فنِ تحریر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فنِ تحریر
( احوال وگزارشات)
ابودحیہ نعمانی
لکھناایک فن ہے ، یہ وہ ملکہ ہے جو عطیہ خداوندی ہے اور بعض لوگوں کو وہبی طور پر حاصل ہوتا ہے ، انہیں لکھنے کے لئے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی ،بعض لوگ اس خزانہ خداوندی کو استعمال کرکے ایک دبستان علم قائم کرجاتے ہیں ، لیکن بہت سارے لوگ اس نعمت خداوندی سے واقف نہیں ہوتے کہ انہیں یہ ملکہ حاصل بھی ہے یا نہیں ، وہ اس مشک کو اپنے نافے میں لئے پھرتے ہیں ، انہیں اس گہر کا اندازہ نہیں ہوتا ، اور یوں یہ قیمتی سرمایہ اس کے ساتھ سپرد خاک ہوجاتا ہے ۔
کچھ نفوس اس وہبی صلاحیت سے بظاہر محروم نظر آتے ہیں ، لیکن حقیقت میں ہوتے نہیں ، مشیت ایزدی انہیں ان کی طلب کے بقدر دے کر مزید آگے سے آگے بڑھانا چاہتی ہے ، اس لئے ابتداء انہیں بہت محنت کرنی پڑتی ہے او
حضرت مولاناڈاکٹرمحمدحبیب اللہ مختارشہیدرحمہ اللہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت مولانا ڈاکٹرمحمدحبیب اللہ مختارشہیدرحمہ اللہ اپنے دورکے محقق علماء میں سے تھے،اہل علم کے حلقہ میں آپ کااسمِ گرامی مشہورومعروف ہے،،اللہ تعالیٰ نے آپ کوبیک وقت بے شمارخوبیاں،ان گنت صلاحیتیں عطافرمائی تھیں۔علمی اورتحقیقی میدان میں آپ کی خدمات مسلم اورانتظامی معاملات میں آپ کی مدبرانہ اوردوررَس نگاہ کے سبھی معترف ہیں۔اصول پسندی اورقواعدوضوابط کی پاسداری میں آپ اپنی مثال آپ تھے،وقت کی قدروقیمت نے آپ کی شخصیت کوچارچاندلگادیئے تھے،چنانچہ نہایت ہی مختصر عرصہ میں آپ تنِ تنہاایک پوری جماعت کاکام کرکے،سینے پرشہادت کاتمغۂ سجائےاس دارِفانی سے دارِبقاکی جانب روانہ ہوگئے اوراپنے بعدوالوں کے لئے ایک آئیڈیل اورنمونہ بن گئے۔حضرت مولانامحمدڈاکٹرحبیب اللہ مختار1944ء میں دہلی میں پیداہوئے،آپ کے وال
تقریظ بر کتاب الورد المعظم
تقریظ بر کتاب الورد المعظم :حضرت مولانا مفتی امداداللہ صاحب
استاذ حدیث وناظم تعلیمات جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
رحمت عالم ،حضور اکرم ﷺ سے جو دعائیں منقول ہیں ان کوامت کی سہولت اورآنحضرت ﷺ کے معمولات کو عام کرنے کے لیے مختلف علماء نے جمع کیا ہے چنانچہ امام محی الدین ابو زکریا ابن شرف نووی الدمشقی الشافعی نے الاذکار اورعلامہ جزری الشافعی نے حصن حصین اور حافظ شمس الدین محمد بن عبد الرحمن السخاوی نے القول البدیع لکھیں۔ ان کتابوں کو ان کے مصنفین کے خلوص اورعلمی رسوخ کی وجہ سے امت میں قبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی مگر وقت گزرنے کے ساتھ دعاؤں کے اس مستند ذخیرہ کے ساتھ کچھ غیر مستند
سلطان ٹیپو ؒ اور مذہبی رواداریاں
سلطان ٹیپو ؒ
(فتح علی خان قریشی م ۱۲۱۳ ھ236۱۷۹۹ ء)
اور مذہبی رواداریاں
سرزمینِ ہند کی پر امن فضاؤں میں آزاد نہ سانس لیتے ہوئے دو رِفرنگی کا تذکرہ چھڑتا رہتاہے ،اور مجاہدینِ وطن و شہدائے چمن کی قربانیوں کی یاد دہانیوں اور مدح سرائیوں کی مجلسیں جمتی رہتی ہیں ۔ یہ مجلسیں اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتیں تاآنکہ ٹیپو سلطان ؒ کا تذکرہ نہ ہو۔
یہ سچ ہے کہ سلطانؒ جنگِ آزادی کے سرخیل تھے۔لیکن اسکے علاوہ بھی بہت سی خوبیاں ان میں موجود تھیں جن سے لوگ ناآشناہیں ۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ سلطانؒ کو ایک متعصب اور ہندو دشمن ظالم حکمراں کی حیثیت سے پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ،حالانکہ حقیقت بالکل برعکس ہے۔غلط فہمیاں تو انگریز مؤرخین نے من گھڑت اور جھوٹی باتیں ل
استاذجی رحمتہ اللہ علیہ
تخصص سال اول:
نئی صدی اور نئے ہزاریے کا پہلا سورج اپنی اولین کرنیں کرۂارض پر بکھیر رہاتھا،ایک جہانِ نو کا آغاز ہورہا تھا،دنیا بیسویں صدی کو الوداع الوداع اوراکیسویں کومرحباصد مرحبا کہہ رہی تھی اورہم درسِ نظامی سے تخصص کے مرحلے میں داخل ہورہے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ مفتی نظام الدین شامزی شہیدؒ جامعہ کے شیخ الحدیث اورتخصص فی الفقہ کے مشرف تھے۔اس وقت آپ کی شہرت کا آفتاب نصف النہارپر تھااور آپ اپنے عروج بلکہ عروج کے بھی عروج پر معلوم ہوتے تھے۔ہرطرف آپ کا طوطی بولتا تھا اورپورے ملک میں آپ کی علمیت کی گونج اور مقبولیت کا غلغلہ تھا۔جامعہ آسمانِ علم کے اس آفتاب وماہتاب کا مطلع اور اس چشمہ صافی کا منبع ومصدر تھا ،اس لیے قدرتی طور پرہر نگاہ اس سے خیرہ اورہر قلب اس سے متاثرتھااورہرایک اپنے اپنے ظرف اورطلب کے