1
Muharram

تقریظ برکتاب دلائل الخیرات

عربی کا زبان کا مشہور مقولہ ہے کہ الانسان عبدالاحسان  یعنی انسان اپنے محسن  کا غلام ہوتا ہے۔ہمارے محسن آقائے نامدار ،فخر موجودات،سرور کونین ،حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں کیونکہ ان کے طفیل ہمیں نہ صرف ایمان واسلام کی دولت ملی ہے بلکہ اہل بصیرت کی نظر میں ہمارا سب کچھ ان کے وجود مسعود کی برکت سے ہے۔

محسن اور حقیقی محسن ہونے کے ناطے ہم مسلمانوں پر اس مقدس ہستی کی شکرگزاری واجب ہے لیکن  ہمارا حال یہ ہے کہ ہم  ان کے کسی احسان کا کوئی بدلہ بھی نہیں  دےسکتے۔زیادہ سے زیادہ سے جو کچھ ہم کرسکتے  ہیں وہ یہ ہے کہ اپنی کمزوری اور عاجزی کا اعتراف کرتے ہوئے رب تعالی سے دعاکریں کہ وہ اپنی شایان شان اپنے حبیب اورہمارے محسن حقیقی کو اپنی رحمتوں وبرکتوں سے نوازے اور ان کے درجات کو بلند سے بلند تر کرے۔جب ہم حق تعالی شانہ سےاس قسم کی دعا کرتے ہیں توشریعت کی زبان میں اسے درود کہتے ہیں۔

حق تعالی شانہ کا لطف  وکرم اور عنایت واحسان ہے کہ اس نے  درود شریف کو کئی عبادتوں کا مجموعہ قرار دیا ہے۔درود بھیجنےسے ایک طرف تو ہماری نیاز مندی اور شکر گزاری کا ثبوت  ہوجاتا ہے تودوسری طرف ہمیں  دعا کی صورت میں کامل ترین  عبادت کا ثواب بھی مل جاتا ہے۔دعا کا ثواب  تو ظاہر ہے کہ درود کی حقیقت ہی اللہ تعالی سے دعا کی ہے اور افضل  عبادت بایں وجہ انسان کی صفات میں سے بلند ترین صفت عبدیت اور بندگی  ہے اور دعا عبدیت کا نتیجہ اور اس کامظہر ہے۔

احسان شناسی اوردعا کے ساتھ درود شریف افضل ذکر بھی ہے اور اصلاح قلب کا موثر ذریعہ بھی۔مشایخ کے بقول اصلاح کا مدار صحبت اور ذکر پر ہے۔یہی وجہ ہے کہ چاروں سلسلے ذکر کی کثرت پر زور دیتے ہیں البتہ نوعیت میں  کچھ فرق ہے۔نقشبندیہ کے ہاں ذکر آہستہ آہستہ ہے توقادریہ اور چشتیہ کے ہاں جہرا ہے،سہروردیہ کے ہاں نوافل وعبادات بہت ہیں۔تمام مشایخ اپنے مریدین کو درود شریف کی تلقین کرتے ہیں  مگر شاذلیہ اس کی کثرت پر بہت زور دیتے ہیں۔حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مراد آبادیؒ کے سوانح میں  مولانا سید ابوالحسن علی ندوی  ؒ نے ان کا ملفوظ نقل کیا ہے کہ درودبکثرت  پڑھو، جو کچھ ہم نے  پایادرود سے پایا ۔

 درود شریف کی اس اہمیت وفضلیت کی  وجہ سےبرادرم  مفتی سعد عبدالرزاق  نے برکات طیبہ کے نام سے درود شریف کا مجموعہ ترتیب دیا ہے جسے درود شریف کا حسین گلدستہ کہنا  زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔برکات طیبہ دوحصوں پر مشتمل ہے۔پہلے حصے میں درود کے احکام، فضائل ومسائل اور مشہور  درود جمع کیے گئے ہیں ۔دوسرا حصہ دلائل الخیرات پر مشتمل ہے۔دلائل الخیرات کا پورا نام دلائل الخیرات وشوارق الانوار فی ذکر الصلوٰۃ والسلام علی نبی المختار ہے اور اس کے مصنف  شیخ محمد بن سلیمان الجزولی ہیں۔

 شیوخ خود بھی اس کتاب کا ورد کرتے ہیں اور اپنے مریدین کو بھی پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں ۔حاجی خلفیہ نے اس کتاب کو آیۃ من آیات اللہ قرار دیا ہے اور لکھا ہے مشرق ومغرب میں اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔اس کتاب  کی ساتویں حزب میں وہ درود پاک بھی موجود ہے جسےصلوٰۃ البئر یعنی کنویں والے درود  کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔وہ درود یہ ہے: اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی آل سیدنا و مولانا محمد صلوٰۃ دائمۃ مقبولۃ تودی بہا عنا حقہ العظیم۔کتاب کی شہرت ومقبولیت کی وجہ سے اہل علم نے اس کی شروحات بھی لکھی ہیں  جن میں شيخ محمد المهدي بن أحمد بن علي بن يوسف الفاسي کی شرح مطالعَ المسرات بجلاء دلائل الخیرات
معتمد سمجھی جاتی ہے۔اسی طرح دلائل کے نسخوں میں سے الشیخ ابو عبداللہ محمد الصغیرالسہیلی کا نسخہ معتبر ومعتمد سمجھا جاتا ہے۔بہتر تھا کہ مرتب موصوف کتاب کے مقدمہ میں نسخے کے متعلق وضاحت  بھی شامل کردیتے۔ اسی طرح مرتب نے  اگر کہیں کوئی تصحیح کی ہے تو کتاب کے وزن میں اضافہ کے لیے اس کی وضاحت  ضروری تھی۔

اگلے ایڈیشن میں اگرجواں سال مرتب   دلائل الخیرات کے مستند ترجمہ کا اضافہ کرلیں تو غیر عربی دان طبقہ کےلیے  بہت فائدہ کا باعث ہوگا ۔ترجمہ کا اضافہ  اس لحاظ سے بھی مفید ہوگا کہ درود کےالفاظ اور صیغوں سےآنحضرتﷺ کے مقام رفیع کا اندازہ ہوتا ہےاور ایک ایسی ہستی کا تصور ابھرتا ہے جو عیوب ونقائص سے خالی اور مجموعہ محاسن وکمالات ہے ۔اس کے علاوہ  ہرمسلمان  کے دل میں سرور کونین ﷺ کے لیے بے پناہ  عقیدت  واحترام ہے اور وہ اس کا اظہار بھی چاہتا ہے مگر تعبیر سے اس کی زبان قاصر رہتی ہےلیکن جب ترجمہ والا مجموعہ اس کے سامنے ہوگا تواس کے قلب کو ترجمان  اور زبان کو تعبیر مل جائے گی۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مرتب موصوف کی اس کاوش کو شرف قبولیت بخشے اور ہم سب کے لیے  ذخیرہ آخرت بنائے۔وصلی اللہ وسلم ۔
 

مولانا امداداللہ صاحب

رکن اسلامی نظریاتی کونسل