17
Jumadi uthani

تقریظ بر کتاب الورد المعظم

تقریظ بر کتاب الورد المعظم :حضرت مولانا مفتی امداداللہ صاحب

استاذ حدیث وناظم تعلیمات جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

رحمت عالم ،حضور اکرم ﷺ سے جو دعائیں  منقول ہیں ان کوامت کی سہولت اورآنحضرت ﷺ کے معمولات کو عام کرنے کے لیے  مختلف  علماء نے جمع کیا ہے  چنانچہ امام محی الدین ابو زکریا ابن شرف نووی الدمشقی الشافعی نے الاذکار  اورعلامہ جزری الشافعی  نے حصن حصین اور حافظ شمس الدین محمد بن عبد الرحمن السخاوی نے القول البدیع لکھیں۔ ان کتابوں کو ان کے مصنفین کے خلوص اورعلمی رسوخ  کی وجہ سے امت میں قبولیت اور پذیرائی  حاصل ہوئی مگر وقت گزرنے کے ساتھ دعاؤں کے اس مستند ذخیرہ کے ساتھ کچھ غیر مستند کتابیں بھی عام ہوئیں اور عوام اپنے رو ز مرہ کے معمولات میں ان کااہتمام کرنے لگے ۔یہ حالات دیکھ کر الشیخ علی بن سلطان محمد القاری الہروی المتوفیٰ 1104ھ  کے دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ  کیوں نہ عوام کے ہاتھ مستند دعاؤں کا مجموعہ دیا جائے چنانچہ آپ نے ایک کتاب "الحزب الاعظم و الورد الافخم  "  کے نام سے لکھی جس میں آپ ﷺ سے منقول دعاؤں کے گراں قدر ذخیرہ کو جمع کیا ،جن کی تعداد ملا علی قاری" رحمہ اللہ نے الحرز الثمین " میں پانچ سو کے قریب قریب بتلائی ہے  ۔حضرت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب  رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ دعائیں جن کتابوں سے منقول ہیں وہ سب کی سب  تقریبا  مستند اور صحیح احادیث میں منقول ہیں سوائے چند دعاؤں کے جن کی تصریح حضرت مولانا نعمانیؒ نے  الحزب الاعظم کی تخریج  میں کردی  ہے، اس تخریج کا نام انہوں نے " فتح الاعزالاکرم لتخریج الحزب الاعظم" رکھا  ہے جو مجلس دعوت تحقیق سے 1401ھ بمطابق 1980ء میں شائع ہوئی ہے ۔

دعاؤں کے اس  مجموعہ الحزب الاعظم کی مختلف علماءکرام نے اپنے اپنے دور میں خدمت کی ہے چنانچہ کچھ شروحات سلطنت ِ عثمانیہ کے دور میں لکھی گئیں  لیکن آج سوائے ایک آدھ قلمی نسخہ کے( پیر جھنڈو )  دستیاب نہیں ہے ۔ مختلف علماء نے اس پر تعلیقات بھی کیں ہیں اور اس کےاردو تراجم بھی موجود ہیں جن میں مشہور اور عمدہ ترجمہ  مولانا بدر عالم میرٹھی رحمہ اللہ کا ہے انہوں نے ترجمہ کے ساتھ ساتھ حاشیہ میں مختصرا تخریج بھی ذکر کی ہے  جسے کئی مطابع نے  مختلف انداز سے طبع کیا ہے، بعض نے ہفتہ وار منزل کی ترتیب پراور بعض نے مہینہ وار ترتیب پر شائع کیا ہے۔ ایسا اس وجہ سے ہے  کہ حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ  کی وصیت  تھی کہ اس مجموعہ کو  اگر روزانہ نہ ہوسکے تو ہفتہ میں ورنہ مہینے میں مکمل پڑھ لینا چاہیے ۔برادرم مولوی سعد عبدالرزاق نے  بھی اس مقبول ومشہور کے مجموعہ  کا ترجمہ اور تخریج   کرکے اس کی  خدمت میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔الحزب الاعظم سے پہلے انہوں نے الورد المعظم کے نام سے  ایک مبسوط تحریر لکھی ہے جس میں دعا کے آداب وشرائط اور قبولیت دعا کے اوقا ت ومکانات  کا ذکر ہے،جن دعاؤں کے متعلق آیا ہے کہ وہ اسم اعظم پر مشتمل  ہیں ،موصوف  نے وہ دعائیں بھی ذکر کی ہیں ،صلوۃ التسبیح  پر ان کی تحریر سہل اور عام فہم ہے،صلوۃ الحاجۃ کے متعلق انہوں نے ایک پرکشش عنوان قائم کرکے بارہ رکعت صلوۃ الحاجۃ والا طریقہ بیان کیا  ہے ،اگر چہ یہ طریقہ بے اصل نہیں ہے مگر عموما علماء اسے بیان نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس کی   حدیث میں سند اور متن کے حوالے سے کلام ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کوشش و کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور ہم سب کے لئے اسے ذخیرہ آخرت بنائے ۔