7
Jumadi ul Awwal
سندھ اسمبلی سے منظور شدہ امتناع اسلام بل کے متعلق
مضمون نگار : مولاناامداداللہ یوسف زئی | مضمون : فقہ وقانون | تاریخ : 2016-12-07 | کتنی مرتبہ پڑھا جاچکا ھیں : 2235

باسمہ تعالی
بل کے مندرجات کا مختصر جائزہ
حال ہی میں سندھ اسمبلی نے جو امتناع اسلام کابل منظورکیا ہے ،میں چاہتا ہوں کہ پہلے اس کے چند مندرجات آپ کے گوش گزارکرلوں :
۱۔یہ بل قراردیتا ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر افرادکا اسلام قبول کرنا قابل تعزیر جرم ہے۔
۲۔ایسا شخص اسلام قبول کرنے کے باوجود غیر مسلم ہی متصور ہوگا۔
۳۔جو شخص اس سلسلے میں اس نومسلم کے ساتھ کوئی مدد وتعاون کرے گا تو اسے پانچ سال یا عمر قید بامشقت کی سزا دی جائے گی۔
۴۔کلمہ پڑھنے اسلام لانے کے باوجود اسے اپنے غیر مسلم والدین کے سپرد کیا جائےگا۔
۵۔اٹھارہ سال سے زائد عمر کاکوئی شخص اسلام قبول کرے تواسے
الف۔مخصوص لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کرنا ہوگا
ب۔اسے اکیس روز تک سیف ہاؤس میں رکھاجائےگا
ج۔اور اس دوران اسے مذاہب کے بارے میں مطالعہ کےلیے لٹریچردیاجائےگا۔
۶۔اسلام قبول کرنے کے بعدنکاح بھی قابل تعزیرجرم ہوگا اور نکاح خواں کو بھی سزائے قید دی جائے گی۔
تبصرہ
یہ بل قرآن وسنت ،آئین پاکستان،اقوام متحدہ کے منشور،عدل وانصاف کے مسلمہ اصولوں ، عقل ودانش کے تقاضوں کے صریح خلاف ہے اور اس بناپر پرزے پرزے کرکے ردی کے ٹھوکری میں پھینکنے کے قابل ہے۔
تعجب ہےکہ سند ھ جو باب الاسلام ہے وہاں اسلام کا باب بندکیا جارہا ہے،جہاں کے رہنے والوں کو ایک نوعمر محمدبن قاسم کی وجہ سے اسلام نصیب ہوااب وہاں اسلام قبول کرنے پر پابندی لگائی جارہی ہے،سندھ کی دھرتی جس کے رہنے والوں میں ایک بڑی تعداد سادات کی ہے ،ان کی جد امجد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دس سال میں اسلام قبول کیا مگر اب ان کی نسل میں سے اگر کوئی اس عمر میں اسلام قبول کرتا ہےتو اسے نادرست قراردیا جارہاہے،جس قوم کے پیغمبر نے خود بچوں کومسلمان کیا ،انہیں کلمہ پڑھایااورانہیں اپنے آغوش میں لیا مگر اس کے نام لیواسمبلی کو کسی غیرمسلم کا اسلام قبول کرنا گوارانہیں۔
۲۔آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کا منشور ہر شخص کو اپنے عقیدے اورمذہب کے اظہارکا حق دیتا ہے،مگرسندھ کے باشندگان سے یہ اس بل کے ذریعے یہ حق چھینا جارہا ہے۔
۳۔اس بل کا عنوان جبر سے تحفظ کا ہےمگر یہ خودبدترین جبرپر مشتمل ہے کیونکہ :
الف۔اگر کسی کو اسلام لانے پر مجبور کرنا جرم ہے تو اپنی خوشی سے اسلام قبول کرنےوالوں پر پابندی لگانا بھی جرم ہے۔
ب۔جو شخص اسلام قبول کرتا ہے وہ ایک رسمی اعلان نہیں کرتا بلکہ کائنات اورزندگی کے متعلق ایک نیانظریہ اپناتا ہے اورنئے سرے سے اپنے تعلقات کو منضبط کرتا ہے مگر یہ بل پھر سے اسے اسی ماحول اور خاندان میں دھکیلتا ہے جس سے وہ براءت کا اعلان کرچکا ہے۔
ج۔سیف ہاؤس میں رکھنے کا مطلب اس کے علاوہ اورکیا لیا جاسکتا ہے کہ اسے خاندان اورریاستی جبر کےذریعے دوبارہ اسلام سے پہلے والامذہب قبول کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
د۔جو شخص اسلام قبول کرتا ہے عموما وہ اپنے خاندان سے کٹ جاتا ہے اورکسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے ،ایسے وقت میں مسلمان معاشرہ انصار مدینہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس کے ساتھ مددوتعاون کرتا ہے مگر یہ بل انصار کی اس سنت پر پابندی لگاتا ہے ،مسلمان معاشرے میں موجود ایثاروہمدردی کے جذبے کو کچلتا ہے اورایسے اشخاص کو سہولت کارقراردے کر تعزیری جرم کا مرتکب قراردیتا ہے۔
ھ۔اسلام لانے کےبعد اگرنومسلم اپنے ہم عقیدہ اورہم مسلک شخص سے رشتہ ازدواج کرتا ہے تواس کا نکاح کرنا قابل تعزیر جرم اور نکاح خواں بھی اس جرم میں شریک متصورہوتا ہے۔
و۔بل میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ بالغ افراد کو سیف ہاؤس میں رکھ کر مذاہب کے متعلق لٹریچر دیاجائے گا۔ سیف ہاؤس میں رکھنا اسے زیرحراست رکھنا ہے ،کیا کوئی شخص جو زیر حراست ہو اوراس کے ہر طرف پہرہ ہو اور خاندان والے اس کی جان کے درپے ہو،کیا ایسا شخص اپنی آزاد مرضی سے کوئی فیصلہ کرسکتا ہے۔؟
۴۔قانون کی خوبی اس کا اعتدال اور معقولیت ہوتی ہے مگر یہ بل انتہائی غیر معتدل اور غیر معقول ہے۔اس کے ذریعے اقلیت کو اکثریت پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان دونوں کے درمیان جان بوجھ کر تصادم اور کشمکش کی فضا پیدا کی جارہی ہے۔اگر کوئی گھرانہ پوراکا پورااسلام قبول کرتا ہےاور ان کا کوئی اٹھارہ سال سے کم عمر کا بچہ یا بچی ہو تو والدین مسلمان اور ان کا بچہ بدستور غیر مسلم رہتا ہے۔
۵۔بل میں بلوغت اورعدم بلوغت کے لیے جو حد فاصل مقررکی گئی ہے وہ بھی درست نہیں ،شریعت کی رو سے نوسال کےبعد لڑکی اور بارہ سال کے بعد لڑکا بلوغت کو پہنچ سکتا ہے اور اگر اس مدت کے بعد اس میں بلوغ کی کوئی علامت نہ ہو تو پندرہ سال کے اختتام پر وہ لازما بالغ سمجھاجاتا ہے،اب اگر کوئی لڑکی نوسال کی عمر میں بالغ ہوجاتی ہے اور وہ اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کرنا چاہتی ہے تو اسے اسلام قبول کرنے کے لیے نوسال انتظار کرنا ہوگا۔
اختتامیہ
ان تمام وجوہ کی بناپر میری رائے یہ ہے کہ سندھ اسمبلی کے اراکین اس بل کو فوری طورپر واپس لیں اور اپنے اس عمل پر خداکے حضور توبہ واستغفارکریں اورآیندہ کےلیے اس قسم کی قانون سازی سے اجتناب کریں ،کیونکہ ان کا مینڈیٹ یہ ہےکہ وہ یہاں کی آبای کے مسلک اورعقیدے کے خلاف قانون سازی سے گریز کریں گے،ان کا حلف اس بات کاتقاضاکرتا ہے کہ وہ آئین کا احترام کریں گے اور ایسے کسی اقدام سے پرہیز کریں گے جو جویہاں کی فضا کو مکدر کرے اور معاشرے میں ہیجان اوراضطراب پیداکرے۔
گورنر نے چونکہ تاحال اس بل کی توثیق نہیں کی ہے ،اس لیے وہ خلاف شریعت اور خلاف آئین ہونے کی وجہ سے اس کی توثیق وتصدیق گریز کریں۔محترم گورنر چونکہ آئین اور قانون کے تقاضوں کو خوب سمجھتے ہیں ،اس لیے مجھے امید واثق ہے کہ اگر اسمبلی سے دانستہ یا غیر دانستہ چوک ہوئی ہے اور انہوں نے بل کے مضمرات اور نتائج پر غور نہیں کیا ہے تو ،جناب گورنر اس غلطی کو نہیں دہرائیں گے اور غلطی کی توثیق ، آئین شکنی اور خلاف شریعت قانون کے نفاذ سے گریزکریں گے۔
وفاقی شرعی عدالت کو چاہیے وہ ازخود اس قانون کا نوٹس لے کیونکہ اسے یہ اختیار حاصل ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل چونکہ ایک آئینی ادارہ ہے ،اس لیے اس بل کے مندرجات کا جائزہ لینے کے لیے اسے فوری طور پر کونسل بھیج دیا جائے تاکہ وہ قرآن وسنت کے روشنی میں اس کا جائزہ لے۔
عوام سے درخواست ہے کہ وہ اپنے ذرائع سے اس بل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اورمنتخب کردہ نمایندوں کو اس بل کی اصلاح پر مجبور کریں۔ والسلام
مولاناامداداللہ یوسف زئی
ممبر اسلامی نظریاتی کونسل