مولانا شیر علی شاہ رحمہ اللہ سے وابستہ چند یادیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مولانا شیر علی شاہ رحمہ اللہ سے وابستہ چند یادیں
سرزمین اکوڑہ خٹک ، صوبہ خیبر پختونخواہ کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام کی حامل ہے، اس مقام کو برصغیر کی آزادی کی عظیم تحریک سید احمد شہید میں بھی مرکزیت حاصل رہی ہے، اکوڑہ کی جنگ میں کامیابی نے قافلہ سید احمد شہید کے حوصلوں کو جو توانائی بخشی تھی اسی نے پیش قدمی کے لیے ان کے جوش وخروش میں اضافہ کیا، جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق کائنات ارضی کے روز اول سے باہم گفتگو میں استعمال ہونے والا انسانی کلام آج بھی فضاؤں میں محفوظ ہے، ہمارا بھی یہ یقین ہے کہ ان بزرگوں کے اس مقام پر قیام سے فضا میں جو عطر پھوٹی ہے اس کے اثرات آج بھی یہاں موجود ہیں،چنانچہ حضرت مولانا عبدالحق رحمہ اللہ کے ملفوظات میں ملتا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ’’جامعہ حقانیہ
کعب احبارؒ اور اسرائیلیات
اہل علم خصوصاً تفاسیر قرآن سے شغف رکھنے والوں کے لیے کعب احبارؒ کوئی غیر معروف نام نہیں، اسرائیلیات کی روایت کے باب میں کعب احبارؒ کا تذکرہ تقریباً تمام تفاسیر میں کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوتا ہے۔ کعب احبارؒ کے متعلق صحابہ کرام ؓکے مختلف رویوں کی بنا پر کعب احبارؒ کی شخصیت اور ان کی ثقاہت اہل علم کے ہاں زیر بحث رہتی ہے۔ علامہ کوثریؒ نے کعب احبارؒ کے متعلق اسی قسم کے ایک سوال کے جواب میں ایک مضمون تحریر کیا تھا، جو اپنی جامعیت کے ساتھ ساتھ اپنی افادیت میں بھی بھرپور ہے۔ اس مضمون میں ’’اسرائیلیات ‘‘کے باب میں ایک فیصلہ کن موقف بیان کیا گیا ہے۔اس عربی مضمون کا ترجمہ اردو دان طبقے کے فائدے کے لیے پیش خدمت ہے۔ (از مترجم)
قریبی علا
محرم الحرام کی عظمت اور فضیلت
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے ۔ ’’محرم‘‘ کا لفظ تحریم سے بنا ہے اور تحریم کا لفظ حرمت سے نکلا ہے۔ حرمت کا لفظی معنی عظمت ، احترام وغیرہ ہے ، اس بناء پر محرم کا مطلب احترام اورعظمت والا ہے ۔چونکہ یہ مہینہ بڑی عظمت اور فضیلت رکھتا ہے اور بڑا مبارک اور لائق احترام ہے اس لئے اسے محرم الحرام کہا جاتا ہے ۔
یوں تو محرم کا پورا مہینہ ہی مبارک ہے مگر جس طرح رمضان کا آخری عشرہ پہلے دو عشروں سے افضل ہے اور آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کی رات سب سے افضل ہے ، اسی طرح اس مہینہ میں عاشورہ کا دن تمام ایام سے افضل ہے ۔ عاشورہ کا مطلب دسواں ہے ، یہ دن چونکہ دسویں تاریخ کو آتا ہے اس لئے اسے عاشورہ کہتے ہیں ۔
فضیلت کامدار:
اللہ تبارک وت
حضرت عمر رضی اللہ عنہ
وہ ہستی جس کاذکرتورات وانجیل میں ہے
جس کے دورمیں قرآن کریم کی پیش گوئیاں پوری ہوئیں
جس نے سرکاردوجہاں،رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الوفات کی یہ وصیت کہ’’یہودونصارٰی کوجزیرہ عرب سے نکال دو‘‘کوعملی جامہ پہنایا
جو’’اشداء علی الکفاررحماء بینھم‘‘کاکامل نمونہ اوراعلیٰ مظہرتھا
جس کاوجودعطیہ خداوندی اور تحفہ سماوی تھا
جسے بہ طورخاص اسلام کے غلبے کے لئے مانگاگیاتھا
جس کامسلمان ہونا،اسلام کی فتح،جس کی ہجرت مسلمانوں کی نصرت،اورجس کی خلافت مسلمانوں کے لئے رحمت تھی
وہ مقدس ہستی جس کارعب اوردبدبہ آج تک قائم ہے،جس سے دل دھلتے تھے،زمین کانپتی تھی،آسمان تھرتھراتاتھااورشیاطین دوربھاگتے تھے۔
جواس امت کا’’محدث‘‘ تھا،تکوینیا
محدث العصرعلامہ سیدمحمدیوسف بنوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ
یوم وفات کے حوالہ سے خصوصی تحریر
محدث العصرحضرت علامہ سیدمحمدیوسف بنوری رحمہ اللہ نے ۱۹۰۸ء کوپشاورکے مضافات کی ایک بستی مہابت آبادضلع مردان کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔آبائی وطن کے لحاظ سے آپ ہندوستان کی ریاست پٹیالہ کے ایک قصبہ’’بنور‘‘سے تعلق رکھتے تھے،آپ کاسلسلۂ نسب طریقۂ صوفیاء کے مشہوربزرگ ،مجددالف ثانی ؒ کے خلیفہ اجل شیخ سیدآدم بنوریؒ کی وساطت سے سیدناحضرت حسین رضی اللہ عنہ سے جاملتاہے۔آپ نے ازہرہنددارالعلوم دیوبنداورجامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں اپنے وقت کے مشاہیراہل علم سے تعلیم حاصل کی،آپ علوم انورشاہ کشمیریؒ کے سب سے بڑے امین تھے۔۱۹۵۱ء میں ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان تشریف لائے۔ہندوپاک کے ممتازدینی اداروں میں آپ نے خدمات سرانجام دیں اورشیخ الحدیث کے منصب پرفائزرہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کوہرعلم وف