عنبر کے متعلق تحقیق
باسمہ تعالی
نام
عنبر جعفر کے وزن پر عربی زبان کا لفظ ہے(۱) ۔لکھنے میں عین کے بعد نون آتا ہے لیکن پڑھتے وقت اسےمیم(عمبر) پڑھاجاتا ہے(۲)۔ اس کی جمع عنابر آتی ہے۔ انگریزی نامAmbergris’’ایمبر گرس‘‘ہے۔ایک اورنام:AmbraGrasea ہے۔
ماہیت
عنبر کیا ہے ؟ معروف ومشہور یہ ہے کہ خاکستری رنگ کا ایک خوشبو دار مادہ ہے:
اٹھا لذتِ عود و عنبر اٹھا اٹھا لطفِ زلفِ معطر اٹھا
( ١٩٧٧ء، سرکشیدہ، ١٣١ )
یہ مادہ ایک بڑی جسامت والی مچھلی کے پیٹ سے نکل کر سطح آب پر جمع ہو جاتا ہے اس وجہ سے اس م
سندھ اسمبلی سے منظور شدہ امتناع اسلام بل کے متعلق
دوہری سزا کا نظام ۔۔۔۔ غور وخوض
بسم الله الرحمن الرحيم
کونسل نے 200 ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم نمبر 10:"دوہری سزا کا نظام" کے متعلق جو امور قابل تحقیق قرار دیے تھے، ان کے متعلق راقم کی رائے کا حاصل درج ذیل ہے۔
( الف ) جرم ثابت ہونے سے پہلے ملزم کو قید کرنے کا شرعی حکم:
واضح ثبوت یا معقول شبہ کے بغیر تو کسی کو حراست میں لے کر نظربند کرنا ہی جائز نہیں کیونکہ گرفتاری اور نظربندی اس کی آزادی کو سلب کرنا ہے جب کہ شریعت اور آئین دونوں شخصی آزادی غیر قانونی نظربندی سے تحفظ دیتے ہیں ۔
معقول شبہ ہو تو م
حلال وحرام سے متعلق ریاست کی ذمہ داری -دوسری وآخری قسط
اسلامی ریاست کی خصوصیت
شریعت کی نظرمیں کچھ احکام بذات خود مقصود ہوتے ہیں اور کچھ مقصد کے حصول کا ذریعہ اور وسیلہ ہوتے ہیں۔ریاست لذاتہ مقصود نہیں بلکہ اس کا وجود اس لیے ضروری ہے کہ بہت سارے دینی احکام کانفاذ ریاست کے تنظیمی ڈھانچہ پرموقوف ہے جیسے اعلان جنگ اورحدودوقصاص وغیرہ ۔اس کے علاوہ جب اسلامی ریاست وجود میں آتی ہے تو داخلی سطح پرتو ہر مسلمان کاضمیر اس سے احکام شرع کی تعمیل کراتا ہے مگر خارجی سطح پر ریاست اس سے دینی احکام کی تعمیل کراتی ہے چنانچہ سرکار دوعالم ﷺ نے دینی احکام بیان بھی فرمائے ہیں اوران پرعمل بھی کرایا ہے۔اسی طرح جو شخص اسلامی ریاست کا امام ہوتا ہے وہ ایک جانب سے عوام کانمائندہ ہوتا ہےمگردوسری جانب سے وہ رسول کاجانشین ہوتاہےاوراس نیابت اورجانشینی کی
شرائع من قبلنااور ان كا حكم
شرائع من قبلنااور ان كا حكم
الحمدلله الذی نَزَّل الکتاب بالحق مصدقا لما بين يديه،وأنزل التوراة والإنجيل من قبل هديً للناس،وجعل القرآن الكريم مهيمنا عليهما،والصلٰوۃ والسلام علٰی من أرسله خاتما للنبوات والرسالات السابقة،وجعل شريعته ناسخة للشرائع السالفة،وعلٰی آله وأصحابه وعلٰی من تبعه بإحسان إلٰی يوم الدين،أمابعد: