شرائع من قبلنااور ان كا حكم

شرائع من قبلنااور ان كا حكم
الحمدلله الذی نَزَّل الکتاب بالحق مصدقا لما بين يديه،وأنزل التوراة والإنجيل من قبل هديً للناس،وجعل القرآن الكريم مهيمنا عليهما،والصلٰوۃ والسلام علٰی من أرسله خاتما للنبوات والرسالات السابقة،وجعل شريعته ناسخة للشرائع السالفة،وعلٰی آله وأصحابه وعلٰی من تبعه بإحسان إلٰی يوم الدين،أمابعد:
تمہيد: تمہیدمیں تعارف کے طورپر شرائع من قبلنا کاایک عمومی مفہوم ذیل کےسطورمیں ملاحظہ ہو۔
تعارف:
شرائع من قبلنا کامعنٰی ہے،ہم(امت محمدیہ) سے پہلے کی شریعتیں،یعنی آخری نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ سےپہلے تشریف لانے والے انبیاءکرام علیہم السلام کی وه آسمانی شریعتیں،جو وه اپنی اپنی امتوں کے پاس لے کر آئے تھے،اورجن کاذکر ان کی کتابوں (توراۃ اورانجیل وغیرہ) میں موجود ہے ۔ان شریعتوں کے احکام بھی چونکہ اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل كردہ ہیں،جن پرایمان لانااوران کے مطابق عمل کرنا ان سابقہ انبیاء كے زمانہ نبوت میں ضروری تھا ،تاہم شریعت محمدیہ کے آنے کے بعد وہ تمام گذشتہ شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔
· توکیا وہ شریعتیں من کل الوجوہ منسوخ ہوگئیں؟یا فی الجملہ؟
· اگر فی الجملہ منسوخ ہیں، یعنی ان کے کچھ احکام اب بھی برقرار ہیں،توکس حیثیت سے ؟مثلا:شریعت موسوی کی حیثیت سے؟
یاپھرشریعت محمدیہ کی حیثیت سے؟
· نیزجوکل یا بعض احکام منسوخ ہیں،توان کے نسخ کاوقت کب سے شروع ہوا؟آپﷺکی بعثت سے پہلے؟یاآپ کی بعثت کے بعد؟
اس طرح کے تمام سؤالا ت کے جوابات پر مشتمل ایك تحقیقی جائزہ تفسیر،حدیث،فقہ،أصول فقہ اورکلام كی كتابوں سے یہاں نقل کیاگیاہے۔
مقدمۃ:
ان مباحث کو بیان کرنے سے قبل چند اصطلاحات کی وضاحت ضروری ہے ، جولفظ‘‘شریعت ’’کے ہم معنی یا قریب المعنی كے طور پراستعمال ہوتی رہتی ہیں۔مثلاً دین، ملت اور مذہب وغیرہ۔
دین ،ملۃ اورشریعت ۔معنٰی اورتعریف:
لغوی معانی:
لفظ "دین " کا لغوی معنی:
لفظ "دین " کا لغوی معنی طاعت اور انقیا د ہے،اور اس لفظ كے تمام مشتقات میں یہی معنی پایا جاتا ہے،ابن فارس لکھتے ہیں:
(دَيَنَ)... أَصْلٌ وَاحِدٌ إِلَيْهِ يَرْجِعُ فُرُوعُهُ كُلُّهَا. وَهُوَ جِنْسٌ مِنَ الِانْقِيَادِ، وَالذُّلِّ. فَالدِّينُ: الطَّاعَةُ، يُقَالُ دَانَ لَهُ يَدِينُ دِينًا، إِذَا أَصْحَبَ وَانْقَادَ وَطَاعَ. وَقَوْمٌ دِينٌ، أَيْ مُطِيعُونَ مُنْقَادُونَ...وَالْمَدِينَةُ كَأَنَّهَا مَفْعَلَةٌ، سُمِّيَتْ بِذَلِكَ لِأَنَّهَا تُقَامُ فِيهَا طَاعَةُ ذَوِي الْأَمْر.... وَمِنْهُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} [الفاتحة: 4]،أَيْ يَوْمِ الْحُكْمِ. وَقَال الَقَوْمُ: الْحِسَابُ وَالْجَزَاءُ. وَأَيُّ ذَلِكَ كَانَ فَهُوَ أَمْرٌ يُنْقَادُ لَهُ...وَمِنْ هَذَا الْبَابِ الدَّيْنُ. . . لِأَنَّ فِيهِ كُلَّ الذُّلِّ وَالذِّلِّ. وَلِذَلِكَ يَقُولُونَ " الدَّيْنُ ذُلٌّ بِالنَّهَارِ، وَغَمٌّ بِاللَّيْلِ ".[1]
("دَین"ایك ہی اصل ہے جس كی طرف اس طرح كے تمام فروع لوٹتے ہیں، فرمانبرداری اور كمزور ہونے كی ایك صورت ہے۔ پس دین كا معنی ہے: اطاعت گزاری۔ كہاجاتا ہے:"دَانَ لَهُ يَدِينُ دِينًا" تابعدار،فرمان برداراور اطاعت گزارہو گیا۔"قَوْمٌ دِينٌ "كا معنی ہے۔ فرمانبردار لوگ۔ "الْمَدِينَةُ" بروزن "مَفْعَلَةٌ" بمعنی شہر كو اس لیے مدینہ كہا جاتا ہے كہ وہاں حكمرانوں كی اطاعت ہوتی ہے۔ اس معنی كر"مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ "كہا گیا، یعنی فیصلے والا دن ۔بعض كے نزدیک حساب كتاب اور بدلے والادن۔ كوئی بھی معنی ہو، وہ دن ایساہوگا جس میں سرجھكانا ہوگا۔ اس قبیل سے "الدَّيْنُ "(قرضہ) ہے ،اس لیے کہ قرض میں مكمل رسوائی پستی اور تابعداری ہوتی ہے۔ عرب كہتےہیں:"الدَّيْنُ ذُلٌّ بِالنَّهَارِ،وَغَمٌّ بِاللَّيْلِ" [قرضہ دن كے وقت رسوائی كا باعث ہے اور رات كو پریشانی كا باعث ہے])
لفظ"ملّة" کا لغوی معنی:
لفظ ‘‘ملّةٌ ’’ کا لغوی معنی اكتا جانا، گرم ریت پرچلنا، كہنا، لكھوانا اور ملت اختیار كرنا ہے،علامۃ زمخشری لکھتے ہیں:
م ل ل:مللته ومللت منه، واستمللته واستمللت به: تبرّمت، وبي ملل وملال وملالة،...وأطعمه خبز ملّة وهي الرماد الحار.... وطريق مملّ: معمل سلكوه كثيراً وأطالوا الاختلاف عليه، ومنه: الملّة الطريقة المسلوكة، ومنها: ملّة إبراهيم خير الملل، وامتلّ فلان ملّة الإسلام.[2]
(م،ل،ل: اس مادے سے مشتق الفاظ كا معنی ہے اكتا جانا، كہاجاتا ہے:"أطعمه خبز ملّة "اس كو ملۃ(گرم ریت والی روٹی) كھلائی۔"طريق مملّ"وہ راستہ جس پرلوگوں كی بہت زیادہ چلن ہو۔ ملۃ:بمعنی چلنے كا راستہ، اس سے لیاگیا ہے ۔كہا جاتا ہے:" ملۃابراہیمی بہترین ملۃ ہے"۔"امتلَّ" كا معنی ہے: ملت اختیار كرنا)
ابن سیدہ لکھتے ہیں:
...طَرِيقٌ مَلِيْلٌ وَمُمِلٌّ قد سُلِكَ فيه حتَّى صَارَ مَعْلَمًا، وَأَمَلَّ الشَّيءَ قَالَهُ فَكُتِبَ عَنْهُ... والمِلًّةُ الشريعَةُ وتَمَلَّلَ وامْتَلَّ دَخَلَ في المِلَّةِ وَمَلَّ يَمُلَّ مَلاّ وامْتَلَّ وتَمَلَّلَ أَسْرَعَ.[3]
(طریق ملیل او رممل: وہ راستہ جس پر اس حد تك چلاؤ ہو كہ راستے كے نشان پڑ جائیں۔"أَمَلَّ الشَّئ" كا معنی ہے :كہہ دیا اور لكھوایا۔۔۔ ملت كا معنی ہے شریعت۔"تَمَلَّلَ وامْتَلَّ" كا معنی ہے، ملت میں داخل ہوا۔ جلدی كرنےكے معنی میں بھی آتا ہے)
لفظ" شریعۃ " کا لغوی معنی:
لفظ" شریعۃ " کا لغوی معنی پانی کی گھاٹ اور راستہ ہے، صاحب لسان العرب لکھتے ہیں:
شرع: شَرَعَ الوارِدُ يَشْرَعُ شَرْعاً وشُروعاً: تَنَاوَلَ الماءَ بفِيه. وشَرَعَتِ الدوابُّ فِي الْمَاءِ تَشْرَعُ شَرْعاً وشُرُوعاً أَي دخلت. ودوابُّ شُروعٌ وشُرَّعٌ: شَرَعَتْ نَحْوَ الْمَاءِ. والشَّريعةُ والشِّراعُ والمَشْرَعةُ: المواضعُ الَّتِي يُنْحَدر إِلى الْمَاءِ مِنْهَا، قَالَ اللَّيْثُ: وَبِهَا سُمِّيَ مَا شَرَعَ الله للعبادِ شَريعةً من الصَّوْمِ والصلاةِ وَالْحَجِّ وَالنِّكَاحِ وَغَيْرِهِ. والشِّرْعةُ والشَّريعةُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ: مَشْرَعةُ الْمَاءِ وَهِيَ مَوْرِدُ الشاربةِ الَّتِي يَشْرَعُها النَّاسُ فَيَشْرَبُونَ مِنْهَا ويَسْتَقُونَ، وَرُبَّمَا شَرَّعوها دوابَّهم حَتَّى تَشْرَعها وتشرَب مِنْهَا، وَالْعَرَبُ لَا تُسَمِّيهَا شَريعةً حَتَّى يَكُونَ الْمَاءُ عِدًّا لَا انْقِطَاعَ لَهُ، وَيَكُونُ ظَاهِرًا مَعِيناً لَا يُسْقى بالرِّشاءِ.[4]
("شَرَعَ الوارِدُ" کا معنی ہے: براہ راست منہ لگاکر پانی پی لیا، اور"وشَرَعَتِ الدوابُّ فِي الْمَاءِ " کا معنی ہے: چوپائے پانی میں داخل ہوگئے۔شریعت، شراع اور شرعۃ پانی کی اس گھاٹ اور راستہ کو کہا جاتا ہے، جہاں سے پانی پینے کے لئے اترا جاتا ہے، لیث کہتے ہیں: اسی معنی کی مناسبت سے ان احكام کا نام شریعت رکھا گیا ہے، جن كو اللہ نے روزہ، نماز، حج اور نکاح وغیرہ كی شكل میں اپنے بندوں کے لئے شریعت مقرر كردی ہے۔ کلام عرب میں "الشِّرْعةُ"اور"الشَّريعةُ" پانی کی گھاٹ کو کہا جاتا ہے، یعنی پانی پینے کی وہ جگہ اور راستہ جہاں سے لوگ پانی میں داخل ہوتے ہیں، اور پانی پیتے ہیں۔۔ ۔عرب اس گھاٹ کو اس وقت تک شریعت نہیں کہتے، جب تک وہ تیار اورغیر منقطع نہ ہو، نظر آنے والا اور جاری ہو، ڈول کے ذریعے اس سے پانی حاصل نہ کیا جاتا ہو)
اصطلاحی تعریفات:
لفظ "دين""ملۃ" اور"شريعت "كے چند اصطلاحی تعریفات ملاحظہ ہوں:
"الدين"كی اصطلاحی تعریف:
(الف)پہلی تعریف:
الدين:ما يذهب إليه الانسان ويعتقد أنه يقربه إلى الله وإن لم يكن فيه شرائع مثل دين أهل الشرك.[5]
(دین ان امور كا نام ہے جن كو انسان اختیار كرتا ہے، اور یہ عقیدہ ركھتا ہے كہ یہ امور مجھے قرب الٰہی نصیب كرادینگے، اگر چہ ان میں شریعتیں نہ ہوں، جیسےمشركین كا دین)
(ب)دوسری تعریف:
الدين:وضع إلهي يدعو أصحاب العقول إلى قبول ما هو عند الرسول،...
(اللہ تعالیٰ كے وضع كردہ وہ امور دین ہیں، جورسول پر اتاری گئیں تعلیمات كو قبول كرنے كی طرف عقل والوں كو دعوت دیتے ہوں)
(ج)تیسری تعریف:
... وضع إلهي سائق لذوي العقول باختيارهم المحمود إلى الخير بالذات.[6]
(۔۔۔ان خداوندی قوانین كا نام ہے جو عقل والوں كو ان كے اچھے اختیار كے ذریعے خیربالذات كی طرف لے جائیں)
"الشریعۃ" كی اصطلاحی تعریف:
(الف)پہلی تعریف:
اسْمُ الشَّرِيعَةِ وَالشَّرْعِ وَالشِّرْعَةِ فَإِنَّهُ يَنْتَظِمُ كُلَّ مَا شَرَعَهُ اللَّهُ مِنْ الْعَقَائِدِ وَالْأَعْمَالِ.[7]
("الشَّرِيعَةِ وَالشَّرْعِ وَالشِّرْعَةِ"كا لفظ تمام ان عقائد اور اعمال كو شامل ہے،جن كو اللہ تعالیٰ نے شرعی قانون كے طور پر مقرر كیا ہو)
(ب)دوسری تعریف:
ماشرع اللَّهُ لعباده مِن الأحکام التی جاء بها نبی من الأنبياء صلی الله عليهم وعلی نبيناوسلم-سواء
کانت متعلقة بکيفية عمل وتسمی فرعية وعملية۔۔۔أوبكيفية الاعتقاد،وتسمي أصلية.[8]
(بندوں کے لئے مقرر کردہ وہ احکام ، جن کو انبیاء کرام میں سے کوئی بھی نبی لائے ہوں، شریعت کہلاتی ہے، خواہ وہ احکام عمل سے متعلق ہوں، اور وہ احکام فرعیہ عملیہ کہلاتے ہیں۔۔۔ یا عقیده سے متعلق ہوں، اور وہ احکام اصلیہ کہلاتے ہیں)
یہ مطلق شریعت کی تعریف ہے چونکہ ہماری مراد شریعت محمدیہ ہے، اس لیے اس کی تعریف حسب ذيل ہوگی:-
"الشريعۃالمحمدیۃ" كی اصطلاحی تعريف:
هي ماسنَّه الله لعباده من الأحکام عن طريق نبينا محمد صلی الله عليه وسلم وجعله خاتمة لرسالاته.[9]
(شریعت محمدیہ سے مراد احكام كا وہ مجموعہ ہے، جن كو اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی حضرت محمدﷺ كی وساطت سے بندوں كے لیے مقرر كیا ہے اور اس كو تمام رسالتوں اورشریعتوں كے لیے خاتم قراردیا ہو)
"الملۃ"كی اصطلاحی تعریف:
الملة هي: الدين، غير أن الملة لا تستعمل إلا في جملة الشرائع دون آحادها.[10]
(ملۃ دین ہی ہے،تاہم ملۃ کا لفظ مجموعۃ شرائع میں استعمال ہوتا ہے، ایک ایک حکم میں نہیں)
تینوں كلمات كی اصطلاحی تعریفات سے معلوم ہوا، كہ ان كے مصداق میں جوھری وبنیادی فرق نہیں، بلكہ ان كے درمیان دوچیزیں قدرمشترك ہیں۔پہلی یہ کہ عقایدو اعمال كا وہ مجموعہ جوالہٰی تعلیمات پر مشتمل ہو،دوسری یہ کہ انبیاء كرام كے واسطے سے امت كو ملا ہو۔جیسا کہ تعریف میں صراحۃ بتایاگیا کہ ‘‘ملت’’ اور ‘‘دین’’ ہم معنی ہیں ،اس لئے ملۃ کی الگ تعریف نہیں کی گئی ہے،گویا ان كلمات كا مصداق ایك ہے تاہم اعتباری فرق كی وجہ سے الگ الگ نام تجویز كئے گئے ہیں وہ اعتباری فرق كیا ہے؟ اور ان كی مصداق میں باہم كیا نسبت ہے؟ ذیل کےسطور میں ملاحظہ ہو:
"دين"،"ملۃ"اور"شريعت" كے درميان نسبت اور فرق:
ابوالھلال العسكری كے نزدیك:
أبو الهلال العسكری كے نزدیك تینوں كا مصداق ایك ہے،فرق اعتباری ہے جس میں لغوی معنی مدنظر ركھا گیا ہے، لکهتے ہیں:
الدين: هو الطريقة المخصوصة الثابتة من النبي صلى الله عليه وآله وسلم، يسمى من حيث الانقياد له دينا، ومن حيث إنه يملي ويبين للناس ملة،ومن حيث إنه يردها الواردون المتعطشون إلى زلال نيل الكمال شرعا وشريعة.[11]
( دین حضورﷺ سے ثابت مخصوص طریقے كا نام ہے۔ اس كو اس اعتبار سے"دین"كہا جاتا ہے كہ دل وجان سے مان كر اس كا انقیاد(سرتسلیم خم) كیا جائے۔ اور اس حیثیت سے "ملت"كہلاتا ہے كہ اس كو بتایا جاتا ہے اور لوگوں كے سامنے بیان كیا جاتا ہے۔ اور اس حیثیت سے"شریعت" كہلاتاہے كہ مرتبہ كمال تك پہنچنے كے میٹھے خوشگوار پانی كے پیاسے اس گھاٹ پر آكر اپنی پیاس بجھاتے ہیں)
اس عبارت سے معلوم ہوا كہ تینوں مصطلحات كا مصداق ایك ہے،اور ان كے درمیان نسبت اتحاد ہے، فرق اگر ہے تو اعتباری ہے، یعنی انبیاء كرام علیھم السلام كے ذریعے امتوں كو ملنے والا عقاید واعمال پر مشتمل آسمانی والٰہی تعلیمات كا مجموعہ اس حیثیت سے "شریعت" كہلاتا ہے كہ ہدایت کے پیاسے لوگ پانی كے مشابہ وحی كی گھاٹ پر آتے ہیں،اور ہدایت حاصل کرکے پیاس بجھالیتے ہیں۔اوراس حیثیت سے" دین" كہلاتا ہے كہ لوگ اس مجموعہ عقائد واعمال كی اطاعت كرتے ہیں اور اس كے سامنے سرتسلیم خم كرتے ہیں۔ اور اس حیثیت سے"ملت"كہلاتا ہے كہ اس كو مربوط انداز میں جمع كركے لوگوں كے سامنے بیان كیا جاتا ہے اور اس حیثیت سے "مذہب "كہلاتا ہے كہ اس كی طرف لوگ رجوع كرتے ہیں، اور دینی ضرورت پورا كرنے كے لیے اس كی طرف ذھاب اختیار كرتے ہیں۔ گویا ہر اصطلاح میں معنی لغوی كا لحاظ ركھا گیا ہے۔
شریف جرجانی كا قول:
شریف جرجانی نے قدرے مختلف انداز اختیار كیا ہےان كے ہاں ‘‘مذہب’’ كی اصطلاح بھی ان تینوں مصطلحات كے مترادف ہے۔ اور چاروں متحدبالذات اور مختلف بالااعتبار ہیں، فرق اعتباری میں یا تو معنی لغوی ملحوظ ہے۔ جیسا كہ ابوالھلال العسكری كے ہاں ہیں۔ یا پھر نسبت كے اعتبار سے فرق ہے۔ فرماتے ہیں:
...الدِّين والملة: متحدان بالذات، ومختلفان بالاعتبار؛ فإن الشريعة من حيث إنها تطاع تسمى: دينًا، ومن حيث إنها تُجمع تسمى: ملة، ومن حيث إنها يُرجَع إليها تسمى: مذهبًا، وقيل: الفرق بين الدين، والملة، والمذهب: أن الدين منسوب إلى الله تعالى، والملة منسوبة إلى الرسول، والمذهب منسوب إلى المجتهد.[12]
("دین"اور"ملت" متحد بالذات اور مختلف بالاعتبار ہیں۔ چنانچہ"شریعت" اس حیثیت سے" دین" كہلاتی ہے كہ اس كی اطاعت اورپیروی كی جاتی ہے۔ اور اس حیثیت سے "ملت" كہلاتی ہے كہ اس كو جمع كیا جاتا ہے۔ اور اس حیثیت سے"مذہب"كہلاتی ہے كہ اس كی طرف رجوع كیا جاتاہے۔ایك اورقول کےمطابق تینوںمیں فرق یہ ہے كہ"دین "اللہ كی طرف ،"ملت" رسول اللہ كی طرف ،اور"مذہب"مجتہدكی طرف منسوب ہے)
اس توجیہ كا حاصل یہ ہے كہ وحی سے مأخوذ عقاید واعمال كا مجموعہ تو اصالۃً"شریعت"ہے، جو باعتبار اطاعت كے "دین"اور باعتبار جمع وبیان کے "ملت" اور باعتبار رجوع الیہ"مذہب" كہلاتا ہے۔ گویا" مذہب" كو بھی" شریعت"،"ملت" اور" دین" كے مترادف قراردیا گیاہے۔ نیز"شریعت"كی وجہ تسمیہ كو نظرانداز كیا گیاہے۔مزیدبرآں! ایك اور حوالے سے بھی فرق بیان كیاگیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ كی طرف نسبت كے اعتبار سے" دین"،رسول كی طرف نسبت كے اعتبار سے" ملت" اور مجتہد كی طرف نسبت كے اعتبار سے"مذہب"كہلاتا ہے۔
شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ كی توجیہ:
شیخ الھندرحمہ اللہ كے نزدیك یہ اصطلاحات ثلٰشہ من كل الوجوہ متحد بالذات نہیں،مصداق میں حقیقی فرق موجود ہے فرماتے ہیں: ہرشریعت میں تین باتیں ہوتی ہیں،اول عقائد (جیسے توحید ونبوت وغیرہ)سو اس میں توسب دین والے شریک اور موافق ہیں،اختلاف ممکن ہی نہیں۔دوسرے قواعد کلیہ شریعت ،کہ جن سے جزئیات وفروع مسائل حاصل ہوتے ہیں،اورتمام جزئیات میں وہ کلیات ملحوظ رہتے ہیں،ا ورملت فی الحقیقت انہی اصول اور کلیات کانام ہے،اور ملت محمدی اور ملت ابراہیمی کاتوافق واتحاد انہی کلیات میں ہے۔تیسرے مجموعہ کلیات وجزئیات وجمیع اصول وفروع،جس کو شریعت کہتے ہیں،جس کا خلاصہ یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت ایک ہے اورشریعت جداجدا۔[13]
شیخ الھند رحمہ اللہ كی توجیہ كی ترجیح:
شیخ الھند رحمہ اللہ كی بيان كرده توجیہ دوسری توجيہات كی بنسبت زیادہ دقت نظری پر مبنی ہے۔جس كے مطابق اگرچہ" دین" "ملت" اور" شریعت" كے مصداق میں بعض اجزاء میں اشتراك پایا جاتا ہے، تاہم باعتبار اطلاق ان كے درمیان حقیقی فرق موجود ہے۔ چنانچہ عقاید، جن میں تمام ادیان سماویہ مشترك ہیں، پر" دین" كا اطلاق ہوتا ہے۔ اصول وقواعد كلیہ، جو ابراہیمی ومحمدی ملت میں مشترك ہیں، پر "ملت" كا اطلاق ہوتا ہے،اور اصول وقواعد اور جزئيات وشرائع كے مجموعہ پر" شریعت" كا اطلاق ہوتا ہے، جو ہر رسول كو الگ الگ عطاء كی گئی ہے۔یہ توجیہ نصوص قرآنیہ كے بالكل موافق ہے،ملاحظہ ہوں:
سوره شوریٰ كی آیت كریمہ (شَرَعَ لَكمْ مِنَ الدَّين)(الشوري:13) میں تمام انبیاء كا دین ایك قراردیا گیا ہے،
متعدد آیات میں امت محمدیہ كو ملت ابراہیمی كی پیروی كا حكم دیا گیا ہے،جيسے:(فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا)(آل عمران:95)
سورہ مائدہ كی آیت (لِكُلٍ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا) (المآئدة:48) میں صراحۃانبیاء كی شریعتوں كو مختلف قراردیا گیا ہے۔
ان تمہیدی امور کی وضاحت کے بعد اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
تمام آسمانی شرائع كی حقانیت:
تمام آسمانی شرائع كی حقانیت، منزل من اللہ ہونا، اپنے اپنے زمانے میں قابل عمل اور واجب الاتباع ہونا مسلمات دینیہ اور حقائق شرعیہ میں سے ہے۔ ایك مسلمان كے لیے اس بات كا ماننا صرف ایك تاریخی اور علمی حقیقت كے اعتراف كے طور پر نہیں بلكہ اس كے ایمان كے معتبر ہونے كے لیے بنیادی شرط ہے۔ ایمانیات میں سے عقیدہ رسالت كے عموم میں یہ شامل ہے، كہ جس طرح ایك مومن كے ایمانی وجود كے لیے اپنے نبی كی نبوت ورسالت پر ایمان لانا ضروری ہے، اس طرح گذشتہ تمام انبیاء كی نبوت رسالت اور ان كی شریعتوں كی حقانیت كو تسلیم كرنا بھی ضروری ہے۔امام طحاوی رحمہ اللہ العقیدة الطحاویۃ میں لكھتے ہیں:
ونؤمن بالله والملائكة والنبيين والكتب المنزلة علی المرسلين ونشهد أنهم كا نوا علی الحق المبين[14].
(اور ہم فرشتوں، انبیاء كرام اور رسل عظام پر اتاری گئیں كتابوںپر ایمان لاتے ہیں، اور گواہی دیتے ہیں كہ سب واضح حق پر تھے)
اس مضمون پرمشتمل چندآیات کریمہ ملاحظہ ہوں:
پہلی آیت کریمہ:
وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ(البقرة:4)
(اور وہ لوگ جو ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں )
اس آیت كریمہ میں قرآن مجید ،جو خاتم الانبیاء پر نازل كیا گیا ہے، پر ایمان لانے كے ساتھ گذشتہ كتب سماویہ، جو سابقہ تمام انبیاء كرام پر اتاری گئیں ہیں، پر ایمان لانے كا حكم بصورت خبر ہے۔
دوسری آیت کریمہ:
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (البقرة:285)
(مان لیا رسول نے جو کچھ اترا اس پر اس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے بھی،سب نے مانا اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو کہتے ہیں کہ ہم جدا نہیں کرتے کسی کو اس کے پیغمبروں میں سے اور کہہ اٹھے کہ ہم نے سنا اور قبول کیا تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے)
تیسری آیت کریمہ:
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا(المائدة:48)
(ہر ایک کو تم میں سے دیا ہم نے ایک دستور اور راہ)
چوتھی آیت کریمہ:
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ (الشوریٰ:13)
(راہ ڈال دی تمہارے لیے دین میں وہی جس کا حکم کیا تھا نوح کو اور جس کا حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور جس کا حکم کیا ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو،یہ کہ قائم رکھو دین کو اور اختلاف نہ ڈالو اس میں، بھاری ہے شرک کرنے والوں کو وہ چیز جس کی طرف تو ان کو بلاتا ہے ،اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف سے جس کو چاہے اور راہ دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع لائے )
توراة وانجیل ، زبور كے بارے میں بطور خاص ارشادات ربانی ملاحظہ ہوں۔
پانچویں آیت کریمہ:
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى وَأَوْرَثْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ (المؤمن:53)
(اور ہم نے دی موسیٰ کو راہ کی سوجھ اور وارث کیا بنی اسرائیل کو کتاب کا)
چھٹی آیت کریمہ:
إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ(المائدۃ: 44)
(ہم نے نازل کی تورات کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے)
ساتویں آیت کریمہ:
وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا (النسآء: 163)
(اور ہم نے دی داؤد کو زبور)
حدیث نبوی ہے:
عَنْ أبِي هُريْرةرضي الله عنه قال:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ " قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الْأَنْبِيَاءُإِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، فَلَيْسَ بَيْنَنَا
نَبِيٌّ"[15]
(ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا وآخرت میں عیسی بن مریم كے سب زیادہ قریب میں ہوں۔ صحابہ نے دریافت فرمایا: کس طرح ؟یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا انبیاء باب شریك بھائیوں(جیسے) ہیں،ان كی مائیں مختلف ہیں اور دین ایك ہے ہمارے درمیان كوئی اور نبی نہیں)
محشی امام بغوی كے حوالے سے نقل كرتے ہیں :
وقال البغوي:... يريد أن أصل دين الأنبياء واحد، وإن كانت شرائعهم مختلفة كما أن أولاد العلات أبوهم واحد، وإن كانت أمهاتهم شتى[16].
حدیث شریف كا معنی یہ ہے كہ انبیاء كرام كے دین كا اصل یہ ہے اگرچہ ان كی شریعتیں مختلف ہیں جیسے علاتی بھائیوں كے والد ایك ہوتے ہیں اگرچہ مائیں مختلف ہوتی ہیں)
ان تمام نصوص کا حاصل یہ ہے کہ تمام انبیآء کرام برحق تھے ،ان پرنازل ہونے والی آسمانی کتابی اللہ کی کتابیں تھیں اوربرحق تھیں،تمام انبیآء کرام علیہم السلام کادین (عقائد)ایک تھے،تاہم شریعتیں مختلف تھیں ۔ہرایک نبی کوایک شریعت ملی ہوئی تھی ،جس پرعمل کرنااس نبی کی امت کے لئے ضروری تھا،اوریہ کہ ان تمام باتوں پرایمان لانا ایمان کے معتبرہونے کے لیے بنیادی شرط ہے،جب تک ایک مسلمان ان باتوں کونہ مانے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔
آسمانی شریعتوں میں اختلاف واتفاق كا امكان:
آسمانی شریعتیں باہم متفق بھی ہوسكتی ہیں اور مختلف بھی، اس لیے كہ شریعتوں میں بندوں كے مصالح كو مدنظر ركھا جاتا ہے اور بندوں كے مصلحتوں میں اختلاف اور تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں، ایك كام ایك زمانے میں مصلحت سمجھا جاتا ہے اور دوسرے زمانے میں مصلحت نہیں رہتا، یا ایك زمانے میں مصلحت نہیں ہوتا اور اگلے زمانے میں وہ مصلحت بن جاتا ہے، اسی لیے شریعتوں كے درمیان اختلاف کےامکان سے انكار كی كوئی وجہ نہیں ۔ اور جب شرائع مختلف ہوسكتی ہیں،تو یہ بات بھی ممكن ہے كہ اللہ تعالیٰ كسی نبی اور پیغمبر كو پچھلی شریعت كی پیروی كا حكم دے یا پھر كسی نبی كو پچھلےنبی كی شریعت كی پیروی سے منع كردیں۔صاحب كشف الاسرار رقمطراز ہیں:
وَاعْلَمْ أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَتَعَبَّدَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِشَرِيعَةِ مَنْ قَبْلَهُ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ وَيَأْمُرَهُ بِاتِّبَاعِهَا وَيَجُوزُ أَنْ يَتَعَبَّدَهُ بِالنَّهْيِ عَنْ اتِّبَاعِهَا، وَلَيْسَ فِي دِينٍ اسْتِبْعَادٌ وَلَا اسْتِنْكَارٌ، وَإِنَّ مَصَالِحَ الْعِبَادِ قَدْ تَتَّفِقُ وَقَدْ تَخْتَلِفُ فَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الشَّيْءُ مَصْلَحَةً فِي زَمَانِ النَّبِيِّ الْأَوَّلِ دُونَ الثَّانِي وَيَجُوزُ عَكْسُهُ وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مَصْلَحَةً فِي زَمَانِ النَّبِيِّ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي فَيَجُوزُ أَنْ تَخْتَلِفَ الشَّرَائِعُ وَتَتَّفِقُ.[17]
(جان لو كہ یہ بات جائز ہے كہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی كو پچھلے انبیآء كی شریعت پر عمل كرنے كا پابندبنائے، اور اس كی پیروی كا حكم دے۔ اور یہ بھی ممكن ہے كہ پچھلی شريعت كی پیروی سے منع فرمادے۔ دین میں اس حوالے سے كوئی صورت محال اور ناقابل فہم نہیں۔ بندوں كے مصالح كبھی یكساں ہوتے ہیں،اور كبھی مختلف۔ پس ممكن ہے كہ كوئی چیز پہلے نبی كے زمانہ (نبوت) میں مصلحت ہو، دوسرے نبی كے زمانہ(نبوت) میں نہ ہو، اور اس كے برعكس صورت بھی ممكن ہے۔ اور یہ بھی ممكن ہے كہ دونوں نبیوں كے زمانہ(نبوت) میں مصلحت ہو۔ پس شرائع كا یكساں ہونا اور مختلف ہونا دونوں صورتیں ممكن ہیں)
اشكال: توافق كی صورت میں نئے نبی كی ضرورت ؟
اس مقدمے پر یہ اعتراض ہوسكتا ہے كہ اگر نئے مبعوث ہونے والے نبی اور رسول كی شریعت گذشتہ نبی اور رسول كی شریعت كے بالكل موافق ہو، تو نئے نبی بھیجنے، ان كے ہاتھ پر معجزات ظاہركرنے اور نئی شریعت نازل كرنے میں كیا فائدہ ہے؟
جواب: نئے نبی كی ضرورت ،متعدد وجوہات سے:
پہلی وجہ: ضروری نہیں كہ نئی شریعت من كل الوجوه پچھلی شریعت كے موافق ہو، بلكہ ممكن ہےكہ اتفاق كے باوجود چند احكام میں اختلاف ہو، اگرچہ اختلافی احكام اتفاقی احكام كے مقابلے میں كم ہوں۔
دوسری وجہ: یہ بھی ممكن ہے كہ ایك نبی كی شریعت ایك قوم كے لیے ہو، اور دوسرے نبی كی شریعت دوسری قوم كے لیے ہو۔
تیسری وجہ: یہ بھی ہوسكتا ہے كہ پچھلے نبی كی شریعت كے احكام مٹ چكے ہوں اور لوگوں كی نظروں سے اوجھل ہوچكے ہوں اور نئے آنے والے نبی ہی كے ذریعے سے ان تك رسائی ممكن ہو۔
چوتھی وجہ: سابقہ شریعت كی تعليمات میں بدعتیں درآئی ہوں جس كی وجہ سے اس شریعت كی تعلیمات تك بطریقہ اكمل رسائی ممكن نہ ہو، ان بدعتوں كو مٹانے اور شریعت كے احكام كو اپنی درست شكل میں زندہ كرنے كے لیے نبی كی ضرورت ہو۔
ان وجوہات كے بنا پر ماننا پڑتا ہے كہ شرائع كے باہمی اتفاق كے باوجود نئے نبی كے آنے كی ضرورت برقرار رہتی ہے اور ان كی بعثت بامقصد وبامعنی رہتی ہے۔[18]ـ
كیا دوآسمانی شریعتوں كا باہمی اتفاق واقع بھی ہوا ہے؟
آسمانی شرائع كے باہمی اتفاق واختلاف كے ممكن وجائز ہونے كے بعد دیكھنا یہ ہے كہ آیا ایسا واقع بھی ہوا ہے ،كہ دوشریعتیں آپس میں بالكل متفق ہوں اور آنے والے نبی كو پہلے نبی كی شریعت كی مكمل پابندی كا حكم دیاگیا ہو؟اس كا جواب یہ ہے كہ انبياء بنی اسرائیل میں توایسا واقع ہواہے،چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأن أنبياء بني إسرائيل كلهم داخلون تحت شريعته ومخاطبون بحكم نبوته حتى عيسى،وأدلة ذلك في القرآن كثيرة.[19]
(بنی اسرائیل كے تمام انبیاء كرام موسیٰ علیہ السلام كی شریعت كے تحت داخل ہیں، اور موسیٰ كی نبوت كے احكام كے مخاطب ہیں، یہاں تك كہ عیسیٰ علیہ السلام بھی۔ قرآن مجید میں اس كے دلائل كثرت سے موجود ہیں)
عبد المحسن بن حمد رقمطراز ہیں:
وقال:{إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدىً وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ} الآية،{المآئدة:44}فهذه الآيةُ تدلُّ على أنَّ أنبياءَ بنِي إسرائيل من بعد موسى يَحكمون بالتوراة ويدعون إليها[20]،
(فرمایا: إِنَّا أَنْزَلْنَا [ہم نے نازل کی تورات کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے، اس پر حکم کرتے تھے پیغمبر جو کہ حکم بردار تھے اللہ کے یہود کو اور حکم کرتے تھے درویش اور عالم، اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور اس کی خبر گیری پر مقرر تھے]یہ آیت كریمہ اس بات پر دلالت كررہی ہے كہ موسیٰ علیہ السلام كے بعد بنی اسرائیل كے تمام انبیاء تورات كے احكام پر عامل تھے اورتورات ہی كی طرف دعوت دیا كرتے تھے)
حاصل بحث یہ ہوا، كہ آسمانی شرائع میں باہم اختلاف بھی ممكن ہے اور اتفاق بھی، اتفاق كی صورت میں نئے نبی كی بعثت كے جواز كی كئی وجوہات ہوسكتی ہیں۔ نیزگذشتہ شرائع میں ایسا ہوا ہے، كہ ایك نبی كو پچھلے نبی كی شریعت كی پیروی كا حكم دیاگیا ہو، جیسا كہ انبیاء بنی اسرائیل كو تورات كے احكام پر عمل كرنا كا حكم تھا۔ تاہم یہ ساری تفصیل شریعت محمدیہ سے قبل كی شرائع میں ہے، آخری پیغبر كی شریعت كا سابقہ شرائع كے ساتھ كس طرح كا تعلق تھا۔ توافق كا؟ یا اختلاف كا؟ آئندہ سطور میں اس كی تفصیل ملاحظہ ہو۔
آخری نبی کی انبیاء سابقین کی پیروی:
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیاآخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بھی گذشتہ انبیاء کی شریعتوں کی پیروی کے پابندتھے ؟ توسمجھ لینا
چاہیےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی زندگی كے دومرحلے تھے: پہلا مرحلہ قبل از نبوت، دوسرا مرحلہ بعد از نبوت۔دونوں مرحلوں كے حكم میں حسب ذيل تفصیل ہے۔
پہلامرحلہ:قبل از بعثت شرائع من قبلنا كی پیروی:
اقوال ثلثہ:
اس میں حسب ذیل تین اقوال ہیں۔
پہلاقول: بعض متكلمین كے نزدیك قبل از بعثت آپﷺ كو شرائع من قبلناكی پیروی كا حكم نہیں دیا گیا۔
دوسرا قول: دیگر بعض علماء كرام كے نزدیك آپ زندگی كے اس مرحلے میں گذشتہ شرائع كی پیروی كے پابند تھے، تاہم اس میں اختلاف ہے کہ كونسی شریعت كے پابند تھے؟ نوح علیہ السلام كی شریعت كے؟ابراہیم علیہ السلام كی شریعت كے؟موسیٰ علیہ السلام كی شریعت كے؟ عیسیٰ علیہ السلام كی شریعت كے؟ یا پھر ہر اس حكم كےجس كا شرعی حكم ہونا ثابت ہو؟
تیسرا قول: تیسرا قول توقف كا ،جو امام غزالی اور قاضی عبدالجبار كی طرف منسوب ہے۔امام سرخسی لکھتے ہیں:
وَبَين الْمُتَكَلِّمين اخْتِلَاف فِي أَن النَّبِي عَلَيْهِ السَّلَام قبل نزُول الْوَحْي (عَلَيْهِ) هَل كَانَ متعبدا بشريعة من قبله،فَمنهمْ من أَبى ذَلِك وَمِنْهُم من توقف فِيهِ وَمِنْهُم من قَالَ كَانَ متعبدا بذلك وَلَكِن مَوضِع بَيَان هَذَا الْفَصْل أصُول التَّوْحِيد.[21]
(متكلمین كے آپس اس بارے میں اختلاف ہے، كہ وحی كے نزول سے پہلے كيانبی كریمﷺپچھلی شریعت پر عمل كرنے كے پابند تھے؟بعض علماء نے اس سے انكار كیا ہے۔ بعض نے توقف اختیار كیا ہے جبكہ بعض حضرات نے كہا ہے كہ آپ پچھلی شریعت پر عمل كرنے كے پابند تھے۔(اس كی تفصیل علم كلام میں ہے)
صاحب كشف الاسراررقم طراز ہیں:
إلَّا أَنَّ الْعُلَمَاءَ اخْتَلَفُوا فِي وُقُوعِ التَّعَبُّدِ بِهَا فِي مَوْضِعَيْنِ: أَحَدُهُمَا أَنَّهُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - هَلْ كَانَ مُتَعَبَّدًا بِشَرْعِ أَحَدٍ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَ الْبَعْثِ؟ فَأَبَى بَعْضُهُمْ ذَلِكَ كَأَبِي الْحُسَيْنِ الْبَصْرِيِّ وَجَمَاعَةٌ مِنْ الْمُتَكَلِّمِينَ،وَأَثْبَتَهُ بَعْضُهُمْ مُخْتَلِفِينَ فِيهِ أَيْضًا، فَقِيلَ كَانَ مُتَعَبَّدًا بِشَرْعِ نُوحٍ، وَقِيلَ بِشَرْعِ إبْرَاهِيمَ ،وَقِيلَ بِشَرْعِ مُوسَى،وَقِيلَ بِشَرْعِ عِيسَى، وَقِيلَ بِمَا ثَبَتَ أَنَّهُ شَرْعٌ ،وَتَوَقَّفَ فِيهِ بَعْضُهُمْ كَالْغَزَالِيِّ وَعَبْدِ الْجَبَّارِ وَغَيْرِهِمَا وَمَحَلُّ بَيَانِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ مِنْ أُصُولِ التَّوْحِيدِ.[22]
(پچھلی شریعتوں كی پیروں كرنے كے حوالے سے علماء كادوجگہوں میں اختلاف ہے ۔ پہلی یہ كہ كیا آپﷺ بعثت سے پہلے انبیآء میں سے كسی نبی كی شریعت كی پیروی كے پابند تھے؟بعض علماء ،جیسے: ابوالحسین البصری اور متكلمین كی ایك جماعت نے اس كا انكار كیا ہے۔،اور بعض نے اس كو ثابت كیا ہے۔ تاہم مثبتين كاپھر اس ميں بهی اختلاف ہوا، ایك قول یہ ہے كہ آپ حضرت نوح علیہ السلام كی شریعت كے پابند تھے، دوسرا قول یہ ہیكہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام كی شریعت كے پابند تهے ،تیسراقول یہ ہیكہ حضرت موسیٰ علیہ السلام كی شریعت كے پابند تهے ،چوتھا قول یہ ہیكہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام كی شریعت كے پابند تهے ،پانچواں قول یہ ہےكہ ہراس حكم كی پیروی کے پابندتھےجس کاآسمانی شریعت میں سے ہونا ثابت ہو جاتا۔ بعض علماء نے اس مسئلے میں توقف اختیار كیا ہے، جیسے امام غزالی اور عبدالجبار وغیرہ۔ اس مسئلے كی مزیدتفصیل علم كلا م كی كتب میں ہے)
امام غزالی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
وَنُقَدِّمُ عَلَى هَذَا الْأَصْلِ مَسْأَلَةً، وَهِيَ أَنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ مَبْعَثِهِ هَلْ كَانَ مُتَعَبَّدًا بِشَرْعِ أَحَدٍ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ؟ مِنْهُمْ مَنْ قَالَ لَمْ يَكُنْ مُتَعَبَّدًا،وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ:كَانَ مُتَعَبَّدًا.ثُمَّ مِنْهُمْ مَنْ نَسَبَهُ إلَى نُوحٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَقَوْمٌ نَسَبُوهُ إلَى إبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَقَوْمٌ نَسَبُوهُ إلَى مُوسَى، وَقَوْمٌ إلَى عِيسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - وَالْمُخْتَارُ أَنَّ جَمِيعَ هَذِهِ الْأَقْسَامِ جَائِزٌ عَقْلًا، لَكِنَّ الْوَاقِعَ مِنْهُ غَيْرُ مَعْلُومٍ بِطَرِيقٍ قَاطِعٍ.[23]
(اس اصول كے مطابق ہم ایك مسئلہ پیش كرتے ہیں۔ وہ یہ كہ كیا آپﷺ مبعوث ہونے سے پہلے انبیاءمیں سے كسی نبی كی شریعت پر عمل كرنے كے مكلف(پابند) تھے؟بعض علماء نے انكار كیا ہے، اور بعض نےثابت كیا ہے۔ پھر بعض علماء نے حضرت نوح علیہ السلام كی شریعت، بعض نے ابراہیم علیہ السلام كی شریعت، بعض نے حضرت موسیٰ علیہ السلام كی شریعت اور ایك جماعت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام كی شریعت كی طرف نسبت كی ہے۔ راجح قول یہ ہےكہ تمام صورتیں از روئے عقل ممكن ہیں،تاہم قطعی طور پر معلوم نہیں كہ واقع میں كیا صورت تھی)
يعنی تمام صورتیں اگر چہ عقلا جائز ہیں ،تاہم کسی دلیل قطعی سے کسی ایک صورت کاواقع ہونا معلوم نہیں،اس لئے ایسے امورمیں اٹکل سے باتیں کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ،جن سے کوئی عملی عبادت متعلق نہ ہو۔
پہلے قول كی ترجیح:
بہر حال ! كتب عقائد میں اس قول کو ترجیح دی گئی ہے،کہ قبل از بعثت آپﷺ كو شرائع من قبلنا كی پیروی كا حكم نہیں دیا گیا۔ اس لیے کہ شریعت عیسوی سے پہلےکی شریعتیں توشریعت عیسوی سے منسوخ ہوگئیں،جبکہ شریعت عیسوی ہمارےلئے اس بنا پرحجت نہیں کہ اس كے ناقلین نصاریٰ ہیں ،جو عقیدہ تثلیث اختیار كرنے كی وجہ سے كفر كے مرتكب ہوئے، اور كافروں كا قول معتبر نہیں۔ اور جو نصاریٰ تثلیث كے قائل نہیں، اور مكمل طور پر شریعت عیسوی كے پیروكار ہیں، وہ اتنی كم تعداد میں ہیں كہ ان كا قول حجت نہیں۔امام رازی رقم طراز ہیں:
المسْأَلَة السَّابِعَة:الْحق أَن مُحَمَّدًا صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قبل نزُول الْوَحْي مَا كَانَ على شرع أحد من الْأَنْبِيَاء عَلَيْهِم السَّلَام،وَذَلِكَ لِأَن الشَّرَائِع السَّابِقَة على شرع عِيسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةوَالسَّلَام صَارَت مَنْسُوخَة بشرع عِيسَى عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام،وَأما شَرِيعَة عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فقد صَارَت مُنْقَطِعَة بِسَبَب أَن الناقلين عِنْدهم النَّصَارَى،وهم كفار بِسَبَب القَوْل بالتثليث،فَلَا يكون نقلهم حجَّة۔وَأما الَّذين بقوا على شَرِيعَة عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام مَعَ الْبَرَاءَة من التَّثْلِيث فهم قَلِيلُونَ فَلَا يكون نقلهم حجَّة۔ وَإِذا كَانَ كَذَلِك ثَبت أَن مُحَمَّدًا صلى الله عَلَيْهِ وَسلم مَا كَانَ قبل النُّبُوَّة على شَرِيعَة أحد.[24]
(ساتوں مسئلہ: حق بات یہ ہےكہ نزول وحی سے پہلے محمدﷺ انبیآء(سابقین) میں سے كسی كی بھی شریعت پر نہیں تھے۔ اس لیے كہ عیسیٰ علیہ السلام كی شریعت سے پہلی كی شریعتیں عیسیٰ علیہ السلام كی شریعت كے ساتھ منسوخ ہوگئیں،جبكہ خودشریعت عیسوی كا(تسلسل)بھی منقطع ہوگیا، اس لیے كہ اس كے ناقلین نصاریٰ تھے۔ اور عقیدہ تثلیث كی وجہ سے وہ كافر ہیں، پس ان كی روایت حجت نہیں اورشریعت عیسویہ پر قائم عقیدہ تثلیث كے منکر عیسائیوں كی تعداد انتہائی قلیل ہے، ان كی روایت اس لیےحجت نہیں۔ اور جب صورت حال یہ ہے،تو ثابت ہوا كہ محمدﷺ نبوت سے پہلے كسی بھی نبی كی شریعت پر نہیں تھے)
اس كا حاصل یہ ہوا كہ اگرچہ اس مسئلہ میں تین اقوال ہیں،تاہم راجح قول یہ ہے ،کہ قبل از نزول وحی آپ کسی سابقہ شریعت پرعمل کرنے کے پابند نہیں تهے ۔
راجح قول پر اشكال:
لیکن اس پر من جملہ دیگر شبہات کےایک شبہ یہ واردہوتا ہے،کہ قبل ازبعثت آپ ﷺ نماز،حج ،عمرہ اور صدقہ خیرات کی ادائیگی کااہتمام فرماتے تھے ،حیوان کوذبح کرکے کھاتے تھے،مردارکے کھانے سے اجتناب فرماتےتھے ۔اور یہ امور شریعت ہی سے معلوم ہوسکتی ہیں ،عقل سے نہیں۔پس معلوم ہوا کہ آپ ان امور کی ادائیگی کسی سابقہ شریعت ہی کی پیروی میں فرماتے ہونگے۔
اشكال كا جواب:
امام غزالی رحمہ اللہ اس شبہ کونقل فرما کر جواب میں لکھتے ہیں:
هَذَا فَاسِدٌ مِنْ وَجْهَيْنِ:أَحَدُهُمَا: أَنَّ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ لَمْ يَتَوَاتَرْ بِنَقْلٍ مَقْطُوعٍ بِهِ وَلَا سَبِيلَ إلَى إثْبَاتِهِ بِالظَّنِّ.الثَّانِي: أَنَّهُ رُبَّمَا ذَبَحَ الْحَيَوَانَ بِنَاءً عَلَى أَنَّهُ لَا تَحْرِيمَ إلَّا بِالسَّمْعِ وَلَا حُكْمَ قَبْلَ وُرُودِ الشَّرْعِ، وَتَرَكَ الْمَيْتَةَ عِيَافَةً بِالطَّبْعِ كَمَا تَرَكَ أَكْلَ الضَّبِّ عِيَافَةً، وَالْحَجُّ وَالصَّلَاةُ إنْ صَحَّ فَلَعَلَّهُ تَبَرُّكًا بِمَا نُقِلَ جُمْلَتُهُ مِنْ أَنْبِيَاءِ السَّلَفِ، وَإِنْ انْدَرَسَ تَفْصِيلُهُ.[25]
(یہ شبہ دووجہ سے غلط ہے،ایک تواس لئے کہ یہ امور کسی دلیل قطعی متواتر کے ساتھ منقول نہیں،اورظنی دلائل سےثبوت کافی نہیں۔ دوسرا اس لیے كہ شایدآپ نے حیوان اس وجہ سے ذبح كیا، كہ كسی چیز كی حرمت دلیل نقلی ہی سے ثابت ہو سكتی ہے، اور نزول شریعت سے پہلے كوئی حكم موجود نہیں تھا،اور مردار کھانے کوطبعی ناپسندیدگی کی وجہ سے ترک کیا ہو،جیسےگوہ کھانے کوآپ نے اسی طرح ترک فرمایا تھا۔اور حج ونماز کی ادائیگی اگر صحیح روایت سے ثابت ہے ،توشاید آپ تبرکا اداکرتے ہوں ،اس لئے کہ اجمالی طور پر یہ امور انبیاء سابقین سے ثابت ہیں،اگر چہ ان کی تفصیلات مٹ چکی ہیں)
دوسرامرحلہ:بعدازبعثت شرائع من قبلنا كی پیروی:
اس مسئلے میں دوحیثیتوں سےبحث کرنی ہے(1) جوازعقلی (2)وقوع سمعی۔
(۱)جوازعقلی:
جمہور کے نزدیک عقلا اس میں کوئی مانع نہیں کہ آپ ﷺ کوکسی سابق پیغمبرکی شریعت کی پیروی کا حکم دیا جائے،تاہم قدریہ کااس میں اختلاف ہے،امام غزالی لکھتے ہیں:
أَمَّا الْجَوَازُ الْعَقْلِيُّ فَهُوَ حَاصِلٌ إذْ لِلَّهِ تَعَالَى أَنْ يَتَعَبَّدَ عِبَادَهُ بِمَا شَاءَ مِنْ شَرِيعَةٍ سَابِقَةٍ أَوْ مُسْتَأْنَفَةٍ أَوْ بَعْضُهَا سَابِقَةٌ وَبَعْضُهَا مُسْتَأْنَفَةٌ، وَلَا يَسْتَحِيلُ مِنْهُ شَيْءٌ لِذَاتِهِ وَلَا لِمَفْسَدَةٍ فِيهِ.وَزَعَمَ بَعْضُ الْقَدَرِيَّةِ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ بَعْثَةُ نَبِيٍّ إلَّا بِشَرْعٍ مُسْتَأْنَفٍ، فَإِنَّهُ إنْ لَمْ يُجَدِّدْ أَمْرًا فَلَا فَائِدَةَ فِي بَعْثَتِهِ، وَلَا يُرْسِلُ اللَّهُ تَعَالَى رَسُولًا بِغَيْرِ فَائِدَةٍ.[26]
(یعنی ازروئے عقل اس میں كوئی ممانعت نہیں، كہ كسی نبی كو گذشتہ شریعت كی پیروی كا پابند بنایا جائے، جس طرح اس كو نئی شریعت بھی دی جاسكتی ہے، تاہم قدریہ كا خیال ہے كہ اگر پرانی ہی شریعت پر عمل كرانا مقصود ہے تو نئے پیغمبر كو مبعوث كرنے میں كوئی فائدہ نہیں،اوراللہ تعالی کسی رسول کوفائدے کے بغیرمبعوث نہیں فرماتے)
لیکن قدریہ کے اس موقف اور استدلال دونوں کو نقلی اور عقلی دلائل سے رد کیا گیا ہے،امام غزالی رقم طراز ہیں:
يَدُلُّ عَلَى جَوَازِهِ مَا يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ نَصْبِ دَلِيلَيْنِ وَبَعْثَةِ رَسُولَيْنِ مَعًا كَمَا قَالَ تَعَالَى:{إذْ أَرْسَلْنَا إلَيْهِمْ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ}{يس:14} وَكَمَا أَرْسَلَ مُوسَى وَهَارُونَ وَدَاوُد وَسُلَيْمَانَ، بَلْ كَخَلْقِ الْعَيْنَيْنِ مَعَ الِاكْتِفَاءِ فِي الْإِبْصَارِ بِإِحْدَاهُمَا.ثُمَّ كَلَامُهُمْ بِنَاءً عَلَى طَلَبِ الْفَائِدَةِ فِي أَفْعَالِ اللَّهِ تَعَالَى، وَهُوَ تَحَكُّمٌ.[27]
(اس كے جواز پر وہی دلیل دلالت كرتی ہے، جوایك دعویٰ پر دو دلیلیں قائم كرنے كے جواز اور دورسولوں كو ایك ساتھ مبعوث كرنے كے جواز پر دلالت كرتی ہے۔ جیسے ارشاد فرمايا:{إذْ أَرْسَلْنَا إلَيْهِمْ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ}{يس:14}(جب بھیجے ہم نے ان کی طرف دو تو ان کو جھٹلایا پھر ہم نے قوت دی تیسرے سے) اور جیسے موسی وہارون، داؤد وسلیمان علیہم السلام كومبعوث فرمایا، بلكہ جيسے دوآنكھیں بنائیں، باوجود یہ کہ دیكھنے كے لیے ایك آنكھ كافی ہے۔ پھر مخالف كے دعویٰ كی بنیاد افعال خداوندی میں فائدہ كو طلب كرنے پر ہے،اور یہ طرز بلادلیل ہے)
(۲)وقوع سمعی:
وقوع سمعی سے مرادیہ ہے ،کہ کیا قرآن وسنت میں ایسی کوئی نقلی دلیل موجود ہے،جس کے رو سے آپ ﷺ گذشتہ شریعت کی پیروی کرنے کے پابند ہوں؟یاگذشتہ شریعت کے احکام کوبرقرار رکھا گیا ہو؟یاپھر آپ کی شریعت کا ہر ہر حکم نیاہو؟اس حوالے سے بحث کرتے ہوئے امام غزالی فرماتےہیں:
أَمَّا الْوُقُوعُ السَّمْعِيُّ فَلَا خِلَافَ فِي أَنَّ شَرْعَنَا لَيْسَ بِنَاسِخٍ جَمِيعَ الشَّرَائِعِ بِالْكُلِّيَّةِ إذْ لَمْ يَنْسَخْ وُجُوبَ الْإِيمَانِ وَتَحْرِيمَ الزِّنَا وَالسَّرِقَةِ وَالْقَتْلِ وَالْكُفْرِ، وَلَكِنْ حَرَّمَ عَلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْمَحْظُورَاتِ بِخِطَابٍ مُسْتَأْنَفٍ أَوْ بِالْخِطَابِ الَّذِي نَزَلَ إلَى غَيْرِهِ وَتَعَبَّدَ بِاسْتِدَامَتِهِ وَلَمْ يَنْزِلْ عَلَيْهِ الْخِطَابُ إلَّا بِمَا خَالَفَ شَرْعَهُمْ، فَإِذَا نَزَلَتْ وَاقِعَةٌ لَزِمَهُ اتِّبَاعُ دِينِهِمْ إلَّا إذَا نَزَلَ عَلَيْهِ وَحْيٌ مُخَالِفٌ لِمَا سَبَقَ فَإِلَى هَذَا يَرْجِعُ الْخِلَافُ.[28]
(جہاں تک وقوع سمعی کا تعلق ہے ،تو اس میں کوئی اختلاف نہیں ، کہ ہماری شریعت تمام سابقہ شرائع کے لئے بالکلیہ ناسخ نہیں، اس لئے کہ (شرائع سابقہ کے احکام مثلاً) وجوب ایمان، زنا ،چوری ،قتل اور کفر كی حرمت شریعت محمدیۃ نےمنسوخ نہیں کی ہے۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان ممنوعات کو مستأنف (ازسر نو) خطاب(حکم ) کے ساتھ حرام کیا،یا پھر ایسے خطاب(حکم ) کےساتھ حرام کیا،جو کسی اور پیغمبر کی طرف نازل ہوا،اور آپ کو اس کےدائم وبرقرار رکھنے کا حکم دیا گیا۔جب کہ آپ پر صرف وہ احکام نازل ہوئے،جو گذشتہ شریعتوں کے مخالف تھے۔پس جب کوئی مسئلہ پیش آتا ،تو آپ پر گذشتہ انبیاء کےدین کی پیروی لازم ہوتی،مگر یہ کہ آپ پر ایسی وحی نازل ہوجوگذشتہ حکم کے خلاف ہو۔اسی میں اختلاف ہے)
حاصل یہ ہواکہ بعدازبعثت نبوی شرائع من قبلناکی پیروی ازروئے عقل جائزہے اورازروئے نقل ثابت ہے،اس بات پراگرچہ کوئی متعین نقلی دلیل موجود نہیں تاہم کتب سماویہ میں موجود مشترک احکام ثبوت سمعی کو مستلزم ہے،چنانچہ یہ بات بالکل واضح ہے ،اورشرائع سماویہ کامطالعہ کرنے والوں پرتوبالکل مخفی نہیں،کہ شرائع میں کئی ایک احکام مشترک ہیں،سابقہ شرائع میں بھی موجودتھے اورشریعت محمدیہ میں بھی مشروع ہیں،جیسے قصاص کے احکام وغیرہ۔اب یہ بات بیان محتاج ہے،کہ شریعت محمدیہ میں ان احکام کی مشروعیت کس حیثیت سے ہے؟شرائع سابقہ کے احکام کی حیثیت سے ؟یاشریعت محمدیہ کے احکام کی حیثیت سے؟اس سے حوالےسے مختلف اقوال ہیں،جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
بعد از بعثت شرائع من قبلنا كی پیروی کےحوالے سے چاراقوال :
پہلاقول: شرائع من قبلناكے تمام احكام کی اتباع ہمارے اوپر واجب ہے ،جب تک ناسخ نہ آئے۔
دوسرا قول:شرائع من قبلنا كے كسی بھی حكم كی اتباع ہمارے اوپر واجب نہیں،الا یہ کہ عمل کرنے کاحکم دلیل سے ثابت ہوجائے ۔
تیسرا قول: شرائع من قبلنا كے تمام احكام كی اتباع ہمارے اوپر لازم ہے ،لیکن اس حیثیت سے کہ ہماری شریعت بن گئی ۔
چوتھا قول:شرائع من قبلنا كے ان احكام كی پیروی ہمارے اوپر لازم ہے، جن كو قرآن مجید یا احادیث نبویہ میں انكار یاتردید كے بغیر نقل كیاجائے۔
چوتھا اورآخری قول راجح ہے،وجوہ ترجیح آخر میں تفصیلاً آرہی ہیں۔امام بزدوی فرماتے ہیں:
قَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ: يَلْزَمُنَا شَرَائِعُ مَنْ قَبْلَنَا حَتَّى يَقُومَ الدَّلِيلُ عَلَى النَّسْخِ بِمَنْزِلَةِ شَرَائِعِنَا وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا يَلْزَمُنَا حَتَّى يَقُومَ الدَّلِيلُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَلْزَمُنَا عَلَى أَنَّهُ شَرِيعَتُنَا۔[29]
(بعض علماء كا قول یہ ہے کہ ہمارے اوپر شرائع سابقہ كی پیروی اس وقت تک مطلقًا لازم ہے،جب تك نسخ كی کوئی دلیل قائم نہ ہو،جیسے ہماری اپنی سشریعت کاحکم ہے۔بعض کا قول یہ ہے کہ پیروی اس وقت تک لازم نہیں ،جب تك پیروی کرنے كی کوئی دلیل قائم نہ ہو۔جبکہ بعض کا قول یہ ہے کہ اس حیثیت سے پیروی لازم ہے،كہ وہ ہماری شریعت بن گئی)
آخرقول میں پھر تفصیل ہے، بہرحال! اس عبارت میں بیان کردہ مسالک حسب ذیل چارقواعد پر مبنی ہیں:
قواعد اربعہ:
(الف)پہلاقاعده: شرائع سماویہ میں اصل استمرار وبقاء ہے۔
(ب)دوسرا قاعده:ہرآسمانی شریعت پہلے نبی كی وفات یا دوسرے نبی كی بعثت كے ساتھ اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔
(ج)تیسرا قاعده:شرائع سابقہ میں سے غیر ثابت النسخ احكام پر بحیثیت اپنی شریعت كے عمل لازم ہے۔
(د)چوتھا قاعده:ثبوت شرعی كی بنیاد پر شرائع سابقہ كے احكام كی اتباع لازم ہے۔
ان اقوال كى مزىد وضاحت اورہر قول كے دلائل ذىل كے سطور مىں ملاحظہ ہوں:
پہلےقول کی وضاحت اور دلائل:
شرائع من قبلناکی اتباع ہماری اوپر واجب ہے ،جب تک ناسخ نہ آئے۔
اس قول کی بنیاد یہ قاعدہ ہے کہ:
"شرائع سماویہ میں اصل استمرار وبقاء ہے"
گویا حضور علیہ السلام كی بعثت کےبعد بھی سابقہ شریعتیں برقرار ہیں منسوخ نہیں ہیں۔امام سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فَأَما الْفَرِيق الأول قَالُوا:صفة الْإِطْلَاق فِي الشَّيْء يَقْتَضِي التَّأْبِيدَ فِيهِ إِذا كَانَ مُحْتملا للتأبيد،فالتوقيت يكون زِيَادَة فِيهِ لَا يجوز إثْبَاته إِلَّا بِالدَّلِيلِ.[30]
(پہلے فریق کا کہنا ہے ،کہ کسی حکم کامطلق ہونا تأبید(ہمیشگی )کامتقاضی ہے،اگر اس میں تأبید کااحتمال ہو،پس اس کوکسی وقت کے ساتھ خاص کرنا اس میں اضافہ کرنے کےمترادف ہے ،جودلیل کے بغیرجائز نہیں)
پہلے مسلك كے دلائل:
اس مسلك كی بنیاد حسب ذيل نقلی اور عقلی دلائل ہیں۔
نقلی دلائل، مشتمل برآیات قرآنیہ:
پہلی آیت كریمہ:
اُولٰئِكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰهُمُ اقْتَدِهْ (الأنعام:90)
( یہ وہ لوگ تھے جن کو ہدایت کی اللہ نے، سو تو چل ان کے طریقہ پر)
استدلال كا خلاصہ:
اس آىت كرىمہ مىں نبى كرىمﷺ كو گزشتہ انبىاء كى"ھُدٰی"(تعلیمات) كی پیروی كا حكم دیاگیا ہے اور"ھُدٰی"كے مفہوم میں ایمان اور شرائع دونوں شامل ہیں، اس لیے كہ دونوں كے مجموعے كی پیروی سے ہدایت ملتی ہے، پس آپﷺپر گزشتہ شریعتوں كی پیروی واجب ہوئی ۔"ھُدٰی" ایمان وشرائع كا مجموعہ ہے، اس كی دلیل سورہ بقرة كی ابتدائی آیت كریمہ ہیں، ارشادربانی ہے:
هُدًي لِّلْمُتَّقِيْنَ -الی---اُولٰئكَ عَلٰي هُدًي مِّنْ رَّبِّهِمْ وَاُولٰئكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (البقرة:2-تا-5)
( راہ بتلاتی ہے، ڈرنے والوں کوجو کہ یقین کرتے ہیں بے دیکھی چیزوں کا، اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، اور جو ہم نے روزی دی ہے ان کو اس میں سے خرچ کرتے ہیں،وہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے پروردگار کی طرف سے اور وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے)
ان آیات كریمہ میں متقین كی صفات میں دوچیزوں كا تذكرہ ہے (۱) ایمان (۲) اعمال صالحہ، یعنی اقامۃصلوة وایتاء زكوٰة ،اور آخر میں فرمایا: " اُولٰئِكَ عَلٰي ھُدًى" معلوم ہوا، كہ ایمان اور عمل صالح دونوں كا مجموعہ "ھُدٰی" ہے، اور سابقہ انبیاء کی اسی "ھُدٰی" كی اقتداء اور پیروی كا نبی اكرمﷺ كو حكم ہے۔
دوسری آیت كریمہ:
ثُمَّ أَوْحَيْنا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْراهِيمَ حَنِيفاً وَما كانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (النحل:123)
( پھر حکم بھیجا ہم نے تجھ کو کہ چل دین ابراہیم پر جو ایک طرف کا تھا، نہ تھا وہ شرک والوں میں)
استدلال كا خلاصہ:
اس آیت كریمہ میں آپ ﷺ كو صیغہ امر كے ساتھ ملۃ ابراہیمی كی پیروی كا حكم دیاگیا ہے، اور صیغہ امر وجوب كے لیے آتا ہے پس معلوم ہوا كہ آپ پرملت ابراہیمی كی پیروی واجب ہے،جو شریعت سابقہ ہے۔
تیسری آیت كریمہ:
إِنَّاأَنْزَلْنَاالتَّوْراةَ فِيها هُدىً وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبارُ،الآية،(المائدة:44)
( ہم نے نازل کی تورات کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے، اس پر حکم کرتے تھے پیغمبر جو کہ حکم بردار تھے اللہ کے ،یہود کو اور حکم کرتے تھے درویش اور عالم ۔۔۔)
استدلال كا خلاصہ:
اس آیت كریمہ میں یہ بتایا گیا ہے كہ انبیاء كرام تورات كے ذریعے فیصلے كرتے ہیں اور نبی كریمﷺبھی من جملہ انبیاء میں سے ہیں، پس آپ پرتورات كے احكام كے مطابق فیصلے كرنا واجب ہے۔
چوتھی آیت كریمہ :
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ (الشورى: 13) ( راہ ڈال دی تمہارے لیے دین میں وہی جس کا حکم کیا تھا نوح کو اور جس کا حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور جس کا حکم کیا ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو،یہ کہ قائم رکھو دین کو اور اختلاف نہ ڈالو اس میں،بھاری ہے شرک کرنے والوں کو وہ چیز جس کی طرف تو ان کو بلاتا ہے اللہ، چن لیتا ہے اپنی طرف سے جس کو چاہے اور راہ دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع لائے)
استدلال كاخلاصہ:
اس آیت كریمہ میں بتایا گیا ہے كہ امت محمدیہ کے لئے اس دین کی راہ ڈال دی ہے ،جس کا نوح علیہ السلام،محمدﷺ،ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو حکم کیا تھا۔گویا ان سب کادین ایک ہے،اور "دین" ایمان وشرائع كے مجموعے كا نام ہے،پس ان تمام انبیاء کادین اورشریعت ایک ہے جس كی بجاآوری كے ذریعے اللہ تعالی كی اطاعت كی جاتی ہے۔[31]
پانچویں آیت كریمہ:
(آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ)(البقرة:285)
( مان لیا رسول نے جو کچھ اترا اس پر اس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے بھی سب نے مانا اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو کہتے ہیں کہ ہم جدا نہیں کرتے کسی کو اس کے پیغمبروں میں سے)
استدلال كا خلاصہ:
علامۃ سرخسی پہلے قول والوں کاآیت کریمہ سےاستدلال نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :نئے رسول کے آنے سےپچھلے رسول کی رسالت ختم نہیں ہوتی ، اسی طرح ان کی شریعت بھی قابل عمل ہی رہے گی، جب تک کسی حکم کے منسوخ ہونے پر کوئی دلیل قائم نہ ہو،کیا دیکھتے نہیں ہوکہ ہمارے اوپر تمام انبیاء کی رسالت کااقرار لازم ہے ،جس کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ واقع ہوا ہے (وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ۔۔)[32]
نقلی دلائل مشتمل براحاديث نبویہ:
پہلی حدیث:
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ وَهْيَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَطَلَبَ القَوْمُ القِصَاصَ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: لاَ وَاللَّهِ، لاَ تُكْسَرُ سِنُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ القِصَاصُ» فَرَضِيَ القَوْمُ وَقَبِلُوا الأَرْشَ،الحديث.[33]
(حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: رُبَیَّع -انس بن مالك كی پھوپھی- نے ایك انصاری بچی كے سامنے والے دانت توڑدیے۔ ان لوگوں نے قصاص كا مطالبہ كیا اور آپﷺ كی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپﷺ نے قصاص كا حكم دیا۔ انس بن مالك كے چچا انس بن النضر نے كہا:نہیں، بخدا!ربیع كے دانت نہیں توڑے جائیں گے، یا رسول الله!۔ رسولﷺ نے فرمایا :انس !اللہ كی كتاب كا حكم قصاص ہے۔ چنانچہ وہ لوگ راضی ہوئے اور دیت قبول كرلی)
خلاصہ استدلال:
اس حدیث شریف کے مطابق جب حضرت أنس بن النضرنے قسم کھا کر کہا کہ میری بہن ربیع کا دانت قصاص کے طور پرنہیں توڑاجائیگا،توپیغمبرﷺ نےجواب میں فرمایا:اےأنس!کتاب اللہ کاحکم قصاص ہے۔آپ کی مراد{وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ}(المآئدة:45)والی آیت ہے،جبکہ اسی آیت کریمہ کےابتدائی الفاظ{وَکتبنا عليهم فيها} میں صراحۃ اس کوتورات كا حكم قرار دیا گیا ہے۔ گویا آپ نے تورات والے حكم پر عملدرآمد كا عندیہ دیا، جو اس بات كی دلیل ہے، كہ آپ تورات والی شریعت كی پیروی كے پابندتھے۔[34]
دوسری حدیث:
عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: 14][35]
(ابن المسیب سے روایت ہے كہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: جو نماز پڑھنا بھول جائے، جب یاد آئے تو اس وقت پڑے، اس لیے كہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں{أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي}( نماز قائم رکھ میری یادگاری کو)
خلاصہ استدلال:
اس حدیث شریف میں یاد آنے پر بھولی ہوئی نما زکےپڑھنے کوضروری قرار دینے کے لئے حضورﷺ نے سورة طہٰ كی آیت كریمہ{أَقِمِ الصَّلَاةَ
لِذِكْرِي}سے استدلال کیا ہے، جب كہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام كو خطاب ہے۔ گویا شریعت موسویہ كے ایك حکم کو آپ نے دلیل كے طور پرپیش فرمایا ،جو اس بات كی دلیل ہے كہ وہ شریعت ہمارے لیے بھی شریعت ہے، ورنہ اس كے ایك حكم كو دلیل كے طور پر پیش كرنے كا مطلب نہیں رہے گا۔
تیسر ی حدیث:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الزِّنَا؟» فَقَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبْتُمْ، إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ، فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ، فَنَشَرُوهَا فَجَعَلَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: ارْفَعْ يَدَيْكَ، فَرَفَعَهَا فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَقَالُوا: صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ، فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ،، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَرُجِمَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بنُ عُمَرَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَحْنِي عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ [36]
(ابن عمررضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرمایا: یہود آپﷺ كی خدمت میں حاضر ہوئے اور بتایا كہ ان میں سے ایك مرد اور ایك خاتون نے بدكاری كی ہے۔ آپ نے دریافت فرمایا :بدكاری كے متعلق تورات میں كیا حكم ہے؟كہنے لگے :ہم ان كو ذلیل كرتے ہیں اور ان كوڑے لگائے جاتے ہیں۔عبداللہ بن سلام نے كہا: تم لوگو نے جھوٹ بولا، تورات میں رجم كا حكم ہے۔ پس وہ تورات لے آئے،اس كو كھولا، ان میں سے ایك صاحب نے رجم والی آیت پر ہاتھ ركھا، اور اس سے آگے پیچھے پڑھنے لگے۔ عبداللہ بن سلام نے اس شخص سے كہا :ہاتھ اٹھاؤ۔ چنانچہ جب ہاتھ اٹھایا تو وہاں رجم والی آیت موجود تھی۔ یہودی كہنے لگے اے محمدﷺ!اس(عبداللہ) نے سچ كہا اس میں رجم والی آیت ہے۔ چنانچہ آپ ﷺکے حكم سے وہ دونوں سنگسار(رجم) كئے گئے۔ ابن عمر فرماتے ہیں :میں نے دیكھا وہ مرداس عورت كو پتھروں سے بچانے كے لیے اس كے اوپر جھك رہا تھا)
خلاصہ استدلال:
یہودیوں کی بد كاری کے اس قضیے میں آپ نے تورات منگوائی ،اور تورات میں موجود رجم کے حکم کے مطابق ان یہودیوں کو رجم کرنے كے احكام جاری فرمائے ۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پچھلی شریعتیں اب بھی حجت ہیں۔[37]
عقلی دلیل:
صاحب كشف الاسرار رقم طرازہیں:
أَنَّ الرَّسُولَ الَّذِي كَانَتْ الشَّرِيعَةُ مَنْسُوبَةً إلَيْهِ لَمْ يَخْرُجْ مِنْ أَنْ يَكُونَ رَسُولًا بِبَعْثِ رَسُولٍ آخَرَ بَعْدَهُ فَكَذَا شَرِيعَتُهُ لَا يَخْرُجُ مِنْ أَنْ يَكُونَ مَعْمُولًا بِهَا بِبَعْثِ رَسُولٍ آخَرَ مَا لَمْ يَقُمْ دَلِيلُ النَّسْخِ فِيهَا.[38]
(وہ رسول جس كی طرف شریعت منسوب ہوتی ہے، نئے رسول كی بعثت كی وجہ سے رسول ہونے سے نہیں نكلتے، اسی طرح ان كی طرف منسوب شریعت دوسرے رسول كی بعثت كی وجہ سے معمول بہا ہونے سے نہیں نكلتی جب تك نسخ كی دلیل قائم نہ ہو)
عقلی دلیل كی وضاحت:
اس دلیل کی وضاحت یہ ہے،كہ رسول كی طرف شریعت كی نسبت اس شریعت كی حقانیت اور عنداللہ پسندیدہ ہونے كی دلیل ہے،
رسول كواس لیےمبعوث كیا جاتا ہے، كہ وہ لوگوں كو اس شریعت كا عنداللہ پسندیدہ ومقبول ہونا بتلائے، پس جب كسی رسول كی بعثت كے ذریعےاس پر نازل كی گئی شریعت كا پسندیدہ ومقبول ہو نا معلوم ہوجائے، تو دوسرے رسول كی بعثت سے اس شریعت كی پسندیدگی وقبولیت ختم نہىں ہوتى بلكہ وہ حسب سابق عنداللہ پسندیدہ ومقبول رہتی ہے ، اسی طرح وہ شریعت غیر منسوخ اورقابل عمل بھی رہے گی ،جس طرح دوسرے رسول كی آمد سے پہلے غیر منسوخ وقابل عمل تھی، بلكہ دوسرے رسول كی آمد وبعثت سےاس كی حقانیت کی مزید تأیید ہوگی۔ حسب ذیل آیات قرآنیہ سے اس كی طرف اشارہ ملتا ہے:
{وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ[المائدة:48]
(اور تجھ پر اتاری ہم نے کتاب سچی، تصدیق کرنے والی سابقہ کتابوں کی اور ان کے مضامین پر نگہبان۔۔۔)
بلا امتیاز تمام انبیاء ورسل كو ماننا اور قرآن مجید كا كتب سابقہ كی تصدیق کرنااسی بات كا متقاضی ہے كہ پچھلی شریعتیں اب بھی عنداللہ پسندیدہ، غیر منسوخ اور قابل عمل ہیں، اس سے حسب ذیل نتیجہ ہی أخذ ہوتا ہے:
أ َنَّ الْأَصْلَ فِي شَرَائِعِ الرُّسُلِ - عَلَيْهِمْ السَّلَامُ - الْمُوَافَقَةُ إلَّا إذَا ظَهَرَ تَغْيِيرُ حُكْمٍ بِدَلِيلِ النَّسْخِ۔[39]
(انبیاء كی شریعتیں اصالۃ باہم موافق ومطابق ہیں ، الا یہ كہ دلیل شرعی كے ذریعے سے كسی حكم كا منسوخ ہونا معلوم ہو جائے)
اس مضمون كو حسب ذیل اسلوب وانداز میں بھی بیان كیاگیا ہے:
...مَا يُنْسَبُ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ - عَلَيْهِمْ السَّلَامُ - مِنْ الشَّرِيعَةِ فَهُوَ شَرِيعَةُ اللَّهِ تَعَالَى لَا شَرِيعَةُ مَنْ قَبْلَنَا مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فَهُوَ الشَّارِعُ لِلشَّرَائِعِ وَالْأَحْكَامِ قَالَ اللَّهُ {شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا} [الشورى: 13] أَضَافَ الشَّرْعَ إلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ يَجِبُ عَلَى كُلِّ نَبِيٍّ الدُّعَاءُ إلَى شَرِيعَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَتَبْلِيغُهَا إلَى عِبَادِهِ إلَّا إذَا ثَبَتَ الِانْتِسَاخُ،فَيُعْلَمُ بِهِ أَنَّ الْمَصْلَحَةَ قَدْ تَبَدَّلَتْ بِتَبَدُّلِ الزَّمَانِ فَيَنْتَهِي الْأَوَّلُ إلَى الثَّانِي فَأَمَّا مَعَ بَقَائِهَا شَرِيعَةً لِلَّهِ تَعَالَى وَمَعَ قِيَامِ الْمَصْلَحَةِ وَالْحِكْمَةِ فِي الْبَقَاءِ فَلَا يَجُوزُ الْقَوْلُ بِانْتِهَائِهَا بِوَفَاةِ الرَّسُولِ الْمَبْعُوثِ الْآتِي بِهَا فَيُؤَدِّي إلَى التَّنَاقُضِ تَعَالَى اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ.[40]
( یعنی انبیاء سابقین كی طرف جس شریعت كی نسبت ہوتی ہے، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ كی شریعت ہے، ان انبیاء كی شریعت نہیں،جو ہم سے پہلے گزرے ہیں، اس لیے کہ ارشاد خداوندی: (شرع لكم من الدين) كے بموجب اللہ تعالىٰ ہی شرائع واحكام كے شارع ہىں، اس لئے كہ اس آىت میں اللہ نے شریعت كی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے۔ پس اللہ تعالىٰ كی شریعت كی طرف دعوت دینا اور بندوں كو اس كى تبلیغ كرنا ہر نبی پرواجب ہے، الایہ كی كسی حكم كا منسوخ ہونا ثابت ہو جائے، جس كے ذرىعے اس بات كا علم حاصل ہو جائے كہ زمانے كى تبدىلى كى وجہ سے مصلحت تبدىل ہو گئى۔ اور جب تك نسخ اور تبدل مصلحت ثابت نہ ہو، تو محض رسول كی وفات كی وجہ سے شریعت كا اختتام پذیر ہونا جائز نہیں ہوگا، ورنہ اللہ تعالیٰ كی طرف تنا قض كى نسبت لازم آئے گی)ان تمام نقلی اورعقلی دلائل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ شرائع سماویہ میں أصل استمرار وبقاء ہے ،اسی لئے ناسخ صریح کے ظہور تکہمارےاوپرشرائع من قبلنا کی اتباع واجب ہے ،لیکن جمہور أصولیین کایہ مسلک نہیں ،ان کی نظرمیں متذکرہ بالا تمام استدلالات محل نظر ہیں۔امام غزالی نے ایک ایک استدلال کاجواب دیا ہے، ملاحظہ ہوں:
پہلے مسلک کی تأئید میں پیش کردہ استدلالا ت کےجوابات:
پہلی آیت كریمہ سے استدلال کاجواب:
پہلے استدلال كے جواب میں امام غزالی رقمطراز ہیں:-
...{أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمْ اقْتَدِهْ} [الأنعام: 90] قُلْنَا أَرَادَ بِالْهُدَى التَّوْحِيدَ، وَدَلَالَةُ الْأَدِلَّةِ الْعَقْلِيَّةِ عَلَى وَحْدَانِيِّتِهِ وَصِفَاتِهِ بِدَلِيلَيْنِ:أَحَدُهُمَا: أَنَّهُ قَالَ: {فَبِهُدَاهُمْ اقْتَدِهْ} [الأنعام: 90] وَلَمْ يَقُلْ بِهِمْ، وَإِنَّمَا هُدَاهُمْ الْأَدِلَّةُ الَّتِي لَيْسَتْ مَنْسُوبَةً إلَيْهِمْ، أَمَّا الشَّرْعُ فَمَنْسُوبٌ إلَيْهِمْ فَيَكُونُ اتِّبَاعُهُمْ فِيهِ اقْتِدَاءً بِهِمْ.الثَّانِي: أَنَّهُ كَيْفَ أَمَرَ بِجَمِيعِ شَرَائِعِهِمْ وَهِيَ مُخْتَلِفَةٌ وَنَاسِخَةٌ وَمَنْسُوخَةٌ وَمَتَى بَحَثَ عَنْ جَمِيعِ ذَلِكَ، وَشَرَائِعُهُمْ كَثِيرَةٌ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ الْهُدَى الْمُشْتَرَكَ بَيْنَ جَمِيعِهِمْ وَهُوَ التَّوْحِيدُ.[41]
("اولئك الذین" والی آیت كریمہ میں"ھدی"سے توحید اور اللہ كی وحدانیت اور صفات پر دلائل عقلیہ كی دلالت مراد ہے۔ اس بات كی دودلیلیں ہیں۔ پہلی دليل یہ كہ{فَبِهُدَاهُمْ اقْتَدِهْ}( یعنی ان كی ہدایت كی اقتداء) فرمایا ،بہم(ان كی افتداء)نہیں فرمایا اور انبیاء كی ہدایت سے مراد دلائل ہیں، جو ان كی طرف منسوب نہیں،جبكہ شریعت ان كی طرف منسوب ہے، پس شریعت میں پیروی ان انبياءكی اقتداء ہوگی،(ان كی"ھدی"کی پیروی نہیں ہوگی)۔دوسری دلیل یہ كہ تمام شرائع كی اقتداء كا حكم دینا كیونكر ممكن ہے،جبكہ وہ شرائع باہم مختلف ہیں، ان میں ناسخ ومنسوخ پائے جاتے ہیں،اوركب آپ ﷺنے ان تمام شرائع كوتلاش كیا، جبكہ شریعتیں لاتعداد ہیں۔ یہ اس بات كی دلیل ہے كہ مراد وہ "ھدی"(ہدایت) ہے جو سب كے درمیاں مشترك ہے، اور وہ توحید ہے)
حاصل جواب یہ ہے،کہ آپ ﷺکوجس"ہُدیٰ"(ہدایت)کی پیروی کاحکم دیا گیا ہے اس سے مرادعقاید ،بالخصوص عقیدہ توحید ہے،جوتمام انبیاءکےدرمیان مشترک ہے،آپ ﷺکوشرائع كی پیروی كاحكم نہیں ہے، اس لیے كہ شرائع مختلف ہیں۔اس لئےاس آیت کریمہ سے شرائع کی پیروی پر استدلال درست نہیں۔
دوسری آیت كریمہ سے استدلال کاجواب :
دوسری استدلال كا امام غزالی نے حسب ذیل عبارت میں جواب دیا ہے:
...{ثُمَّ أَوْحَيْنَا إلَيْكَ أَنْ اتَّبِعْ مِلَّةَ إبْرَاهِيمَ حَنِيفًا} [النحل: 123] وَهَذَا يَتَمَسَّكُ بِهِ مَنْ نَسَبَهُ إلَى إبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -، وَتُعَارِضُهُ الْآيَةُ الْأُولَى. ثُمَّ لَا حُجَّةَ فِيهَا إذْ قَالَ: {أَوْحَيْنَا إلَيْكَ} [النحل: 123] فَوَجَبَ بِمَا أَوْحَى إلَيْهِ لَا بِمَا أُوحِيَ إلَى غَيْرِهِ وَقَوْلُهُ: {أَنْ اتَّبِعْ} [النحل: 123] أَيْ: افْعَلْ مِثْلَ فِعْلِهِ، وَلَيْسَ مَعْنَاهُ كُنْ مُتَّبِعًا لَهُ وَوَاحِدًا مِنْ أُمَّتِهِ، كَيْفَ وَالْمِلَّةُ عِبَارَةٌ عَنْ أَصْلِ الدِّينِ وَالتَّوْحِيدِ وَالتَّقْدِيسِ الَّذِي تَتَّفِقُ فِيهِ جَمِيعُ الشَّرَائِعِ؟ وَلِذَلِكَ قَالَ تَعَالَى: {وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إبْرَاهِيمَ إلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ} [البقرة: 130] وَلَا يَجُوزُ تَسْفِيهُ الْأَنْبِيَاءِ الْمُخَالِفِينَ لَهُ.وَيَدُلُّ عَلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَبْحَثْ عَنْ مِلَّةِ إبْرَاهِيمَ، وَكَيْفَ كَانَ يَبْحَثُ مَعَ انْدِرَاسِ كِتَابِهِ وَإِسْنَادِ أَخْبَارِهِ؟.[42]
(مخالف كے قول كے مطابق یہ آیت كریمہ پچھلے استدلال میں مذكور آیت كریمہ سے متعارض ہوگی، اس لیے كہ پہلی والی آیت كریمہ میں تمام انبیاء كی شرائع كی پیروی كا حكم ہےاوردوسری میں صرف شریعت ابراہیمیہ كی پیروی كا حكم ہے،جبكہ جمہور كےموقف كے مطابق "ھدی"اور" ملت"دونوں سے مراد توحید اور بنیادی عقائد ہیں، جن میں تمام شرائع متفق ہیں،اور دونوں آیات میں انہی بنیادی متفق علیہ عقاید كی پیروی كا حكم ہے۔دوسرا یہ كہ ملت ابراہیمی كی اتباع سے مراد یہ ہے كہ ابراہیم علیہ السلام جیسا طریقہ كار اپنائے ۔یہ معنی نہیں كہ ابراہیم كی امت میں سے ایك فرد بن كر ان كی شریعت كی پیروی كریں، ورنہ آپﷺ شریعت ابراہیمیہ كے احكام كو تلاش كركے اس كی پیروی شروع فرماتے، حالانكہ اس كی كوئی دلیل نہیں، كہ آپﷺ نے ایسا كیا ہو۔ پھر خود اسی آیت میں صراحۃ مذكور ہے:" ثُمَّ أَوْحَيْنَا إلَيْكَ" یعنی آپ كی طرف آنے والی وحی كی بنیاد پر آپ ملت ابراہیمی كی پیروی كریں، نہ كہ ابراہیم علیہ السلام كی طرف آنے والی وحی كی بنیاد پر۔ پس اگر آپ نے كچھ احكام میں ملت ابراہیمی كی پیروی فرمائی ہے تو اپنی شریعت كی حیثیت سے ، نہ كہ ابراہیمی شریعت كی حیثیت سے ،اس لیے اس آیت كریمہ سے تو یہ ثابت ہوتا ہے كہ آپ كو اپنی وحی والی شریعت كی پیروی كا حكم ہے)
حاصل جواب یہ ہے كہ آیت كریمہ اگر ملت ابراہیمی كی پیروی كو لازم قراردینے پر دال ہو۔ تو ان آیات سے متعارض ہوگی۔ جن سے مخالف نے پچھلی تمام شرائع كی پیروی لزم ہونے پر استدلال كیا ہے۔ نیز مخالف نے آیت كریمہ كا مطلب غلط سمجھا ہے۔
تیسری آیت كریمہ سے استدلال کاجواب :
۔۔۔ الْآيَةُ الثَّالِثَةُ: قَوْله تَعَالَى {شَرَعَ لَكُمْ مِنْ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا} [الشورى: 13] وَهَذَا يَتَمَسَّكُ بِهِ مَنْ نَسَبَهُ إلَى نُوحٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -. وَهُوَ فَاسِدٌ، إذْ تُعَارِضُهُ الْآيَتَانِ السَّابِقَتَانِ. ثُمَّ الدِّينُ عِبَارَةٌ عَنْ أَصْلِ التَّوْحِيدِ، وَإِنَّمَا خَصَّصَ نُوحًا بِالذِّكْرِ تَشْرِيفًا لَهُ وَتَخْصِيصًا، وَمَتَى رَاجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَفْصِيلَ شَرْعِ نُوحٍ؟ وَكَيْف أَمْكَنَ ذَلِكَ مَعَ أَنَّهُ أَقْدَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَشَدُّ الشَّرَائِعِ انْدِرَاسًا؟ كَيْفَ وَقَدْ قَالَ تَعَالَى: {شَرَعَ لَكُمْ مِنْ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا} [الشورى: 13] فَلَوْ قَالَ شَرَعَ لِنُوحٍ مَا وَصَّاكُمْ بِهِ " لَكَانَ رُبَّمَا دَلَّ هَذَا عَلَى غَرَضِهِمْ، وَأَمَّا هَذَا فَيُصَرِّحُ بِضِدِّهِ.[43]
(حاصل عبارت یہ ہےکہ مخالف كے قول كے مطابق سورہ شوری كی آیت كریمہ كاپہلی والی دونوں آیات سے تعارض ہو گا، اس لیے كہ سورہ انعام والی آیت میں تمام انبیاء كی شریعت كی پیروی كا حكم ہے اور سورہ نحل والی آیت میں ابراہیمی شریعت كی پیروی كاحكم ہے اور سورہ شوری والی آیت میں نوح علیہ السلام كی شریعت كی پیروی كا حكم ہے۔ جبكہ جمہور كے قول كے مطابق سورہ شوری والی آیت میں بھی"الدین"سے بنیادی عقائد مراد ہیں،جن میں تمام انبیاء كرام متفق ہیں، اور اس كی پیروی كا حكم دیاگیا ہے۔تیسرا یہ كہ نوح علیہ السلام كی شریعت كے احكام غیرمعلوم تھے اور یہ كسی طرح ثابت نہیں كہ آپ ﷺنے اس شریعت كی كھوج لگا كر پیروی كا اہتمام كیا ہو۔اگریوں کہہ دیا جاتا،کہ نوح علیہ السلام کی شریعت وہی تهی،جس کی پیروی کا آپ ﷺکوحکم دیاگیاہے،توشاید کسی حدتک ان کے دعوی پرہوتی ،جبکہ موجودہ آیت کریمہ تواس دعوی کی ضد پر صراحۃ دال ہے)
حاصل جواب یہ ہے كہ اس استدلال كی صحت آیات كریمہ كے درمیان وجود تعارض كو متلزم ہے، نیز آیت كریمہ میں مشروعیت دین كی یكسانیت كو بیان كیاگیا ہے، اور دین عقاید كے مجموعہ كا نام ہے، اور فروعات كے مجموعے كا نہیں،اس لئےمخالف كا استدلال بے محل ہے۔
چوتھی آیت كریمہ سے استدلال کاجواب:
الْآيَةُ الرَّابِعَةُ: قَوْله تَعَالَى {إنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ} [المائدة: 44] الْآيَةَ، وَهُوَ أَحَدُ الْأَنْبِيَاءِفَلْيَحْكُمْ بِهَا. وَاسْتَدَلَّ بِهَذَا مَنْ نَسَبَهُ إلَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -، وَتُعَارِضُهُ الْآيَاتُ السَّابِقَةُ. ثُمَّ الْمُرَادُ بِالنُّورِ وَالْهُدَى أَصْلُ التَّوْحِيدِ وَمَا يَشْتَرِكُ فِيهِ النَّبِيُّونَ دُونَ الْأَحْكَامِ الْمُعَرَّضَةِ لِلنَّسْخِ، ثُمَّ لَعَلَّهُ أَرَادَ النَّبِيِّينَ فِي زَمَانِهِ دُونَ مَنْ بَعْدَهُمْ، ثُمَّ هُوَ عَلَى صِيغَةِ الْخَبَرِ لَا عَلَى صِيغَةِ الْأَمْرِ فَلَا حُجَّةَ فِيهِ. ثُمَّ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ حُكْمَ النَّبِيِّينَ بِهَا بِأَمْرٍ ابْتَدَأَهُمْ بِهِ اللَّهُ تَعَالَى وَحْيًا إلَيْهِمْ لَا بِوَحْيِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -.[44]
(حاصل جواب یہ ہے کہ اس آیت سےاستدلال میں بھی تمام وہ احتمالات موجود ہیں، جو پچھلی آیات میں تھے،یعنی مخالف كی تشریح كے مطابق اس آیات كریمہ كا دیگر تینوں آیات كریمہ سے تعارض ہوگا۔ اس لیے یہاں بھی مشتركات(عقائد) مراد ہیں، قابل نسخ احكام مراد نہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ“يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ” سے مراد موسیٰ علیہ السلام كے زمانے كے انبیاء مراد ہوں نہ كہ بعد میں آنے والے۔مزید برآں! آیت میں خبر ہے امر نہیں، جیسا كہ یہ احتمال ہے كہ انبیاء كرام اس شریعت كی پیروی كرتے تھے، لیكن اپنی شریعت كی حیثیت سے نہ كہ موسیٰ علیہ السلام كی شریعت كی حیثیت سے)
ان تمام جوابات كا خلاصہ یہ ہوا، كہ قرآن مجید كی كسی بھی آیت میں اگر آپ ﷺکوپچهلےانبیاء پر ایمان لانے ،ان کی پیروی كرنے، ان كے طریقےپر چلنے اور ان كی طرف نازل ہونے والی وحی كو اپنانے كا حكم دیاگیا ہے، تو اس سے بنیادی عقائد،متفق علیہ مشتركات اورغیر قابل النسخ محكمات مراد ہیں، ورنہ قرآنی آیات میں تعارض كی صورت سامنے آئے گی۔ مزید برآں! اكثر آیات كریمہ صراحۃًاس بات پر دلالت كررہی ہیں، كہ آپﷺ اس شریعت كی پیروی کے پابند ہیں، جو آپ پر نازل ہوئی ہے۔ پس یہ آیا ت كریمہ جمہور كے مؤقف كی مؤید ہیں نہ كہ اس مؤقف كی ،كہ شرائع میں اصل استمراروبقاءہے۔
پہلی حدیث سے استدلال كا جواب:
.... قُلْنَا: بَلْ فِيهِ {فَمَنْ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ}[البقرة: 194]
حضرت انس بن النضر کی بہن حضرت ربیع کے واقعے سے استدلال كے جواب کاحاصل یہ ہے كہ ایك تو قرآن مجیدکی"فَمَنْ اعْتَدَى"والی آیت كے عموم میں دانت كے قصاص كا حكم شامل ہے۔[45] دوسرا یہ كہ جب تورات والے احكام قصاص كو بغیر كسی نكیریاتردید كے قرآن مجید میں نقل كردیا گیا تو اب وہی احكام شریعت قرآنیہ وشریعت محمدیہ كے احكام بن گئے اور اسی حیثیت سے آپ ﷺاور آپ كی امت اس كی پیروی كی پابندہیں نہ كہ شریعت موسویہ كی حیثیت سے۔
دوسری حدیث سے استدلال كا جواب:
...قُلْنَا: مَا ذَكَرَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَعْلِيلًا لِلْإِيجَابِ، لَكِنْ أَوْجَبَ بِمَا أُوحِيَ إلَيْهِ وَنَبَّهَ عَلَى أَنَّهُمْ أُمِرُوا كَمَا أُمِرَ مُوسَى وَقَوْلُهُ {لِذِكْرِي} [طه: 14] أَيْ: لِذِكْرِ إيجَابِي لِلصَّلَاةِ، وَلَوْلَا الْخَبَرُ لَكَانَ السَّابِقُ إلَى الْفَهْمِ أَنَّهُ لِذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى بِالْقَلْبِ أَوْ لِذِكْرِ الصَّلَاةِ بِالْإِيجَابِ.[46]
(یعنی آپﷺ نے سورۃ طٰہ کی آیت کریمہ كو نماز واجب ہونے كی علت اور وجہ كے طور پر ذکر نہیں فرمایا،بلكہ آپ كے پاس جو وحی آئی تھی، اس كے بموجب فرمایا كہ جب نماز یادآئے تو اس كو پڑھ لیں۔ آیت نقل كرنے سے اس طرف تو جہ دلائی كہ اس امت كو نماز كا حكم اس طرح دیا گیا ہے جس طرح موسیٰ علیہ السلام كو حكم دیاگیا تھا )
تیسری حدیث سے استدلال كا جواب:
...الْحَدِيثُ الثَّالِثُ: مُرَاجَعَتُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّوْرَاةَ فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ وَكَانَ ذَلِكَ تَكْذِيبًا لَهُمْ فِي إنْكَارِ الرَّجْمِ إذْ كَانَ يَجِبُ أَنْ يُرَاجِعَ الْإِنْجِيلَ فَإِنَّهُ آخِرُ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ، فَلِذَلِكَ لَمْ يُرَاجَعْ فِي وَاقِعَةٍ سِوَى هَذِهِ وَاَللَّهُ أَعْلَمُ.[47]
(حاصل جواب یہ ہے کہ رجم كے حکم سے انكار میں یہود كے جھوٹ كو ثابت كرنے كے لیے آپ ﷺ کا تورات منگوانا اگراس نظریے پر مبنی ہوتا، كہ شرائع من قبلنا كے احكام كی پیروی ہمارے اوپر لازم ہے،تو آپ ﷺانجیل منگوالیتے، اس لیے كہ شرائع من قبلنا میں باعتبار نزول آخری كتاب انجیل تھی نہ كہ تورات ۔مزید برآں !آپﷺ نے اس واقع كے علاوہ كسی اور موقع پر تورات نہیں منگوائی، جو اس بات كی دلیل ہے كہ اس موقع پر تورات منگوانااس نظریے پر مبنی نہیں كہ شرائع میں اصل استمرار ہے)
اس واقع سے استدلال كا اصل جواب یہ ہے كہ اس وقت جرم زنا كی سزا كا یہودیوں پر اجراء اور تنفید مقصود تھی جو ان كی شریعت كی روشنی میں كی گئی، مسلمانوں پر سزا كی تنفید مقصود نہیں تھی اور نہ كبھی آپ ﷺنے تورات والی شریعت كے احكام كا مسلمانوں پر اجراء كیا ہے۔ جبكہ زیر بحث مسئلہ یہ ہے كہ كیا شرائع من قبلنا مسلمانوں كے لیے اب بھی شریعت ہے؟یاہم صرف شریعت محمدیہ كی پیروی كے پابند ہے؟ اس لیے اس واقع سے زیر بحث مسئلہ پر استدلال بے محل ہے۔
دوسرے مسلك كى وضاحت اور دلائل:
دوسرامسلک یہ ہےکہ :
"شرائع من قبلنا کے كسی بھی حکم کی اتباع ہمارے او پر واجب نہیں،الا یہ کہ کسی دلیل سے شرائع من قبلنا کے کسی متعین حکم پرعمل کرنے کاوجوب ثابت ہوجائے "۔
یہ مسلک پہلے مسلک کے بالکل برعکس ہے ،جو اس قاعدے پر مبنی ہے کہ:
"ہرآسمانی شریعت صاحب شریعت(نبی) كی وفات یا دوسرے نبی كی بعثت كے ساتھ اختتام پذیر ہو جاتی ہے"۔
اس اصول کے مطابق شریعت موسویۃ حضرت موسٰی علیہ السلام کی وفات یاحضرت عیسٰی علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ،اور شریعت عیسویۃ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی وفات یاحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔اس قول کاحاصل یہ کہ شرائع میں أصل اختصاص ہے،ہرنبی کی شریعت اس کے ساتھ خاص ہے،جب تک وہ نبی حیات ہیں،ان کی شریعت قابل عمل ہے،دوسرے نبی کے آنے کے بعدنئی شریعت آجاتی ہے،اورسابق نبی کی شریعت قابل عمل نہیں رہتی،تاہم درمیانی عرصہ کے حوالے سے دونوں احتمالات ہیں،دوسرے نبی کی بعثت تک پہلی شریعت قابل عمل ہے،یا پہلے نبی کی وفات کے ساتھ ہی شریعت منسوخ ہوجاتی ہے،لیکن اس سے شریعت کے اختصاصی ہونے پراثر نہیں پڑتا۔
دوسرے مسلك كے دلائل:
دوسرے مسلك كی صحت پر بھی نقلی وعقلی دلائل سے استدلال كیاگیا ہے ملاحظہ ہوں۔
(أ)نقلی دلائل: حسب ذیل آیات کریمہ سے اس مسلک پر استدلال کیا گیا ہے:
پہلی نقلی دلیل:
{لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا}[المائدة:48]
(ہر ایک کو تم میں سے دیا ہم نے ایک دستور اور راہ )
اس كا مقتضیٰ یہ ہے كہ ہر امت كے لیے اللہ تعالیٰ نے ایك شریعت نازل فرمائی ہے، جو اس كے ساتھ خاص ہے، اور اس امت كا نبی اسی شریعت كی پیروی كرنے اور اس كی طرف دعوت دینا كا پابند ہے۔[48]
دوسری نقلی دلیل:
(أ){وَآتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ} (الإسراء:2)
(اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور کیا اس کو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے)
(ب){وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ}(السجدة:23)
(اورہم نے دی ہے موسیٰ کو کتاب سو تو مت رہ دھوکے میں اس کے ملنے سےاور کیا ہم نے اسکو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے)
استدلال كا خلاصہ:
ان دونوں آیات کریمہ میں اس بات کی صراحت ہے ،کہ موسٰی علیہ السلام کو دی گئی کتاب ،یعنی تورات،خاص بنی اسرائیل کے لئے ہدایت ہے۔امام سرخسی اس استدلال كو نقل كرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فتخصيص بني إِسْرَائِيل بكون التَّوْرَاة هدى لَهُم يكون دَلِيلا على أَنه لَا يلْزمنَا الْعَمَل بِمَا فِيهِ إِلَّا أَن يقوم دَلِيل يُوجب الْعَمَل بِهِ فِي شريعتنا۔[49]
(پس بنی اسرائیل كو اس بات كے ساتھ خاص كرناكہ" توراة انہیں كے لیے ہدایت ہے"اس بات كی دلیل ہے كہ ہم(امت محمدیہ) پرتوراۃکےاحكام كی پیروی لازم نہیں،الا یہ كہ كوئی دلیل قائم ہو، جو اس بات کوثابت کرےکہ ہماری شریعت میں بھی توراۃ کےاحکام پرعمل کرناواجب ہے)
(ب)دلیل عقلی:
ہرامت كے لیے شریعت خاصہ كا ہونا اس لیے اصل اور ضروری ہے كہ بعثت انبیاء كا مقصد ہی یہ ہے كہ ہر نبی اپنی امت كے سامنے محتاج بیان امور كو بیان كریں، تو اگرآنے والے رسول كی آمد وبعثت كے ساتھ پچھلے نبی كی شریعت اختتام پذیر نہ ہو اور آنے والے رسول ازسرنو كوئی شریعت لےكر نہ آئے، تو دوسرے رسول كی بعثت كے وقت كسی امر كے بیان كی ضرورت نہیں ہوگی، اور اس نئے آنے والے نبی كی بعثت كا كوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اور سنت الہیہ یہ ہے كہ بغیر كسی فائدہ ومقصد كے كسی رسول كو ارسال نہیں كیاجاتا۔ پس ثابت ہوا كہ ہر نبی اوررسول کے ساتھ نئی شریعت اتاری جاتی ہے،جو اس كے ساتھ خاص ہوتی ہے، صاحب كشف الاسرار كے الفاظ ملاحظہ ہوں:
وَبِالْمَعْقُولِ وَهُوَ أَنَّ الْأَصْلَ فِي الشَّرِيعَةِ الْمَاضِيَةِ الْخُصُوصُ؛ لِأَنَّ بَعْثَ الرَّسُولِ لَيْسَ إلَّا لِبَيَانِ مَا بِالنَّاسِ حَاجَةٌ إلَى بَيَانِهِ، وَإِذَا لَمْ يَجْعَلْ شَرِيعَةَ رَسُولٍ مُنْتَهِيَةً بِبَعْثِ رَسُولٍ آخَرَ وَلَمْ يَأْتِ الثَّانِي بِشَرْعٍ مُسْتَأْنِفٍ لَمْ يَكُنْ بِالنَّاسِ حَاجَةٌ إلَى الْبَيَانِ عِنْدَ بَعْثِ الثَّانِي لِكَوْنِهِ مُبَيِّنًا عِنْدَهُمْ بِالطَّرِيقِ الْمُوجِبِ لِلْعِلْمِ فَلَمْ يَكُنْ فِي بَعْثِهِ فَائِدَةٌ وَاَللَّهُ تَعَالَى لَا يُرْسِلُ رَسُولًا بِغَيْرِ فَائِدَةٍ فَثَبَتَ أَنَّ الِاخْتِصَاصَ هُوَ الْأَصْلُ۔[50]
(اور دلیل عقلی سے بھی یہ بات ثابت ہے،اوروه یہ كہ اصل یہ ہے كہ گذشتہ شریعت میں خصوصیت ہو، اس لیے كہ رسول كی بعثت صرف اس لیے ہوتی ہے، كہ وہ اس امت كے لیے محتاج بیان امور كو بیان كرے۔ اگر گذشتہ رسول كی شریعت آنے والے رسول كی شریعت سے اختتام پذیر نہ ہو،اور دوسرا رسول از سرنونئی شریعت لے كر نہ آئے، تو گویا دوسرے رسول كی بعثت كے وقت لوگوں كو احكام بیان كرنے كی ضرورت وحاجت نہ ہوئی،پس اس كو مبعوث كرنے كا فائدہ نہیں ہوا، جبكہ اللہ تعالیٰ بغیر كسی فائدہ كے رسول نہیں بھیجتے پس ثابت ہوا، كہ ہر شریعت نبی كے ساتھ خاص ہونا ہی اصل ہے)
یہی وجہ ہے ،کہ یہ صرف ان احکام میں ہوگا جن میں نسخ ممکن ہے یعنی فروعی احکام میں ،اصول میں نہیں۔امام سرخسی لکھتے ہیں:
وَلِهَذَا جعلنَا هَذَا كالنسخ فِيمَا يحْتَمل النّسخ دون مَا لَا يحْتَمل النّسخ أصلا كالتوحيد وأصل الدّين أَلا ترى أَن الرُّسُل عَلَيْهِم السَّلَام مَا اخْتلفُوا فِي شَيْء من ذَلِك أصلا وَلَا وَصفا وَلَا يجوز أَن يكون بَينهم فِيهِ خلاف وَلِهَذَا انْقَطع القَوْل بِبَقَاء شَرِيعَة نَبينَا مُحَمَّد صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِلَى قيام السَّاعَة لعلمنا بِدَلِيل مَقْطُوع بِهِ أَنه لَا نَبِي بعده حَتَّى يكون نَاسِخا لشريعته۔[51]
(اسی لئے ہم نے اس كو ان احكام میں نسخ كی طرح قراردیا، جن میں نسخ كا احتمال ہے، ان احكام میں نہیں جن میں نسخ كا احتمال نہیں، جیسے توحید اور اصول الدین، كیا دیكھتے نہیں ہو، كہ رسل علیہم السلام میں ان اموركے حوالے سے كوئی اختلاف نہیں نہ اصل میں اور نہ وصف میں، اور ان میں اختلاف ممكن بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے كہ یہ بات قطعی ویقینی ہے كہ ہمارےنبیﷺ كی شریعت قیامت تك باقی رہے گی، اس لیے كہ ہم دلیل قطعی سے یہ بات جانتے ہیں كہ آپ ﷺ كے بعد كوئی نبی آنے والا نہیں تاكہ(اس كی شریعت)آپ ﷺكی شریعت كے لیے ناسخ بن جائے)
(ج)مخصوص قوم اورعلاقے كی طرف انبیاء كی بعثت سے استدلال:
اختصاصی شریعت كے نظریہ كی تائید اس سے بھی ہوتی ہے كہ بعض انبیاء علیہم الصلوة والتسلیم كی شریعتىں کسی خطے وعلاقے كے لوگوں ساتھ مخصوص تھیں اور صرف اس خطے والے لوگوں پر اس نبی كی شریعت كی پیروی اور اتباع لازم تھی، دوسرے خطے والوں پر نہیں،مثلاً: حضرت شعیب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام كی بعثت و نبوت كا زمانہ ایك تھا جیسا کہ سورۃ قصص{آیات 23-تا-28}میں حضرت شعیب اورحضرت موسی علیہما السلام کی ملاقات کا صراحتًاتذکرۃ ہے، لیكن حضرت شعیب علیہ السلام كی بعثت اہل مدین اور اصحاب الأیكۃكی طرف ہوئى تھى،ارشادباری تعالی ہے:
{وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا}(الأعراف:15)
(اور مدین کی طرف بھیجا ان کے بھائی شعیب کو)
نیزارشادہے:
{كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــــــيْكَةِ الْمُرْسَلِيْنَ اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ}(الشعراء:176،177)
(جھٹلایا بن کے رہنے والوں نے پیغام لانے والوں کوجب کہا ان کو شعیب نے کیا تم ڈرتے نہیں)
جبكہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کابنی اسرائیل كانبی وپیغمبرہونا أظہرمن الشمس ہے۔
استدلال كا خلاصہ:
یعنی جس طرح یہ ممكن بلكہ ایك امر واقع ہے كہ استثنائی صورتوں كے علاوہ گذشتہ انبیاء كی بعثت كسی ایك محدود علاقے اورمخصوص قوم كے ساتھ مختص ہوتی تھی،جیسا کہ اس حدیث شریف سے اس کی تائید ہوتی ہے :
« أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي... وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً "[52]
(مجھے پانچ خصوصیتوں سے نوازاگیا ،جومجھ سے پہلے کسی کونہیں دی گئیں۔۔۔ مجھ سے پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا،جبکہ میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں )
تو اس طرح یہ بھی ممكن ہے كہ گذشتہ تمام انبیاء كی نبوت و بعثت ایك زمانے كے لوگوں كے ساتھ مختص ہو، اور دوسرے زمانے كے لوگوں پر اس شریعت كی پیروی لازم نہ ہو، بلكہ اس كے لیے دوسرے نبی كو مبعوث كیاگیا ہو، اور اس سے كوئی خرابی لازم نہ آئے۔ بالفاظ دیگر جب اختصاص النبوة بالمكان دون مكان ممكن بلكہ واقع ہے، تو اختصاص النبوۃوالشریعۃ بالزمان دون زمان بھی ممكن ہو، اور اس میں كوئی قباحت وخرابی نہ ہو۔كشف الاسرار كی عبارت ملاحظہ ہو:
فَإِذَا ثَبَتَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ فِي الْمُرْسَلِينَ مَنْ يَكُونُ وُجُوبُ الْعَمَلِ بِشَرِيعَتِهِ عَلَى أَهْلِ مَكَان دُونَ أَهْلِ مَكَان آخَرَ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ مَرْضِيًّا عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى عَلِمْنَا أَنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ وُجُوبُ الْعَمَلِ بِهَا عَلَى أَهْلِ زَمَانٍ دُونَ أَهْلِ زَمَانٍ آخَرَ وَأَنَّ ذَلِكَ الشَّرْعَ يَكُونُ مُنْتَهِيًا بِبَعْثِ نَبِيٍّ آخَرَ فَقَدْ كَانَ يَجُوزُ اجْتِمَاعُ النَّبِيَّيْنِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ فِي مَكَانَيْنِ عَلَى أَنْ يَدْعُوَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إلَى شَرِيعَتِهِ فَعَرَفْنَا أَنَّهُ يَجُوزُ مِثْلُ ذَلِكَ فِي زَمَانَيْنِ وَأَنَّ الْمَبْعُوثَ آخِرًا يَدْعُو إلَى الْعَمَلِ بِشَرِيعَتِهِ وَيَأْمُرُ النَّاسَ بِاتِّبَاعِهِ وَلَا يَدْعُو إلَى الْعَمَلِ بِشَرِيعَةِ مَنْ قَبْلَهُ.[53]
(جب یہ بات ثابت ہوئی كہ انبیاء كرام میں سے ایسے رسول گزرے ہیں جن كی شریعت پر عمل كرنا ایك علاقے كے لوگوں پر واجب تھا، دوسرے علاقے كے لوگوں پر نہیں، اور اگر یہ اللہ تعالیٰ كے نزدیك پسندیدہ تھا، تو اس سے ہم جان گئے كہ یہ بھی ممكن ہےكہ كسی شریعت پر عمل كرنے كا وجوب ایك زمانے كے لوگوں پر ہو، دوسرے زمانے كے لوگوں پر نہیں۔ اور یہ كہ وہ شریعت دوسرے نبی كی بعثت كے ساتھ اختتام پذیر ہو، پس تحقیق یہ بھی ممكن ہے كہ اس ایك زمانے میں دو نبی دومختلف علاقوں میں بیك وقت اس طرح نبی ہوں، كہ ان میں سے ہر ایك اپنی اپنی شریعت كی طرف لوگوں كودعوت دیں۔ تو اس سے یہ بھی معلوم ہوا،كہ ایسا دوزمانوں میں بھی ممكن ہے اور یہ كہ بعد والےزمانے میں مبعوث پیغمبر اپنی ہی شریعت كی طرف لوگوں كو دعوت دے اور اس كی پیروی كا حكم دے، اور اپنے سے پہلے والی شریعت پر عمل كرنے كی دعوت نہ دے)
جبكہ خاتم الانبیاء ﷺكی بعثت ونبوت قىامت تك آنے والے تمام زمانوں اور روئے زمىن پر آباد ہر خطے كے تمام لوگوں، بالفاظ دىگر تمام انسانىت كے لیے ہے، كسی خاص قوم كے لیے نہیں،جیسا کہ قرآن مجید بھی ارشاد ربانی ہے:
{قُلْ يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعاً } (الاعراف:158)
(تو کہہ اے لوگوں میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف )
اختصاصی شرائع سے استثنائی صورت:
كبھی ایسا بھی ہوا ہے كہ ایك نبی كودوسرے نبی كا تابع بنا كر مبعوث كیاگیا،صاحب کشف الاسراررقمطرازہیں:
إلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدُ الرَّسُولَيْنِ تَبَعًا لِلْآخَرِ فَحِينَئِذٍ لَا يَثْبُتُ الْخُصُوصُ۔وَكَانَ التَّبَعُ دَاعِيًا إلَى شَرَائِعِ الْأَصْلِ كَإِبْرَاهِيمَ وَلُوطٍ، فَإِنَّ لُوطًا وَإِنْ كَانَ مِنْ الْمُرْسَلِينَ كَانَ تَبَعًا لِإِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - وَدَاعِيًّا إلَى شَرِيعَتِهِ...وَكَذَلِكَ هَارُونُ كَانَ تَابِعًا لِمُوسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - فِي الشَّرِيعَةِ وَرِدْءًا لَهُ كَمَا أَخْبَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ...[54]
عبارت مذکورہ کا حاصل یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہر نبی كی اپنی خاص شریعت ہوا كرتی تھی جو اس نبی كےساتھ مختص ہوتی تھی، لىكن اىسى مثالیں بھی ہیں كہ كسی نبی كو الگ كوئی شریعت نہیں دی گئی، بلكہ اس زمانے میں موجود كسی اور رسول كی پیروی كرنے اور اس كی تبلیغ كرنے كے لیے ان كو مبعوث كیاگیا۔ قرآن مجید میں اس نوع كے دو واقعات صراحتاً مذكور ہیں، ایك حضرت لوط علیہ السلام كا، جن كو حضرت ابراہیم علیہ السلام كی شریعت كا پیروكار بنایا گیا ہے، اور دوسرے حضرت ہارون علیہ السلام كا، جو بدعاء سیدناموسیٰ علیہ السلام ان كے معاون اور پیروكار تھے۔حضرت لوط علیہ السلام کاتذکرہ حسب ذیل ارشاد خداوندی میں ہے:
{فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ ۭ اِنَّهُ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ } [العنكبوت: 26]
(پھر مان لیا اس کو لوط نے اور وہ بولا میں تو وطن چھوڑتا ہوں اپنے رب کی طرف بیشک وہ ہی ہے زبردست حکمت والا)
اس آیت كرىمہ كی تفسیر میں مفسرأبو سعود رقمطراز ہیں:
{فآمن لَهُ لُوطٌ} أي صدَّقه في جميع مقالاتِه لا في نُبُّوتِه وما دعا إليه من التَّوحيدِ فقط فإنَّه كان منزَّهاً عن الكُفر۔[55]
({فآمن}پھر مان لیا اس کو لوط نے،یعنی لوط علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام کی تصدیق کی تمام احکام میں،صرف ان کی نبوت اور توحید ،جس کی طرف ابراہیم علیہ السلام نے دعوت دی تھی ،میں نہیں ،اس لیے کہ لوط علیہ السلام کفر سے منزہ تھے)
حضرت ہارون علیہ السلام کاتذکرہ اس آیت کریمہ میں ہے:
{فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي} [القصص: 34]
(سو اس کو بھیج میرے ساتھ مدد کو کہ میری تصدیق کرے )
{وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي،هَارُونَ أَخِي}[طه: 29، 30]
( اور دے مجھ کو ایک کام بٹانے والا میرے گھر کا،ہارون میرا بھائی)
دوسرے مسلک کی مرجوحیت:
یہ استثناء درحقیقت دوسرے مسلك كے اثبات كے لیے تیسری دلیل یعنی، اختصاحی شرائع سے استدلال، پروارد ہونے والے اس اشكال كا جواب
ہے، كہ جب شرائع میں اصل تخصیص ہے كہ ہر علاقے اور ہر زمانے كےلیے الگ نبوت والگ شریعت ہو، تو لوط علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام كی نبوتیں اور شریعتیں تو اختصاحی نہیں ہیں،بلكہ بنص قرآن دوسرے انبیاء كی تابع تھیں،تو یہ كہنا كس طرح صحیح ہوا، كہ شرائع میں اصل اختصاص ہے؟! جواب كا حاصل یہ ہے كہ ان دونوں انبیاء كا معاملہ استثنائی ہے۔ لیکن یہ استثناء خود اس بات كی دلیل ہے، كہ اختصاصی شرائع كا نظریہ نصوص كے خلاف ہے۔ اس سے دوسرے ملك اور اس كے استدلالات كا جواب سمجھنا چاہیے۔
تیسرے مسلك کی وضاحت اور دلائل:
"شرائع سابقہ میں سے غیر ثابت النسخ تمام احكام پر مطلقاً عمل كرنالازم ہے،لیكن شریعت محمدیہ كے احكام كی حیثیت سے"
يعنی شرائع سابقہ کا جو بھی حکم ہم تک پہنچے ،خواہ کسی دلیل قطعی کے ساتھ پہنچے ،جیسے قرآن وحدیث میں آئے ،یا دلیل غیر قطعی کے ساتھ،جیسے اہل كتاب نے نقل كیا ہو، یا كسی مسلمان نے شرائع سابقہ كی كتب سے اس كو حكم شرعی سمجھا ہو، اور اس كا منسوخ ہونا ثابت نہ ہو،توہمارے اوپر اس کی اتباع لازم ہے ،لیکن اس حیثیت سے کہ وہ ہماری شریعت کاحکم ہے نہ کہ شرائع سابقہ کا۔عبارات ملاحظہ ہوں:
وَقَالَ بَعضهم: شرائع من قبلنَا يلْزمنَا الْعَمَل بِهِ على أَن ذَلِك شَرِيعَة لنبينا عَلَيْهِ السَّلَام فِيمَا لم يظْهر دَلِيل النّسخ فِيهِ وَلَا يفصلون بَين مَا يصير مَعْلُوما من شرائع من قبلنَا بِنَقْل أهل الْكتاب أَو بِرِوَايَة الْمُسلمين عَمَّا فِي أَيْديهم من الْكتاب وَبَين مَا ثَبت من ذَلِك بِبَيَان فِي الْقُرْآن أَو السّنة.[56]
(بعض نے کہا:ہم( امت محمدیہ) پر لازم ہےكہ شرائع سابقہ میں سے صرف ان احكام پرشریعت محمدیہ کی حيثيت سے عمل كریں جن کے بارے میں نسخ کی دلیل ظاہر نہ ہو۔یہ حضرات یہ فرق روا نہیں رکهتے ،كہ ان احکام کا شرائع سابقہ میں سے ہونااہل کتاب کے نقل سے ثابت ہویا مسلمانوں کے پاس موجود کتاب میں سے روایت کرنے سے، اور يا پهرقرآن وسنت كے بیان سے)
تیسرے مسلك كا محوری نقطہ:
تیسرے مسلك میں بنیادی اور اہم نقطہ یہ ہے كہ شرائع من قبلنا احکام كی پیروی كےلزوم کے لئےاس بات کی ضرورت نہیں،کہ دلیل قطعی سے ان احکام کاشرائع سابقہ میں سے ہونا ثابت ہوجائے ثبوت كی ضرورت نہیں ،بلكہ اہل كتاب كی نقل یا پھر محض كتاب مقدس اور بائبل میں اس حكم كا موجود ہونا كافی ہے۔ گویا اس بات كو كافی ثبوت سمجھا گیا كہ كوئی كتابی كہ دے كہ فلان حكم ہماری شریعت كا حكم ہے،یا پھر كوئی بھی كہہ دے كہ فلاں حكم كتاب مقدس (تورات وانجیل) میں موجود ہے۔ اس كا معنی یہ ہوا كہ سارا دارومدار كتابی اور كتاب مقدس پر ہوا۔
تیسرے مسلك كی مرجوحیت:
یہی بات اس مسلك كے باطل ہونے كے لیے كافی ہے، اس لیے كہ نہ تو كوئی كتابی دین كی باتوں میں معتبرراوی ہے اور نہ كتاب مقدس كے احکام كی تصدیق كی جاسكتی ہے۔اس لیے كہ دینیات میں راوی كے عادل ،ثقہ اور معتبر ہونے كے لیے پہلی شرط اسلام ہے اور رسالت محمدیہ سے انكار كی بنیاد پر اہل كتاب میں یہ شرط نہیں پائی جاتی۔جبکہ کتاب مقدس کے احکام کی تصدیق وتکذیب دونوں سے صراحۃ حدیث میں روکا گیاہے،اس لئے کہ بنص قرآنی یہ کتابیں محرف ہیں۔ان دونوں باتوں کی تفصیل حسب ذیل سطور میں ملاحظہ ہو:
راوی كے لیے اسلام كی شرط:
ابن الصلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أَجْمَعَ جَمَاهِيرُ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ وَالْفِقْهِ عَلَى: أَنَّهُ يُشْتَرَطُ فِيمَنْ يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ أَنْ يَكُونَ عَدْلًا، ضَابِطًا لِمَا يَرْوِيهِ، وَتَفْصِيلُهُ أَنْ يَكُونَ مُسْلِمًا، بَالِغًا، عَاقِلًا، سَالِمًا مِنْ أَسْبَابِ الْفِسْقِ وَخَوَارِمِ الْمُرُوءَةِ، مُتَيَقِّظًا غَيْرَ مُغَفَّلٍ، حَافِظًا إِنْ حَدَّثَ مِنْ حِفْظِهِ، ضَابِطًا لِكِتَابِهِ.[57]
(جمہور ائمہ حدیث اور ائمہ فقہ كا اس بات پر اجماع ہے كہ جس شخص كی روایت حجت ہوگی، اس كے لیے شرط ہے كہ وہ عادل اور ضابط ہو۔ اس كی تفصیل یہ ہے كہ وہ مسلمان، بالغ اور عاقل ہو، فسق اور خلاف مرؤوت امور سے محفوظ ہو)
اہل كتاب كا كفر:
قرآن وسنت كی نصوص كی روسے اہل كتاب كا كفر اقوی البدیہیات میں سےہے، چندنصوص ملاحظہ ہوں:
پہلی آیت:
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (المآئده:17)
(بے شک کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا، تو کہہ دے پھر کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کرے مسیح مریم کے بیٹے کو اور اس کی ماں کو اور جتنے لوگ ہیں زمین میں سب )
دوسری آیت:
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَم وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ (المآئده:72)
(بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا اور مسیح نے کہا ہے کہ اے بنی اسرائیل بندگی کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا بیشک جس نے شریک ٹھرایا اللہ کا سو حرام کی اللہ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی نہیں گناہ گاروں کی مدد کرنے والا )
تیسری آیت:
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ(المآئدة:73)
(بے شک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ ہے تین میں کا ایک ف٢ حالانکہ کوئی معبود نہیں بجز ایک معبود کے اور اگر نہ باز آویں گے اس بات سے کہ کہتے ہیں تو بیشک پہنچے گا ان میں سے کفر پر قائم رہنے والوں کو عذاب دردناک)
كتاب مقدس كی تصدیق وتکذیب:
كتاب مقدس كے اندر موجود احكام كے رووقبول كے بارے میں حدیث نبوی كی نص سے یہ اصول ثابت ہے كہ ان كی نہ تو تصدیق كی جائے اور نہ تکذیب، اس لیے كہ ان كتب كا محرف ہونا مسلمات شرعیہ میں سے ہے، تصدیق میں تویہ خطرہ ہے، كہ غیر حكم شرعی كو حكم شرعی نہ سمجھا جائے، جبكہ تکذیب میں یہ اندیشہ ہے كہ كہیں حكم شرعی كی تكذیب نہ ہوجائے ،اس لئےکہ یہ كتابیں بہرحال آسمانی كتابیں ہیں،حدیث مبارك كے الفاظ ملاحظہ ہوں:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ،قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:"لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ، وَقَدْ ضَلُّوا، فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ، أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي"
(جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: اہل كتاب سے كسی چیز كے بارے میں نہ پوچھو وہ تمہارےراہنمائی نہیں كرسكتے جبكہ وہ گمراہ كرچكے ہیں)
كتب سابقہ میں تحریف كا ثبوت:
متذكرہ بالاعبارت میں بتایاگیا، كہ دلیل قطعی سے ثابت ہے كہ اہل كتاب نےاپنی آسمانی كتابوں میں تحریف كی ہے۔اس دعوی کے دلائل حسب ذیل آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ ہیں:۔
(1)پہلی دلیل ،آیت قرآنیہ:
مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه(النساء: 46)
( بعضے لوگ یہودی پھیرتے ہیں بات کو اس کے ٹھکانے سے)
(2) دوسری دلیل، آیت قرآنیہ:
يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه ( المائدة:۱۳ )
(پھیرتے ہیں کلام کو اس کے ٹھکانے سے )
(3) تیسری دلیل، آیت قرآنیہ:
يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِه ۚ يَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِيْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا (المائدة: 41)
( بدل ڈالتے ہیں بات کو اس کا ٹھکانا چھوڑ کر، کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا)
(4) چوتھی دلیل،حدیث نبوی:
عن ابن عباس رضی الله عنه...وقدحدثكم اللهُ أن أهل الكتاب بدلواماكتب الله وغيروا بأيديهم الكتاب[58]
(اللہ نے تمہیں بتایا ہے كہ اہل كتاب نے اللہ كے لكھے ہوئے كو تبدیل كردیا ہے، اور اپنے ہاتھوں سے كتاب الہٰی میں تبدیلیاں كی ہیں)
ان دلائل قطعیہ صریحہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے كہ اہل كتاب نے آسمانی كتابوں میں تحریف كی ہے، اس لیے شرعی عقاید واعمال كے حوالے سے ان كا قول معتبر نہیں،اوران سے اس سلسلے میں پوچھنا بھی نہیں چاہیے۔
اہل كتاب سے سوالات كرنے كی ممانعت:
ان نصوص كی روشنی میں امام بخاری ؒ نے باب قول النبی ۔۔۔«لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ»میں اس مضمون كو ثابت فرمایا ہے كہ شرائع سے متعلق امور میں اہل كتاب كی باتیں غیر معتبر ہیں، اس لیے كہ وہ اپنی كتابوں میں تحریف اور تبدیلی كے مرتكب ہوئے ہیں۔ بنابریں! مسلمان نہ تو ان سے شرائع كے متعلق سوال كریں اور نہ ان كی باتوں كی تصدیق كریں ،البتہ تكذیب بھی نہ كریں، اس لیے كہ ان كی باتوں میں سچ كا احتمال بہر حال برقرار ہے تو مسلمان كہیں غیر شعوری طور پر سچی باتوں كی تکذیب كے مرتكب نہ ہوجائیں۔اہل كتاب سے سوال كی ممانعت حسب ذیل احادیث میں ملاحظہ ہو:
(الف)- پہلی حدیث:
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ، تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ، وَقَدْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ أَهْلَ الكِتَابِ بَدَّلُوا كِتَابَ اللَّهِ وَغَيَّرُوهُ، وَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الكِتَابَ، وَقَالُوا: هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا؟ أَلاَ يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ العِلْمِ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ؟ لاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ "[59]
(عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے كہ ابن عباس رضی اللہ عنہا نے فرمایا :تم اہل كتاب سے كیونكر پوچھتے ہو؟!حالانكہ تمہاری كتاب، جو رسولﷺ پر اتاری گئی ہے، (باعتبار نزول) نئی ہے۔ تم اس كو خالص پڑھتے ہو، پرانی نہیں ہوئی۔ تحقیق تم كو بتلایا ہے كہ اہل كتاب نے اللہ كی كتاب كو تبدیل كرڈالا ہے، اور اس میں تغییر كی ہے، اور اپنے ہاتھوں سے كتاب لكھی ہے اور كہنے لگے: یہی اللہ كی طرف سے ہے تاكہ اس كے ذریعے لےلے مول تھوڑا سا كیا تمہارے پس آنے والے علم(دلائل) نے تمہیں ان سے پوچھنے سے منع نہیں كیا؟ نہیں،بخدا! ہم نے ان میں سے كسی شخص كو نہیں دیكھا جو تم سے تمہارے اوپر نازل ہونے والی كتاب كے بارے میں پوچھتا ہو)
(ب)-دوسری حدیث:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ، وَقَدْ ضَلُّوا، فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ، أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي"[60]
(جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: اہل كتاب سے كسی چیز كے بارے میں نہ پوچھو وہ تمہارےراہنمائی نہیں كرسكتے جبكہ وہ گمراہ كرچكے ہیں)
(ج)-تیسری حدیث:
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ، وَقَدْ أَضَلُّوا أَنْفُسَهُمْ» قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَنُحَدِّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: «حَدِّثُوا وَلَا حَرَجَ»[61]
(زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے فرمایا :مجھے رسولﷺ سے يہ بات پہنچی ہےکہ آپ نے فرمایا:اہل كتاب سے كسی چیز كے بارے میں مت پوچھو اس لیے كہ وہ تمہاری راہنمائی نہیں كرسكتے جبكہ وہ اپنے آپ كو گمراہ كرچكے ہیں۔ ہم نے پوچھا:یا رسول اللهﷺ! كیا ہم ان كی بات كو نقل كریں ؟فرمایا :نقل كروہ، اس میں كوئی حرج نہیں)
(د)-چوتھی حدیث:
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ، وَقَدْ ضَلُّوا، فَتُكَذِّبُوا بِحَقٍّ، وَتُصَدِّقُوا الْبَاطِلَ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا فِي قَلْبِهِ تَالِيَةٌ تَدْعُوهُ إِلَى اللَّهِ وَكِتَابِهِ كَتَالِيَةِ الْمَالِ» . وَالتَّالِيَةُ: الْبَقِيَّةُ. قَالَ الثَّوْرِيُّ: وَزَادَ مَعْنٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: «إِنْ كُنْتُمْ سَائِلِيهِمْ لَا مَحَالَةَ فَانْظُرُوا مَا وَاطَى كِتَابَ اللَّهِ فَخُذُوهُ، وَمَا خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ فَدَعُوهُ»[62]
(حضرت عبداللہ نے فرمایا: اہل كتاب سے كسی چیز كے بارے میں مت پوچھو اس لیے كہ وہ تمہاری راہنمائی نہیں كرسكتے جبكہ وہ اپنے آپ كو گمراہ كرچكے ہیں،نتیجتاً تم حق کی تکذیب اور باطل کی تصدیق کربیٹھو۔ اہل كتاب میں سے كوئی نہیں مگر یہ كہ اس كے دل میں ایسی بات (تالیہ) ہے، جو اس كو اللہ تعالیٰ اور اس كی كتاب كی طر ف بلاناہے۔ مال كی تالیہ كی طرح(تالیہ كا معنی ہے بقیہ)۔ ثوري نےاسی سند كے ساتھ حضرت عبداللہ سے نقل كیا۔ فرمایا: اگر پوچھنا ہی ہے، تو دیكھو جو احكام كتاب اللہ كے موافق ہوں، ان كو لو، اور جو كتاب اللہ كے خلاف ہوں، ان كو ترك كردو)
(ه)-پانچویں حدیث:
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَرَّ بِرَجُلٍ يَقْرَأُ كِتَابًا سَمِعَهُ سَاعَةً، فَاسْتَحْسَنَهُ فَقَالَ لِلرَّجُلِ: أَتَكْتُبُ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَاشْتَرَى أَدِيمًا لِنَفْسِهِ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ إِلَيْهِ فَنَسَخَهُ فِي بَطْنِهِ وَظَهْرِهِ، ثُمَّ أَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَقْرَأُهُ عَلَيْهِ، وَجَعَلَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَلَوَّنُ، فَضَرَبَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِيَدِهِ الْكِتَابَ، وَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، أَلَا تَرَى إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ الْيَوْمِ وَأَنْتَ تَقْرَأُ هَذَا الْكِتَابَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «إِنَّمَا بُعِثْتُ فَاتِحًا وَخَاتَمًا، وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَفَوَاتِحَهُ، وَاخْتُصِرَ لِي الْحَدِيثُ اخْتِصَارًا، فَلَا يُهْلِكَنَّكُمُ الْمُتَهَوِّكُونَ»[63]
(ابوقلابہ سے روایت ہے كہ حضرت عمررضی اللہ عنہ ایك آدمی كے پاس گزرے وہ كوئی كتاب پڑھ رہا تھا۔ حضرت عمر نے كچھ دیراس كو سنا اور اس كو اچھا جانا۔ اس آدمی سے كہا :كیا آپ اس كتاب میں سےنقل كرسكتے ہیں؟ اس نے كہا: جی ،ہاں! حضرت عمر نے چمڑے كا ایك ٹكڑا خریدا پھر اس شخص كے پاس لے آئے، اس نے دونوں جانب اس پر لكھا۔حضرت عمر اس تحريركو آپﷺ كی خدمت میں لے آیا اور پڑھنے لگے۔ آپﷺ كاچہرہ مبارك سرخ پیلا ہو رہا تھا۔ ایك انصاری صحابی نےاس مكتوب پر ہاتھ مارا اور كہا :تیری ماں تجھے روئے ،اے ابن الخطاب!كیاتم آپﷺ كے چہرہ مبارك كو نہیں دیكھ رہے ہوجب آپ یہ لكھا ہوا پڑھ رہے ہو۔ اس وقت آپﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے جو امع الكلم اور فواتح سے نواز گیا ہے، بات كو میرے لیے انتہائی مختصر كی گئی ہے، پس حیران لوگ تمہیں ہلاك نہ كریں)
(و)- چھٹی حدیث:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي مَرَرْتُ بِأَخٍ لِي مِنْ قُرَيْظَةَ، وَكَتَبَ لِي جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ، أَفَلَا أَعْرِضُهَا عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: مَسَخَ اللَّهُ عَقْلَكَ، أَلَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا قَالَ: فَسُرِّيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، أَنْتُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ»[64]
(عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ حضرت عمررضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور كہنے لگے :یا رسول اللهﷺ!نبو قريظہ كے ایك بھائی كے پاس سے میرا گزر ہوا، اس نے تورات میں سے چند جامع قسم كی باتیں لكھیں،میں ان باتوںكو آپ كے سامنے نہ پیش نہ كروں؟!۔رسول اللهﷺ كے چہرے كا رنگ تبدیل ہوا۔ عبداللہ كہتے ہیں، میں نےكہا:اللہ تیری عقل كاستياناس كرے، كیا آپ رسول اللهﷺ كے چہرے پر ناراضگی كے آثار نہیں دیكھ رہے ہیں؟!حضرت عمر نے كہا: میں اللہ تعالیٰ كے رب ہونے ،اسلام كے دین ہونے اور محمدﷺ كے نبی ہونے پر خوش اورراضی ہوں ۔فرمایا: اس سے آپ كو خوشی ہوئی۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا:اس ذات كی قسم جس كے قبضہ قدرت میں محمد كی جان ہے!اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے درمیان آجائیں پھر تم لوگ ان كی پیروی كروگے اور مجھے چھوڑوگے، تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ تم تمام امتوں میں سے میرے حصے كے ہوں اور میں تمام انبیاء میں سے تمہارے حصے كا ہوں)
(ز)-ساتویں حدیث:
عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ مِنْ قَصَصِ يُوسُفَ فِي كَتِفٍ فَجَعَلَتْ تَقْرَأُ عَلَيْهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَلَوَّنُ وَجْهُهُ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَتَاكُمْ يُوسُفُ وَأَنَا فِيكُمْ فَاتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ»[65]
(زھری سے روایت ہے كہ آپ ﷺ كی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا آپ كی خدمت میں یوسف علیہ السلام کےقصےپرمشتمل ھڈی پر لکھی ہوئی ایک تحریر لے آئی، اور آپ كے سامنے پڑھنے لگی۔ آپﷺ كےچہرہ مبارك كارنگ تبدیل ہونےلگا۔آپ نے فرمایا:اس ذات كی قسم جس كے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر یوسف علیہ السلام میری موجودگی میں تمہارے پاس آ ئیں اور تم مجھے چھوڑكر ان كی پیروی كرو ا تو گمراہ ہو جاؤ گے)
احادیث مبارکہ سےمستنبط فوائد:
ان احادیث سے حسب ذیل امورثابت ہوئے:
1-مسلمانوں كو اہل كتاب سے دین كی باتوں كے بارے میں نہیں پوچھنا چاہیے۔
۲۔ قرآن مجید آخری نازل ہونے والی كتاب ہے جس كی تعلیمات محكم، محفوظ اور تاقیامت قابل عمل ہیں۔
۳۔ اہل كتا ب نے اللہ كی كتابوں میں تحریف اور تبدیلی كی، اور اپنی طرف سے بعض چیزیں شامل كی ہیں۔
۴۔ اہل كتاب گمراہ ہوچكے ہیں، اس لیے مسلمانوں كو ان سے ہرگز راہنمائی نہیں مل سكتی۔
۵۔ دین كے متعلق اہل كتاب كی باتیں یقینی طور پر درست نہیں،تاہم ان میں درست ہونے كا احتمال ہے۔
۶۔ أہل کتاب کی کتابوں میں مذکور باتوں كی نہ تكذیب كرنی چاہیے اور نہ تصدیق۔
۷۔ اہل كتاب كی جو باتیں قرآن مجید كی تعلیمات سے متصادم ہیں،ان كو رد كرنا ضروری ہے، اور جو قرآنی تعلیمات سے متصادم نہیں ان كو قبول كیا جاسكتا ہے۔
۸۔ قرآن مجید كی موجودگی میں اہل كتاب كی كتابوں كو دینی راہنمائی حاصل كرنے كے لیے پڑھنا غیر مستحسن ہے ، نبی اكرمﷺ نے اس پر شدیدناگواری كا اظہار كیا ہے۔
۹۔ آخری پیغمبرﷺ(خاتم النبیین) كی بعثت كے بعد آپ ہی كی لائی ہوئی شریعت كی پیروی لازم ہے۔
10۔ اگر سابقہ پیغمبروں میں سے بھی كوئی پیغمبر دنیا میں تشریف لائیں گے تو وہ اپنی شریعت كی پیروی نہیں كریں گے بلكہ حضرت محمدﷺ كی شریعت كی پیروی كے پابند ہوں گے۔
خلاصہ یہ ہوا،کہ شرائع من قبلنا كاكوئی اگردلیل شرعی سے ثابت نہ ہو، مثلاً :اہل كتاب نے نقل كیا ہو، یا كسی مسلمان نے شرائع سابقہ كی كتب سے اسكوحكم شرعی سمجھا ہو، تو ایسے احكام كی اتباع ہمارے اوپر لازم اور ضروری نہیں، اس لیے كہ ان كے ہاں موجود كتابیں(كتاب مقدس یابائیل) كا محرف ومبدل ہونا دلیل قطعی سے ثابت ہے، اس لیے اس حكم كا احكام محرفہ مبدلہ میں سے ہونےکا ہر وقت احتمال رہےگا،گویا اس كا حكم شرعی ہونا ثابت نہیں، اور غیر حكم شرعی ہونے كا احتمال دلیل سے ثابت ہے، بلكہ اگر اہل كتاب میں سے كوئی مشرف باسلام ہوجائے، تو بھی اس كا یہ كہنا كافی نہیں ہوگا، كہ فلاں حكم ہماری شریعت كا حكم ہے، اس لیے كہ اس كےمعلومات كی بنیاد اس كی سابقہ شریعت كی كتاب یا انكےمسلمات ہیں، اور یہ دونوں امور ہمارے لیےحجت شرعی نہیں،ہمارے لیےحجت شرعی ہماری كتاب اور ہمارے نبی كی سنت ہے۔صاحب کشف الاسرارکے الفاظ ملاحظہ ہوں:۔
فَأَمَّا مَا عُلِمَ بِنَقْلِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَوْ بِفَهْمِ الْمُسْلِمِينَ مِنْ كُتُبِهِمْ، فَإِنَّهُ لَا يَجِبُ اتِّبَاعُهُ لِقِيَامِ دَلِيلٍ مُوجِبٍ لِلْعِلْمِ عَلَى أَنَّهُمْ حَرَّفُوا الْكُتُبَ فَلَا يُعْتَبَرُ نَقْلُهُمْ فِي ذَلِكَ وَلَا فَهْمُ الْمُسْلِمِينَ ذَلِكَ مِمَّا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ الْكُتُبِ لِتَوَهُّمِ أَنَّ الْمَنْقُولَ أَوْ الْمَفْهُومَ مِنْ جُمْلَةِ مَا حَرَّفُوا وَبَدَّلُوا، وَكَذَا لَا يُعْتَبَرُ قَوْلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ فِيهِ؛ لِأَنَّهُ إنَّمَا عَرَفَ ذَلِكَ بِظَاهِرِ الْكِتَابِ أَوْ بِقَوْلِ جَمَاعَتِهِمْ وَلَا حُجَّةَ فِي ذَلِكَ لِمَا قُلْنَا۔[66]
(اورجن احکام کا اہل کتاب کےذریعے شرائع سابقہ میں سے ہونا ثابت ہو،یامسلمانوں نےان کی کتابوں سے اس کوسمجھا ہو،تو ایسے احکام کی پیروی واجب نہیں،اس لئے کہ دلیل قطعی سے ثابت ہے ،کہ انہوں نے کتابوں میں تحریف کی ہے ،بنا برین! ان کا نقل کرنا معتبر نہیں ۔اسی طرح مسلمانوں کا ان کے ہاتھوں میں موجود کتابوں سے کسی حکم کو سمجھنا اوراس کونقل کرنا بھی معتبر نہیں ،اس لئے کہ یہ احتمال موجود ہے ،کہ ان کاسمجھا ہوا اور نقل کیا ہوا حکم منجملہ محرف ومبدل احکام میں سے ہو۔اسی طرح اہل کتاب میں سے اسلام قبول کرنے والوں کے قول کا بھی اعتبار نہیں اس لئے کہ ان کے قول کی بنیاد ظاہر کتاب ہوگی ،یا پھر اہل کتاب کی جماعت کا قول، اور وہ ہمارے لئے حجت نہیں)
حاصل کلام یہ ہوا،کہ تیسرامسلک بھی مرجوح ہے۔
چوتھامسلك ، وضاحت ودلائل:
" ثبوت شرعی كی بنیاد پر اپنے نبی كی شریعت كی حیثیت سے اتباع لازم ہے"
تیسرااور چوتھا مسلك ایک حیثیت سے مشترك ہیں اور ایک حیثیت سے مختلف۔اشتراک اس حیثیت سے ہے كہ شرائع من قبلنا كی پیروی ہم پر واجب ہے، لیكن اس حیثیت سے ، كہ وہ ہمارے نبی كی شریعت بن گئی ہے۔ فرق اس حوالے سے ہے، كہ تیسرے مسلك كے مطابق شرائع من قبلنا ہمارے لیے مطلقاًواجب التعمیل ہے، كسی بھی ذریعے سے معلوم ہوجائے، كہ یہ حكم پچھلی شریعتوں كا ہےہم اس كی پیروی كے پابند ہے الایہ كہ وہ حكم منسوخ ہوجائے۔ جبكہ چوتھے مسلك كے مطابق ہم اس وقت اس كی پیروی كے پابند ہیں، جب معتبر شرعی طریقے سے ثابت ہوجائے كہ یہ حكم شرائع سابقہ كا حكم ہے۔ امام غزالی لکھتے ہیں:
وَالصَّحِيحُ عِنْدَنَا أَنَّ مَا قَصَّ اللَّهُ تَعَالَى مِنْهَا عَلَيْنَا مِنْ غَيْرِ إنْكَارٍ أَوْ قَصَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَيْرِ إنْكَارٍ فَإِنَّهُ يَلْزَمُنَا عَلَى أَنَّهُ شَرِيعَةُ رَسُولِنَا - عَلَيْهِ السَّلَامُ –[67]
(ہمارے نزدیك صحیح قول یہ ہے كہ اللہ تعالیٰ نے جو پچھلی شریعت كے احكام انكار كے بغیر ہمارے سامنے بیان فرمائے یا رسولﷺ
نے انكار كے بغیر بیان فرمائے، تو ہمارے اوپر اس حیثیت سے اس كی پیروی لازم ہے كہ وہ ہمارے رسولﷺ كی شریعت ہے)
با لفاظ دیگر كسی دلیل شرعی (آيت قرآنيہ یاحدیث نبویہ )سے جن احكام كا شرائع سماویہ سابقہ میں سے ہونا ثابت ہو ، تو ناسخ صریح كے ظہور تك اس كی اتباع ہم پر لازم ہوگی، لیكن اس حیثیت سے ،كہ وہ ہمارے نبی كی شریعت بن گئی ہے۔ پس جس حكم كاكتاب اللہ یا سنت رسول اللہ سے حكم شرعی ہونا بغیر انكار وبغیر دلیل نسخ كے ثابت ہو جائے تو صرف وہی ہمارے لیے حكم شرعی ہوگا۔ ظاہر ہے كہ جب اس كا حكم شرعی ہونا ہماری كتاب(قرآن مجید) اور ہماری سنت وحدیث پر منحصر ہے، تو ہمارے لیے ہماری ہی شریعت كے ایك حكم ہونے كی حیثیت سے واجب الاتباع اور لازم العمل ہے۔ اور یہی اكثر مشائخ و ائمہ احناف كا مسلك ہے، جن میں ابو منصور، قاضی امام ابوزید،شيخین اور اكثر متاخرین كے نام نمایاں ہیں۔صاحب كشف الاسرار لكھتے ہیں:
ذَهَبَ أَكْثَرُ مَشَايِخِنَا مِنْهُمْ الشَّيْخُ أَبُو مَنْصُورٍ وَالْقَاضِي الْإِمَامُ أَبُو زَيْدٍ وَالشَّيْخَانِ وَعَامَّةُ الْمُتَأَخِّرِينَ - رَحِمَهُمُ اللَّهُ - إلَى أَنَّ مَا ثَبَتَ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى أَنَّهُ كَانَ مِنْ شَرِيعَةِ مَنْ قَبْلَنَا أَوْ بِبَيَانٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْزَمُنَا الْعَمَلُ بِهِ عَلَى أَنَّهُ شَرِيعَةُ نَبِيِّنَا مَا لَمْ يَظْهَرْ نَاسِخُهُ،[68]
(ہمارے اكثر مشائخ ، جن میں ابو منصور، قاضی امام ابوزید،شيخین اور اكثر متاخرین كے نام نمایاں ہیں، نے یہ مذہب اختیار کیا ہے ، کہ کتاب اللہ یاسنت رسول سےجس حکم کا شرائع سابقہ میں سے ہوناثابت ہو جائے،توناسخ ظاہر ہونے تک اس حیثیت سے اس پرعمل کرنا ہمارے اوپر لازم ہے،کہ وہ ہمارے نبی کی شریعت ہے)
چوتھےمسلك كےدلائل :
چوتھاموقف ، یعنی:۔
"ثبوت شرعی كی بنیاد پر شرائع سابقہ پر عمل كرنا لازم ہے، لیكن شریعت محمدیہ كی حیثیت سے"
کی بنیاد حسب ذیل آیات کریمہ اور احادیث نبوی ہیں:
پہلی دلیل،قرآن مجیدسے:
{وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ}
[آل عمران: 81]
( اور جب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم، پھر آوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتا دے تمہارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے)
استدلال کاخلاصہ:
علامہ عثمانی رحمہ اللہ آیت كریمہ كی تفسیر میں لكھتے ہیں:"اس آیت کریمہ میں بتایا گیا کہ حق تعالٰی نے خود پیغمبروں سے بھی یہ پختہ عہد لے چھوڑا ہے ، کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرانبی آئے تو ضروری ہے کہ پہلا نبی پچھلےکی صداقت پر ایمان لائے اوراس کی مدد کرے۔
اگر اس کا زمانہ پایا تو بذات خود بھی اور نہ پائے تو اپنی امت کوپوری طرح ہدایت وتاکید کر جائے کہ بعد میں آنے والے پیغمبر پر ایمان لاکر اس کی اعانت ونصرت کرنا ،کہ یہ وصیت کرجانابھی اس کی مدد کرنے میں داخل ہے۔اس عام قاعدہ سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ خاتم الانبیاء محمد رسول اللہﷺ پرایمان لانے اور ان کی مددکرنے کا عہد بلااستثناء تمام انبیاء سابقین سے لیاگیا ہوگا ،اور انہوں نے اپنی اپنی امتوں سے یہ ہی قول وقرار لئے ہونگے ۔۔۔حضرت علی وابن عباس وغیرہ سے منقول ہے،کہ اس قسم کاعہد انبیاء سے لیاگیا"[69]
شمس الائمۃبزدوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: یہ آیت كریمہ اس بات كی واضح دلیل ہے كہ شرائع میں ہمارے نبیﷺ تمام شریعتوں اور تمام انبیاء كرام علیہم السلام كے لیے اصل اور متبوع ہیں اور تمام شرائع واصحاب الشرائع انبیاء كرام آپ ﷺكے تابع ہیں، وجوب اتباع كی حیثیت سے تمام انبیاء كرام آپ ﷺكے لیے بمنزلہ امتى كے ہیں۔ اگلے پچھلے خلائق كے لیے آپ ﷺبمنزلہ رأس وقلب كے ہیں، اور سب نے آپ كی پیروی كرنی ہے۔آپ ﷺكی اس حیثیت ثابت ہونے كے بعد آپ كو شرائع سابقہ كی پیروی كا پابند ٹھہرانا اس بات كو مستلز م ہے كہ آپ انبیاء سابقین كے تابع ہوں، متبوع نہ ہوں،آپ ان كی امت كے افراد میں سے ایك فرد اور امتی ہوں وہ آپ كے امتی نہ ہوں، آپ كا مقام ان كے مقام سے كمتر ہو، افضل نہ ہو۔ جبكہ ان باتوں كا كوئی بھی قائل نہیں، اس لیے كہ ان كو صحیح ماننے سے لازم آتا ہے كہ آپ ﷺكو متبوعیت كے اعلیٰ مقام سے تابىعت كے ادنیٰ مقام پر لایا جائے،اور داعی انسانیت كے مقام بلند سے مدعویت كے فروتر مقام كی طرف لایا جائے جو صحیح اور درست نہیں[70]
اشکال:
اس تشریحی وتوضیحی نظریے پر ىہ اعتراض وارد ہوسكتا ہے كہ انبیاء سابقین سب كے سب آپ ﷺسے پہلے گزرے ہیں، تو بعد میں
آنے والے گزرے ہوئے لوگوں كے لیے کیسے اصل اورمتبوع بن سكتے ہیں؟
جواب:
كسی كا زمانے كے لحاظ سے پہلے ہونا اس كے تابع ہونے سے مانع نہیں، جس طرح كسی كا زمانے كا لحاظ سے بعد میں ہونا اس كے متبوع ہونے سے مانع نہیں۔ تقدم زمانی كے باوجود تابع بننے كی نظىر نماز ظہر كی سنتیں ہیں، جو فرائض سے پہلے پڑھی جاتی ہیں اور فرائض بعد مىں ادا كئے جاتے ہىں، اس كے باوجود سنتیں تابع ہىں، اور فرائض اصل اور متبوع، اس لیے تمام انبیاء كرام علیہم السلام تقدم زمانی كے باوجود آپ ﷺكے تابع ہیں۔صاحب كشف الاسرار نے اس نظریے كو محسوس مثال كے ذریعے ایك اور تعبیر اور دوسرے زوایے سے سمجھایا ہے، فرماتے ہیں:
فَإِنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ فِطْرَةِ الْخَلْقِ إدْرَاكُهُمْ سَعَادَةَ الْقُرْبِ مِنْ الْحَضْرَةِ الْإِلَهِيَّةِ وَلَا يُمْكِنُ ذَلِكَ إلَّا بِتَعْرِيفِ الْأَنْبِيَاءِ - عَلَيْهِمْ السَّلَامُ - فَكَانَتْ النُّبُوَّةُ مَقْصُودَةً بِالْإِيجَابِ وَالْمَقْصُودُ كَمَالُهَا لَا أَوَّلُهَا، وَإِنَّمَا يَكْمُلُ بِحَسَبِ سُنَّةِ اللَّهِ جَلَّ جَلَالُهُ بِالتَّدْرِيجِ فَتَمَهَّدَ أَصْلُ النُّبُوَّةِ بِآدَمَ وَلَمْ يَزَلْ تَنْمُو وَتَكْمُلُ حَتَّى بَلَغَتْ الْكَمَالَ بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ تَمْهِيدُ أَوَائِلِهَا وَسِيلَةً إلَى الْكَمَالِ كَتَأْسِيسِ الْبِنَاءِ، وَتَمْهِيدُ أُصُولِ الْحِيطَانِ وَسِيلَةً إلَى كَمَالِ صُورَةِ الدَّارِ الَّتِي هِيَ غَرَضُ الْمُهَنْدِسِينَ وَلِهَذَا كَانَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ، فَإِنَّ الزِّيَادَةَ عَلَى الْكَمَالِ نُقْصَانٌ فَثَبَتَ أَنَّهُ هُوَ الْأَصْلُ فِي النُّبُوَّةِ وَالشَّرِيعَةِ، وَغَيْرُهُ بِمَنْزِلَةِ التَّابِعِ لَهُ[71]
( مخلو ق كوپیدا كرنے كا مقصدیہ ہے كہ وہ اللہ تعالیٰ كے ہاں تقرب حاصل كرنے كی سعادت سے سرفراز ہو جائیں، اور یہ مقام انبیاءكرام كی تعلیمات سے بہرہ ور ہونے كے بغیر ممكن نہیں۔ پس مقصد تخلیق پورا كرنے كے واسطے نبوت بھی مقصود ٹھہری، لیكن محض نبوت نہیں، بلكہ كمال نبوت،جوسنۃاللہ اور عادت خداوندی کے مطابق تدرىجاکمال تک پہنچی ۔گویا نبوت آدم تمہید تھى، جو مسلسل بڑھتی اور مراحل كمال طے كرتی رہی، یہاں تك كہ نبوت محمدیہ كے ساتھ كمال كے آخری مرتبے تك پہنچ گئی ،پس ابتدائی نبوتیں كمال نبوت تك پہنچنے كا وسیلہ اور ذریعہ تھیں، جیسے عمارت كی بنیادیں اور باغ کےاندردرختوں كی جڑیں عمارت اورباغ کی آخری اورکامل ومكمل شكل كے لیے وسیلہ اور ذریعہ ہوتی ہیں ،جو انجینئرز اورباغبان كےذہن میں موجود ہوتی ہے، جس كےبعد كمال كا كوئی درجہ نہیں ہوتا۔ ىہى وجہ ہے كہ آپﷺكو خاتم النبیین بنایا گیا، اس لیے كہ كمال تك پہنچنے كے بعد اضافہ نقصان سمجھا جاتا ہے۔ پس ثابت ہوا كہ نبوت وشریعت میں آپ ﷺاصل ہیں، اور دیگر نبوتیں تابع ہیں)
یہی وجہ ہے كہ آپ ﷺكی شریعت تمام انسانیت كے لیے ہے، جس پر کئی نصوص دلالت کررہی ہیں ،جوآگے بیان ہوں گی ۔
دوسری دلیل،قرآن مجیدسے :
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (السبأ:28)
(اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو سارے لوگوں کے واسطے خوشی اور ڈر سنانے کو لیکن بہت لوگ نہیں سمجھتے )
استدلال کاخلاصہ:
اس آیت کریمہ كا مفہوم یہ ہے كہ آپ ﷺاگلے پچھلے تمام انسانوں كے لیے نبی ہیں اور آپ كی شریعت جس طرح آپ كے بعد
آنے والے انسانوں كے لیے واجب الاتباع ہے، اسی طرح آپ سے پہلے گزرنے والوں كے لیے بایں معنی واجب الاتباع ہے، كہ اگر ان میں سے كوئی دنیا میں آئے گا تو شریعت محمدیہ كی پیروی كا پابند ہوگا۔ صاحب كشف الأسرارلکھتے ہیں:
أَنَّهُ مَبْعُوثٌ إلَى جَمِيعِ النَّاسِ حَتَّى وَجَبَ عَلَى الْمُتَقَدِّمِينَ وَالْمُتَأَخِّرِينَ اتِّبَاعُ شَرِيعَتِهِ فَكَانَ الْكُلُّ تَابِعًا لَهُ.[72]
(آپ ﷺتمام لوگوں کی طرف مبعوث تھے یہاں تک کہ اگلے پچھلوں سب پر آپ ﷺکی شریعت کی پیروی واجب تھی ،پس سب آپ ﷺکے تابع تھے)
آیت كریمہ كی تفسیر میں مفسرین كے اقوال:
مفسرین عظام آیت كریمہ كی تفسیر میں رقمطراز ہیں:
حافظ ابن كثير:
يَقُولُ تَعَالَى لِعَبْدِهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ{وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا كَافَّةً لِلنَّاسِ} أَيْ: إِلَّا إِلَى جَمِيعِ الْخَلْقِ مِنَ الْمُكَلَّفِينَ،كَقَوْلِهِ تَعَالَى{قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا} [الْأَعْرَافِ:158]،{تَبَارَكَ الَّذِي نزلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا} [الْفُرْقَانِ: 1] ...قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا كَافَّةً لِلنَّاسِ} يَعْنِي: إِلَى النَّاسِ عَامَّةً.وَقَالَ قَتَادَةُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: أَرْسَلَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ،... -عَنْ عِكْرِمة قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنِ اللَّهَ فَضَّلَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ وعلى الأنبياء. قالوا: يا ابن عَبَّاسٍ، فِيمَ فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ:{وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ} ، وَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:{وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا كَافَّةً لِلنَّاسِ}، فَأَرْسَلَهُ اللَّهُ إِلَى الْجِنِّ وَالْإِنْسِ.وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ رَفْعهُ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي:... وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً".وَفِي الصَّحِيحِ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بُعِثْتُ إِلَى الْأَسْوَدِ وَالْأَحْمَرِ" قَالَ مُجَاهِدٌ. يَعْنِي: الْجِنَّ وَالْإِنْسَ. وَقَالَ غَيْرُهُ: يَعْنِي: الْعَرَبَ وَالْعَجَمَ. وَالْكُلُّ صَحِيحٌ.[73]
(اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول محمدﷺ سے ارشاد فرماتے ہیں : {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا كَافَّةً لِلنَّاسِ}{ہم نےآپ كومخلوق میں سے تمام مكلفین كی طرف مبعوث فرمایا}جیسے ارشاد فرمایا :{قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا} [الْأَعْرَافِ:158](تو کہہ اے لوگو!میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف ){تَبَارَكَ الَّذِي نزلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا} [الْفُرْقَانِ: 1](بڑی برکت ہے اس کی جس نے اتاری فیصلہ کی کتاب اپنے بندہ پر تاکہ رہے جہان والوں کے لیے ڈرانے والا )محمد بن كعب سورہ سبأ كی آیت كی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی تمام لوگوں كی طرف ۔قتادہ اس آیت كی تفسیر میں فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ كو عرب وعجم كی طرف مبعوث فرمایا۔۔۔۔عكرمہ سے روایت ہے،فرمایا: میں نے ابن عباس كو سنا، فرما رہے تھے:اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ كو آسمان والوں اور انبیاءكرام پربرتری دی۔شاگردوں نے دریافت کیا: انبیاء پر کس حوالے سے فضيلت دی؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ كا ارشاد ہے{وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ} اور نبی كریمﷺ سے فرمایا : {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلا كَافَّةً لِلنَّاسِ}پس اللہ نے آپ كو جن وانس كی طرف بھیجا ہے۔ ابن عباس نے جو ارشاد فرمایا:صحیحین میں حضرت جابر كی مرفوع حدیث میں ثابت ہے، فرمایا: رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے پانچ خصوصیتوں سے نوازا گیا جو مجھ سےپہلے انبیاء كرام كو نہیں دی گئیں تھیں۔ ان میں ایك خصوصیت یہ ہے كہ ہرنبی صرف اپنی قوم كی طرف مبعوث ہوتا تھا اور مجھے تمام لوگوںكی طرف مبعوث كیاگیا ہے۔ حدیث صحیح میں بھی فرمایا :مجھے كالے اور گورے كی طرف بھیجا گیاہے۔ مجاہد نے معنی بیان كیا كہ جن وانس كی طرف۔ بعض نے كہا: عرب وعجم كی طرف۔ دونوں باتیں درست ہیں۔
علامة آلوسي رحمه الله:
والآية عليه أظهر في الاستدلال علی عموم رسالته ﷺ وهي في ذلك كقوله تعالى: قُلْ يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعاً [الأعراف: 158][74]
(آپ ﷺ كی رسالت كے عموم پر استدلال كرنے میں آیت کریمہ بالكل واضح اورصریح ہے اور اس پر دلالت كرنے میں یہ سورہ اعراف كی{قل یاایھاالناس الایة} جيسی ہے)
علامة ابن عاشور رحمه الله:
وفي هذه الآية إثبات رسالة محمد ﷺ على منكريها من العرب وإثبات عمومها على منكريها من اليهود.[75]
( اس آیت كریمہ میں عرب منكرین رسالت كے مؤقف كے خلاف محمدﷺ كی رسالت كا اثبات ہے اور عموم رسالت كے یہودی منكرین كے خلاف رسالت محمدیہ كے عموم كا اثبات ہے)
استدلال مذكور كی تائید، احادیث نبویۃسے:
آیت کریمہ کی متذکرہ بالا تفسیر كی دلیل وہ احادیث نبویہ ہیں، جن میں یہ مذكورہے كہ بعثت محمدیہ کے بعد اگر سابقہ انبیاء علیہم السلام دنیا میں تشریف لائینگے توشریعت محمدیہ کی پابندی کرینگے ،نہ کہ اپنی شریعت کے۔احادیث ملاحظہ ہوں:
پہلی حدیث :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺقَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّكُمْ مِنْكُمْ؟»، فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ: إِنَّ الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ» قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ: «تَدْرِي مَا أَمَّكُمْ مِنْكُمْ؟» قُلْتُ: تُخْبِرُنِي، قَالَ: «فَأَمَّكُمْ بِكِتَابِ رَبِّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»[76]
(رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس وقت تمہارا كیا حال ہوگاجب ابن مریم تمہارے درمیان نزول فرمائیں گے اور تم میں سے كوئی شخص تمہاری امامت كرے گا؟!ولید بن مسلم كہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ ابن ابی ذئب سے كہا، كہ امام اوزاعی نے ہمیں۔۔۔ یہ حدیث یوں نقل كی ہے :«وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ» (تمھارا امام تم میں سے ہوگا)۔ فرمایا: جانتے ہو«أَمَّكُمْ مِنْكُمْ »كا كیا مطلب ہے؟۔میں نےعرض كیا:آپ بتلا دیجئے ۔فرمایا :تمہارے رب كی كتاب اور نبی كی سنت كے مطابق تمہاری امامت/پیشوائی كرے گا)
روایت كا حاصل یہ ہے كہ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے دوقسم كا الفاظ مروی ہیں(۱)«وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ»(۲)«أَمَّكُمْ مِنْكُمْ »پہلی قسم كے الفاظ كا معنیٰ متعین ہے، یعنی عیسیٰ علیہ السلام كی موجودگی میں بھی امامت كا فریضہ امت محمدیہ ہی كاایك فردسرانجام دیگا، پھر امامت كے معنی میں دواحتمالات ہیں۔(۱) نماز كی امامت(۲) پیشوائی اور حاكم۔ لیكن حضرت جابر كی روایت امامت صلوٰة كے معنی كو متعین كرتی ہے، جس كے الفاظ یہ ہیں(فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ[77] ) (مسلمانوں كے امیر كہیں گے:تشریف لائے ہمیں نماز پڑھا دیجیئے۔ حضرت عیسیٰ فرمائیں گے: نہیں،تم آپس میں ایك دوسرے كے امیر ہو ) جبكہ دوسری قسم كے الفاظ«أَمَّكُمْ مِنْكُمْ » میں معنی خاص(امامت نماز)اورمعنی عام(پیشوائی) دونوں كا احتمال ہے۔ امامت نماز، جس کوحدیث جابر نے تقریباً متعین كردیا ہے،اور معنی عام کوابن أبی ذئب نے ترجیح دی ہے۔ تاہم دونوں احتمالات پر ہمارا مدعا ثابت ہوتا ہے۔ پہلے احتمال میں تواس بات كی صراحت ہے كہ عیسیٰ علیہ السلام كی موجودگی میں امت محمدیہ كا ایك فرد امامت كرے گا تاكہ امت محمدیہ كی عزت افزائی اوراكرام ہو۔ دوسرے احتمال میں ہے اس بات كی صراحت ہے كہ عیسیٰ علیہ السلام قرآنی احكام اور نبیﷺ كی سنت كے ذریعے اس امت كی پیشوائی كریں گے ۔اور یہی مقصود ثابت كرنا ہے كہ عیسیٰ علیہ السلام كی آمد بحیثیت امتی ہوگی نہ كہ بحیثیت نبی ورسول،وھوالمطلوب۔
دوسری حدیث :
عَنِ ابْنِ المُسَيِّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا،فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ،وَيَقْتُلَ الخِنْزِيرَ،وَيَضَعَ الجِزْيَةَ،وَيَفِيضَ المَالُ حَتَّى لاَيَقْبَلَهُ أَحَدٌ»[78]
( فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے !کہ عنقریب تم میں ابن مریم اتریں گے وہ منصف حاکم ہوں گے صلیب توڑ یں گے اور سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کریں گے اور مال کی اس قدر کثرت ہوگی کہ کوئی قبول كرنے والا نہ ہوگا)
تیسری حدیث:
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، ...يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمِّي مُجَمِّعَ ابْنَ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ».[79]
(۔۔۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ابن مریم دجال کوباب لُدّ کے پاس قتل کرینگے)
ان دونوں احادیث میں یہ بات بتائی گئی ہے كہ عیسیٰ علیہ السلام حاکم عادل بن کرآئیں گے،دجال كے خلاف قتال كریں گے۔ اور یہ بات ثابت ہے كہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے حکمرانی کی اور نہ شریعت عىسوىہ میں قتال وجہاد كا حكم تھا، اس لئے وہ بموجب حكم شریعت محمدیہ حکمرانی کرینگے اورقتال فرمائیں گے۔اسی لئے امام نووی رحمہ اللہ نے نزول عیسٰی سے متعلق احادیث کو عنوان دیاہے:"بَابُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ حَاكِمًا بِشَرِيعَةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اور حدیث كے الفاظ "حكمامقسطًا"كی شرح میں فرمایا:
(حَكَمًا)أَيْ يَنْزِلُ حاكما بهذه الشريعة لاينزل نبيابِرِسَالَةٍ مُسْتَقِلَّةٍ وَشَرِيعَةٍ نَاسِخَةٍ بَلْ هُوَ حَاكِمٌ مِنْ حُكَّامِ هَذِهِ الْأُمَّةِ.[80]
(اس شریعت(محمدیہ) كے مطابق فیصلے كرنے والے حاكم كی حیثیت سے تشریف لائیں گے مستقل رسالت اورناسخ شریعت والے نبی كی حیثیت سے تشریف نہیں لائیں گے بلكہ اس امت(محمدیہ) كے حكام میں سے ایك حاكم كے فیصلے كرنے والے كی حیثیت سے تشریف لائیں گے)
چوتھی حدیث:
عَنْ جَابِرٍرضی الله عنه: " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَتَى النَّبِيَّ ﷺ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ!إِنِّي أَصَبْتُ كِتَابًا حَسَنًا مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَغَضِبَ وَقَالَ: «أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي»[81]
(حضرت عمررضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک کتاب لے کر حاضر ہوئے ،جو انہوں نے اہل کتاب سے حاصل کی تھی کہنے لگے: یارسول اللہ !میں نے اہل کتاب سے ایک اچھی کتاب حاصل کی ہے۔آپ غصے ہوئے اور فرمایا :خطاب کے بیٹے!کیاتمہیں شریعت محمدیہ میں تردد ہے؟!اس ذات کی قسم ،جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،تحقیق میں تمہارے پاس ایک صاف ستھری بے غبار شریعت لے کرآیا۔ ان یہود نصاری ٰسے کچھ نہ پوچھو ،کہیں وہ تمہیں حق بات کی خبر دے تو تم اس کوجھٹلانے لگو،یاپھر غلط خبر دے توتم کی اس تصدیق کرنے لگو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی كے بغیر ان كے پاس كوئی اور راستہ نہ ہوتا)
پانچویں حدیث:
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی الله عنهما: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:" لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ، وَقَدْ ضَلُّوا، فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ، أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ،مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي"[82]
(جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ آپ نے ﷺ نے فرمایا: اہل كتاب سے كچھ بھی نہ پوچھووہ ہر گز تمہاری راہ نمائی نہیں كریں گے،جبكہ وہ خود گمراہ ہوچكے ہیں۔ یاتو تم باطل باتوں كی تصدیق كربیٹھو گے، یا پھر حق باتوں كی تكذیب كے مرتكب ہوں گے۔ اگر موسٰی علیہ السلام بھی تمہارے درمیاں زندہ ہوتے تو ان كے لیے بھی میری پیروی كے بغیر اور كوئی طریقہ جائز نہ ہوتا)
چھٹی حدیث:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " يَا مَعْشَرَ المُسْلِمِينَ، كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الكِتَابِ، وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الأَخْبَارِ بِاللَّهِ، تَقْرَءُونَهُ لَمْ يُشَبْ، وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللَّهُ أَنَّ أَهْلَ الكِتَابِ بَدَّلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ وَغَيَّرُوا بِأَيْدِيهِمُ الكِتَابَ، فَقَالُوا: هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا، أَفَلاَ يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ العِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِهِمْ، وَلاَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ "[83]
(ابن عباس فرماتے ہیں:مسلمانو! تم اہل كتاب سے كیونكر پوچھتے ہو، جبكہ تمہاری وہ كتاب،جو تمہارے نبی پر اتاری گئی ہے، اللہ كے احكام پر مشتمل باعتبار نزول جدید ترین کتاب ہے جس كو تم پڑھتے ہو، پرانی نہیں ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بتایا ہے كہ اہل كتاب نے اللہ كے لكھے ہوئے كو تبدیل كردیا ہے، اور اپنے ہاتھوں سے كتاب الہٰی میں تبدیلیاں كی ہیں، اور كہنے لگے كہ ہمارے ہاتھ كا لكھا ہوا اللہ كی طرف سے آیا ہے، تاكہ اس پر تھوڑاسامال لے لیں۔ كیا تمہارے پاس آنے والے علم(قرآن)نے تمہیں اہل كتاب سے پوچھنے سے منع نہیں كیا؟! بخداان اہل كتاب میں ہم نے كوئی شخص ایسا نہیں دیكھا، جو تمہارے اوپر نازل ہونے والی كتاب كے باے میں تم سے پوچھتے ہوں)
اس حدیث شریف سے جہاں یہ بات معلوم ہوئی ،کہ شریعت محمدیہ کے آنے کے بعد اب سابقہ شریعتوں کو نہ دیکھا جائے ، وہاں اس کی وجہ بھی بیان ہوئی ،کہ محرف ومبدل ہونے کی وجہ سے وہ اب قابل اعتبار نہیں رہیں۔ بہرحال!یہ بات ثابت ہوئی،کہ شریعت محمدیہ اصل ہے اور دیگر شرائع اس كی تابع ہیں۔
تیسری دلیل،قرآن مجیدسے:
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا (فاطر:32)
( پھر ہم نے وارث کیے کتاب کے وہ لوگ جن کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں سے)
استدلال كا خلاصہ:
اس آیت كریمہ میں یہ بتایا گیا ہے كہ نبی اكرمﷺ سابقہ انبیاء كی شریعتوں كے محاسن كے وارث ہیں، گویا وہ شرائع میراث ہیں، جو خاتم الانبیاءكی طرف منتقل ہوئی ہیں۔ اور میراث كا اصول یہ ہے كہ وہ مورث كی ملكیت سے وارث كى ملكیت میں منتقل ہو جاتی ہے، پھر وہ وارث ہی كی ملكیت رہتی ہے، اور وارث ہى كی طرف منسوب ہوتی ہے، مورث كى طرف نہىں، اس لحاظ سے خاتم الانبیاءﷺ تمام شرائع سابقہ كے وارث ہیں اور اب وہ شریعتیں آپ كی طرف منسوب ہیں۔ تو اس كی پیروی آپ پراور آپ كی امت پر بایں حیثیت واجب ہے كہ وہ آپ كی شریعت ہیں نہ كہ ان سابقہ انبیاء كی شرائع۔صاحب كشف الاسرار رقمطراز ہیں:
أَشَارَ إلَى أَنَّ شَرَائِعَ مَنْ قَبْلَنَا إنَّمَا تَلْزَمُنَا عَلَى أَنَّهَا شَرِيعَةٌ لِنَبِيِّنَا لَا أَنَّهَا بَقِيَتْ شَرَائِعَ لَهُمْ، فَإِنَّ الْمِيرَاثَ يَنْتَقِلُ مِنْ الْمُوَرِّثِ إلَى الْوَارِثِ عَلَى أَنَّهُ يَكُونُ مِلْكًا لِلْوَارِثِ وَمُضَافًا إلَيْهِ لَا أَنَّهُ يَكُونُ مِلْكًا لِلْمُوَرِّثِ فَكَذَلِكَ هَذَا۔[84]
(آیت كریمہ میں اس بات كی طرف اشارہ ہے كہ سابقہ شریعتوں كی پیروی ہمارے اوپر اس حیثیت سے لازم ہے كہ وہ ہمارے نبی كی شریعت ہے، یہ نہیں كہ ابھی تك ان كی شریعت كی حیثیت سے باقی ہیں، اس لیے كہ میراث مورث سے وارث كی طرف اس طور پر منتقل ہوتی ہےكہ وارث كی ملك بن جاتی ہے، اور وارث كی طرف اس كی اضافت ونسبت ہو جاتی ہے نہ یہ كہ مورث كی ملك رہتی ہے۔ اس طرح یہاں بھی ہے)
چوتھی دلیل،قرآن مجیدسے:
(الف){مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ}(الحج: 78)
(دین تمہارے باپ ابراہیم کا )
(ب){قُلْ صَدَقَ اللَّهُ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيْفًا} (آل عمران: 95)
(تو کہہ سچ فرمایا اللہ نے اب تابع ہو جاؤ دین ابرا ہیم کے جو ایک ہی کا ہو رہا تھا )
استدلال كا خلاصہ:
دونوں آیت كریمہ صراحۃ اس بات پر دلالت كررہی ہیں كہ شریعت محمدیہ اور ملت ابراہیمیہ ایك ہی حقیقت كے دونام ہیں،اس لیے كہ نبی اكرمﷺ كو ملت ابراہیمی كی پیروی كا حكم دیاگیا ہے۔ اور یہ ایك ثابت شدہ حقیقت ہے كہ نزول آیت كے وقت وہ ملت ملت ابراہیمیہ برقرار نہیں رہی،جیسا كہ دوسرے مسلك كے ضمن میں بیان ہوا كہ ہر نبی كی شریعت كا وقت اس نبی كی وفات یا اگلے نبی كی بعثت كے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔ پس ملت ابراہیمی اس اعتبار سے كہا گیا كہ وہ ابراہیم كی برحق ملت تھی اور اب بھی برحق ملت ہے،تاہم ابراہىم علیہ السلام كی طرف اس كی نسبت ختم ہوئی اور اب وہ خاتم النبیین كی ملت بن گئی ۔ جس طرح مال موروث موت سے پہلے مورث كى ملكیت رہتا ہے، مورث كی موت كے بعد وارث كى ملكىت مىں منتقل ہو جاتا ہے۔ فرماتے ہیں:
فَثَبَتَ بِهَذَيْنِ النَّصَّيْنِ أَنَّ هَذِهِ الشَّرِيعَةَ مِلَّةُ إبْرَاهِيمَ وَقَدْ امْتَنَعَ ثُبُوتُهَا مِلَّةً لَهُ لِلْحَالِ لِمَا ذَكَرْنَا فِي الْقَوْلِ الثَّانِي فَثَبَتَ أَنَّهَا مِلَّتُهُ عَلَى مَعْنَى أَنَّهَا كَانَتْ لَهُ فَبَقِيَتْ حَقًّا كَذَلِكَ وَصَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ مُحَمَّدٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كَالْمَالِ الْمَوْرُوثِ مُضَافًا إلَى الْوَارِثِ لِلْحَالِ وَهُوَ عَيْنُ مَا كَانَ لِلْمَيِّتِ لَا مِلْكٌ آخَرُ لَكِنَّ الْإِضَافَةَ إلَى الْمَالِكِ يَنْتَهِي بِالْمَوْتِ إلَى الْوَارِثِ فَكَذَلِكَ الشَّرِيعَةُ فِي حَقِّ الْأَنْبِيَاءِ - عَلَيْهِمْ السَّلَامُ۔[85]
(ان دونوں آیات کریمہ سے ثابت ہوا ،کہ یہ شریعت ملت ابراہیمی ہے،جبکہ فی الحال اس شریعت کا ابراہیم علیہ السلام کی ملت ہونا ممتنع ہے ،جس کی وجہ ہم نے دوسرے قول میں ذکر کی ۔پس ثابت ہوا کہ یہ شریعت اس معنی کر ملت ابرہیمی ہے ،کہ یہ ابراہیم کی ملت تھی،لیکن اب یہ اسی طرح ملت حقہ برقرار رہ کر اللہ کے رسول محمد ﷺ کی ملت بن گئی ،جیسا کہ مال موروث فی الحال وارث کی طرف منسوب ہوتا ہے،جبکہ وہ بعینہ وہی مال ہوتا ہے ،جومیت کا تھا ،نہ کہ کوئی اور ملکیت ،لیکن موت کے ساتھ ہی مالک کی طرف نسبت ختم ہو کر وارث کی طرف ہوئی ۔اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے حق میں شریعتیں ہیں)
شرائع من قبلنا،ائمہ فقہاءکی نظرمیں:
متذكرہ بالا مسالك میں سے آخری مسلك احناف نے اختیار كیا ہے۔ اور شرائع من قبلنا سے اس قاعدے كے مطابق فقہی استنباطات كیے ہیں كہ شریعت محمدیہ اصل ہے اور دیگر شرائع اس كے تابع ہیں، ہمارے اوپر ان شرائع كی پیروی اس حیثیت سے لازم ہے كہ وہ ہمارے نبی كی شریعت ہے الایہ كہ ان شرائع كا نسخ صراحتاً ثابت ہو۔امام بزدوی رحمہ اللہ لكھتے ہیں:
وَقَدْ احْتَجَّ مُحَمَّدٌ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فِي تَصْحِيحِ الْمُهَايَأَةِ وَالْقِسْمَةِ بِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ} [القمر: 28] .وَقَالَ {لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ} [الشعراء: 155] فَاحْتَجَّ بِهَذَا النَّصِّ لِإِثْبَاتِ الْحُكْمِ بِهِ فِي غَيْرِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ نَظِيرُهُ فَثَبَتَ أَنَّ الْمَذْهَبَ هُوَ الْقَوْلُ الَّذِي اخْتَرْنَاهُ۔[86]
(امام محمدرحمہ اللہ نے بطریق مہایاہ(منافع كی تقسیم)اور حق آبپاشی كی تقسیم پر حضرت صالح علیہ السلام كے قصہ میں مذكور حكم{وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ}اور{لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ}سے استدلال كیا ہے۔اس سے استدلال کیاتاکہ اس کے ذریعے غیرمنصوص علیہ میں وہ حکم ثابت ہوجواس کی نظیر ہے،پس ثابت ہواکہ مذہب (حنفی)وہی قول ہے،جس کوہم نے اختیارکیا)
صاحب کشف الأسرار لکھتے ہیں،کہ یہ بات معلوم ہے كہ یہ استدلال اس نظریے كی بنیاد پر كیا ہے كہ مذكورہ حكم شریعت محمدیہ علی صاجہاالصلوة والتسلیم ہی كا ایك حكم ہے اس لیے كہ امام محمدرحمہ اللہ شریعت محمدیہ كے احكام بیان كررہے ہیں نہ كہ شرائع من قبلنا كے احكام[87]۔
شرائع من قبلنا محدثین کی نظرمیں:
امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی شرائع من قبلنا سے استدلال کیا ہے،چنانچہ: بَابٌ:بِمَنْ يُبْدَأُ فِي الكِتَابِ کے تحت حسب ذیل حدیث کونقل کیاہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ «أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا، فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ، وَصَحِيفَةً مِنْهُ إِلَى صَاحِبِهِ» ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَجَرَ خَشَبَةً، فَجَعَلَ المَالَ فِي جَوْفِهَا، وَكَتَبَ إِلَيْهِ صَحِيفَةً: مِنْ فُلاَنٍ إِلَى فُلاَنٍ"[88]
(آپ ﷺنے بنی اسرائیل كے ایك شخص كا تذكرہ فرمایا كہ اس نے ایك لكڑی لی، اندر سے كھوكھلی كردی، اس میں ایك ہزار دینار اور اپنے دوست كے نام ایك مراسلہ ركھا۔ دوسری سند والی روایت میں یہ ہے كہ مراسلہ یوں لكھا: من فلان الی فلان۔۔۔۔)
قسطلانی لکھتے ہیں:
ولعل البخاري خصّ سياق هذا الحديث لعدم وجدانه ما هو على شرطه وهو على قاعدته في الاحتجاج بشرع من قبلنا إذ لم ينكر ولا سيما إذا ذكر في مقام المدح لفاعله، ۔[89]
(شاید امام بخاری نے اس حدیث كو یہاں اس لیے ذكركیا، كہ ان كو دوسری كوئی حدیث اپنی شرط كے مطابق نہیں ملی اور یہ استدلال اس قاعدے پر مبنی ہے كہ شرائع من قبلنا سے استدلال كیا جاسكتا ہے، جب اس كو علی سبیل الانکار ذکرنہ كیا جائے، بالخصوص جب اس فعل كے كرنے والے كی مدح كے طور پر ذکر کیا جائے )
امام محمدوامام بخاری رحمہما اللہ کے اس اسلوب استدلال سے معلوم ہوا كہ شرائع من قبلنا جب قرآن وحدیث میں بغیر كسی نكیر یا تردید كے مذكور ہوں تو ہمارے لیے اس حیثیت سے ححبت ودلیل ہیں كہ وہ ہمارے شریعت یعنی شریعت محمدیہ كا حكم ہے۔
شرائع من قبلنا كے متعلق غیر نزاعی متفقہ امور:
شرائع من قبلنا كے حوالے سے حسب ذیل امور فقہاء اور اصولین كے درمیان متفق علیہا ہیں:-
۱۔ اگر شریعت محمدیہ کا كوئی حكم شرائع سابقہ كے كسی حكم کے لئے ناسخ بن کرآئے، تو بالاتفاق شرائع سابقہ کا حكم منسوخ ہوگا۔
۲۔ اگرشریعت محمدیہ میں كوئی نص یا حكم شرائع سابقہ كے كسی حكم كی تائید كرے، تو شرائع سابقہ کا وہ حكم برقرار رہیگا، تاہم شریعت محمدی کی حیثیت سے،نہ کہ شرائع من قبلنا کی حثیت سے ۔
۳۔ اس وقت موجود كتاب مقدس میں مذكور كسی حكم كو اگر كتاب اللہ اور سنت رسول میں ذكر نہ كیاگیا ہو، تو وہ شریعت محمدی كا حكم نہیں ہوگا، اس لیے كہ قرآن مجید كے مطابق ان كی كتابوں میں تحریف ہوچكی ہے۔
۴۔ تمام شرائع كا اس پر اتفاق ہے كہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریك ہے،گویا"توحید" پر سب كا اتفاق ہے۔
۵۔ محل اختلاف یہ ہے كہ شرائع سابقہ كا كوئی حكم كتاب اللہ میں مذكور ہو، یا پیغمبر علیہ السلام نے اس كو بیان كیا ہو، لیكن اس كی مشروعیت اور عدم مشروعیت كے بارے میں سكوت ہو، نہ تو صراحۃ یا اشارة اس كو برقرارركھنے كا ذكر ہو، اور نہ صراحۃ یااشارة اس كے منسوخ ہونے كا ذكر ہو۔ اس صورت كے بارے میں علماء كے اقوال مختلف ہیں،جن میں دواقوال اہمیت كے حامل ہیں۔پہلا قول: وہ شریعت محمدیہ كا حصہ ہے۔دوسراقول:شریعت محمدیہ كا حصہ نہیں ہے۔پہلاقول جمہور حنفیہ، مالكیہ،اور بعض شافعیہ كا مذہب ہے اور امام احمد سے بھی ایك روایت یہی ہے۔دوسراقول بعض شافعیہ كا مذہب ہے جس كو امام الحرمین ابواسحاق، غزالی اور آمدی نے ترجیح دی ہے،اسی طرح بعض حنفیہ كا بھی یہی قول ہے۔ امام احمد كی دوسری روایت ہے ابن حزم كا بھی قول ہے، اور معتنرلہ كی طرف اس كی نسبت كی گئی ہے۔
بعض حضرات نے شرائع من قبلنا كے متعلق یہ اسلوب اختیار كیا ہے كہ شرائع من قبلنا ہمارے لیے بہرحال دلیل مستقل نہیں ہے، ہم نے كتاب وسنت كی روشنی میں اس كو دیكھنا ہے۔
شرائع من قبلناکے بارے میں اختلاف نزاع لفظی:
امام ابو زہرہ كی تحقیق كا حاصل یہ ہے كہ اس اختلاف پر كوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا، اس لیے كہ شرائع سابقہ كا كوئی حكم ایسا نہیں جس كی موافقت یامخالفت میں شریعت محمدیہ میں صراحۃیا اشارۃوكنایۃكوئی حكم مذكور نہ ہو۔ امام ابو زہرہ كی تحقیق كے مطابق مختلف ابواب میں پھیلے ہوئےتقریباً ۶۷ مسائل ایسے ہیں جن كے بارے میں كہا جاتا ہے كہ یہ شرائع من قبلنا كے قبیل میں سے ہیں،اورشریعت محمدیہ میں ان میں سے ہر ایك مسئلے كی موافقت یا مخالفت میں اجمالی یا تفصیلی دلیل موجودہے۔ جس سے اس بات كو تقویت ملتی ہے، كہ شرائع من قبلنا كے بارے میں اختلاف نزاع لفظی كے قبیل میں سے ہے، جس پر عملاً كوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا۔
مسلمانوں کی عدالت میں غیر مسلموں کے مقدمات:
اس موضوع سے متعلق یہ بحث ہےکہ اگر اسلامی ریاست میں غیر مسلم لوگ اپنا کوئی مقدمہ عدالت کے سامنے پیش کرتےہیں، توکیا مسلمان حاکم یاقاضی ان کے درمیان فیصلہ کرنے کاپابند ہے ؟یا فیصلہ کئے بغیر ان کو واپس کرنے کااختیار رکھتاہے؟۔ مزید برآں! گذشتہ شرائع کے پیروکاروں پرکونسے احکام جاری ہونگے؟اسلامی احکام ؟یاپھر ان کی اپنی شریعتوں کے احکام؟!
متعلقہ آیت كریمہ اور اس كاشان نزول:
متذکرہ بالا مضمون سورہ مائدہ كی حسب ذیل آیات( ۴۱۔تا ۔۴۴اور آیت نمبر۴۸ )میں بیان ہواہے:
يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْن۔۔۔تا۔۔۔وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ (المآيدة:49)
ان آیات كا شان نزول بغوی كے بیان كے مطابق یہ ہے کہ خیبر کے ایک یہودی مرد اور عورت نے ،جو کنوارے نہ تھے ،زنا کیا۔ باوجودیکہ تورات میں اس جرم کی سزا "رجم"(سگنسار کرنا)تھی،مگر ان دونوں کی بڑائی مانع تھی کہ یہ سزا جاری کی جائے۔ آپس میں مشورہ ہوا کہ یہ شخص جو "یثرب"میں ہے (یعنی محمدﷺ) ان کی کتاب میں "زانی" کے لئے "رجم" کا حکم نہیں، کوڑے مارنے کا ہے تو "بنی قریظہ"کے یہود میں سے کچھ آدمی ان کے پاس بھیجو کیونکہ وہ ان کے ہمسایہ ہیں اور ان سے صلح کا معاہدہ بھی کر چکے ہیں وہ ان کا خیال معلوم کرلیں گے۔ چنانچہ ایک جماعت اس کام کے لئے روانہ کی گئی کہ نبی کریمﷺ کا عندیہ معلوم کر لے کہ "زانی محض" کی کیا سزا تجویز کرتے ہیں؟ اگر وہ کوڑے مارنے کا حکم دیں تو قبول کر لو ، اور "رجم" کا حکم دیں تو مت مانو ۔ ان کے دریافت کرنے پر حضور ﷺ نے دریافت فرمایا:تم میرے فیصلہ پر رضامند ہو گے؟ انہوں نے اقرار کر لیا۔ خدا کی طرف سے جبرائیل "رجم" کا حکم لے آئے مگر وہ لوگ اپنے اقرار سے پھر گئے آخر حضورﷺ نے فرمایا :کہ فدک کا رہنے والا ابن صور یا تم میں کیسا شخص ہے ؟سب نے کہا: آج روئے زمین پر "شرائع موسویہ" کا اس سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں ۔ آپ نے اس کو بلوایا اور نہایت ہی شدید حلف دے کر پوچھا کہ "تورات" میں اس گناہ کی سزا کیا ہے؟ باوجودیکہ دوسرے یہود اس حکم کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے جس کا پردہ حضرت عبد اللہ بن سلام کے ذریعہ سے فاش ہو چکا تھا، تاہم ابن صوریہ نے، جو ان کا معتمد تھا، کسی نہ کسی وجہ سے اس کا اقرار کر لیا کہ بیشک تورات میں اس جرم کی سزا رجم ہی ہے۔ بعدہ اس نے سب حقیقت ظاہر کی کہ کس طرح یہود نے رجم کو اڑا کر زنا کی سزا یہ رکھ دی کہ زانی کو کوڑے لگائے جائیں اور منہ کالا کر کے اور گدھے پر الٹا سوار کرا کر گشت کرایا جائے۔ الحاصل حضور پر نورﷺنے ان دونوں مرد و عورت پر رجم کی سزا جاری کی اور عرض کیا: اے اللہ! آج میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو دنیا میں زندہ کیا اس کے بعد کہ وہ اسے مردہ کر چکے تھے[90]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس واقعے كی تفصیل یوں بیان كی ہے:
عنِ ابنِ عُمَرَ رَضِي الله عَنْهُمَا، قَالَ: أُتِيَ رسولُ الله ﷺ بِيَهُودِيٍّ ويَهُودِيَّةٍ قَدْ أحْدَثا جَمِيعاً، فَقَالَ لَهُمْ: (مَا تَجِدُونَ فِي كِتابِكُمْ) قالُوا: إنَّ أحْبارَنا أحْدَثُوا تَحْمِيمَ الوَجْهِ والتَّجْبِيَةَ. قَالَ عَبْدُ الله بنُ سَلامٍ: ادْعُهُمْ يَا رسولَ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم بالتَّوْرَاةِ، فأُتِيَ بِها فَوَضع أحَدُهُمْ يَدَهُ عَلى آيَةِ الرَّجْمِ وجَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَها وَمَا بَعْدَها، فَقَالَ لهُ ابنُ سَلامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ، فَإِذا آيَةُ الرَّجْمِ تَحْتَ يَدِهِ، فأمَرَ بِهِمارَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَرُجِما:قَالَ ابنُ عُمَرَ: فَرُجِما عِنْدَ البَلاطِ، فَرَأيْتُ اليَهُودِيَّ أجْنَأ عَلَيْها.[91]
(حضرت ابن عمررضی اللہ عنہا سے روایت ہے كہ رسولﷺ كے پاس ایك یہودی مرد اور عورت لائے گئے، جنہوں نے بدكاری كی تھی۔ آپ نے دریافت فرمایا :تمہاری كتاب (تورات) میں كیا حكم ہے؟كہنے لگے: ہمارے علماء نے یہ حكم ایجاد كیا ہے كہ چہروں كو كالا كردیا جائے اورگدھے پر الٹا بٹھایا جائے۔عبدبن سلام نےعرض كیا:یا رسول اللہ! ان سے تورات لانے كا كہہ دیں۔ چنانچہ تورات لائی گئی، ان میں ایك شخص نے آیت رجم پر ہاتھ ركھ كرچھیایااوراس سے پہلے اور بعد والی آیتوں كو پڑھنے لگا۔ ابن سلام نے كہا:ہاتھ اٹھادیں۔ چنانچہ اس كو ہاتھ كے نیچے والی جگہ میں آیت رجم موجود تھی۔ رسول اللہﷺ نے ان دونوں كے رجم كا فیصلہ جاری فرمایا اور ان كو رجم كیا گیا۔ ابن عمر فرماتے ہیں: بلاط نامی جگہ میں ان كو رجم كیاگیا،میں نے اس یہودی مرد كو اس عورت پر جھكتے ہوئے دیكھا)
اس حدیث شریف میں یہ تو بتایاگیا ہے، کہ اس یہودی مرد اور یہودیہ عورت کو رجم کیاگیا ،لیکن یہ بات محتاج بیان ہے ،کہ ان کواسلا می احکام کے تابع رجم کیاگیا ؟یاتورات کے حکم رجم کے تابع؟ بہرحال! اس تناظر میں سورة مائدہ كی محولہ بالا آیات كریمہ نازل ہوگئیں۔
آیت کریمہ کی تفسیرکےبارےمیں تین موقف:
علامہ عینی رحمہ اللہ نے بخاری شریف كی حدیث کی شرح میں اس مسئلے میں تین موقف ذکر کئے ہیں۔فرماتے ہیں:
وَاخْتلف الْعلمَاء فِي الحكم بَينهم إِذا ترافعوا إِلَيْنَا أواجب ذَلِك علينا أم نَحن فِيهِ مخيرون؟
(یہودیوں كے مابین فیصلہ كرنے كے بارے میں علماء كا اختلاف ہے۔ جب وہ ہم مسلمانوں كے پاس اپنا مقدمہ لے كرآئیں تو كیا ہمارے اوپر ان كے درمیان فیصلہ كرنا واجب اور ضروری ہے؟ یا ہمیں فیصلہ كرنے نہ كرنے كا اختیار ہے؟
پہلاموقف،فقہاء حجازوعراق کا،حاکم کواختیارہے:
فَقَالَ جمَاعَة من فُقَهَاء الْحجاز وَالْعراق: إِن الإِمَام أَو الْحَاكِم مُخَيّر إِن شَاءَ حكم بَينهم إِذا تحاكموا بِحكم الْإِسْلَام، وَإِن شَاءَ أعرض عَنْهُم. وَقَالُوا: إِن قَوْله تَعَالَى: {فَإِن جاؤك} محكمَة لم ينسخها شَيْء، وَمِمَّنْ قَالَ بذلك: مَالك وَالشَّافِعِيّ فِي أحد قوليه، وَهُوَ قَول عَطاء وَالشعْبِيّ وَالنَّخَعِيّ، وَرُوِيَ ذَلِك عَن ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُمَا، فِي قَوْله: {فَإِن جاؤك} قَالَ: نزلت فِي بني قُرَيْظَة وَهِي محكمَة. وَقَالَ عَامر وَالنَّخَعِيّ: إِن شَاءَ حكم وَإِن شَاءَ لم يحكم.[92]
(حجاز اور عراق كے فقہاء كی ایك جماعت كا قول ہے كہ جب وہ (غیرمسلم) اسلامی حكم كے مطابق فیصلہ كرانا چاہیں تو مسلمان قاضی یا حاكم كو اختیار ہے، چاہے تو فیصلہ كردے اور چاہے تو فیصلہ نہ كرے۔ ان حضرات كا موقف یہ ہے كہ سورہ مائدۃ كی آیت نمبر:42 (فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ) محكم ہے منسوخ نہیں،یعنی یہی حكم اب تك برقرار ہے۔ امام مالك اور امام شافعی كا ایك قول یہی ہے، اور صحابہ تابعین مفسرین كا بھی یہی قول ہے)
دوسراموقف،ابن القاسم کا، فریقین اورمذہبی پیشواؤں کی رضامندی سے فیصلہ کرے:
وَعَن ابْن الْقَاسِم: إِذا تحاكم أهل الذِّمَّة إِلَى حَاكم الْمُسلمين وَرَضي الخصمان بِهِ جَمِيعًا فَلَا يحكم بَينهمَا إلاَّ بِرِضا من أساقفتهما، فَإِن كره ذَلِك أساقفتهم فَلَا يحكم بَينهم، وَكَذَلِكَ إِن رَضِي الأساقفة وَلم يرض الخصمان أَو أَحدهمَا لم يحكم بَينهم. وَقَالَ الزُّهْرِيّ: مَضَت السّنة أَن يرد أهل الذِّمَّة فِي حُقُوقهم ومعاملاتهم ومواريثهم إِلَى أهل دينهم، إِلَّا أَن يَأْتُوا راغبين فِي حكمنَا فَيحكم بَينهم بِكِتَاب الله عز وَجل.[93]
(ابن القاسم سے روایت ہے، اس كا حاصل یہ ہے كہ اگر دونوں فریق اسلامی احكام كے مطابق فیصلہ كرنے پر رضامند ہوں اور ان كے مذہبی پیشواؤں كو بھی اس پر اعتراض نہ ہو تو مسلمان قاضی یا حكم ان كے درمیان فیصلہ كرے گا۔ اگر فریقین رضامند ہوں لیكن ان كے مذہبی پیشوا رضامند نہ ہوں یا اس كے برعكس مذہبی پیشوا رضامندہوں اور فریقین رضامندنہ ہوں یا پھر دونوں رضامند نہ ہوں تو ان تمام صورتوںمیں مسلمان قاضی ان كے درمیان اسلامی احكام كے مطابق فیصلہ نہیں كرے گا۔ اس قول كی تائید امام زہری رحمہ اللہ كے اس قول سے ہوتی ہے كہ سنت یہی چلی آرہی ہے كہ (ذمیوں(غیر مسلموں)كو ان كے حقوق، معاملات اور میراث كے مقدمات واحكام میں ان كے مذہبی پیشواؤں كی طرف فیصلے لینے كے لیے بھیج دیا جائے۔ الایہ كہ اگر وہ برضاورغبت خوشی سے اسلامی احكام كے مطابق فیصلہ كرانا چاہیےتو مسلمان قاضی اورحاكم ان كے درمیان قرآنی احكام كے مطابق فیصلہ كرے)
تیسراموقف، احناف كا،مطلقا فیصلہ کرنا لازم ہے:
وَقَالَ آخَرُونَ: وَاجِب على الْحَاكِم أَن يحكم بَينهم إِذا تحاكموا إِلَيْهِ بِحكم الله تَعَالَى، وَزَعَمُوا أَن قَوْله تَعَالَى: {وَأَن احكم بَينهم بِمَا أنزل الله تَعَالَى} نَاسخ للتَّخْيِير فِي الحكم بَينهم فِي الْآيَة الَّتِي قبل هَذِه، وَرُوِيَ ذَلِك عَن ابْن عَبَّاس، وَبِه قَالَ الزُّهْرِيّ وَعمر بن عبد الْعَزِيز وَالسُّديّ، وَإِلَيْهِ ذهب أَبُو حنيفَة وَأَصْحَابه، وَهُوَ أحد قولي الشَّافِعِي، إلاَّ أَن أَبَا حنيفَة قَالَ: إِذا جَاءَت الْمَرْأَة وَالزَّوْج فَعَلَيهِ أَن يحكم بَينهمَا بِالْعَدْلِ، وَإِن جَاءَت الْمَرْأَة وَحدهَا وَلم يرض الزَّوْج لم يحكم، وَقَالَ صَاحِبَاه: يحكم، وَكَذَا اخْتلف أَصْحَاب مَالك.[94]
(دیگر فقہاء كہتے ہیں،كہ بلاكسی شرط اور قید كے مطلقا جب غیرمسلم مسلمان قاضی اورحاكم كے پاس مقدمہ لے كرآئیں،تو اس پر لازم ہے كہ ان كے درمیان قرآنی احكام كے مطابق فیصلہ كردے، ان كوواپس نہ كرے۔ ان كا موقف یہ ہے كہ سورة مائدۃ كی آیت نمبر:49(وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ)پہلی والی آیت(42) میں دیے گئے اختیار كے لیے ناسخ ہے۔ یعنی مسلمان حاكم اور قاضی كو اختیار نہیں كہ وہ فیصلہ كرے یا نہ كرے، بلكہ وہ فیصلے كرنے كا پابند ہے۔ ابن عباس ، امام زہری ، امام ابو حنیفہ وصاحبین كایہی قول ہے۔ امام شافعی كا بھی دوسراقول یہی ہے، تاہم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے یہ قید لگائی ہے كہ غیر مسلم میاں بیوی كے درمیان كوئی مقدمہ ہے، تو اگر دونوں اسلامی فیصلے كرانے پر رضامند ہے تو فبہا ،ورنہ اگر صرف بیوی اسلامی احكام كے مطابق فیصلہ چاہتی ہے اور شوہر نہیں چاہتا تو مسلمان قاضی وحاكم اس صورت میں فیصلہ نہیں كرے گا۔ جبكہ صاحبین كا قول یہ ہے كہ شوہر كی رضامندی كی ضرورت نہیں۔امام مالك كے شاگردوں میں اسی طرح اختلاف ہے)
یہ تفصیل مالی معاملات اور حقوق ومواریث سے متعلق مقدمات كی ہے۔حدود کے بارے میں لکهتے ہیں:
وَاخْتلف الْفُقَهَاء أَيْضا فِي الْيَهُودِيين من أهل الذِّمَّة إِذا زَنَيَا: هَل يرجمان إِن رفعهم حكامهم إِلَيْنَا أم لَا؟ فَقَالَ مَالك: إِذا زنى أهل الذِّمَّة وَشَرِبُوا الْخمر فَلَا يتَعَرَّض لَهُم الإِمَام إلاَّ أَن يظهروا ذَلِك فِي ديار الْمُسلمين فَيدْخلُونَ عَلَيْهِم الضَّرَر فيمنعهم السُّلْطَان من الضَّرَر بِالْمُسْلِمين قَالَ مَالك: وَإِنَّمَا رجم رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، اليهودين لِأَنَّهُ لم يكن للْيَهُود يومئذٍ ذمَّة، وتحاكموا إِلَيْهِ. وَقَالَ أَبُو حنيفَة وَأَصْحَابه: يحدان إِذا زَنَيَا كَحَد الْمُسلمين، وَهُوَ أحد قولي الشَّافِعِي.[95]
(اگرزنا كاری اور شراب نوشی سے متعلق مقدمات ہوں تو احناف كے ہاں یہ بھی مالی مقدمات كی طرح ہیں۔ لیكن امام مالك رحمہ اللہ كے نزدیگ اس كا حكم دوسرا ہے علامہ عینی لكھتے ہیں:اس كا حكم دوسرا ہے۔ امام مالك رحمہ اللہ كا قول یہ ہےكہ اگر ذمی یہودی بدكاری اور شراب نوشی كا ارتكاب كریں، تو مسلمان حاكم ان سے كوئی تعرض نہ كرے۔تاہم اگر بدكاری وشراب نوشی كاارتكاب مسلمان بستیوں اور آبادیوں میں ہو، جس كے نتیجے میں مسلمان معاشرہ بے راہ روی كا شكار ہوسكتا ہو، یا اس كی وجہ سے كسی بھی قسم كا نقصان ہوسكتا ہو، تو مسلمان حاكم اس نقصان یا بے راہ روی كا سدباب كرے گا۔ اور رسول اللہﷺ نے جن دویہودیوں كو رجم كیا تھا، امام مالك اس كی توجیہ یوں كرتے ہیں كہ وہ یہودی ذمی نہیں تھے اور خود ہی اپنامقدمہ درباررسالت میں لے كر آئے تھے، اس لیے ان كا حكم مختلف تھا۔امام ابوحنیفہ وصاحبین كا موقف یہ ہے كہ اگر غیرمسلم ذمی بدكاری كریں گے تو مسلمانوں كی طرح ان پر حدجاری ہوگی۔ امام شافعی كا بھی ایك قول یہی ہے)
حاصل یہ ہوا كہ احناف كے نزدیك مسلمان قاضی وحاكم اس بات كا پابند ہے كہ جب غیر مسلم ذمی اپنا كوئی مقدمہ ،خواہ مالی حقوق سے متعلق ہو یا زناوشراب نوشی جیسے جرائم سے متعلق ہو، ان كے پاس لے كر آئیں تو ان كے درمیان اسلامی احكام كےمطابق فیصلہ كرے ،فیصلہ نہ كرنے كا اس كو اختیار نہیں، جبكہ دیگر ائمہ بالخصوص امام مالك كے ہاں پابندی نہیں۔
خلاصہ بحث!
پوری بحث كا خلاصہ مندرجہ ذیل نقاط ہیں:-
(أ) آخری شریعت، یعنی شریعت محمدیہ سے پہلے والی آسمانی شریعتیں شرائع من قبلنا كہلاتی ہیں۔
(ب) دین، ملت، شریعت اور مذہب لغوی مفہوم كے اعتبار سے چار مختلف اصطلاحات ہیں۔ لیكن خارجی مصداق كے اعتبار سے متحد ہیں۔ یعنی آسمانی تعلیمات پر مشتمل عقائد واعمال كا مجموعہ مختلف حیثیتوں سے دین، ملت، شریعت اور مذہب كہلاتا ہے۔
(ج) چاروں اصطلاحات میں فرق اعتباری یا تو معنی لغوی كی حیثیت سے ہے یعنی باعتبار اطاعت وانقیاددیں۔یاعتبار جمعہ وبیان ملت، باعتبار تشبیہ بالماء شریعت اور باعتبار رجوع الیہ مذہب كہلاتا ہے۔
یا پھرعقائد كا پہلو مدنظر ہو، تو دین، اصول وقواعد كلیہ كا پہلو مدنظر ہو، تو ملت ،اعمال اور فروعات منصوصہ كا پہلو مدنظر ہو۔ تو شریعت اور فروعات مجتہد فیہا كا پہلو مدنظر ہو، تو مذہب كہلاتا ہے۔
(د) آسمانی شرائع میں باہم اتفاق بھی ممكن ہے اور اختلاف بھی ، نیز انبیاء بنی اسرائیل كی شریعتوں كے درمیان اتفاق واقع بھی ہوا ہے۔
(ھ) آخری پیغمبرخاتم النبین حضرت محمدﷺ زندگی كے قبل از بعثت كے مرحلے كے بارے میں بین اقوال ہیں كہ آپ ﷺ پچھلی شریعتوں كی پیروی كے پابند تھے۔(۲) پیروی پابند نہیں تھے۔ (۳)توقف اختیار كیا جائے۔
(و) زندگی كےبعد از بعثت مرحلہ میں شرائع من قبلنا كی پیروی ازروئے عقل ونقل جائزہے، تاہم وقوع میں علماء كے چاراقوال ہیں۔
(۱)پہلاقول ہے كہ: شرائع من قبلنا كے تمام احكام كی اتباع ہمارے اوپر واجب ہے، جب تك ناسخ نہ آئے، یعنی شرائع میں اصل استمرار وبقاء ہے۔
اس موقف كی صحت پران متعدد آیات واحادیث سے استدلال كیا جاتا ہے جن میں آپﷺ كو پچھلے انبیاء كی اقتداء كا حكم دیا گیا ہے، یا پھر آپ نے كسی حكم شرعی میں سابقہ شرائع كا حوالہ دیا ہے۔
اس استدلال كا جواب یہ ہے كہ عقاید میں اقتداء كا حكم ہے، ورنہ نصوص میں تعارض ہوگا۔ نیز مشترك احكام میں آپ نے غیر منسوخ احكام پر اپنی شریعت كی حیثیت سے عمل كیا ہے، سابقہ شریعت كے حكم كی حیثیت سے نہیں۔
(۲)دوسراقول پہلے كے بالكل برعكس یہ ہے كہ شرائع من قبلنا كے كسی بھی حكم كی اتباع ہمارے اوپر واجب نہیں إلایہ كہ عمل كرنے كا حكم دلیل سے ثابت ہوجائے۔ یعنی ہر آسمانی شریعت پہلے نبی كی وفاق یا دوسرے نبی كی بعثت كے ساتھ اختتام ہو جاتی ہے۔
استدلال ان نصوص قرآنیہ واحادیث پر مبنی ہے ، جن میں اختصاحی شریعت كی بات كی گئی ہے۔ یا مخصوص علاقے اور قوم كی طرف انبیاء كی بعثت كی صراحت كردی گئی ہے۔
(۳)تیسراقول یہ ہے كہ شرائع سابقہ میں سے غیر ثابت الفسخ تمام احكام پر مطلقاً كرنا لازم ہے۔ لیكن شریعت محمدیہ كے احكام كی حیثیت سے۔
مطلقاً عمل كرنا لازم ہے خواہ اس حكم كا شرائع سابقہ میں سے ہونا اہل كتاب نے نقل كیا ہو، یا كسی مسلمان نے ان كی كتابوں سے سمجھا ہو۔ اس لیے یہ قول معتبر نہیں،كہ كتب سابقہ كا محرف ہونا نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اور احادیث میں صراحۃ مذكور ہے، كہ اہل كتاب سے دین كی باتیں نہ پوچھی جائے اور ان كی باتوں كی تصدیق كی جائے اور نہ تكذیب۔
(۴)چوتھا قول یہ ہے كہ شرائع سابقہ پر ثبوت شرعی كی بنیاد اپنے نبی كی شریعت كی حیثیت سے اتباع لازم ہے۔
قرآن مجید كی متعدد آیات كریمہ اور احادیث نبویہ سے اس مسلك پر استدلال كیاگیا ہے۔ انہی احناف كا اختیار كردہ مسلك ہے۔ فقہاء اور محدثین نے اس مسلك كے مطابق استنباطات كیے ہیں۔
(ز) شرائع من قبلنا كے متعلق یہ اختلاف نزاع لفظی كے قبیل میں سے ہے،عملی لحاظ سے اس پر كوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا۔
(ح) مسلمانوں كی عدالت میں اگر غیرمسلم اپنے مقدمات مالیہ لے كر آئیں تو سورہ مائدہ كی آیات ۴۱-تا-۴۴اور آیت نمبر ۴۸ سے استدلال كی روشنی میں فقہاء حجاز كے نزدیك مسلمان قاضی كو اختیار ہے، كہ وہ فیصلہ كرے یا نہ كرے۔
ابن القاسم كے نزدیك فریقین اور ان كے مذہبی پیشواؤں كی رضامندی سے فیصلہ كرے۔
احناف كے نزدیك قاضی پر مطلقاً فیصلہ كرنا لازم ہے۔
اور حدود (زنا وشراب) كے مقدمات میں امام مالك كے نزدیك اس وقت فیصلہ كرے جب مسلمان معاشرہ كے متاثر ہونے كا خطرہ ہو۔ احناف كے نزیك مالی معاملات كی طرح حدود میں بھی مسلمان قاضی فیصلہ كرے۔
هذا،وصلی الله عليه وعلٰی آله وصحبه وسلم تسليما کثيرا
وکتبه (الدکتور) انعام الله
رئيس الباحثين فی مجلس الفکرالاسلامی،اسلام آباد۔
وانتهي من کتابته وترتيبه وتنسيقه بعد صلاۃ المغرب
يوم الأحد،16،صفرالمظفر/1437،الموافق 29،نوفمبر/2015
تحریر،ترتیب وتدوین
ڈاکٹرانعام اللہ
چیف ریسرچ آفیسر
اسلامی نظریاتی کونسل ،اسلام آباد
بشرف مطالعہ:
جناب مولانا محمدخان شیرانی،
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ،اسلام آباد
ورکن قومی اسمبلی
[2]: أساس البلاغة،لأبی القاسم محمود بن عمرو الزمخشري، جار الله،م: 538هـ،2/228
[11]: معجم الفروق اللغوية، لأبی هلال الحسن بن عبد الله العسكري،م: نحو 395هـ،1/510
[12]: كتاب التعريفات، لعلي بن محمد الشريف الجرجاني م: 816هـ،1/105
[13]: تفسير عثمانی، البقرۃ،آيت : 135، حاشية: 6
[14] : العقيدۃ الطحاوية،للامام أبی جعفراحمد بن محمدالطحاوی، م:۳۲۱ھ،مكتبة البشریٰ، كراچی، ص:۱۳
[15] : مسند الإمام أحمد بن حنبل، لأبی عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل،م:241هـ،رقم: 8248 ،13/545
[16] : المرجع السابق
[18] : تفصیل کے لئےدیکھئے،کشف الاسرارشرح أصول بزدوی،3/212
[19] فتح الباری شرح صحيح البخاري ،لأحمدبن علي بن حجرالعسقلاني ،1/221
[20] : شرح حديث جبريل في تعليم الدين،لعبدالمحسن بن حمدبن عبدالمحسن1/36
[21]: أصول السرخسي، لمحمد بن أحمد،شمس الأئمة السرخسي،م: 490هـ ،2/100
[22]: كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،2/212
[23]: المستصفى ،لأبی حامد محمد بن محمد الغزالي،الإمام ، م: 505هـ، 1/165
[32] : دیكھئے أصول سرخسی،2/100
[33] : صحيح البخاري، بَابُ قَوْلِهِ:{وَالجُرُوحَ قِصَاصٌ}رقم:4611
[34] : دیکھیے، المستصفیٰ لأبی حامدالغزالی:1/168
[35] : المصنف، لعبد الرزاق بن همام، م:211هـ،رقم:2245،2/3
[36] : سنن أبي داود،بَابٌ فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ،رقم:4446
[37] : المستصفیٰ لأبی حامدالغزالی:1/168
[39] : كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،3/213
[40] : كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،3/214
[41] : المستصفى، لأبی حامد محمد بن محمد الغزالي ،م:505هـ،1/165-168/246
[42] : حواله مذکور،1/165-168
[43] : حواله مذکور،1/165-168
[44] : حواله مذکور،1/165-168
[45] : دیكھئے، حواله مذکور،1/259
[46] : حواله مذکور،1/260
[47] : حواله مذکور،1/260
[48] : دیکھیے،كشف الاسرار۲۱۴/۳
[49] : أصول السرخسي لمحمد بن أحمد السرخسي، شمس الأئمة،م:490هـ،2/101
[50] : كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،3/214
[51] : أصول السرخسي لمحمد بن أحمد السرخسي، شمس الأئمة،م:490هـ، 2/101
[52] : صحيح البخاري،لأبی عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، الإمام، كِتَابُ التَّيَمُّمِ ،رقم: 335
[53] : كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،3/ 214
[54] : كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،3/ 214
[55] : تفسير أبي السعودلأبی السعود محمد بن محمد،م:982هـ،7/37
[56] : أصول السرخسي لشمس الأئمة محمد بن أحمدالسرخسي،م: 483هـ،2/99
[57] : معرفة أنواع علوم الحديث،(مقدمة ابن الصلاح)لعثمان بن عبد الرحمن، المعروف بابن الصلاح،م: 643هـ،1/104
[58] : صحیح البخاری، كِتَابُ الشَّهَادَاتِ، بَابُ لاَ يُسْأَلُ أَهْلُ الشِّرْكِ ...، رقم:۲6۸۵
[59] : صحيح البخاري، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ»،رقم: 7363
[60]: مسندأحمد بن حنبل،م:241هـ،22/468،رقم: 14631
[61] : المصنف لأبی بكر عبد الرزاق بن همام م:211هـ، رقم: 10158،ص:6/110،111
[62] : المرجع السابق، رقم: 10162
[63] : المرجع السابق، رقم:10163
[64] : المرجع السابق، رقم:4 1016
[66] : كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،3/213
[67] : المستصفى، لأبی حامد محمد بن محمد الغزالي،م: 505هـ،ص:1/165
[68] : كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،3/213
[69] : دیکھیے ، تفسیر عثمانی،ص:78
[70] : دیكھئے كشف الاسرار ۲۱۵/۳
[71] : كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،3/ 215
[72] : حواله مذكور،3/ 215
[73] : تفسير القرآن العظيم لإبن كثير الدمشقي،م:774هـ،6/518
[74] : روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني للألوسي ،م: 1270هـ،11/318
[75] : التحرير والتنوير لمحمد الطاهر بن عاشور التونسي، م :1393هـ،22/198
[76] : الصحيح للإمام مسلم بن الحجاج، م: 261هـ،رقم: 246
[77] : الصحيح للإمام مسلم بن الحجاج، م:261هـ،رقم:247
[78] : صحيح البخاري للإمام البخاري،بَابُ قَتْلِ الخِنْزِيرِ،رقم:2222
[79] : سنن الترمذي للإمام محمد بن عيسى الترمذي،م: 279هـ، بَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ،رقم:2244)
[80] : المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووي مى: 676هـ،2/190
[81] : الكتاب المصنف لأبی بكر بن أبي شيبة،م 235هـ باب:مَنْ كَرِهَ النَّظَرَ فِي كُتُبِ أَهْلِ الْكِتَابِ،رقم:26421 ،ص:5/312
[82] : مسند الإمام أحمد بن حنبل،م:241هـ،رقم:14631،ص:22/268
[83] : صحيح البخاري ،بَابُ لاَ يُسْأَلُ أَهْلُ الشِّرْكِ عَنِ الشَّهَادَةِ وَغَيْرِهَا،رقم:2485
[84] :كشف الاسرار، ۲۱۰/۳
[85] : حوالہ مذكور،۲۱۶/۳
[86] : اصول البزدوی علی حاشية كشف الاسرار۳/216
[88] : صحيح البخاري،بَابٌ: بِمَنْ يُبْدَأُ فِي الكِتَابِ،رقم:6261
[89] : إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري،لأحمد بن محمد القسطلاني م: 923هـ،9/192
[90] : تفسیر عثمانی، المائدہ آیت نمبر ۴۱، حاشیہ نمبر۸
[91] : صحيح البخاري،بابُ الرَّجْمِ فِي البَلاطِ،رقم: 9186
[92] : عمدة القاري شرح صحيح البخاري لبدر الدين العينى الحنفى، م: 855هـ،23/295
[93] :حواله مذ كور،23/295
[94] : حواله مذ كور،23/295
[95] : حواله مذ كور،23/295