24
Ramadan

!بہت بڑے مفتی صاحب

بہت بڑے مفتی صاحب!

بحالت حیات دنیا بڑے مفتی صاحب ؒ کا تذکرہ:

'بڑے مفتی صاحب نے  فرمایا ہے'،'بڑے مفتی صاحب نے بلوایا ہے'، 'بڑے مفتی صاحب نہیں ہیں'، 'بڑے مفتی صاحب آج سبق نہیں پڑھائیں گے'، بڑے مفتی صاحب سفر پر ہیں'،  'بڑے مفتی صاحب تشریف لا رہے ہیں'، 'استفتا بڑے مفتی صاحب کی جگہ پر ہے'، بڑے مفتی صاحب عمرے پر  گئے ہوئے ہیں'، بڑے مفتی صاحب مدرسہ الہیہ گئے ہوئے ہیں'، بڑے مفتی صاحب دفتر اہتمام میں ہیں'، 'بڑے مفتی صاحب مدرسہ درویشیہ گئے ہوئے ہیں'، 'بڑے مفتی صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے'،  'بڑے مفتی صاحب شہید ہوگئے ہیں'، 'بڑے مفتی صاحب کا جسد مبارک ان کے گاؤں لے جا یا جا ئے گا'، 'بڑے مفتی صاحب کا جنازہ  نماز عصر کے بعد ہو گا'، 'بڑے مفتی صاحب کا جسد  مبارک زمین کے حوالے کردیا گیا ہے'۔

بحالت حیات شہادت بڑے مفتی صاحبؒ کا تذکرہ:

اب منظر تھوڑا سا بدلا ہواہے، اس لیے کہ اب  نام گرامی کے ساتھ ہر مرتبہ 'رحمہ اللہ' کا لاحقہ لگا ہوا ہوتا ہے،  'بڑے مفتی صاحب ؒیہ فرمایا کرتے تھے'،  'بڑے مفتی صاحب ؒبلوایا کرتے تھے'،  'بڑے مفتی صاحب ؒکی عادت تھی'، بڑے مفتی صاحب ؒکا درس یوں ہوا کرتا تھا'، ' بڑے مفتی صاحب ؒآیا کرتے تھے'، بڑے مفتی صاحب ؒ مدرسہ درویشیہ اور مدرسہ الہیہ میں بھی تدریس فرمایا کرتے تھے'، بڑے مفتی صاحب ؒاس وقت دفتر اہتمام میں تشریف فرما ہواکرتے تھے' الی آخرہ ۔یہ حضرت شہیدؒ کا دو لفظوں 'بڑے' اور 'مفتی صاحب' کی صورت میں جامع تعارف ہےجو ان کے سینکڑوں شاگردوں کے ہاں  آپؒ کی حیات دنیا میں بھی زبان زد تھا، اور حیات شہادت میں بھی اسی طرح ، بالکل اسی طرح زبان زد ہے۔ یہ در اصل  خلیل خدا  حضرت ابراہیم ؑ کو خدا کی طرف سے 'پچھلوں میں لسان صدق' عطاکیے جانے والے انعام کا پرتوہےجو اس ولی خدا  کو ، خدا کی طرف سے ملا ہے۔ اسی طرح یہ رسول اللہ ﷺ کو ملنے والے  باری تعالے عز اسمہ کی جانب سے 'رفع ذکر ' کے تحفے کا ایک ادنی نمونہ ہے جو ایک سچے عاشق رسول ﷺ کو عشق رسول میں اس کی عاشقانہ اداؤں کے بدلے دیا گیاہے۔

بڑے مفتی صاحبؒ حیات جاوید سے سرفراز:

کہنے کو تو بڑے مفتی صاحب ہم میں نہیں ہیں، اور سچ بھی یہی ہے، لیکن وہ ہم میں ہیں اور  یہ جھوٹ ہرگز نہیں ہے، وہ اب صبح سویرے بعد از فجر  دار الافتا  کے بند دروازے میں محو مطالعہ بھی نہیں ہوتے، لیکن عین اسی وقت دار الافتا کا بند دروازہ اب بھی بڑے مفتی صاحب کی موجودگی کا پتہ دیتا ہے۔ جامعہ کے دفتر اہتمام میں اب بڑے مفتی صاحب اپنے معمول کے مطابق گاؤ تکیے پر ایک جانب جھکے اخبار نہیں پڑھتے، لیکن آپ کو روزانہ اس ہیئت پر دیکھنے والے اب بھی آپ کو دفتر میں اسی جگہ پر ،اسی وقت، اسی انداز  کے ساتھ اخبار پڑھتے دیکھتے ہیں۔ صبح آٹھ بجے دفتر اہتمام سے گھر کو جاتے ہوئے دھیمی چال ، ہاتھ میں لاٹھی لیے آہستگی سے سلام کا جواب دیتے ہوئے بڑے مفتی صاحب اب نظر نہیں آتے ،لیکن کیا  کیجیے کہ اب بھی وہ اسی انداز کے ساتھ واضح طور دکھائی دیتے ہیں۔  ۳۱ جنوری ۲۰۱۳ ء کی دوپہر کو جب سے بڑے مفتی صاحب اپنی نشست سے اٹھ کر روانہ ہوئے ہیں اب آتے نہیں ہیں، سچ تو یہی ہے،  لیکن جھوٹ یہ بھی نہیں کہ دار الافتا کے اندر ہی مفتی صاحب  صبح دس سے سوا بارہ بجے تک، دوپہر ساڑھے تین سے پانچ ، سوا پانچ بجے تک، بعد از مغرب تا عشاء اور بعد عشاء دیر تک اپنی مخصوص انداز نشست  کے ساتھ  کبھی ورق الٹتے، کبھی مسکراتے ، کبھی اکتاتے،  آخر کار قلم اٹھاتے، دستخط کرتے، یا مہر اٹھا کر مہر ثبت فرما رہے ہوتے ہیں۔ واقعی یہ سب عشق ومحبت کی کرشمہ سازیاں ہیں، اس لیے کہ عشق ومحبت  کا تعلق چشم خیال او رچشم تصور  کو جو قوت اور طاقت دیتا ہے، اس کا تجرباتی اندازہ عشاق کے سوا  اور کسی کو ہو بھی کیسے سکتا ہے؟

بڑے مفتی صاحبؒ کے ظاہری خد و خال:

بھرا  ہوا چہرہ اور بھرا ہوا بدن، بصارت کی کمزوری کی وجہ سے آنکھوں پر عینک، جو فتاوی کی تصحیح کے وقت اتار دیا کرتے تھے،  مہندی رنگ کی نکھار لیے ہوئے سرخ داڑھی، سر پر سفید بے ترتیب بندھا صافہ جو بے ترتیبی کے ساتھ بندھے ہوئے ہونے کے  باوجودد شخصیت کے باطن کی خوبصورتی سے اپنا حصہ خوب لیے ہوئے،  سفید چمکدار مگر سادگی میں بے مثال کپڑےکبھی واسکٹ کے ساتھ اور کبھی واسکٹ کے بغیر  زیب تن، گلے میں رنگین رومال، جس کے دونوں اطراف دونوں کاندھوں کی جانب سے سینے کی طرف گرے ہوئے ہوتے، اور ہاتھ میں لاٹھی جو کچھ عرصہ قبل سےگٹھنوں کے عارضے کی وجہ سے ساتھ رہتی تھی۔ ۲۰۰۹ ء سے ۲۰۱۳ء تک مفتی صاحب کو  بغیر کسی غیر معمولی تبدیلی اسی چہرے بشرے کے ساتھ پایا، البتہ رواں سال ۱۳ جنوری کی افسوس ناک دوپہر کو جب آپؒ کی زیارت ہوئی تو آپؒ کے سفید جوڑے کی بالائی جانب سرخ رنگ سے مزین تھی، یہ وہی سرخ رنگ ہے جو  مشام جان کو معطر کرنے والی مشک کی خوشبو سے قیامت کے مہیب میدان  کو مہکائے گا، اور بڑے مفتی صاحب سرخ رو ہو کر اپنے مطلوب ومقصود کے دربار میں حاضری کے لیے اپنے عشق کی گواہی ساتھ لیے آگے کی جانب بڑھتے ہوں گے۔

بڑے مفتی صاحبؒ کی صفات وشمائل:

کم سخن اور کم گو لیکن سخن وری، سخن شناسی، اور سخن دانی میں باکمال، طبعا تنہائی پسند لیکن جو مجلس میں آجائیں تو اپنے چٹکلوں سے مجلس کی رونق بن جائیں، یوں تو مسکراتا چہرہ لیکن درد مند اشک بہاتا ہوا قلب لیے ہوئے، ظاہری لب و لہجے میں کبھی درشتگی سی جھلکتی ہوئی لیکن نرم خو ئی اور شفقت وعنایت سے بھرپور سینہ، اصحاب شان کے ساتھ بہترین اخلاقی برتاؤ کے  ساتھ ساتھ بھر پور استغنا کا حسین امتزاج، چشم پوشی اور عیب پوشی کی خصلت نیک کو کو خوب اچھی طرح اپناتے ہوئے  اگر کہیں شرعی مسئلے کے بیان میں کہیں جھول محسوس ہو تو حق موقف کے اعلان میں جرأت مندانہ بے باکی،  اور ان تمام باتوں میں سب سے بڑھ کر یہ کہ لاکھ برا چاہنے والوں، باتیں بنانے والوں، عیب کوشوں، اور نکتہ چینوں سب ہی کے لیے بلا امتیاز و بلا قید  بے حد اچھا چاہنے والے، اور سب کے حق میں دعا گو رہنے والے۔ 

بڑے مفتی صاحبؒ کے خصائص وامتیازات:

اپنے اپنے مذاق اور اپنی اپنی سوچ کے زاویے کے مطابق مختلف اہل علم و  اہل قلم نے بڑے مفتی صاحبؒ کی گونا گوں خصوصیات کو یاد کر کر کے آنسو بہائے ہیں، کوئی آپؒ کی فقاہت کو یاد کر کے رو رہا ہے، کوئی آپؒ کی سادگی کا سوچ کر سراپا ماتم ہے،  کسی کو دار الافتا کے آپ ؒکے وجود مسعود سے  خالی ہونے کی پریشانی ہے، کوئی آپؒ کے درس کی رونق آئندہ نہ دیکھ سکنے پر آہ و زاری کر رہاہےاور کوئی آپ ؒکے عبادات و اشغال  دنیا کو بتا کر آپؒ کو یاد کرتا کرتاگھل رہا ہے۔ سب کچھ اپنی جگہ درست ہے، بڑے ہمیشہ ہمہ جہتی صفات  کے حامل ہونے کی وجہ ہی سے بڑے بنتے ہیں، اور تب ہی ان کی بڑائی تسلیم کی جاتی ہے۔ میں نے بڑے مفتی صاحب میں جن دو بڑی خوبیوں کو لمحہ بہ لمحہ محسوس کیا، مجھے یہاں ان کا بیان مقصود ہے۔

ایک آپؒ کا نبی کریم ﷺ کی ذات والا صفات سے عاشقانہ تعلق، اور دوسرا  مختلف مناصب اعزاز سے سرفراز ہونے کے باوجود  آپؒ کا چھوٹا پن، جس نے آپؒ کو صرف بڑے مفتی صاحب نہیں بلکہ بہت بڑے مفتی صاحب بنا دیا، یہ کوئی قابل تعجب بات نہیں بلکہ درحقیقت یہ اس حدیث رسول ﷺ کی صداقت کا مظہر ہے، جس میں نبی کریم ﷺ نے اپنے آپ  بڑائی سے گریزاں رہتے ہوئے لوگوں کے آگے پستی دکھلانے والوں  کے لیے رفعت و بلندی کی بشارت دی ہے: من تواضع للہ رفعه اللہ۔

نبی کریم ﷺ سے بڑے مفتی صاحب ؒ کے والہانہ تعلق کے مناظر دورۂ حدیث کے سال ترمذی شریف جلد ثانی کے اسباق میں متعدد بار دیکھے، تخصص سال اول  کے سال مقدمہ شامی کے سبق میں چند مقامات پر خصوصی طور پر دیکھے، اور اپنی چند نجی ملاقاتوں میں بھی آپؒ کے اس وصف گرانمایہ کا خوب تجربہ ہوا۔ترمذی شریف کے درس میں حدیث پاک  میں جب بھی محبوب کبریا ﷺ  پر پیش آنے والے مصائب و تکالیف کا یا آپ ﷺ کی محبوبانہ اداؤں  کا تذکرہ ہوتا، تو آپؒ کی آنکھوں کے آنسو پاس بیٹھنے والوں کو دکھائی دیتے اور آپؒ کی آواز کی گلو گیری  دور بیٹھے ہوؤں کو واضح طور پر سنائی دیتی تھی۔

مقدمہ شامی پڑھاتے وقت کسی مناسبت سے نبی کریم ﷺ کے روضے مبارک کی بات چل نکلی،  تو آپؒ نے روضہ مبارک میں نبی کریم ﷺ کے قدمین مبارکین کی جانب بیٹھ کر نبی کریم ﷺ سے راز و نیاز کرنے کا ذکر فرمایا، اس ذکر کے وقت آپؒ کی چشم پر نم سے آنسو رواں تھے اور آواز غم عشق و محبت سے اس قدر پر تھی کہ ہم طلبہ کی حالت غیر ہو رہی تھی، فیض کے طلبگاروں کی یہ حالت ہو تو خود منبع فیض کی جو حالت ہوگی وہ وہی جانے اور اس کا خدا جانے۔  اس کے بعد اسی سال جب میں عمرے کے سفر پر روانہ ہونے والا تھا تو میں نے آپؒ سے قدمین مبارکین کے مقام مبارک کی تعیین کے متعلق پوچھا، اس وقت اس مقام کے متعلق رہنمائی کرتے ہوئے  بھی آپؒ کی حالت غم عشق سے چور عاشق کی حالت کی تھی، جو تڑپتے دل کے ساتھ اپنے محبوب کی طرف  جانا چاہتا ہو۔

کسی بڑے ادارے کے دار الافتا کی ریاست  یا نیابت رئیس کے منصب کی قدر کو سمجھانے کے لیے کوئی عام فہم مثال اگر دی جاسکتی ہے تو  وہ یہ ہے کہ رئیس دار الافتا یا نائب رئیس دار الافتا اس ادارے کا بالترتیب 'چیف جسٹس ' یا 'چیف جسٹس  کے خاص اسسٹنٹ' کی مانند ہوا کرتا ہے۔ چیف جسٹس کو جو بالادستی اور اعزاز حاصل ہوتا ہے وہ عام وخاص نگاہوں سے پوشیدہ نہیں۔ بڑے مفتی صاحب  عملا رئیس دار الافتا اور رسما نائب رئیس دار الافتا  تھے، لیکن آپؒ نے کبھی یہ باور ہی نہیں ہونے دیا کہ آپؒ اس عظیم منصب پر فائز ہیں۔ مناصب و مفاخر کی جس ثریا پر ہم جیسے غیر مخلص  ریا کار نو آموز ایک جست لگا کر پہنچنا چاہتے ہیں، آپؒ نے اس ثریا پر ہونے کے باوجود کبھی زمین والوں کو اپنی طرف سر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت نہیں دی، نہ کبھی ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا، بلکہ شاید نہ ان کو کبھی حقیر خیال ہی کیا۔ بغیر کسی جاہ و جلال، تزک و احتشام ایک سادہ سی سواری پر دنیا جہاں کی مسافت طے کرتے، روکھے سوکھے کھانے کی دعوت کو دعوت عید کی مانند قبول کرتے،  کسی بھی مجلس میں کسی خاص نشست کے خواہاں نظر نہ آتے،  آپ کی تواضع کا بارہا اور مختلف مقامات پر خوب مشاہدہ اور تجربہ ہوا۔

بڑے مفتی صاحبؒ کی حیات کا عملی پیغام:

یہ دونوں خصوصیات آپؒ کے چاہنے والوں اور نام لیواؤں کو دو پیغام دیتی ہے، ایک یہ کہ عشق رسول ﷺ اس راہ کی تمام محنتوں اور کوششوں کا حاصل ہے ، اگر یہ حاصل تو سب کچھ حاصل اور اگر یہ نہیں تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں۔ دوسرا پیغام  یہ کہ بڑائی وبزرگی بہ تکلف بڑا بننے اور بڑائی جتلانے کی بجائے برضا و رغبت چھوٹا بننے اور واقعی چھوٹا بن کر دکھلانے میں ہے،  عظمت و جلالت دراصل تواضع دکھلانے والوں، پست روی اختیار کرنے والوں اور بڑائی و بزرگی نہ چاہنے والوں کا ہی مقدر ہے، یہی راز ہے کہ بڑے مفتی صاحب  اپنی بے مثل تواضع کی بنا پرصرف "بڑے مفتی صاحب "کہلانے کے نہیں، بلکہ "بہت بڑے مفتی صاحبؒ "کہلانے کے بجا طور پر مستحق تھے اور ہیں۔

عظمت و بزرگی والی ذات مجید سے امید ہے کہ وہ خالص بندگی کرنے والے اپنے بندے عبد المجید کو آخرت میں بھی اپنی رحمت و فضل سے بڑائی کے مقام سے سرفراز فرمائے گی۔

 

از قلم:

محمد بلال بربری

استاذ ورفیق شعبہ تحقیق

جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی

۱۴/ جون/ ۲۰۱۳ء