تقریظ برکتاب دلائل الخیرات
عربی کا زبان کا مشہور مقولہ ہے کہ الانسان عبدالاحسان یعنی انسان اپنے محسن کا غلام ہوتا ہے۔ہمارے محسن آقائے نامدار ،فخر موجودات،سرور کونین ،حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں کیونکہ ان کے طفیل ہمیں نہ صرف ایمان واسلام کی دولت ملی ہے بلکہ اہل بصیرت کی نظر میں ہمارا سب کچھ ان کے وجود مسعود کی برکت سے ہے۔
محسن اور حقیقی محسن ہونے کے ناطے ہم مسلمانوں پر اس مقدس ہستی کی شکرگزاری واجب ہے لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ان کے کسی احسان کا کوئی بدلہ بھی نہیں دےسکتے۔زیادہ سے زیادہ سے جو کچھ ہم کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنی کمزوری اور عاجزی کا اعتراف کرتے ہوئے رب تعالی سے دعاکریں کہ وہ اپنی شایان شان اپنے حبیب اورہمارے محسن حقیقی کو اپنی رحمتوں وبرکتوں سے نوازے اور ان کے درجات کو بلند
جمعہ کے دن عصر کے بعد پڑھے جانے والے درود شریف کی تحقیق
من صلی صلاۃ العصر من یوم الجمعۃ فقال قبل ان یقوم من مکانہ :اللھم صل علی محمد النبی الامی وعلی الہ وسلم تسلیما ثمانین مرۃ ،غفرت لہ ذنوب ثمانین عاما، وکتبت لہ عبادۃ ثمانین سنۃ.
جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد اپنی جگہ سے کھڑا ہونے سے پہلے یہ درود شریف اسی(۸۰)مرتبہ پڑھے:ا’’للھم صل علی محمد النبی الامی وعلی الہ وسلم تسلیما‘‘ اس کے اسی(۸۰)سال کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں اور اسی(۸۰)سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صلاۃ وسلام پیش کرنا افضل ترین عبادت اور دربار خداوندی میں قرب کا بہترین ذریعہ ہے۔صلاۃ وسلام کے مختلف طریقے و صیغے ہیں جو حدیثِ مبارک میں وارد ہوئے ہیں۔اس پر محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں۔ مذکورہ درود شریف عوام اور علماء کرام کے معمول می
حلال فوڈ…امکانات وخدشات
حلال فوڈ کی وسعت
1۔فوڈ کے لفظ سے دھیان کھانے پینے کی اشیاء کی طرف جاتا ہے،مگر یہ اس کا محدود تصور ہے،آج کل حلال فوڈ کی اصطلاح ایک وسیع تناظر میں استعمال ہوتی ہے اور اس سے مراد صرف بیف ،چکن،مٹن،اور ڈیری اور بیکری کے آئٹم نہیں ہوتے بلکہ فوڈ،بیوریج،میڈیسن ،کاسمیٹکس یعنی ماکولات ومشروبات سمیت ادویات ،خدمات ،آرائش وزیبائش کے آلات اور ٹیکسٹائل مصنوعات سب ہی مراد ہوتے ہیں۔مستقبل قریب میں اس اصطلاح کے اندر اورزیادہ عموم اوروسعت آئے گی اور اگلے کچھ عرصے میں مصنوعات کی فنانسنگ،سورسنگ،پروسیسنگ،اسٹوریج اور مارکیٹنگ وغیرہ سب حلال فوڈ کے دائرے میں آجائیں گے۔ممکن ہے کہ جس طرح زرعی لائیو اسٹاک کے سپلائی چین کے تمام اسٹیک ہولڈرز، مثلا کاشتکاروں، سپلائرز، نقل و حمل ک
میڈیکل تعلیم کے بعد لاش کی بے حرمتی
مغربی ممالک میں لوگ میڈیکل کے طلباء کی سہولت کے لیے اپنے بدن کا عطیہ کرجاتے ہیں،جس کے بعد متعلقہ یونیورسٹی یا کالج کےلوگ باعزت طریقے سے اور اپنے ذمہ داری سے میت کی تدفین کردیتے ہیں مگر ہمارے ہاں میڈیکل کالجز میں لاوارث اموات کو میڈیکل ٹریننگ کے لیے استعمال کرنے کے بعد میت اور اس کے بقایا جات کو عزت کے ساتھ اور اسلامی طریقے سے دفن کرنے کے بجائے ضائع کردیتے ہیں۔ذیل کی تحریر اسی موضوع پر ہے۔
انسان بحیثیت انسان قابل احترام ہے خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا احترام اور زیادہ ہے۔
اگروہ زندہ نہیں مردہ ہے تو قابل رحم ہے اور اس کے بے احترامی یا بے ادبی کا گناہ اس پ
عدالت کے ذریعے خلع کا حصول۔۔۔موجودہ صورت حال اور درپیش مسائل
۱۔یہ درست ہے کہ موجودہ عدالتی نظام میں خلع کے ذریعے بیوی کے لیے شوہر سے خلاصی بہت آسان ہے اور تقریبا خلع کے ہر مقدمے میں فیصلہ اسی کے حق میں ہوتا ہے۔دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات واقعۃ بیوی مظلوم ہوتی ہے اور شوہر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ بیوی کو بساتا ہے اور نہ طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع دینے پر آمادہ ہوتا ہے ۔اس کا مقصد صرف بیوی کو ستانا اور دکھ دینا ہوتا ہے چنانچہ اس قسم کے جملے بھی شوہر سے سننے کو ملتے ہیں کہ جس طرح اس کے دانت سفید ہیں اس طرح اس کے بال سفید ہوجائیں گے مگر میں پھر بھی اسے نہیں چھوڑوں گا۔ جب ان حالات میں بیوی عدالت سے خلع حاصل کرلیتی ہے تو شوہر اسے شرعی قانون کے تحت چیلنج کرلیتا ہے حالانکہ اس کامقصد شریعت پر عمل نہیں بلکہ اپنی ضد پوری کرنا اور بیوی کو نیچا دکھانا مقصد ہوتا ہے۔سوال ی