مدینہ منورہ سے طبع شدہ فارسی ترجمۂقرآن
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مدینہ منورہ سے طبع شدہ فارسی ترجمۂقرآن..........ایک عظیم خدمت
قرآن کریم رب العالمین کی جانب سے نازل شدہ آخری کتاب ہےجوآخری پیغمبرسرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس آخری امت کودی گئی ہے،قرآن کریم سے تعلق وربط اورقرآنی تعلیمات پرعمل عروج کاسبب اوراس سے اعراض ودُوری تنزل وانحطاط کاذریعہ ہے۔شیخ العالَم المعروف بہ شیخ الہندمولانامحمودحسن دیوبندی رحمہ اللہ مالٹا
پاکستانی مصاحف کے رسم کا شرعی جائزہ
تعارفیہ
برصغیر پاک وہند میں قرآن کریم کے جو نسخے شائع ہوتے ہیں وہ امام ابوعمر الدانی کے علمی منہج کے مطابق ہیں اور ان پر تمام مسالک کے علماء کا اعتماد واتفاق چلا آرہا ہے مگر کچھ عرصہ سے ایک مخصوص ذہنیت کے حامل افراد یہ کوشش شروع کررکھی ہے کہ ان معروف ومانوس اورمسلم الثبوت نسخوں کی طباعت روک کر ایک اور نسخے کی طباعت قانون کی رو سے ضرور قرار دی جائے جسے یہ لوگ مثالی نسخہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔اس فتنے کی بو محسوس ہونے پر ماہر ومحقق علماء نے اس کے خلاف قلم اٹھایا جس کے نتیجے میں بلند پایہ اور تحقیقی مضامین منظر عام آئے۔زیر نظر تحقیقی مقالہ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ماہر ومشاق قاری ،محقق عالم دین ڈاکٹر مولانا قاری ضیاء الحق صاحب&n
گرا ں قدر مفید تفاسیر
مقدمۂ ہذا کے اختتام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ طالبین علم و حق کے واسطے چند معتمد تفاسیر کے نام درج کر دیئے جائیں جن کا مطالعہ کافی حد تک دیگر تفاسیر سے مستغنی کر دیتا ہے ، لیکن بہرحال یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ہرتفسیر کی اپنی ایک امتیازی خصوصیت ہوتی ہے جس میں کوئی دوسری تفسیر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی، اور دوسری تفسیر کے اہم گوشوں کا احصاء ایک ہی تفسیر میں ہونا کم ہی پایا گیا ہے ،اس لئے کہ ہلکی بارش کشادہ وادی میں کیونکر نفع مند ہوسکتی ہے اور گڑھے کا پانی لبا لب ٹھاٹھیں مارتے سمندر کا کیا مقابلہ کرسکتاہے اور پھوار کو گرجتی برستی بارش سے کیا نسبت؟ ہر تفسیر ایسی امتیازی خصوصیات کی حامل ہے جو خصوصیات دیگر کسی تفسیر میں نہیں پائی جاتیں، اسی لئے اگر چہ متأخر عالم، متقدم کی تفسیری ابحاث کو ہی کیوں نہ نقل کرے، بلکہ ایک ہی کتاب کی
قدیم قرآنی مصاحف اور ملتِ اسلامیہ کی قرآنی خدمات کا تعارف
قدیم قرآنی مصاحف اورملتِ اسلامیہ کی قرآنی خدمات کا تعارف
تعارف
زیر نظر تحریر مشہور زمانہ شخصیت علامہ محمد زاہد کوثری ؒ کے مضمون ’’مصاحف الأمصار وعظیم عنایۃ ھذہ الأمۃ بالقرآن الکریم فی جمیع الأدوار‘‘کا ترجمہ ہے۔
علامہ ؒ کی علمی وتحقیقی شخصیت کی قدر دانی وہی حضرات کر سکے جوخود علم و تحقیق کے دبستان سے وابستگی رکھتے تھے، اور جنہوں نے علامہ ؒ کی تحریرات میں اس جوہر گرانمایہ کا ادراک کر لیا تھا۔ علامہؒ کی مستقل تصنیفات اور متفرق تحریرات علامہؒ کے ذوق تحقیق کی عکاس ہیں۔
ہر علمی شخصیت کے موافقین اور مخالفین ہر زمانے میں موجود رہے ہیں، چنانچہ اس روایت سے علامہ ؒ کو بھی سابقہ پڑا اور علمی میدان میں آپ ؒ کے بھی مخالفین اور موافقین دونوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔گو کہ علامہ ؒ کا طرز تحریرکچھ