1
Muharram

طب کے متعلق چند اسلامی ہدایات

صحت نعمت خداوندی ہے، جس کی قدر دانی اور حفاظت شرعی حکم ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
’’نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس: الصحۃ والفراغ‘‘۔
’’دو نعمتوں کے حوالے سے عموما لوگ دھوکے میں مبتلا ہوتے ہیں: صحت اور فراغت‘‘۔(بخاری ومسلم)

ایک روایت میں ہے کہ صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ پانچوں نمازوں کے بعد کیا دعا مانگوں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالی سے عافیت مانگا کرو، دوبارہ سوال پر بھی یہی ارشاد فرمایا، اور تیسری بار فرمایا: اللہ تعالی سے دنیا وآخرت میں عافیت مانگا کرو۔
لیکن یہ بھی فطری بات ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت بیماری کی کیفیت سے ضرور دوچار ہوتا ہے، اور چونکہ بیماری میں انسان کسی نہ کسی تکلیف کا سامنا کر رہا ہوتا ہے، اس لیے وہ اس بیماری سے چھٹکارے اور صحت یابی کے حصول کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرتا ہے، لہذا علاج ومعالجہ بنیادی انسانی ضرورت ہے۔اس تناظر میں مذہبی حوالے سے یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین اسلام، جو تمام بنیادی انسانی ضروریات کے بارے میں اصولی یا جزئیاتی ہدایت ورہنمائی فراہم کرتا ہے، آیاطب کے متعلق بھی کوئی رہبری کرتا ہے؟ زیر نظر تحریرمیں اختصار کے ساتھ چند نکات کی صورت میں اس سوال کاجواب دینے کی کوشش کی گئی ہے:


1: سب سے پہلے یہ کلیہ ذہن نشین ہونا چاہیے کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ کا حقیقی موضوع،انسانوں کو آسمانی تعلیمات سے آگاہ کرنا، روحانی امراض کی تشریح وتفصیل اور ان کا علاج بیان کرنا ہے، جسمانی امراض کی تعیین و تشخیص اور ان کے علاج کی وضاحت قرآن وحدیث نبوی کے بنیادی واساسی مقاصد میں شامل نہیں ہے۔شرک، کفر، تکبر، حسد، ریا، اسراف، تبذیر وغیرہ اخلاق وکردار کی خامیاں ، اور ان سے بچنے کی ترغیبی وترہیبی تعلیمات جا بہ جا ملتی ہیں، لیکن اس جیسی تفصیل کے ساتھ جسمانی امراض اور ان کے علاج سے تعرض خال خال ہی ملتا ہے۔ اس تفصیل کے نہ ہونے کو کسی طرح بھی دین اسلام کی خامی یا نقص شمار کرنا زیادتی ہوگی، بلکہ یہ تو اسلامی تعلیمات کی مرکزیت کا قابل تعریف پہلو ہے کہ جن مقاصد کا دعوی کیا، ان ہی مقاصد کو بلا کم وکاست بیان کردیا، اور جو امور ان مقاصد سے تعلق نہیں رکھتے تھے،ان کی طرف کم سے کم متوجہ کیا۔

 

۲:علاج ومعالجہ اور دوا دارو کرنا توکل کے خلاف نہیں، بلکہ شرعی حکم ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ کے بندو! علاج کرو ، اس لئے کہ اللہ نے بڑھاپے کے علاوہ کوئی ایسی بیماری نہیں پیدا کی جس کی شفا نہ رکھی ہو‘‘۔ (ترمذی)

اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لکل داء دواء، فاذا اصیب دواء الداء برء باذن اللہ۔
’’ہر بیماری کی دوا ہے، لہذا جب وہ بیماری کے موافق ہوجاتی ہے تو بیمار اللہ تعالی کے حکم اور ارادے سے اچھا ہوجاتا ہے‘‘۔(مسلم)
یعنی اصل شفایابی تو اللہ تعالی کی مشیت وارادے پر ہی موقوف ہوتی ہے، دوا وعلاج محض ایک وسیلہ ہوتے ہیں، جن کو خدائی حکم سمجھ کر اختیار کرنا چاہئیے، نیز علاج کے ساتھ دعا اور صدقہ کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔

 

۳: وہ امور جن کو جسمانی امراض اور ان سے صحت یابی کے حصول کے باب سے کچھ تعلق ہے، اور دین اسلام نے اس بارے میں بعض اصولی ہدایات فرمائی ہیں، ان تعلیمات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ایک تو وہ عمومی نوعیت کی ہدایات ہیں جن کا تعلق تمام شعبہائے حیات سے ہے، جس  میں بنیادی طور پر انسانی اخلاقی رویوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے، تاہم انہی اخلاقی رویوں کو طبی زاویہ نظر سے زیر غور لاکر تعلیمات مستنبط کی جاسکتی ہیں۔

دوسری وہ ہدایات ہیں جن کو براہ راست مرض، علاج اور دواسے تعلق ہے۔

۴: شاہ ولی اللہؒ نبی کریم صلی اللہ وسلم سے منقول علاج وطب کی بابت ہدایات کو نبوی تعلیمات کی اس قسم میں شمار کیا ہے، جن کی تبلیغ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب کے درجے ومرتبے میں نہیں تھی اور اس پر تائید کے طور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ: میں تو ایک بشر ہی ہوں، جب میں تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کوئی ہدایت دوں تو اس کو تھام لو، اور جب تمہیں کسی چیز کا حکم اپنی رائے کے حوالے سے دوں تو میں ایک انسان بشر ہوں، (اور انسانی رائے میں قطعیت نہ ہونا مسلم ہے)۔یہ حدیث امام مسلم نے تابیر نخل کے باب میں ذکر کی ہے۔ اس حدیث نبوی اور شاہ ولی اللہ ؒ کے اس حدیث نبوی سے کیے استدلال کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ طب وعلاج سے متعلق نبوی ہدایات کی نوعیت ایک مشورے کی ہے، جس کا تعلق عرب خطہ زمین کے موسم و ماحول، اور عرب معاشرے کی جسمانی حالات سے ہے، ان ہدایات میں وجوب کا پہلو نہیں ہے، اس لیے ان طبی ہدایات پر عمل کرنا واجب نہیں ہے، اور اگر یہ طبی ہدایات کسی کی جسمانی ساخت اور اس کے ماحول کے اعتبار سے ناموافق ہوں، تو اس عدم موافقت سے مرتبہ نبوت ورسالت کی عصمت پرکوئی حرف نہیں آتا۔ 
 

۵: یونانی طبی اصول کے مطابق جسمانی بیماریوں کے علاج کے لیے تین کلیات تجویز کیے گئے ہیں: 
۱: صحت وتندرستی کے لیے مختلف غذاؤں کا استعمال کرنا۔
۲: ایذا پہنچانے والی اغذیہ واشیا سے پرہیز کرنا۔
۳: جسم میں موجود فاسد مواد کو صاف کرنا۔
اللہ تعالی نے ان تینوں بنیادی کلیات کی طرف قرآن کریم میں ہدایات ارشاد فرمائی ہیں۔(الطب النبوی، ابن قیم الجوزیہ ص: ۳،۴) 

۶: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جسمانی امراض کے علاج کے سلسلے میں منقول ہدایات تین قسم کی ہیں: 
۱۔وہ احادیث جن میں طبعی دوائیں تجویز کی گئی ہیں۔
۲۔وہ احادیث جن میں روحانی وظائف تجویز کیے گئے ہیں۔ 
۳۔وہ احادیث جن میں طبعی اور روحانی دونوں قسم کے علاج تجویز کیے گئے ہیں۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ان تینوں قسم سے متعلق احادیث علیحدہ علیحدہ ابواب میں ذکر کی ہیں۔

۷: علاج کے سلسلے میں ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ حرام شے کے ذریعے علا ج شرعا جائز نہیں ہے، اس پہلو پر کئی روایات کتب حدیث میں مذکور ہیں، چنانچہ ایک روایت کے مطابق اللہ تعالی نے حرام اشیا میں شفا نہیں رکھی۔ الا یہ کہ معتمدوحاذق طبیب کی تجویز ہو کہ اس کے علاوہ علاج کی کوئی اور صورت نہیں۔

بہرحال یہ اصولی ہدایا ت ہیں جن سے کام کر لے کر طب کے میدان میں انسانیت کی خدمت کی جاسکتی ہے اور ان کوپھیلا جائے تو ہر تو جدید صورت کا حکم ان کی روشنی میں مل سکتا ہے۔