اسلامی احکام کے بارے میں چند سوالات کاجواب
امید ہے کہ آپ بفضلہ تعالیٰ فرحان وشادمان ہوں گے۔ آپ سے ٹیلی فون پر میری عرضداشت کی منظوری کے پیش نظر یہ سوالنامہ حاضرِ خدمت ہے۔ اس کے جوابات تحریری طور پر اور آپ کے ادارہ میں چھپے ہوئے لٹریچر کے ذریعے دیئے جاسکتے ہیں۔ سوالنامہ: برائے پی، ایچ، ڈی تھیسز۔
سوال نمبر۱ (الف)۔۔۔ جناب کی رائے میں اسلام کی صنفی تھیوری (Gender Theory) کیا ہے؟ کیا اسلام تخلیقی، دنیاوی وآخرت کے حوالے سے عورت کو مرد سے کمتر مخلوق گردانتا ہے؟ اس ضمن میں قرآنی آیات کیا بیان کرتی ہیں؟
(ب)۔۔۔برائے مہربانی مغربی تصورِ صنفی انصاف (Gender Justice)اور اسلامی تصور صنفی انصاف جو عدل، قسط اور احسان پر مبنی ہے، کا تقابلی جائزہ لے کر واضح کیجئے کہ صنفی انصاف کو ہم اسلامی تصور م
حواس گم کردہ مریض کے احکام
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں: میری والدہ کی عمرتقریبًانوے برس ہے،بھول کاعارضہ ہوگیاہے،یادداشت کافی کمزورہوگئی ہے،پہچاننے میں دشواری ہوگئی ہے اورگاہے بالکل نہیں پہچانتی،ثناء،تعوذ،تسمیہ اورالتحیات سنادیں گی،لیکن یہ یادنہیں رہتاکہ التحیات بھی نمازمیں پڑھی جاتی ہے،اسی طرح پوچھنے پریہ بھی نہیں بتاسکتی کہ پنچ وقتہ نمازوں میں کتنی کتنی رکعتیں ہوتی ہیں اورنہ ہی نمازسناسکتی ہیں اورکئی ماہ سے نمازیں بھی چھوڑی ہوئی ہیں،کئی ماہ پیشترجب نمازپڑھتی تھیں توچاررکعت والی نمازمیں دورکعت پرسلام پھردیتی تھیں اوراب زیادہ وقت لیٹی رہتی ہیں،پیشاب پاخانہ بسترپرخطاہوتارہتاہے،جس کی بناء پراکثروقت گندگی میں ملوث پڑی رہتی ہیں،بو،خوشبوکابھی اب احساس باقی نہیں رہا،دوسری باتیں توکرلیں گی،مگربول وبرازکے تقاضہ کی اطلاع نہیں دیتیں،مع
مقروض عوام پرحج کامسئلہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روزنامہ جن مورخہ۱۶؍۳؍۲۰۰۳ء میں ایک کالم چھپاہے جس میں قراردیاگیاہے کہ چونکہ پاکستان مقروض ہے،جس کی وجہ سے ہرپاکستانی مقروض ہے اورکیاایک مقروض شہری کی حیثیت سے ہم پرحج سے قرض کی ادائیگی مقدم نہیں؟کیااس صورت میں پاکستانی مسلمان حج کرسکتے ہیں؟اخبارکی کٹنگ درج ذیل ہے کہ:
۱۔’’اب جب حج کاذکرچلاہے توعلماء کی خدمت میں ایک عرض پیش کرناچاہتاہوں۔حج کافریضہ اداکرنے کی جوشرائط ہیں اورجن کی موجودگی میں ہی حج ہوسکتاہے،ان میں سے ایک یہ ہے کہ عازم حج مقروض نہ ہو،کیونکہ قرض کی ادائیگی حقوق العبادمیں آتی ہے اوریہ
عورت نمازمیں مردوں اورعورتوں کی امام بن سکتی ہے؟
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں:عورت نمازمیں مردوں اورعورتوں کی امام بن سکتی ہے؟سوال کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ امریکہ سے ایک ای میل موصول ہواہے جس میں بتایاگیاہے کہ ایک عورت جمعہ کی نمازکی امامت کررہی ہے اوراس نے اس کے جوازکے حق میں چندحوالے بھی دیئے ہیں۔
۱۔ام ورقہ بنت عبداللہؓجوقرآن کی ماہرتھی اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انہیں ہدایت تھی کہ وہ اپنے گھرنمازباجماعت کے لئے امامت کرائیں جوکہ عورت اورمردوں پرمشتمل جماعت تھی۔(حوالہ ابوداؤداورابن خزیمہ،جولکھتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے)
اس لئے بہت سارے لوگ ان کے گھرجمع ہوئے اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مؤذن مقررفرمایا۔یہ ام ورقہؓان چندلوگوں میں سے ہیں جنہوں نے قرآن کے تحریری نسخہ سے پہلے قرآن کریم سیکھااورزبانی
انسانی کلوننگ کا شرعی حکم
مذکورہ بالا عنوان کے تحت حضرت مفتی عبدالمجید شہیدؒ نے بنوں کی فقہی کانفرنس میں ایک مقالہ پیش کیا تھا جو سولہ صفحات پر مشتمل تھا ۔ذیل میں اس کی تلخیص پیش خدمت ہے۔اختصار کے پیش نظر عنوانات ،اقتباسات اور حوالہ جات بھی حذف کردیے گئے ہیں اور مقالے کو ایک رواں اور مسلسل مضمون کی شکل دے دی گئی ہے، تاہم اصل کی روح کو مجروح ہونے سے اور اس کے پیغام کو متاثر ہونے سے بچایا گیا ہے۔ مقالے کی زبان شستہ اور شگفتہ ہے ،طرز استدلال عالمانہ اور منطقیانہ اور بیان میں سادگی اور برجستگی ہے جس میں روانی ،سادہ بیانی اور تشبیہات واستعارات کے استعمال نے لطف اورچاشنی پیدا کردی ہے۔ مقالہ اگرچہ مختصر ہے اوراپنے موضوع کے جامع تعارف اورتبصرے پر مشتمل ہے مگرزیادہ اہمیت کے لائق وہ اصول ہیں جن سے کام لے کر موضوع پر قلم اٹھایا گیاہے ۔ اصولوں کو دوام اور ثبات حاصل ہے اور وہ ہر زما