2
Jumadi ul Awwal

دوہری سزا کا نظام ۔۔۔۔ غور وخوض

بسم الله الرحمن الرحيم

کونسل  نے  200 ویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم نمبر 10:"دوہری سزا کا نظام" کے متعلق جو امور قابل تحقیق قرار دیے تھے، ان کے متعلق راقم کی  رائے  کا حاصل درج ذیل ہے۔

    ( الف ) جرم ثابت ہونے سے پہلے ملزم کو قید کرنے کا شرعی حکم:

واضح ثبوت یا معقول شبہ کے بغیر تو  کسی  کو حراست میں لے کر نظربند کرنا ہی جائز نہیں  کیونکہ گرفتاری اور نظربندی  اس کی آزادی کو سلب کرنا ہے  جب کہ شریعت اور آئین دونوں شخصی آزادی  غیر قانونی  نظربندی سے تحفظ دیتے ہیں ۔

معقول شبہ ہو تو مشتبہ شخص کو گرفتار کرکے نظربند کرنا  اور جرم کے ثبوت یا عدم ثبوت تک اسے قید میں  رکھنا جائز ہے  اور اسے آزاد چھوڑنا خلاف مصلحت ہے تاہم ضروری ہے کہ الزام میں کوئی معقولیت ہو  مثلا ملزم مجرمانہ ریکارڈ رکھتا ہے یا جائے واردات پر اس کے موجودگی کے شواہد ہیں یا اس کے متعلق  ایک عادل شخص یا دو مستورالحال اشخاص کی اطلاع موصول ہو تو اسے  حقیقت بے نقاب ہونے تک قید میں رکھنا جائز ہے ،اسی طرح ملزم کے متعلق خفیہ اطلاع نہ ہو مگر قرائن اور حالات اسے ملزم ٹھہراتے ہوں تو بھی اسے  تفتیش مکمل ہونے تک قید میں رکھنا جائز ہےاور اسے آزاد چھوڑنا خلاف مصلحت ہے ۔آنحضرت نے ایک  شخص کو چوری کی تہمت میں محبوس فرمایا تھا اور پھر عدم ثبوت کی بنا پر اسے بری کردیا تھا جس سے معلوم ہوا کہ اسے صرف الزام پر ہی سزا دی گئی اس طرح آپ علیہ السلام نے عملا ہر اس شخص کو سزا دینا جائز قرار دے دیا جو اپنے آپ کو قابل الزام حال میں پیش کرے یاجس کو حالات ملزم ٹھہرائیں اگر چہ وہ کسی فعل حرام کا مرتکب نہ ہو۔اس بارے میں مزید احادیث ملاحظہ ہوں :

 

احادیث مبارکہ :

سنن ابی داود میں ہے کہ بہز بن حکیم اپنے والد کےواسطے  سے  داداکی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو شبہ کی وجہ سے قید کیا تھا،(۱) سنن ترمذی میں اضافہ ہے کہ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کردیا ، کیوں کہ اس کا جرم ثابت نہیں ہوا تھا،(۲) مستدرک حاکم میں اس قید کی میعاد اور اس کی حکمت کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےواقعہ کی جانچ پڑتال اور احتیاط کی غرض سے اس شخص کو ایک دن رات قید میں رکھا تھا،(۳)علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کے راوی ابراہیم بن خثیم کو متروک کہا ہے۔(۴)

۲۔ مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو شبہ کی وجہ سے گرفتار کرکے قید میں رکھا، اس قوم کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کہا کہ آپ نے ہماری قوم کے لوگوں کو پابند سلاسل کیوں رکھا ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے ،اسے کچھ جواب نہیں دیا، اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل پر کچھ ناراضگی ظاہر کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات سن نہ سکے، پوچھا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے، صحابی کہتے ہیں کہ میں  اس بات کے ڈر سے ان کے درمیان باتوں کے ذریعہ رکاوٹ پیدا کررہاتھا کہ کہیں آپ سن کر میری قوم کو بددعا نہ دے دیں، اگر ایسا ہوا تو  وہ کبھی فلاح نہیں پاسکیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار پوچھتے رہے ، یہاں تک کہ آپ کو اس شخص کی بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ لوگوں نے یہ بات کہی ہے، اور کہنا والا انہی میں سے ایک ہے، بخدا اگر میں ایسا کروں گا تو  اس کا وبال مجھ پر ہوگا ، ان پر نہیں، پھر آپ نے ان مشتبہ افراد کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔(۵)

۳۔مصنف عبد الرزاق میں ہے کہ قبیلہ بنو غفار  کے دو آدمیوں نے مدینہ منورہ کے پانی کے گھاٹ ضجنان  کے قریب پڑاو ڈالا، ان کے قریب قبیلہ غطفان کے لوگ تھے، ان کے پاس سواریاں تھیں، اچانک ان کے اونٹوں کی دو جوڑیاں گم ہوگئیں، انہوں نے بنو غفار کے مذکورہ افراد پر الزام لگایا ، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور اپنا معاملہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو روکا اور دوسرے سے کہا کہ جاو اونٹ تلاش کرکے لاو، کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہ دونوں جوڑیا ں لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قید غفاری سے کہا کہ میرے لیے استغفار کرو، اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول اللہ تعالی آپ کی مغفرت کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  کہ اللہ تمہاری بھی مغفرت کرے  اور تمہیں اپنی راہ میں شہادت کا مرتبہ عطا کرے، راوی فرماتے ہیں کہ اس شخص نے یمامہ کی لڑائی میں جام شہادت نوش کیا۔(۶)

۴۔ سنن ابی داود میں ہے کہ قبیلہ کلاع کے کچھ لوگوں کا سامان چوری ہوا، انہوں نے کپڑا بننے والے لوگوں پر الزام لگایا، وہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے ملزمین کو  کچھ دنوں تک قید کیا پھر چھوڑ دیا، الزام لگانے والے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور شکوہ کیا کہ آپ نے انہیں بغیر مار یا ذلت کے چھوڑ دیا؟انہوں نے جواب دیا  کہ تم کیا چاہتے ہو؟ اگر چاہتے ہو کہ میں انہیں ماروں پھر اگر تمہارا مال ان سے برآمد ہوگیا تو وہ تمہارا ہے، ورنہ میں تمہیں اتنی سزا دوں گا جتنی ان کو دی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ آپ کا فیصلہ ہے، حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ کہہ کر ڈرایا ، کیوں کہ مار کی اجازت صرف اس صورت میں ہے جب ملزم اعتراف کرے۔(۷)ان تمام روایتوں کو علامہ جمال الدین زیلعی نے نصب الرایہ میں ذکر کیا ہے۔(۸)

 

عبارات فقہاء

فقہاء لکھتے ہیں کہ :الحبس للتھمۃ مشروع  یعنی بوجہ تہمت قید وبند کی سزا جائز ہے۔اسی طرح اگر ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی بنا پر کوئی ملزم بری ہوتا ہو تو اسے مناسب تعزیری سزا دینا  بھی جائز ہے۔

۱۔ الدر المختار میں ہے کہ قاضی کے لیے مشتبہ شخص پر تعزیر قائم کرنا جائز ہے، اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین  حافظ ابن قیم الجوزیۃ سے نقل کرتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق کوئی مسلم امام ایسا نہیں جو یہ کہتا ہو کہ مدعی علیہ کو قید کیے بغیر حلف لے کر چھوڑ دیا جائے گا، یہ ائمہ اربعہ  اور ان کے علاوہ  کسی امام کا مذہب نہیں ہے، اگر ہم ان کےفسادات  کو جاننے کے باوجودان میں سےہر ایک سے قسم لے کر انہیں  چھوڑتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ ہم انہیں اسی وقت پکڑ سکتے ہیں جب دو عادل آدمی گواہی دیں تو یہ شرعی حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے،جو یہ سمجھتا ہے کہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ ایسے ملزموں سے قسم لے کر چھوڑ دیا جائے تو وہ صریح غلطی پر ہے، کیوں کہ اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصوص اور اجماع امت ہمارے لیے کامل رہنما ہیں۔(۹)

۲۔ رد المحتارکی  کتاب الکفالہ میں  ہے کہ شبہ کی وجہ سے قید کرنا مشروع ہے۔(۱۰)

۳۔ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ جس شخص پر قتل، چوری یا لوگوں کو مارنے کا شبہ ہو اسے قید کرکےتوبہ کرنے تک  ایک لمبے عرصے کے لیے جیل بھیجا جاسکتا ہے۔(۱۱)

۴۔  فتح القدیر  میں بھی  قتل یا چوری کے ملزم کو توبہ کرنے تک قید کرنے کا حکم ہے۔(۱۲)

ان تمام روایات اور فقہی عبارتوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس شخص پر کسی جرم کا  قسم کا الزام ہو تو الزام ثابت ہونے سے پہلے اس کو قید کیا جاسکتا ہے، تاہم ہر الزام ایسا نہیں کہ اس کی وجہ سے قید کیا جاسکے ، بلکہ اس کے لیے  شرائط ہیں۔

 

ملزم کو سزا دینے کی شرائط:

۱۔ملزم فساد مچانے میں شہرت رکھتا ہو۔

۲۔  خبر دینے والا ایک عادل یا دو مستور الحال مرد ہوں کہ جن کی عدالت یا فسق کا علم نہ ہو۔

لہذا اگر ایک مستور الحال یا دو فاسق خبر دیں اور ملزم فساد میں شہرت نہیں رکھتا  تو اس کی وجہ سے ملزم کو قید کرنا درست نہیں،  ان شرائط میں جہاں مظلوم کو انصاف دلانے کی کوشش کی گئی ہے ، وہیں ملزم پر بے جا الزام لگا کر انہیں حوالات میں بند کرنے کی سازش کا بھی سد باب کیا گیا ہے،لہذا  ہر شخص  دوسرے پر الزام لگا کراسے  حوالات میں بند نہیں کرپائے گا اور نہ ہی ملزم شخص راہ فرار اختیار کرسکے گا (۱۳)

 

( ب )بطور ملزم قید میں گزارے ہوئے دنوں کا حکم:

اگر ملزم کو مقدمہ کی سماعت کے بعد باعزت بری کردیا جائے تو جو مدت اس نے قید میں گزاری ہے ،اس کا حکم یہ ہےکہ اگر وہ معقول وجوہ سے حراست میں لیا  گیا تھا  تو اسے انتظامیہ کے خلاف کوئی چارہ کار حاصل نہ ہوگا  اور اگر کسی معقول وجہ کے بغیر محبوس کیا گیا تھا  تو اسے قانونی چارہ جوئی کا حق ہوگا اور ناحق مقدمہ بازی اور گرفتاری کی  وجہ سے اس کے معاشرتی وقار اور سماجی حیثیت کو  جو نقصان پہنچا ہے حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ اسے معقول وجوہ سے بحال کرے۔

 

( ج )پھانسی کے فیصلہ اور اس پر عمل درآمد کے دوران طویل عرصہ قید کا حکم:

اگر پھانسی کے فیصلہ کے بعد اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوتی ہے تو  متعلقہ اتھارٹی کو نظام انصاف کی اس خرابی کو دور کرنا چاہیے تاہم  پھانسی سے قبل طویل عرصہ سزائے قید کاٹنے کی وجہ سے پھانسی کی سزا اس وقت معاف کی جاسکے گی جب  پھانسی کی سزا تعزیرا ہو  اور اسے معاف کرنا مفاد عامہ کے خلاف نہ ہو،اگر سزا کی معافی  عمومی مصلحت کے خلاف ہو  یا  بیرونی دباؤ کی  وجہ سے ہو یا  پھانسی کی سزا حدود یا قصاص کے مقدمے میں ہوئی ہو تو قید کو پھانسی کے بجائے کافی قرار دینا  جائز نہ ہوگا  کیونکہ حد کو معاف کرنے کا اختیار  حاکم وقت کو نہیں  اور قصاص کی معافی کا اختیار ولی  مقتول کو ہے۔

 

( د)عمر قید کے فیصلے سے پہلے کی سزا عمر قید میں شمار ہوگی یا نہیں؟

قیدی نے  عمر قید کے فیصلے سے پہلے بحیثیت ملزم  جو قید کاٹی ہے  اگر عدالت  مناسب خیال کرے تو  اسے  عمر قید کی سزا میں محسوب کرسکتی  ہے کیونکہ قید کی سزا بطور تعزیر ہے اور تعزیر میں کمی بیشی کا  عدالت کو اختیار ہوتا ہے ۔

 

حوالہ جات

 

(۱) عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده أن النبى -صلى الله عليه وسلم- حبس رجلا فى تهمة.

(سنن أبي داود، كتاب القضاء، باب فى الدين هل يحبس به؟ ۲/ ۱٦۲ ط:حقانية)

(۲)ثم خلى عنه

سنن الترمذي، أبواب الديات، باب  ما جاء في الحبس في التهمة۱/ ۲٦۱ ط: قديمي)

(۳)عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه و سلم حبس رجلا في تهمة يوما و ليلة استظهارا و احتياطا

( المستدرك على الصحيحين، كتاب الأحكام ۴/ ۱۱۴ ط: دار الكتب العلمية ،بيروت)

(۴) إبراهيم بن خثيم متروك

( المستدرك على الصحيحين، كتاب الأحكام ۴/ ۱۱۴ ط: دار الكتب العلمية ،بيروت)

(۵)أخبرنا عبد الرزاق عن معمر عن بهز بن حكيم بن معاوية عن أبيه عن جده قال أخذ النبي صلى الله عليه و سلم ناسا من قومي في تهمة فحبسهم فجاء رجل من قومي النبي صلى الله عليه و سلم وهو يخطب فقال يا محمد على ما تحبس جيرتي فصمت النبي صلى الله عليه و سلم عنه فقال إن الناس يقولون إنك لتنهى عن الشر وتستخلي به فقال النبي صلى الله عليه و سلم ما يقول فجعلت اعرض بينهما بكلام مخافة أن يسمعها فيدعو على قومي دعوة لا يفلحون بعدها قال فلم يزل النبي صلى الله عليه و سلم حتى فهمها فقال قد قالوها وقال قائلها منهم والله لو فعلت لكان علي وما كان عليهم خلوا له عن جيرانه

( مصنف عبد الرزاق، باب التهمة۱٠/ ۲۱٦ ط: المكتب الإسلامي ،بيروت)

(٦)أخبرنا عبد الرزاق عن بن جريج قال أخبرني يحيى بن سعيد عن عراك بن مالك قال أقبل رجلان من بني غفار حتى نزلا منزلا بضجنان من مياه المدينة وعندها ناس من غطفان عندهم ظهر لهم فأصبح الغطفانيون قد أضلوا قرينتين من إبلهم فاتهموا الغفاريين فأقبلوا بهما إلى النبي صلى الله عليه و سلم وذكروا له أمرهم فحبس أحد الغفاريين وقال للآخر اذهب فالتمس فلم يكن إلا يسيرا حتى جاء بهما فقال النبي صلى الله عليه و سلم لأحد الغفاريين قال حسبت أنه قال المحبوس عنده استغفر لي قال غفر الله لك يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ولك وقتلك في سبيله قال فقتل يوم اليمامة

( مصنف عبد الرزاق، باب التهمة۱٠/ ۲۱٦ ط: المكتب الإسلامي ،بيروت)

(۷)حدثنا عبد الوهاب بن نجدة حدثنا بقية حدثنا صفوان حدثنا أزهر بن عبد الله الحرازى أن قوما من الكلاعيين سرق لهم متاع فاتهموا أناسا من الحاكة فأتوا النعمان بن بشير صاحب النبى -صلى الله عليه وسلم- فحبسهم أياما ثم خلى سبيلهم فأتوا النعمان فقالوا خليت سبيلهم بغير ضرب ولا امتحان ، فقال النعمان ما شئتم إن شئتم أن أضربهم فإن خرج متاعكم فذاك وإلا أخذت من ظهوركم مثل ما أخذت من ظهورهم. فقالوا هذا حكمك فقال هذا حكم الله وحكم رسوله -صلى الله عليه وسلم-. قال أبو داود إنما أرهبهم بهذا القول أى لا يجب الضرب إلا بعد الاعتراف.

( سنن أبي داود، كتاب الحدود، باب فى الامتحان بالضرب ۲/ ۲۵۴ ط: حقانية)

(۸) ( نصب الراية، كتاب الحدود ۳/ ۳۱۲ ط: مؤسسة الريان ،بيروت )

(۹)للقاضي تعزير المتهم قاصدا نسبته إليه

و في الرد: و في رسالة دده أفندي في السياسة عن الحافظ ابن قيم الجوزي الحنبلي ما علمت أحدا من أئمة المسلمين يقول إن هذا المدعى عليه بهذه الدعوى وما أشبهها يحلف ويرسل بلا حبس وليس تحليفه وإرساله مذهبا لأحد من الأئمة الأربعة ولا غيرهم ولو حلفنا كل واحد منهم وأطلقناه مع العلم باشتهاره بالفساد في الأرض وكثرة سرقاته وقلنا لا نأخذه إلا بشاهدي عدل كان مخالفا للسياسة الشرعية ومن ظن أن الشرع تحليفه وإرساله فقد غلط غلطا فاحشا لنصوص رسول الله ولإجماع الأئمة

 (رد المحتار، كتاب الحدود ، باب التعزير ۴/ ۷٦ ط: سعيد)

(۱٠)الحبس للتهمة مشروع

( رد المحتار، كتاب الكفالة ۵/ ۲۹۹ ط:سعيد)

(۱۱)من يتهم بالقتل والسرقة وضرب الناس يحبس ويخلد في السجن إلى أن تظهر التوبة كذا في فتاوى قاضي خان

( الفتاوى الهندية، كتاب الحدود، الباب السابع، فصل في التعزير ۲/ ۱٦۹ ط: رشيدية)

(۱۲)ومقتضى ما ذكر من أنه يحبس بتهمة ما يوجب الحد لا التعزير بسبب أنه صار متهما بالفساد أنه لو صح التكفيل ينبغي أن لا يعدل عن حبسه بسبب ما لزمه من التهمة بالفساد في الأرض ، ولذا ذكر في الفتاوى : من يتهم بالقتل والسرقة يحبس ويخلد في السجن إلى أن يظهر التوبة·

( فتح القدير، كتاب السرقة ۵/ ۳٦۳ ط: دار الفكر)

(۱۳) مطلب في تعزير المتهم  قوله ( للقاضي تعزير المتهم ) ذكروا في كتاب الكفالة أن التهمة تثبت بشهادة مستورين أو واحد عدل فظاهره أنه لو شهد عند الحاكم واحد مستور وفاسق بفساد شخص ليس للحاكم حبسه بخلاف ما إذا كان عدلا أو مستورين فإن له حبسه بحر

قلت ومثله ما لو كان المتهم مشهورا بالفساد فيكفي فيه علم القاضي كما أفاده كلام الشارح

(رد المحتار، كتاب الحدود ، باب التعزير ۴/ ۷٦ ط: سعيد)

( ولا حبس فيهما حتى يشهد شاهدان مستوران أو ) واحد ( وعدل ) يعرفه القاضي بالعدالة لأن الحبس للتهمة مشروع وكذا تعزير المتهم بحر

قوله ( لأن الحبس للتهمة مشروع ) أي والتهمة تثبت بأحد شطري الشهادة العدد أو العدالة فتح

( رد المحتار، كتاب الكفالة ۵/ ۲۹۹ ط:سعيد)