حلال سرٹیفکیشن شریعت کی روشنی میں

احکام شریعت کا تعلق مسلمان کے ظاہر اور باطن دونوں سے ہے ۔ظاہر کے ساتھ جن احکام کا تعلق ہے وہ عدالت کے ذریعےقابل تعمیل ہیں مگر ایسےاحکام مقدار میں تھوڑے ہیں اور شریعت کی انتظامی شاخ کا موضوع ہیں ،مزید برآں یہ شریعت کا براہ راست اور مستقل موضوع بھی نہیں ہیں۔ اس کے برعکس جن احکام کا تعلق انسان کے باطن اور قلب وضمیر سے ہے وہ تعداد میں زیادہ،اہمیت میں مقدم اور شریعت کا براہ راست اور مستقل مقصود ہیں بلکہ یوں تعبیر مناسب ہے کہ ہر حکم شرعی کا اولین خطاب انسان کے قلب وضمیر سے ہے ۔ضمیر کے ساتھ تعلق کی وجہ سے مسلمان جو بھی جیسا بھی اور جہاں بھی ہو شریعت کا مکلف رہتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان اگر اسلامی ریاست کی بود وباش ترک کرکے ایک غیر مسلم سلطنت میں سکونت ورہائش اختیار کرلے جہاں شریعت کی عمل داری نہ ہوتو شریعت پھر بھی اس پر نافذ رہتی ہے،حالانکہ اپنے حدود ارضی سے باہر اسلامی عدالت کے لیے اپنے احکام کا نفاذ ممکن نہیں ہوتا۔
غذائی مصنوعات میں بھی حلال وحرام کا اصلااتعلق انسان کے قلب وضمیر سے ہے، اس لیے قانون کی عدم موجودگی کے باوجود محض ضمیر کے احساس کے تحت مسلمان کو حلال وحرام کی تمییز رکھنی چاہیے کیونکہ قانون سے پہلے وہ قلب وضمیر کا پابند ہے۔
فقہاء بھی اس موضوع کے احکام کو دیانات میں شمار کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ خالص بندے اور اس کے رب کا معاملہ ہے اور ایک مسلمان کا ایمان اتنی مضبوط،ضمیر اتنا بیدار اور دیانت اتنی قوی ہونی چاہیے کہ ریاستی قانون اور انتظامی سختی اور دباؤ کے بغیر حلال وحرام کا اہتمام کرنے والا ہو۔لہذا ایک مسلمان ملک میں غذائی مصنوعات کی حلال سرٹیفکیشن کی ضرورت ہی نہیں پڑنی چاہیے کیونکہ جب معاملہ دیانت کا ہےتو کسی کو مداخلت کا حق نہیں اور جب قانون پرعمل درآمد کے لیے قلب وضمیر کی صورت میں ایک داخلی محرک موجود ہے تو پھر سرٹیفکیشن کی شکل میں ایک خارجی وظاہری عامل کی ضرورت نہیں ۔یہی ایک مثالی اور آئیڈیل اسلامی معاشرے کی تصویر ہونی چاہیے مگر آج معاشرہ جس نہج پر ہے اس میں اس خارجی عامل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کیونکہ دیانت کمزورپڑچکی ہے اور جب دیانت کمزور ہوتی ہے تو شریعت کا حسن ہے کہ وہ پھر
خارجی عامل کو حرکت میں لاتی ہے تاکہ شر کو ابھرنے ،پنپنے اور پھیلنے کا موقع نہ ملے اورقوت وطاقت کے زور پر برائی کا راستہ روک دیا جائے چنانچہ اسلامی نظام عدل گستری میں حسبہ واحتساب کے نام سے باقاعدہ ایک ادارے کا وجود ملتا ہے جس کا مقصد ہی معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور نیکیوں کی ترویج ہے ۔اس ادارے کے تحت ایسے افعال بھی قابل دست اندازی سرکار ٹھہرتے ہیں جو دیگر عدالتی محکموں محکمہ قضا اور ولایت مظالم کے دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ادارہ احتساب کے نام سے اگر خیال اس بل کی طرف جاتا ہے جو صوبہ کے پی کے میں پیش ہوا تھا اور عدالت عظمیٰ نے اسے اپنے زعم میں موجودہ قانونی نظام کے متوازی ایک اور نظام ہونے کی وجہ سے مسترد کردیا تھا تو درست ہے لیکن اگر حسبہ واحتساب سے موجودہ ادارہ احتساب سمجھا جاتا ہے تو درست نہیں کیونکہ اس کا منبع ومصدر اسلامی شریعت نہیں بلکہ سویڈن کا امیڈس مین ہے اور احتساب کا بنیادی کام یعنی اسلامی اخلاق کی نشوونما اور نگہداشت کا اس کے منشور میں کو ئی ذکر نہیں ۔اسلامی اخلاقیات سے مراد یہ ہے کہ فرد کے باطنی کیفیت اور احساسات کا تعلق اگر اس کی ذات تک محدودہےتو اسے تصوف اور سلوک کہتے ہیں لیکن باطنی کیفیت کا تعلق اگر دوسرے انسانوں کے ساتھ بھی ہو تو اسے اخلاقیات کہا جاتا ہے۔اسلامی اخلاقیات کا فروغ ادارہ احتساب کا موضوع ہے۔ایک انسان جب کم تولتا یا ناپتا ہے یا دکھاتا کچھ ہے اور دیتا کچھ ہے یا ملاوٹ اور جعل سازی کرتا ہے یا اسلامی غذائی معیارات کے مطابق اشیاء فروخت نہیں کرتا تو وہ اسلامی اخلاقیات کو چھوڑ کر منکر کو مرتکب ہوتاہے اور منکر کا ازالہ ادارہ احتساب کا کام ہے۔
اگر اس پہلو پرغور کیا جائے تو حلال تصدیقی ادارے جو کام سرانجام دیتے ہیں وہ ادارہ احتساب کے دائرے میں آتےہیں۔احتساب کا ادارہ اپنی بناوٹ اور ساخت میں ایک نیم عدالتی ریاستی ادارہ ہوتا ہے جس سے صاف واضح ہے کہ حلال وحرام کا التزام واہتمام ریاست کی ذمہ داری ہے۔آج کل جب ریاست کے ساتھ شریعت کاذکر کیا جاتا ہے تو بعض لوگوں کے طبع پر سخت گراں گزرتا ہے حالانکہ ریاست شریعت کا ایک مذہبی ادارہ ہوتا ہے ،خود ریاست ظل شریعت ہوتی ہے اور ریاست کے منتظم اعلیٰ کو رسول کی نیابت حاصل ہوتی ہے۔اس کے برعکس ہمارے اسکالرز حضرات کا خیال ہے کہ ریاست اور مذہب دو الگ الگ چیزیں اور ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔یہ دراصل مغرب سے درآمدہ شدہ نظریہ ہے جس کی بنیاد اس فلسفہ پر ہے کہ جو قیصر کا حق ہے وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا حق ہے وہ خدا کو دو۔
اس وقت ملکی اور بین الاقوامی صورتحال یہ ہےکہ حلال ایک مقبول ومرغوب ٹریڈ مارک،معیار اور کوالٹی کی علامت اور صحت وصفائی کی ضمانت بن چکا ہے۔ریاستیں اس میدان میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں اور مالی و معاشی مفادات کے پیش نظر غیر مسلم سلطنتیں بھی اس میدان میں کود پڑی ہیں ۔ ان کامقصدصرف اس دوڑ میں حصہ نہیں بلکہ اس پورے اسکیم کو اپنے کنٹرول میں لینا ہے حالانکہ حلال مسلمانوں کا لوگو ہے ،مسلمان ہی اس کے علم بردار اور داعی ہیں اور دنیا کو اس پروگرام سے روشنا س کرانے والے ہیں۔اگر چہ اقتصادی اور معاشی استحکام بھی ریاست کی ذمہ داری ہے مگر معاملہ صرف مالیات اور اقتصادیات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پہلو بھی رکھتا ہے کہ غیر مسلموں کی یا ان کے تابع اداروں کی اس اسکیم میں شمولیت کیا شرعی حیثیت رکھتی ہے ؟ ہماری گورنمنٹ کی نظروں سے یہ نکتہ یا تو اوجھل رہا یا اسے بروقت درست شرعی رہنمائی میسر نہیں ہوئی یا اس کی نگاہ معاملے کی صرف معاشی پہلو تک محدود رہی اور اس نے غیر مسلم ممالک کےذیلی اداروں کو بھی پاکستان میں حلال سرٹیفکیشن کی اجازت دے دی۔حکومت کا یہ اقدام شرعی پہلو سے درست ہے یا نادرست ،اہل علم اس مسئلہ پر متعلقہ حکام کو توجہ دلاتےرہے لیکن برادرم مفتی عارف علی شاہ صاحب نے زیر نظر مقالہ لکھ کر اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کردیا ہے ،انہوں نے اس پہلو پر تفصیل سے بحث کی ہے اور جواز اور عدم جواز دونوں طرف کے دلائل ذکر کرنے کے بعد وہ اس حتمی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ غیرمسلموں کے مملوکہ کسی ادارے کو حلال سرٹیفکیشن کی اجازت دینا درست نہیں ،ان کے الفاظ میں:"پیش نظر مسئلہ میں غیرمسلموں کی ملکیت کسی بھی ادارے( کمپنی،فرنچائز ،فرم وغیرہ کسی بھی قسم کے ادارے) کو حلال سرٹیفکیشن کی اجازت دینا ازروئے شریعت درست نہیں۔"
یہی ان کی کتاب کی روح اور نقطہ عروج ہے،اس کے بعد انہوں نے جواز کی متبادل صورتیں بھی پیش کی ہیں اور ان میں سے آخری صورت کو آسان اور قابل عمل ہونے کی بنا پر ترجیح دی ہے۔کتاب کے شروع میں حقوق شرعیہ کے مختلف اقسام،خبر اور شہادت اور حلال سرٹیفکیشن کے بارے میں مباحث ہیں،اس ضمن میں مؤلف نے بعض فقہی اصطلاحات کی حلال تصدیقی اداروں کے کام کے ساتھ تطبیق بھی دی ہے۔اس طرح کی عملی تطبیق اور فقہی تکییف کے مباحث انتہائی نازک اور حساس اور گہرے غور وفکر کے متقاضی ہوتے ہیں مگر رائے کی حد تک اس قسم کے مباحث پر خامہ فرسائی میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔محترم مؤلف نے موضوع سے متعلق تقریبا تمام ہی مباحث اپنی کاوش سمو دیے ہیں البتہ اگر اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے مناصب ،حلال وحرام کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داری اور قانون شریعت کے انتظامی شاخ سے متعلق مباحث بھی اگر اگلے ایڈیشن میں بڑھادیے جائیں تو کتاب کی جامعیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگا۔
موجودہ صورت حال میں مولف کی کاوش وقت کی ضرورت، عملی افادیت کی حامل اور فقہ الحلال کے موضوع پر دستیاب لٹریچر میں اچھے اضافے کا باعث ہے، زیادہ مسرت اس بات کی ہے کہ موضوع پامال ومبتذل نہیں اور مقصود صرف تحقیق برائے تحقیق نہیں ۔
حق تعالی شانہ سے دعا ہے کہ موصوف کی کوشش کو شرف قبولیت بخشے اور ہم سب کے لیے ذخیرہ آخرت بنائے۔وصلی اللہ علیہ وسلم
مذکورہ بالا مضمون ایک تقریظ ہے جو مفتی عارف علی شاہ کی کتاب "حلال سرٹیفکیشن شریعت کی روشنی میں'' پر لکھی گئی ۔