتبین وحی میں سے سب سے زیادہ آپ ﷺ کی ملازمت اختیا ر کئے ہوئے تھے،نیز وہ جوان تھے، زور بازو رکھتے تھے اور رسم الخط بھی بہتر جانتے تھے، لہٰذا وہی زیادہ موزوں تھے،بلکہ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عثمانؓ دونوں کے لئے مصحف کریم کی کتابت میں حضرت زیدؓ کو چننے میں حضور اکرمﷺ کی سنت کی پیروی بھی تھی۔
کتابت قرآن کریم میں ان کی طویل ممارست اور مشق کی وجہ سے انہیں رسم الخط کو ایک ہی طرز پر رکھنے میں بھی مہارت ہو چکی تھی اور کتابت قرآن کے تمام ادوار میں ایک ہی رسم الخط کا رکھنا انتہائی مطلوب تھا۔اس مشقت آمیز عمل کے لئے معمر صحابہ کرامؓ کا انتخاب ان پر بے جا بار رکھنے کے مترادف تھا۔حضرت ابن مسعودؓ کے فضل و کمال، ان کے سابق الاسلام ہونے اور قرآن کریم کے علوم و معارف دا نی میں ان کی وسعت کاکسی صحابیؓ کو کوئی انکار نہیں تھا، لیکن صحابہ کرامؓ نے اس سلسلے میں ان کے ناخوش ہونے کا کوئی سبب نہیں پایا، مزید برآں وہ کوفہ میں ایک انتہائی اہم کام میں پہلے سے ہی مصروف تھے۔ اہل کوفہ کو دین اسلام کی فقہ پڑھانا اور قرآن کریم سکھلانا ان کے مشاغل تھے،لہٰذا کوفہ سے چند سالوں کے لئے ان کا دور رہنا اس علم کی نشر و اشاعت کے لئے کسی طرح بھی موزوں نہیں تھا، جس علم کا انہوں نے کوفہ میں بیج ڈالا تھا۔بلکہ اس کے برعکس ضروری تھا کہ وہ کوفہ میں اس کی آبیاری کرتے رہیں، تاکہ آنے والے دور میں اس کے پھل سے اُمت فیض یاب ہوتی رہے۔
پانچ سال کی مدت تک نسخ مصاحف کمیٹی کاکام جاری رہا،اور تحقیق کے مطابق یہ زمانہ سن پچیس ہجری سے سن تیس ہجری تک کا ہے۔اس کے بعد تحریر شدہ مصاحف کی نقول مختلف علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔حضرت عثمانؓ نے مکہ ، بصرہ ، شام اور کوفہ روانہ کرنے کے بعدان میں سے ایک مصحف اہل مدینہ کے لئے اور ایک مصحف خود اپنے لئے رکھ لیا۔یہ مصاحف ان مشہور اور معروف قراء کی زیر نگرانی تیار ہوئے تھے، جن کی شہرت قرآن سنانے اور دور کرنے کروانے میں عام تھی۔امت نے حضرت عثمانؓ کے اس کارنامے پر ان کا تہہ دل سے شکر ادا کیا، جن میں سر فہرست حضرت علیؓ تھے، جو فرمایا کرتے تھے ، ’’اگر مجھے ولایت وخلافت کے امور سونپے جاتے تو میں بھی مصاحف کے سلسلے میں وہی کچھ کرتا جو حضرت عثمانؓ نے فرمایا‘‘۔ ابو عبید ؒ نے’’فضائل القرآن‘‘ میں حضرت علیؓ کا یہ مقولہ نقل فرمایا ہے، اور اس کی سند یوں بیان فرمائی ہے:’’عن عبد الرحمٰن بن مھدی عن شعبۃ عن علقمۃ بن مرثد عن سوید بن غفلۃ عن علی کرم اللّٰہ وجہہ ‘‘ ۔ (یعنی عبد الرحمن بن مھدی نے شعبہ سے ، شعبہ نے علقمہ بن مرثد سے ،علقمہ نے سوید بن غفلہ سے ، اور سوید نے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ سے نقل فرمایا۔۔۔ الخ)
آپ ﷺ کی طرف سے سب سے آخرمیں پیش کردہ قرآن کریم میں موجود قرء ات یہ قرآن کریم کی بعض قرء ات ہیں۔ان میں سے جن جن قرء ات کااس مصحف میں باعتبار رسم الخط کے جمع کرنا ممکن ہوا، انہوں نے ان لکھے ہوئے مصاحف کے رسم الخط میں جمع کر دیں، اس لئے کہ اس وقت تک صحابہ کرامؓ کے درمیان رائج رسم الخط میں نقطوں اور اعراب کا کوئی نشان نہیں ہوا کرتا تھا،بلکہ وہ حضرات الفاظ کے درمیان آنے والے الفوں کی کتابت سے بھی مستغنی تھے۔یہی وجہ ہے کہ ایک ہی رسم الخط میں ان کے لئے ’’فتبینوا‘‘ اور ’’فتثبتوا‘‘، ’’ینشرکم‘‘ اور ’’یسیرکم‘‘وغیرہ کئی ایک متواتر قرء ات کوبیک وقت جمع کرنا ممکن تھا۔ وہ قرء ات جن کاایک ہی خط میں جمع کرنا ممکن نہ ہوتا تھا ، اس کو انہوں نے مختلف مصاحف میں تقسیم کردیا تھا۔

چند مصاحف کا تعارف:
ان مصاحف میں موجود رسم الخط کی مکمل تفصیلی کیفیت اس وقت سے آج تک اس سلسلے کی مختص کتب میں مل جاتی ہے۔ اس موضوع سے متعلق جس کتاب کا حصول آسان ہے، وہ دانی ؒ کی ’’المقنع‘‘ اور ’’المحکم ‘‘ ہے، انہوں نے ان دونوں کتب میں متقدمین کی رسم الخط میں تالیف کردہ کتب کو تلخیص کیا ہے۔ اسی طرح سینکڑوں قراء اسی زمانے سے ہمارے آج کے زمانے تک ہر طبقے میں موجود رہے ہیں، جو ان کلمات کے املاء کی کیفیات سے واقف ہیں۔خود ہی دیکھ لیجیے کہ قراء کے تمام طبقات کے چنیدہ اشخاص کی قرآنی رسم الخط کے متعلق تالیف کردہ کتب کثرت کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہیں۔

مصحف کوفہ: انہی مصاحف میں کوفہ کا مصحف، سجقلیؒ کے بیان کے مطابق وہی مصحف ہے جو طرسوس (جو کہ جزیر�ۂ ارواد کے سامنے ، اور شام کے علاقے طرابلس کے قریب واقع ہے)میں امام سخاوی ؒ کے عہد تک محفوظ رہا،اس کے بعد قلعۂ حمص منتقل ہو گیا۔ نابلسی ؒ اپنے طویل سفرنامے میں سن گیارہ سو صدی ہجری میں لکھتے ہیں کہ یہ مصحف وہاں پر عمومی جنگ تک محفوظ رہا، اس کے بعد اس کی حفاظت پر مامور لوگوں نے اس مصحف کو دار الخلافہ قسطنطنیہ منتقل کردیا۔
مصحف مدینہ: اسی طرح مدینہ منورہ کا مصحف بھی صدیوں سے روضہ مبارکہ میں محفوظ چلا آرہاتھا، عمومی جنگ کے دورانیہ میں دار الخلافہ منتقل کردیا گیا۔جنگ کے اختتام پر شاید یہ مصحف دوبارہ مدینہ منورہ منتقل کردیا گیا ہے۔
مصحف شام: شام کا مصحف وہی تھا جو ایک عرصے تک طبریہ میں رہا اور اس کے بعد دمشق منتقل ہو گیا۔ ابن جزریؒ کے عہد تک یہ مصحف مسجد توبہ میں محفوظ رہا۔ اس کے بعد عمومی جنگ سے پیشتر جامع اموی میں حجرۃ الخطیب میں محفوظ رہا۔ ازاں بعد عمومی جنگ کے دوران یہ مصحف بھی دار الخلافہ منتقل کردیا گیا۔
ہمارے زمانے کی مشہور صاحب علم شخصیت شیخ عبد الحکیم افغانی ؒ کو وفات سے کچھ سال قبل جب کہ عمومی جنگ برپا نہیں ہوئی تھی، یہ خیال الہام ہوا تھا کہ قرآن کریم کی ایک نقل دمشق کے مصحف سے اسی کے رسم الخط کے موافق تیار کرلی جائے۔شاید کہ ان کو یہ محسوس ہوگیا تھا کہ شام میں موجود یہ مصحف منتقل ہونے والا ہے،چنانچہ خود انہی نے یہ مصحف اپنے مبارک ہاتھوں سے مکمل نقل کر لیا تھا۔آج تک یہ مصحف شیخ عبد الحکیم ؒ کے بعض تلامذہ کے ہاں محفوظ ہے۔
مصحف حمص و مصر:شیخ عبد الغنی نابلسیؒ کی کتاب ’’الحقیقۃ والمجاز فی رحلۃ الشام ومصر والحجاز ‘‘ میں حمص اور مصر میں موجودان قدیم مصاحف کا تعارف موجود ہے، جو خود شیخ نابلسی ؒ نے وہاں ملاحظہ فرمائے تھے۔’’منادمۃ الأطلال ‘‘ میں شامی مصاحف کے متعلق اخیر عہد کے کچھ حالات بھی ذکر کئے گئے ہیں۔
مصحف عثمانؓ: حضرت عثمانؓ کا مصحفِ خاص جو کہ ابو عبید ؒ کو کسی خزانے سے دستیاب ہوا تھا ، جیساکہ کتاب ’’عقیلہ‘‘اور اس کی شروح میں موجو د ہے۔عین ممکن ہے کہ یہ وہی مصحف ہو جس کا ذکر مقریزی ؒ نے ’’خطط‘‘میں جامع عمرو میں موجود حضرت اسماءؓ کے مصحف کے بارے میں بحث کرتے ہوئے فرمایا ہے۔حضرت اسماءؓ کا یہ مصحف وہی ہے جس میں غلطی کی نشاندہی کرنے والے کے لئے عبد العزیز بن مروان نے انعام کا اعلان کیا تھا،چنانچہ ایک کوفی قاری نے بجائے لفظ ’’نعجۃ‘‘کے، ’’نجعۃ‘‘ ہونے کی نشاندہی کرنے پر انعام بھی حاصل کیا تھا۔بعد میں یہ مصحف مآثر نبویہ کی منتقلی سمیت قاہرہ کے قبۂ غوری میں منتقل کردیا گیا تھا۔اس کے بعد انہیں آثار کے ساتھ مشہد حسینی منتقل کردیا گیا۔علامہ شیخ بخیت ؒ نے ’’الکلمات الحسان ‘‘ میں اس کی صفات بیان کی ہیں۔
کئی دھوکے باز لوگوں نے بعض قدیم مصاحف کو خون سے آلودہ کر کے لوگوں کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش بھی کی ہے کہ یہ مصحف حضرت عثمانؓ کا ہے، اور یہ خون انہی کا ہے، جو قتل کے وقت ان کے جسم سے نکل کر مصحف پر گراتھا۔کئی ایک ایسے ہی خون آلود مصاحف کتب کے عجائب گھروں میں رکھے ہوئے ہیں، اللہ ان بدبختوں سے انتقام لے گا ، ان شاء اللہ!۔
ملک ظاہر بیبرس نے منگول حکمران (جس کا شمالی علاقہ جات ’’وولجا‘‘ اور اس سے ملحقہ علاقوں پر تسلط تھا)کو جو اسلام قبول کرنے کی کامیاب دعوت دینے کی غرض سے مصحف روانہ کیا تھا ، باوجود یہ کہ مشہور یہی ہے کہ وہ مصحف عثمانی تھا، تاہم وہ درحقیقت مصحف عثمانی نہیں تھا ، اس لئے کہ اس کا رسم الخط بعض مقامات پر مصحف عثمانی کے رسم الخط سے مختلف تھا، جیساکہ علامہ شہاب جرجانی ؒ نے ’’وفیات الأسلاف وتحیات الأخلاف ‘‘ میں اس مصحف کے رسم الخط اور مصحف عثمانی کے رسم الخط کا متعلقہ کتب مثلاً ’’الرائیۃ‘‘ وغیرہ کی روشنی میں تقابل کر کے تحقیق ذکر کی ہے۔البتہ یہ بات درست ہے کہ وہ انتہائی قدیم مصحف تھا ،جو عہد صحابہؓ کا لکھا ہوا تھا۔بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ظاہر بیبرس کا بھیجا ہوا یہ مصحف وہی ہے، جو منگول کی حکومت کے شمالی علاقہ جات سے ختم ہونے اور روس کے سمرقند پر تسلط حاصل کرلینے کے وقت سمرقند کی جامع مسجد عبید اللہ احرار سمرقندی میں محفوظ تھا۔اس مصحف کو انہوں نے صدی کے اختتام پرقیصر روس کے کتب خانے میں منتقل کردیا تھا، اور ان کی حکومت کے اختتام پذیر ہونے تک یہ مصحف وہیں محفوظ رہا۔کہا جاتا ہے کہ ان کی سلطنت کے اختتام پذیر ہونے کے بعد تقریباً پندرہ سال کے اندر اندر دوبارہ جامع مسجد سمرقند میں رکھوادیا گیا تھا، لیکن ناسمجھ مسلمانوں نے وہاں سے اس کے اوراق تبرک کے نام پر چوری چھپے لے جانے شروع کر دیئے ، جس کی وجہ سے یہ عظیم القدر قدیم مصحف ضائع ہوگیا۔ خیر! اللہ تعالیٰ کے مخلوقات کے بارے میں معاملات باری تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہی ہوا کرتے ہیں۔
بعض قدردانوں کو اس مصحف کے بقیہ اجزاء کی فوٹو لینے کا موقعہ مل گیا ( چنانچہ انہوں نے اس کی فوٹو نکال کر محفوظ کرلی)۔ ان مصاحف کی اپنی تاریخی اہمیت بہت زیادہ ہے، اگرچہ رسم الخط کی معرفت کے لئے ان کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے ، اس لئے کہ جیساہم نے ذکر کیا کہ ہر زمانے میں اس کی تدوین ہوتی رہی ہے۔قراء صحابہ کرامؓ کی کوششیں ،جو دور دراز علاقوں میں قرآن کریم حفظ کروانے اور سکھلانے کے لئے بھیجے گئے تھے ، قابل صد تقدیر ہیں اور انتہائی شکریے کی مستحق ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے حالات ، ممالک کی تاریخ ، اور مختلف علاقوں کے قراء کرام کی سوانحات اور سرگزشت حیات میں تحریر کردہ کتب ان کی قابل تعریف کوششوں کے بیان سے بھرپور ہیں۔ہماری اس بات کے شواہد آپ کو ابو زرعہؒ دمشقی کی’’ تاریخ دمشق ‘‘، ابن ضریسؒ کی ’’فضائل القرآن‘‘ ، ابن عساکرؒ کی ’’تاریخ دمشق‘‘، اور ذہبیؒ کی ’’طبقات القراء ‘‘ وغیرہ جملہ متداول کتب میں مل سکتے ہیں۔ 
عہد صحابہؓ کے مصاحف:مفتوحہ علاقوں کی وسعت اور کثرت نیز تمام ممالک اسلامیہ کے لوگوں کی قرآن کریم کی تعلیم و تعلم پر خصوصی توجہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرامؓ کے عہد میں بھی موجود مصاحف کی تعداد لاکھ سے کم ہرگز نہیں ہوگی ،بلکہ حضرت عمر فاروقؓ نے تو ان طلبا کے لئے جو قرآن کریم یاد کرتے تھے باقاعدہ بیت المال سے وظائف کا اجرا فرما رکھا تھا ۔تاہم جب انہیں یہ خوف لاحق ہوا کہ لوگ صرف قرآن کریم کے حفظ میں مشغول ہوجائیں گے اور اس کے سمجھنے اور تفقہ حاصل کرنے کو چھوڑ بیٹھیں گے تب آپؓ نے یہ سلسلہ بند فرمایا۔

صحابہ کرامؓ اور تعلیم قرآن کے متعلق ان کا منہج:
جو حضرات صحابہ کرامؓ قرآن کریم حفظ کروانے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی روشنی میں فقہ و مسائل بھی سکھلاتے تھے ، ا ن میں حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ بھی شامل ہیں ۔ کوفہ میں جنہوں ابن مسعودؓ سے قرآن کریم اور فقہ ومسائل کے علوم بیک وقت حاصل کئے، ان کی تعداد بے شمار ہے۔اسی سے اندازہ کر لیجیے کہ عبد الرحمن بن اشعث ؒ کی معیت میں بنو امیہ کی مخالفت میں اٹھنے والی جماعت میں صرف قراء کی تعداد چار ہزار تھی، اور وہ تابعین حضرت ابن مسعودؓ کے شاگردیا ان کے شاگردوں کے شاگرد تھے۔ابو موسیٰ اشعریؓ اپنے شاگردوں کو مختلف حلقوں میں تقسیم فرمادیا کرتے تھے، اور ہر حلقے کے لئے ایک نگران مقرر کرتے تھے، پھر بصرہ کی جامع مسجد میں خود روزانہ ان تمام حلقوں کی سورج کے طلوع ہونے سے ظہر کے وقت تک نگرانی فرمایا کرتے تھے۔حضرت ابو درداءؓ کا بھی ملک شام میں وفات پاجانے تک دمشق کی جامع مسجد میں روزانہ کا یہی معمول تھا ۔اس مختصر سے مضمون میں ان حضرات کے قرآن حفظ کروانے اور فقہ ومسائل کا علم سکھلانے کے قابل تعریف کارنامے کی تفصیلات بیان نہیں کی جاسکتی ہیں۔

قراء ات کے بارے میں ایک انتہائی اہم نکتہ:
قرآن کریم اور مختلف قرء ات سکھلانے میں ان کا یہی اہتمام ہمیشہ باقی رہا۔ یہ قرء ات وہی متواتر قرء ات ہیں، جن کا تواتر ہر طبقے میں اس طرح رہا ہے کہ اس سے مزید کسی تواتر کے پائے جانے کا تصور نہیں ہو سکتا، البتہ وہ چیدہ چیدہ قرء ات جو نبی کریم ﷺ یا بعض صحابہ کرامؓ یا تابعینؒ کی طرف منسوب ذکر کی جاتی ہیں، وہ درحقیقت قرآن کریم کا حصہ ہی نہیں ہیں۔یہ قرء ات یا تو قرآن کریم کی تعلیم کے دوران ان کی طرف سے بیان کی جانے والی تفاسیر ہیں، جنہیں ازاں بعد باقاعدہ قرء ات خیال کر کے شامل کردیا گیا، یا پھر یہ کسی پڑھنے والے سے کوئی غلطی ہوئی ہے جس کو سننے والے نے قرء ات سمجھ لیا۔یہی وجہ تھی جس کی بنا پر امام نافعؒ نے (جو قاری تھے) جب امام مالک ؒ سے امامت کا منصب اختیار کرنے کے متعلق مشورہ کیا تو امام مالک ؒ نے انہیں یہ کہتے ہوئے منع فرمایا کہ :’’تم قرء ات کے ماہر ہو، اگر کبھی نماز میں تمہیں قرء ات میں سہو ہو گیا تو عین ممکن ہے کہ کوئی شخص اس سہو کو بھی قرء ات سمجھ لے اور پھر یہ سہو تمہاری طرف منسوب ہوکر بطور قرء ات منقول ہونا شروع ہو جائے‘‘۔
ان شاذ قرء ات کو بھی علماء کرام نے مستقل کتابوں میں جمع کردیا ہے، ان میں سے بعض تو تفاسیر ہی معلوم ہوتی ہیں اور بعض خالص غلطی کی بنا پر باقاعدہ قرء ات سمجھ لی گئی ہیں۔
بعض ایسی قراآت بھی پائی جاتی ہیں جو سراسر جھوٹی سندوں سے مروی ہیں، انہیں تو کسی صورت قرء ات میں شمار کیا جانا ہی درست نہیں۔ان میں امتیاز اور فرق کرنا انہی فن قرء ات میں اختصاص یافتہ علماء کا کام ہے، جو دلائل کی روشنی میں ان کے کھرے کو کھوٹے سے الگ کردیتے ہیں۔ابو عبید ؒ ’’فضائل القرآن ‘‘میں ،عہد عثمانی میں صحابہ کرامؓ کی زیر نگرانی تدوین ہونے والے مصحف کے بیان کے ضمن میں تحریر کرتے ہیں:
’’یہ وہی مصحف تھا جس کے کسی ایک حرف کے منکر پر مرتد کا حکم لاگو ہوگا، چنانچہ اس کے کسی حصے کے منکر کو توبہ کرنے کی دعوت دی جائے گی اور اگر وہ باز نہ آئے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا‘‘۔
اس کے بعد ان شاذ قرء ات اور الفاظ کے متعلق جو تواتر کے ساتھ نقل نہیں ہوئی ہیں، حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہ اور اسی قسم کے کئی اور الفاظ قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہیں۔بعض تابعینؒ سے بھی اسی قسم کے کلمات تفسیر کے بیان میں منقول ہوئے ہیں، اور ان تفاسیر کی تعریف اور تحسین بھی کی گئی ہے۔ جب تابعین ؒ کی بیان کردہ ان تفاسیر کی تحسین کی گئی ہے تو کبار صحابہ کرامؓ سے منقول اسی قسم کے تفسیری کلمات کی جو بعد ازاں قرء ات ہی شمار کی جانے لگیں کی تحسین میں کیسے شک ہو سکتا ہے؟ بلکہ یہ تفاسیر کے باب میں سب سے قوی ترین تفاسیر شمار ہوں گی۔ان قراآت کی واقفیت حاصل کرنے کا سب سے کم تر فائدہ یہ ہے کہ ان کے ذریعے کسی اور تفسیر کی درستگی اور صحت معلوم ہو جاتی ہے۔البتہ اس علم کی قدر صرف اہل فضل و علم جان سکتے ہیں، عوام کو اس کی افادیت کا علم نہیں ہو سکتا ہے‘‘۔
اس سے یہ خوب واضح ہوگیا کہ ابن مسعودؓ اور ابی بن کعبؓ اور ابن عباسؓ وغیرہ حضرات سے جو اس طرح کے کلمات اور الفاظ منقول ہیں جو متواتر قرء ات کے مخالف ہیں ، ان کی حیثیت بھی تفاسیر ہی کی ہے، جیسا کہ ابو عبید ؒ کے مذکورہ بالا بیان سے معلوم ہوا۔
ابن مسعودؓ کی قرء ات بھی ان کے کوفی شاگردوں نے متواتر طور پر نقل کی ہیں۔ عاصمؒ نے زر بن حبیشؒ سے اور زر ؒ نے حضرت ابن مسعودؓ سے یہ قرء ات نقل فرمائی ہیں۔یہی وہ قرء ات ہیں جو ابو بکر بن عیاش ؒ نے حضرت عاصم ؒ سے روایت کی ہیں۔ان قرء ات کا تواتر بالکل غیر متنازع ہے، اور ان قرء ات میں کسی قسم کے شاذ کلمات بھی نہیں ہیں۔جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ کے مصحف میں سورۂ فاتحہ یا معوذتین نہیں تھے، یا وہ ان کو اپنے مصحف سے مٹایا کرتے تھے ، وہ یا تو جھوٹا ہے ، یا بغیر ارادے کے وہم میں مبتلا ہو گیا ہے۔ابن مسعودؓ کے شاگردوں کے ذریعے اس سے مروی متواتر قرء ات میں معوذتین اور فاتحہ دونوں موجود ہیں۔ان کی قرء ات وہی ہیں جو عاصم ؒ سے منقول ہیں ، اور جس کو ہر زمانے اور ہر وقت میں دنیا کے گوشے گوشے میں مسلمان عرصہ دراز سے سنتے آرہے ہیں۔ان روایات متواتر کا اخبار آحاد کس طرح مقابلہ کر سکتی ہیں؟مزید یہ کہ عام طور پر سور�ۂ فاتحہ اور معوذتین نماز اور دم وغیرہ کے لئے ان کے زمانے میں بھی لوگوں کوازبر ہوتی ہوں گی ، جس کی بنا پر ممکن ہے کہ ان کے کبھی نہ بھولنے کے خوف سے انہوں نے اس کی کتابت مصحف میں نہ کی ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ صرف معوذتین کا نام مٹادیا گیا ہو، سورتیں اپنے حال پر موجود ہوں، جیسا کہ ان کا عام طریقہ یہی تھا کہ وہ سورتوں کے نام ، ان کی آیات اور عشرات کی تعدادوغیرہ جو جو زوائد قرآن کریم کے وقت نازل نہیں ہوئے تھے، قرآن کریم کو ان سے خالی کر دینے کی رائے رکھتے تھے۔ابن حزم ؒ نے اپنی کئی تالیفات میں حضرت ابن مسعودؓکے مصحف کے بارے میں بے ہودہ باتیں کرنے والوں کوخوب اچھی طرح جواب دیا ہے۔ 
امت مسلمہ کی طرف سے قرآن کریم یاد کرنے اور سینوں میں محفوظ کر لینے کی ہمیشہ کی روایت جو اس کے زمانۂ نزول سے تاحال جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی، وہ خود کسی لفظ میں کسی وہم کرنے والے کے وہم یا غلطی کرنے والے کی غلطی کو درست کرنے کے لئے کافی ہے۔یہ فطری امر ہے کہ تمام انسان حفظ میں ، علم میں ، اور فہم میں یکساں نہیں ہوا کرتے ، البتہ توہمات اور غلطیاں جمہور کے ہر زمانے میں حفظ اور ان کے ضبط کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی ہیں۔ اہل علم نے قرء ات کے سلسلے میں منقول الفاظ اور کلمات کی روشنی میں ان آیات اور کلمات کو جو بطور تفسیر بیان کئے گئے تھے، یا بطورغلطی کے قرء ات شمار کئے گئے تھے یا کسی ناسمجھ راوی کی طرف قرء ات گردان لینے، یا محض جھوٹی روایت ،سب کو الگ الگ کردیا ہے،اورہر ایک کا الگ الگ حکم بیان فرمایا ہے۔

مستشرقین ،علوم مشرقیہ سے ان کی دلچسپی اور تعلیمات اسلام پر نشترزنی:
اب سے کچھ عرصہ قبل ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغرب کے مستشرقین قرآن کریم سے متعلقہ جملہ علوم وفنون مثلاً قرء ات، رسم قرآنی، شاذقرء ات ، قراء کے طبقات،وغیرہ موضوعات پر متقدمین کی تصنیف کردہ کتب کی نشرواشاعت میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں،بلکہ اس سے بڑھ کر علم حدیث ، علم فقہ اور علم لغت وغیرہ دیگر مشرقی علوم میں تصنیف کردہ متقدمین کی کتب کی بھی نشرواشاعت میں مصروف ہیں۔ان مستشرقین میں سے اکثریت کی کوششیں خود ان کے اس دلچسپی کے پس پردہ خطرناک مقصد کی نشاندہی کرتی ہیں۔یہ پس پردہ مقصد درحقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیمات کے پھیلائے ہوئے اس نور پر فکری اور نظریاتی حملے کیے جائیں، جس نے تاریکی میں ڈوبے ہوئے کرۂ ارضی کو روشن اور لوگوں کی بصیرتوں کو صیقل کیاتھا۔یہ اعتراضات اسلام سے متعلق ان مستشرقین کے بے جا تعصب اور جہالت کے بھرپور عکاس ہیں۔یہ اسلام کا نور ہی تھا ، جس سے بصیرتوں کے پاک ہوجانے کے بعد لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے تھے، اور یہ زمین وہ زمین نہ رہی تھی جو کسی زمانے میں تھی۔مستشرقین چاہے اپنی کوششوں کو جھوٹ، دھوکے بازی، اور جعل سازی کے ذریعے آزادانہ علمی تحقیقات باور کرواتے رہتے ہیں، تاہم ان کے خفیہ مقاصد بالکل ظاہر ہیں۔
قرآن کریم کی حفاظت کی بیان کردہ مختصر تاریخ کی روشنی میں ہی ظاہر ہوجاتا ہے کہ ان مستشرقین کی یہ کوشش ناکام اور نامراد ہی ہوگی ۔ نبی کریم ﷺ پر نازل شدہ اس بے مثل قرآن کریم سے ادنی مشابہت رکھنے والا کلام پیش کرنے کی غرض سے خواہ یہ مستشرقین آسمان کی طرف زینہ لگالیںیا زمین میں سرنگ کھود ڈالیں ، دور اور قریب ہر جگہ جا پہنچیں، تب بھی اس کی طرف ہرگز راہ یاب نہیں ہو سکتے ۔
اگر جامعہ ازہر کی متعلقہ انتظامیہ متقدمین کی تالیف کردہ کتب کی پہلی بار یا مطبوعہ ایڈیشن کی دوبارہ اشاعت کی طرف تھوڑی سی توجہ کرلیں،اس کے ساتھ ساتھ جہاں حواشی کی ضرورت محسوس ہو، وہاں حواشی کا اضافہ کردیں،تو ان دھوکے باز لوگوں کی شر انگیزی کا سدِّ باب ممکن ہو سکے گا، اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے یہ کام کچھ مشکل نہیں ہے۔ 


حواشی:
(۱)سورۃ الحجر:۹
(۲)سورۃ الاسراء:۱۰۶
(۳)سورۃ الفرقان:۵
(۴)سورۃ الکہف:۲۸
(۵)فتح الباری،ج:۹،ص:۴۳ میں ابن حجرؒ نے ان حفاظ کی تعداد ۲۹ بتلائی ہے،جنہیں مکمل قرآن کریم یاد تھا۔
(۶)علوم القرآن کے موضوع پر علامہ کوثریؒ کی مستقل تصنیف موجود ہے، جس میں آپؒ نے اصولِ تفسیر، اسبابِ نزول، نسخِ آیات، جمع قرآن اور اس پر اٹھنے والے اشکالات کے جواب، قرآن کریم کے رسم الخط، کتب قرأت وتفسیر ، طبقاتِ قراء ومفسرین اور روایت ودرایت وغیرہ موضوعات پر گرانقدر مباحث رقم کی ہیں۔
(۷)سورۃ البینۃ:۲

محمد بلال بربری
استاذ ورفیق شعبۂ تحقیق
جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن