14
Rabiul Awwal

اتحاد بین المسلمین کا نسخہ

مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کا شیرازہ اس وقت بکھرا ہوا ہے ، وہ افتراق و انتشار کا شکار ہیں ، معاشی طور پر دوسروں کے دست نگر ہیں ، سیاسی طور پر محکوم ہیں ، عسکری لحاظ سے پرانے اور فرسودہ حربی آلات پر قناعت کئے ہوئے ہیں ، مذہبی نقطۂ نظر سے ٹولیوں اور جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں ، بین الاقوامی سیاست میں ان کا وزن نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے ، گاجر و مولی کی طرح انہیں کاٹا جا رہا ہے اور خدا کی وسیع سرزمین ان پرتنگ کی جا رہی ہے ، ننھے معصوم بچوں کو نیزوں پر اچھالا جاتا ہے ، بہنوں کے سروں سے دوپٹہ کھینچا جاتا ہے ، مسلمان آبادی پر وہاں کے نفوس سے بھی زیادہ تعداد میں بم گرائے جاتے ہیں ، اور مسلمان صرف آہ و بکا اور چیخ و پکار کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ۔ اسی پر بس نہیں بلکہ اب دشمن قوتیں آپس میں اتحاد کر کے مسلمانوں پر آخری اور کاری ضرب لگانا چاہتی ہیں ۔ وہ دیکھ رہی ہیں کہ مریض مضمحل ، نڈھال اور جان بلب ہے ، زخموں سے بدن چورچور ہے ، نبض ڈوب رہی ہے ، آنکھیں پتھرا رہی ہیں ، جسم بےحس و بےحرکت ہے ۔ یہ دیکھ کر گِد اس کے اردگرد منڈلا رہے ہیں ، اور کیڑوں کی طرح آس پاس جمع ہو رہی ہیں ۔ یہ منظر دیکھ کر کھلی آنکھوں سے آقائے نامدارصلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مشاہدہ ہو رہا ہے کہ

 

یہ قومیں تمہیں ہڑپ کرنے کے لئے ایک دوسرے کو بلائیں گی اور تم پر اس طرح جھپٹا ماریں گی جس طرح بھوکے کھانے کی پلیٹ پر جھپٹتے ہیں ۔ (ابوداؤد)
 

مسلمان اپنی اس بےکسی ، بےسہارگی اور قوموں کے درمیان اپنے اس مقام پر پریشان ہیں ، کئی ایک نسلیں اس جور و ستم اور جبر و ظلم کا شکار ہوچکی ہیں مگر اندھیری رات ہے جس کی قسمت میں صبح کا اجالا نہیں ۔
 

اب پیمانۂ صبر لبریز ہو رہا ہے ، برداشت کی قوتیں جواب دے چکی ہیں ، جسم میں اتنی سکت اور روح میں اتنی طاقت نہیں رہی کہ مزید کچھ عرصہ اس بھٹی کا ایندھن بنے رہیں ۔ مگر افسوس صد افسوس اور حسرت بالائے حسرت!
 

مسلمان اس گرداب سے نکلنا چاہتے ہیں ، مگر جتنا زور لگاتے ہیں اتناہی دھنستے چلے جاتے ہیں
 

منزل کے پیچھے بھاگتے ہیں مگر وہ سراب ثابت ہو رہی ہے ۔

ترقی ترقی پکارتے ہیں مگر مزید تنزل تنزل کی صدائیں آنے لگتی ہیں ۔

کسی کو نجات دہندہ سمجھ کر اس کے پیچھے چلتے ہیں مگر وہی سب سے بڑا خائن اور غدار ثابت ہوتا ہے ۔

بدقسمتی کی گرہ مسلمانوں کے نصیب میں پڑ چکی ہے جتنا زور لگاتے ہیں اتنی ہی کستی چلی جاتی ہے ۔

بدقسمت قوم جلسے کرتی ہے ، جلوس نکالتی ہے ، الیکشن ہوتے ہیں ، نعرے لگتے ہیں ، حکومتیں بنتی اورٹوٹتی ہیں ، نمائندے منتخب ہوتے ہیں ، تقریریں ہوتی ہیں ، قراردادیں پاس ہوتی ہیں ، مگر نتیجہ وہی صفر کا صفر رہتا ہے ۔
 

قرآ ن کریم کی صداقت پر قربان جائیے ، سچ فرمایا اس احکم الحاکمین اور اصدق القائلین نے کہ:
 

’’وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًافَمَالَہٗ مِنْ نُّوْرٍ‘‘
ترجمہ:’’جس کواللہ نے روشنی نہیں دی اس کے لئے کہیں روشنی نہیں‘‘


افسوس کہ آج تک مرض کی صحیح تشخیص نہیں ہوئی ، غیروں کے پیمانوں ، اوروں کے اصولوں ، دیگروں کی تدابیر اور خدا فراموش اقوام کے نظریات سے مسلم جسد کاعلاج کیا جا رہا ہے ۔ یورپ کی عینک لگا کر اپنے مصائب کا حل ، اپنے مرض کی دواء ، اور اپنے دکھوں کا مداوا تلاش کیا جا رہا ہے ۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے طریقہ علاج کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ، نہ جانے دلوں میں ایمان نہیں رہا یا یقین اٹھ چکا ہے ۔

ذرا چودہ صدیاں پیچھے پلٹ کر دیکھئے اور چشم تخیل اور قوت فکر سے اس وقت اورماحول کا نظارہ کیجئے . . . . . . . . . مٹھی بھر مسلمان ہیں. . . . . . . . . نہ طاقت نہ قوت. . . . . . . . . نہ حکومت اور نہ ظاہری آلات و اسباب . . . . . . . . . مگر سینے یقین سے معمور . . . . . . . . . خدا پر بھرپور توکل و اعتماد. . . . . . . . . آپس میں اتحاد و اتفاق. . . . . . . . . ایک دوسرے کے غم سے غمگین. . . . . . . . . درد سے دردمنداں . . . . . . . . . اور تکلیف سے پریشاں. . . . . . . . . نتیجہ یہ ہوا کہ مٹھی بھر جماعت. . . . . . . . . کیل کانٹوں سے لیس افواج ، متمدن ریاستوں اور بڑی بڑی طاقتوں پرغالب آگئی. . . . . . . . . حق کا کلمہ بلند ہوا. . . . . . . . . طاغوتی قوتیں ناکام ہوئیں. . . . . . . . . شر کی قوتیں ختم ہوئیں یا دب گئیں. . . . . . . . . اور خدا کا دین تمام ادیان پر. . . . . . . . . قرآن تمام کتابوں پر....اورمسلمان تمام اقوام پرغالب آکر رہے ، آج مسلمانوں کے زوال کا بنیادی سبب باہم تفرقہ بازی ، اختلافات ، اسلامی تعلیمات سے دوری ، اسوۂ نبوی کو مشعل راہ نہ بنانا ، باہمی اتحاد و اتفاق کو فراموش کرنا اور اسلاف کے نقش قدم سے دوری ہے ۔ لہذا آج بھی اگر مسلمان اپنے مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں تو نسخہ وہی ہے کہ خدا پر غیر متزلزل یقین و اعتماد ، کردار کی پاکیزگی و طہارت اور آپس میں اتحاد ، اخوت اور بھائی چارگی کو بروئے کار لایا جائے ۔
 

یہی آسمانی پیغام ہے ، یہی قرآن کی پکار ہے ، یہی نبی کی نصیحت ہے اوریہی وقت کی اولین ضرورت اور اتحادبین المسلمین کا نسخۂ کیمیا ہے ۔