18
Muharram

عدالت کے ذریعے خلع کا حصول۔۔۔موجودہ صورت حال اور درپیش مسائل

۱۔یہ درست ہے کہ موجودہ عدالتی نظام میں خلع کے ذریعے بیوی کے لیے شوہر سے خلاصی بہت آسان ہے اور تقریبا خلع کے ہر مقدمے میں فیصلہ اسی کے حق میں ہوتا ہے۔دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات واقعۃ بیوی مظلوم ہوتی ہے اور شوہر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ بیوی کو بساتا ہے اور نہ طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع دینے پر آمادہ ہوتا ہے ۔اس کا مقصد صرف بیوی کو ستانا اور دکھ دینا ہوتا ہے چنانچہ اس قسم کے جملے بھی  شوہر سے سننے کو ملتے ہیں کہ جس طرح اس کے دانت سفید ہیں اس طرح اس کے بال سفید ہوجائیں گے مگر میں پھر بھی اسے نہیں چھوڑوں گا۔ جب ان حالات میں بیوی عدالت سے خلع حاصل کرلیتی ہے تو شوہر اسے  شرعی قانون کے تحت چیلنج کرلیتا ہے حالانکہ اس کامقصد شریعت پر عمل نہیں بلکہ اپنی ضد پوری کرنا اور بیوی کو نیچا دکھانا مقصد ہوتا ہے۔سوال یہ ہے ایسی مظلوم عورتوں کے پاس کیا چارہ کار ہے؟

۲۔اگر جواب یہ ہو کہ وہ تنسیخ نکاح  کے اسباب کے تحت نکاح فسخ کراسکتی ہے تو  اول تو اس قانون کے تحت بیوی کے  لیے مقدمہ جیتنا ہی مشکل ہے،ثانیا یہ کہ لوگ خلع اور تنسیخ کے فرق سے آگاہ نہیں اور وکلاء بھی خلع کے ذریعے مقدمہ کے اندراج کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ خلع کا قانون  واضح طور پر عورت کے حق میں ہے اور اس کے ذریعے ڈگری کا حصول تقریبا یقینی ہوتا ہے۔

۳۔پیرا نمبر 2 کے جواب میں  یہ حل تجویز کیا ہےجاتا ہے  کہ اگرعورت نے کسی شرعی بنیاد پر فسخ نکاح کا دعوی دائر کیا ہو،چاہے وہ کسی بھی امام کے نزدیک فسخ نکاح کا سبب ہو اور عدالت نے اپنے فیصلے میں خلع کا لفظ استعمال کیاہو تو اس فیصلے کو فسخ نکاح ہی قرار دیا جائے گا اور صرف لفظ کے خلع کے استعمال سے وہ خلع نہیں قرار دیا جائے گا۔

۴۔مگر اس پر چند اشکالات ذہن میں آتے ہیں،اول  یہ کہ تنسیخ نکاح کے لیے جس طرح شرعا قابل قبول وجہ کا ہونا ضروری ہے،اسی طرح شرعی ضابطہ شہادت کی رعایت بھی لازم ہے مثلا بیوی  نے اگر گواہان کے ذریعے عدم ادائیگی نان ونفقہ کو ثابت نہیں کیا ہے اور عدالت نے اس بنیاد پر بیوی کے حق میں مقدمہ ڈگری کردیا اگر چہ لفظ خلع کااستعمال کیاتو کیا ایسا فیصلہ جو شہادت گزارے بغیر دے دیا گیا ہو ،درست قرار پائے گا؟

دوسرا اشکال اس عموم پر پیدا ہوتا ہے جو تنسیخ نکاح کے سبب میں کیا جاتا ہے کہ کوئی بھی ایسی وجہ جو کسی بھی امام کےنزدیک وجہ فسخ بن سکتی ہے ،اگر تنسیخ نکاح  کے سبب میں اس قدر عموم برتا جائے تو بعض مذاہب میں معمولی باتوں پر بھی بیوی کو فسخ کا حق ہے،اس طرح نکاح کا رشتہ کچے دھاگے کے مانند بہت آسانی سے توڑا جاسکے گا ۔

اس کے علاوہ یہ الجھن بھی باقی رہتی ہے کہ عدالت بیوی سے مہر بھی معاف کراتی ہے حالانکہ تنسیخ میں معاوضہ نہیں ہوتا اور اگر یہ کہا جائے کہ مہر کی معافی کی حد تک عدالتی فیصلہ کالعدم ہے تو پھر ایک اور شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قضا  میں تجزی ہوسکتی ہے کہ ایک حد تک ہی وہ نافذ ہو؟

ان وجوہ کی بناء پر جب تک  کوئی موافق شرع قانون نافذ نہیں ہوتا درج ذیل طریقوں میں سے کسی ایک کو بحث ومباحثہ کے بعد اختیار کیا جاسکتا ہے۔

۱۔خلع کے کیس میں وجہ خلع کوئی معقول شرعی سبب ہو اور مدعیہ نے اسے شرعی ضابطہ کے مطابق ثابت بھی کیا ہو تو اسے شرعا درست تسلیم کیاجائے اور مہر کے متعلق بیوی کو مشورہ دیا  جائے کہ ازروئے دیانت اس پر مہر کی واپسی واجب ہے۔

۲۔عدالتی فیصلے کو مجتھد فیہ میں قضا ء کی وجہ سے درست تسلیم کرلیا جائے کیونکہ سلف میں ایسے فقہاء بھی گزرے ہیں جو خلع کا حق سلطان کو دیتے ہیں اور یہ معلوم ہے کہ مجتھد فیہ امور میں قضاء قاضی رافع للخلاف ہوتا ہے۔

۳۔ اگر تجویز 2 میں تامل محسوس ہو تو عدالتی فیصلہ کا جائزہ لیا جائے اور مدعیہ سے بھی الگ سے احوال معلوم کیے جائیں ،ان دو امور کے بعد اگر مدعیہ مفتی کےضمیر کو مطمئن کردے کہ واقعی خلع کےلیے معقول وجوہ موجود ہے تو اسے خلع کے نفاذ کا فتوی کیا جائے اور اگر معلوم ہو کہ خلع کسی معقول شرعی بنیاد پر حاصل نہیں کیا گیا ہےتو اسے جمہور کے مذہب کے مطابق شرعا غیر معتبر قرار دیا جائے۔