10
Jumadi ul Awwal

کارمائن (Carmine) کوچنیل (Cochineal)

سرخ رنگ،کارمینک ایسڈ کا ایلومینیم رنگ(ایلو مینیم لیک)،رنگ دار مادہ جو کوچنیل نامی  مادہ کیڑے کے جسم سے حاصل کیا جاتا ہے۔درج ذیل ناموں سے مراد بھی یہی سرخ رنگ ہے۔

1)   کارمائن(Carmine)

2)   کارمینک ایسڈ(Carminic acid)

3)   نیچرل ریڈ( (Natural red

4)   کوچنیل (Cochineal)

5)   کرِمزن لیک (Crimson Lake)

6)مختلف مصنوعات  میں جو اضافی عناصر(فوڈ ایڈیٹوز) شامل کیے جاتے ہیں  ،ان کے لیے عددی اشارے مقرر کیے  گئے ہیں  جنہیں  ای نمبرز(Numbers E-)کہا جاتا ہے،اس کے حساب سے  کارمن کا   عددی رمز E.120  ہے۔

7)کاسمیٹک انڈسٹری  کارمائن کے لیے  C.I.75470 کا کوڈ استعمال کرتی ہے۔

 

اضافی اجزاء

 غذائی مصنوعات  میں تیاری ،تکمیلی مرحلے،پیکیجنگ  اور ذخیرہ کاری کے  موقع میں  کچھ اضافی اجزاء  شامل کیے جاتے ہیں۔یہ اضافی اجزاء کبھی تو خود استعمال سے مقصود ہوتےہیں  یعنی  ان کی حیثیت خام مال  یا تکمیلی مواد  کی ہوتی ہے اور کبھی ان کی غذائی قدروقیمت نہیں ہوتی ،ان کامقصد پروڈکٹ کی حفاظت ، ذائقے کی بہتری،  خوبصورتی ،پتلا یا گاڑھا بنانا،دیرپا اور محفوظ کرنا وغیرہ ہوتا ہے۔اشیاء  کی خوشنمائی اور عمدگی اور  ان کو جاذب  نظراور پرکشش  بنانے کے لیے بھی مختلف قسم کے اجزاء استعما ل کیے جاتے ہیں تاکہ زبان کے ساتھ نگاہ بھی لطف  اٹھائے  اور انسان کے جمالیاتی ذوق کی تسکین ہو۔اس مقصد کے لیے جواضافی اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں ان کاای نمبر ایک سو سے ایک دو اسی یا سو سے دوسو کے درمیان ہوتا ہے۔  پھررنگ کی ایک ذیلی  تقسیم  سرخ ،پیلے،نیلے وغیرہ  کےحساب سے قائم کی گئی ہے مثلا یہ کہ ایک سو  سے ایک سو دس تک سبز رنگ کے لیے ہوں گے وغیرہ  

کارمینک ایسڈ کی خصوصیت اور استعمال

کارمینک ایسڈ کا ای نمبر 120 ہے اور یہ گہرے اور شوخ قسم کا سرخ رنگ ہے ۔سرخ رنگ  پھلوں اور سبزیوں سے بھی حاصل کیا جاتا ہے مگر  جوشوخی اورتیزی کارمینک ایسڈ میں ہے وہ اور کسی شی میں نہیں ،اسی خصوصیت کی وجہ سے یہ ر نگ زمانہ قدیم سے مصوری  اور کپڑوں کے رنگنے میں استعمال ہوتا ہے۔زمانہ حال میں اس کا استعمال کھانے پینے کی اشیاء ،دواؤں اور میک اپ کے سامان میں بھی ہوتا ہے ۔اس لیے سوال پید ا  ہوتا ہے کہ کیا یہ رنگ حلال ہے یا حرام اور جس پروڈکٹ میں یہ شامل ہو اس کا استعما ل درست ہے یا نہیں؟اس سوال کا جواب اس نکتے پر موقوف ہے کہ کارمینک ایسڈ کا ماخذ کیا ہے؟

 

 

 

 کارمینک ایسڈ کا ماخذ

رنگ اگر پاک اور حلال اشیاء سے بنایا گیا ہو اور اتنی مقدار میں کسی پروڈکٹ میں شامل کیا گیا ہو جو نقصان دہ اور نشہ آور(مضر اورمسکر) نہ ہو تو اسے ملانے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں ،مگر کارمینک ایسڈ کا معاملہ اس سے مختلف ہےکیونکہ یہ رنگ کوچنیل نامی  مادہ کیڑے  سے حاصل کیا جاتا ہے،جسے اردو  میں کرم دانہ اور کچنیلا اور عربی میں قرمز کہتے ہیں ،اسی سے قرمزی رنگ حاصل کیا جاتا ہے،یہ کیڑا لاطینی امریکہ میں پایا جاتا ہے اور قیمتی سرخ رنگ کا ماخذ کا ہونے کی وجہ سے  مخلتف خطوں میں اس کی فارمنگ بھی کی جاتی ہے ،اس وقت پیرو اس کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے ۔ (1)

یہ کیڑاکیکٹس کےپودا پر پایا جاتا ہے اور یہی پودا اس کامسکن اور غذا ہوتا ہے۔ان پودوں سے اسے اتار کرمصنوعی گرمائش کے ذریعے  ماردیا  جاتا ہے یا پھر گرم پانی میں ڈال کرابال دیا جاتا ہے،پھر خشک کرنے کے بعد اسےکوٹا اور پیسا جاتا ہے جس سے ابتدائی درجے کا سرخ رنگ حاصل ہوجاتا ہے جسے (Cochineal Extract) کہتے ہیں۔ مگر جب اسےمحلول میں ڈال کرمزیدکیمیائی مراحل سے گزارا جاتا  ہے تو  سرخ رنگ  کامواد الگ ہوجاتا ہے اور پھر اس سے  جب  رنگ کشید کیا جاتا ہے تو انتہائی عمدہ قسم کا سرخ رنگ برآمد ہوجاتا ہے جسے کارمائن کہا جاتا ہے ۔کارمائن کو ماکولات ،مشروبات،ادویات  اور دیگر مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔(2)

جب کوئی پروڈکٹ فروخت کے لیےپیش ہو اور اس کےلیبل پر پروڈکٹ میں شامل  تمام اجزاء کی تفصیل بھی درج ہوتوصارف اطمینان  کے ساتھ اسے خریداور استعمال کرسکتا ہے ، جن ملکوں نے  صارف کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ایسی قانون سازی کرلی ہے  کہ  لیبل پرپورا نام اور مکمل حقیقت درج کرنا ضروری ہے،وہاں کہ صارفین کسی تردد اور تذبذب کے بغیر کسی شی کے استعمال اور عدم استعمال کا فیصلہ کرسکتے ہیں،مگر ہمارے ہاں اشیاء پراجزاء ترکیبی کی فہرست یا درج نہیں ہوتی اور اگر ہوتی ہے تو مجمل قسم  کی ہوتی ہے

 

کہ اس میں قدرتی رنگ  اورمصنوعی ذائقہ بھی شامل ہے،مگر وہ مصنوعی ذائقہ اور رنگ  کس شی سے تیار کیا گیا ہے ؟کمپنی اسے اجمال کے  دبیز پردے میں چھپالیتی ہے۔جو لوگ حلال اور حرام کے احکام کے پابند نہیں یا جو لوگ پابند ہیں مگر دھیان نہیں دیتے  ان کے لیے یہ کوئی غیر معمولی  واقعہ اور نوٹس طلب امر نہیں مگر جو لوگ محتاط اور پابند زندگی گزار تے ہیں ان کے سامنے اصل حقیقت کی وضاحت ضروری ہے۔

حاصل  تعارف

اب تک جو کچھ بیان ہوا اس کا حاصل یہ ہے کہ کوچنیل ایک کیڑا ہے جس میں سرخی اورلالی ہوتی ہے اور اس سے سرخی کشید کرکے مختلف اشیاء میں ملادی جاتی ہے۔

چند شرعی اصول

کوچنیل کے شرعی حکم کے بیان سے قبل چند شرعی اصولوں کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ ان ہی اصولوں کی بنیاد پر کوچنیل کا شرعی حکم معلوم کیا جاسکتا ہے:

1۔اشیاء کے داخلی اور خارجی استعمال میں فرق  ہے۔اس فرق کی وجہ سے بسا اوقات ایک چیز کا داخلی استعمال ناجائز ہوتا ہے مگر خارجی استعمال درست ٹھہرتا ہے۔

2۔حلال اور پاک میں بھی فرق ہے۔حلال اشیاء پاک ہوتی ہیں اور ان کا کھانا جائز ہوتا ہے  مگر پاک اشیاء کا حلال ہونا ضروری نہیں۔بعض چیزیں ایسی ہیں جو پاک تو ہیں  مگر ان کا کھانا حلال نہیں ہے جیسے مچھلی کے علاوہ دیگر سمندری مخلوقات پاک ہیں مگر ان کا کھانا حلال نہیں،اسی طرح عورت کا دودھ پاک ہے مگر سوائے  اس کے بچے کے کسی اور کے لیے  اس کاپینا حرام ہے،اور بچے کے لیے  بھی  ولادت کے بعد ابتدائی دو سالوں میں پینا حلال ہے ،دو سال کے بعد اس  کے لیے بھی  پیناحلال نہیں ۔

3۔بری جانوروں کی  تین بڑی بڑی قسمیں ہیں:

            ۱: .... جن میں بہتا ہوا خون ہو ۔

            ۲ :.... جن میں خون تو ہو لیکن بہنے والا نہ ہو ۔

            ۳ :.... اور جن میں سرے سے خون ہی نہ ہو۔

جتنے کیڑے مکوڑے  ہیں وہ اس دوسری قسم میں داخل ہیں یعنی ان میں خون تو ہوتا ہے مگر بہنے والا نہیں ہوتا ہے۔(3)

4۔شریعت جب کسی چیز کو حرام قرار دیتی ہے تو درج ذیل اسباب میں سے کسی ایک  کی بنا پر قرار دیتی ہے:

الف: کرامت

ب:مضرت

ج:نجاست

د:اسکار

ھ:خبث(4)

خبث سے مراد یہ ہے کہ سلیم فطرت اور صحیح طبیعت کو اس سے گھن آئے۔اسکا ر کا مطلب اس کا نشہ آور ہونا ہے اور نجاست سے گندگی اور پلیدی مراد ہے۔مضرت یہ ہے کہ وہ شی نقصان پہنچاتی ہو اور کرامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کا رتبہ اور مرتبہ اس قدر بلند ہو کہ وہ خود تو اشیاء کو استعمال میں لاتی ہو مگر وہ خود کسی کے استعمال میں نہیں آسکتی   ہو کیونکہ شریعت نے اسے اعزاز واکرام بخشا ہے۔

5:کوئی تنگی اور مجبوری ہو اور حلال  ذرائع سے وہ دور نہ کی جاسکتی ہو تو شریعت کے قانون ضرورت کا سہار ا لے کر وہ تنگی دور کی جاسکتی ہے مگر جہاں تنگی  نہ ہو یا تنگی  ہو مگر نام کی تنگی ہو اور شریعت  اس کو تنگی تسلیم  نہ کرتی ہو تو ایسے مواقع پرشریعت کے قانون ضرورت سے  کام لے لیتے ہو  حرام کے استعمال کی اجازت نہ ہوگی ۔

کوچنیل کا شرعی جائزہ:

اب ہم اس پوزیشن میں ہے  کہ  کوچنیل کے متعلق کوئی  شرعی تبصرہ کرسکتے ہیں:

جس پروڈکٹ میں کوچنیل/ کارمائن کی آمیزش ہو  درج ذیل دو  وجوہات کی وجہ سےاس کا کھانا پینا ناجائز ہے:

1۔خبث

2۔خون

             کوچنیل کیڑا ہے اور کیڑا ہونے کی بنا پر پاک ہے  اور پاک ہونے کی وجہ سے اس  کا بیرونی استعمال  جائز ہے مگر حلال نہیں  ہے   کیونکہ کیڑے خبائث میں سے ہیں اور خبائث کا کھانا حلال نہیں۔یہی وجہ ہے اگر مکھی کھانے میں  گر جائے تو پاک ہونے کی وجہ سے سالن ناپاک نہیں ہوتا مگر حلال نہ ہونے کی وجہ سے اس مکھی کا کھانا جائز نہیں ہوتا۔مٹھائی میں چیونٹیاں پڑگئی ہوں تو چیونٹیاں نکال کر اس  کا کھانا جائز ہوتا ہے مگر چیونٹیاں کھانا یا چیونٹیوں سمیت  اس مٹھائی کا کھا نا جائز نہیں ہوتا۔(5)

اس وقت  صورت حال یہ ہے کہ اشیاء  میں کارمائن کا استعمال عام ہے۔ عالمی ادارہ صحت  نے  کئی انواع  کے مصنوعات  کے لیے  کارمائن  کی شرح  استعمال کی  حد مقرر کی ہے ،جس یہ اندازاہ لگایا جاسکتا ہے کہ کارمائن کتنے انواع واقسام  کے مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے ۔حلال کی رہنمائی فراہم کرنے والے مستندادارے   بھی  ایسی سینکڑوں اشیاء کی فہرست آویزاں کیے ہوتے ہیں جن میں کوچنیل کی نشاندہی  کی ہوتی ہے اور خود تجربہ ومشاہدہ کیا جائے تو کئی مصنوعات کے اجزاء ترکیبی میں کوچنیل کے شمولیت کی صراحت ملتی ہے ۔مطلب یہ ہے کہ کارمائن کا استعمال اب عام ہے ،مگر اس کثرت استعمال کے باوجود کارمائن کو جائز نہیں کہا جاسکتاکیونکہ غیر مسلم اسے استعمال کرتے ہیں تو ان کاعمل مسلمانوں کے معیار نہیں  اور اگر مسلمان استعمال کرتے ہیں تو ناواقفیت کی وجہ سے کرتے ہیں اور اگرحقیقت کے علم کے باوجود ایسا کرتے ہیں توایسے لوگوں کے استعمال کا اعتبار نہیں  ۔شریعت کے نزدیک  جن لوگوں کی فطرت سلیم اور طبع مستقیم ہو ان کی طبیعت وفطرت کا اعتبار ہے اور طبیعت اسی وقت فطرت کے مطابق ہوسکتی ہے اور ذوق اسی وقت  اعلی ٰ اور درست قرار دیا جاسکتا ہے جب وہ شریعت کے مطابق ہو،جب کہ شریعت  یہ کہتی ہے کہ کیڑوں میں  خبث ہے اور جب ان میں خبث ہے تو سلیم فطرت  انسان اس کا استعمال نہیں کرسکتا۔

کوچنیل میں حرام ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں خون ہوتا ہے۔خون اگر سائل  نہ ہو توناپاک تو نہیں ہوتا مگر اس کاکھانا حلال بھی نہیں ہوتا۔(6)

 

کوچنیل میں مضرت کا پہلو بھی ہے کیونکہ اس کے استعمال سے لوگ دمہ اور الرجی اور کا شکار ہوجاتے ہیں چنانچہ برطانیہ کی(HASCG)نامی تنظیم بچوں کے لئے اس رنگ کے استعمال کو منع کرتی ہے۔(7)

اگر کارمائن کو اس  کے مضرت کے پہلو سے دیکھا جائے تو اس  سے اجتناب برتنا ضروری ہوگا جیساکہ مذکورہ تنظیم کا دعوی ہے لیکن اگر اس قسم کے واقعات معقول تعداد میں نہ ہوں تو ان سے صرف نظر کیاجاسکتا ہے ۔

اب تک کی گفتگو سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ کوچنیل کا کھانا ایک سے زائد وجوہات  کی بناپر درست نہیں ہے ۔شنید یہ بھی ہے  کہ کوچنیل کو الکحل میں  ڈال کر اس سے سرخ رنگ کشید کیا جاتا ہے ،اگر یہ درست  ہو تو  پھر جن صورتوں میں الکحل کا استعمال جائز نہیں ہوتا، ان صورتوں میں الکحل شامل ہونے کی وجہ سے کوچنیل کا استعمال بھی جائز نہ ہوگا۔

بہرحال مضرت اور الکحل کے پہلو سے تو یقینی طور پر کوچنیل کو حرام نہیں کہا جاسکتا مگراس وجہ سے کہ کوچنیل کیڑا ہے اور کیڑا خبائث میں داخل ہے اور کوچنیل میں خون ہوتا ہے اور خون حرام ہے۔ان دو وجوہات کی وجہ س ے کوچنیل کا کھانا ناجائز ہے اور یہی دو دلیلیں کوچنیل کے عدم جوز کی ٹھوس اور بنیادی دلیلیں ہیں۔

 کوچنیل کے بارے میں جو چیز غوروفکر پر مجبور کرتی ہے وہ اس کاکثرت ِاستعمال ہے۔اس کثرت استعمال کی وجہ سے اس سےبچنا مشکل ہے اور جن چیزوں سے بچنا مشکل ہو شریعت ان میں  رخصت اوررعایت دے دیا کرتی ہے کیونکہ وہ حتی الامکان مکلف کو تکلیف اور مشقت سے بچاتی ،رعایت بخشتی اور  سہولت فراہم کرتی ہے۔

یہ دلیل وزنی اورمعقول معلوم ہوتی ہے اور مجبور شخص کے بارے میں اور کوچنیل کے بیرونی استعمال کے سلسلے میں اس کاوزن بھی تسلیم ہے مگر خوردنی استعمال کے بارے میں اس استدلال میں زیادہ وزن نہیں ہے کیونکہ جو لوگ مجبور ہوں  ان کو شریعت کے  قانون ضرورت کے تحت اجازت ہوگی مثلا مریض ہے اور دو ا صرف ایسی دستیاب ہے جس میں کوچنیل ہے  اور اس دوا کے استعمال سے  ماہر ڈاکٹر کے بقول شفا کی امید غالب ہے تو اسے ضرورت کے قانون کے تحت  کوچنیل ملی دوا کھانے کی اجازت ہوگی،اسی طرح اگر کوچنیل کاسمیٹکس  کے سامان میں استعمال ہوا ہو تو اس کااستعمال  جائز ہے  کیونکہ کیڑے کا بیرونی استعمال  جائز ہے۔مگرعام لوگوں کے لیے اس کا خوردنی استعمال جائز نہ ہوگا اور اس کی وجہ  بالکل ظاہر ہے کہ کیڑوں کو شریعت غذا کے طور پر استعمال کی اجازت نہیں دیتی  جب کہ کوچنیل میں غذائیت کا پہلو ہے بھی نہیں کیونکہ نہ غذا ہے نہ دوا ہے بلکہ رنگ ہے اور رنگ  بحیثیت رنگ ہونے کے ہماری مجبوری نہیں ، انسان ہونے  کےناطے ہم کسی کالے پیلے اور سرخ رنگیلے کے محتاج نہیں ۔

اگر رنگ کا استعمال ناگزیر ہو تو دیگر رنگ موجود ہیں اور اگر سرخ  رنگ ہی مطلوب ہو تو انگور اورچقندر وغیرہ سے حاصل کیاجاسکتا ہے اور اگر زیادہ سرخی ،گہری شوخی   اور تیز لالی  مقصود ہو تو یہ کوئی  اتنی بڑی ضرورت نہیں  کہ اس کی وجہ سے  کیڑے مار کر کھانے کی اجازت دی جائے ۔

 

                          

 

حواشی و حوالہ جات

 

(1)معنی ومطلب

قرمز،فرنگی ،کرم دانہ۔‘‘
(اسٹینڈرڈ اردو ڈکشنری، ۱۹۹)
’’cochineal ایک سرخ ،قرمزی رنگ جو خصوصاً کھانے کی چیزوں کو رنگنے کے لئے استعمال ہوتا ہے،کچنیلا ۲۔میکسیکوکے کیڑے قرمز dectylopius cocusکی مادنیوں کے سوکھے جسم جن سے یہ رنگ حاصل ہوتا ہے۔‘‘
(اوکسفرڈانگلش اردوڈکشنری،ص:۲۷۲،مترجم:شان الحق حقی،ط:اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس)

(2)کارمائن کی تیاری کا طریقہ دیکھنے کے لیے  ملاحظہ کیجیے:

Youtube video 1: http://www.you tube. com/watch?v=jSgteZSLJ90&feature=related Youtube video 2:http://www.youtube. com/watch?v= 9YzM1Edb6mo
Once all of the insects are collected, farmers pour them onto a wooden plank. For five to six minutes, the farmer will shake the beetles in a process that eventually kills the insects while retaining their dark colors. There are other ways to kill the bugs.....
(http://www.businessinsider.com/how-cochineal -insects-color-your-food-and-drinks-2012-3?op=1)

(3)وأما الذی یعیش فی البر فأنواع ثلثۃ:مالیس لہ دم أصلا،وما لیس لہ دم سائل...وما لہ دم سائل...‘‘۔
( ہندیۃ: الباب الثانی فی بیان ما یؤکل من الحیوان ،ص:۲۸۹،ج:۵،ط:کوئٹہ)

عربی فتاویٰ جات میں بھی حشرات کوپاک لکھا ہے اور ان کے کھانے کو حرام کہا گیاہے:
’’واعلم أن کل مالا یفسد ماء لا یفسد غیر الماء وھو الأصح کذا فی المحیط والتحفۃ والأشبہ بالفقہ کذا فی البدائع،لکن یحرم أکل ھذھ الحیوانات المذکورۃ،وما عدی السمک الغیر الطافی لفساد الغزاء وخبثہ متفسخاأو غیرہ وقدمناہ عن التجنیس‘‘۔
(البحرالرائق :کتاب الطہارۃ، ص:۱۶۴ج:۱،ط :مکتبہ رشیدیۃ، کوئٹہ)
(ویکرہ أکل الضبع...والحشرات کلھا)والظاھر أن الحشرات کلھا من الخبائث. (فتح القدیر:کتاب الذبائح، فصل فیما یحل أکلہ ومالا یحل،ص:۵۱۱،۵۱۳،ج:۹ط:دار الکتب العلمیۃ)
’’وموت ما لیس لہ نفس سائلۃفی الماء لاینجسہ کالبق والذباب والزنابیر والعقارب ونحوھا‘‘۔
(الھندیۃ:الباب الثالث فی المیاہ ،الفصل الثانی ،ص:۲۴ج:۱،ط:کوئٹہ)
’’...وما لیس لہ دم سائل کالبق والذباب)لأن النجس ھو الدم المسفوح‘‘. (السعایۃ، کتاب الطھارۃ،ص:۳۵۴،۳۵۶،ج:۱،ط:سہیل اکیڈمی)
’’وکذلک مالیس لہ دم سائل مثل الحیۃ والوزغ وسام أبرص وجمیع حشرات الأرض وھوامّ الأرض من الفارۃ و القراد و القنافذ والضب و الیربوع وابن عرس ونحوھا‘‘۔(بدائع:الذبائح والصیود ،ص:۳۶،ج:۵،ط:مکتبہ رشیدیہ،کوئٹہ)
’’فما لا دم لہ أصلا مثل الجراد والزنبور والذباب والعنکبوت والخنفساء والعقرب والببغاء ونحوھا لا یحل أکلہ إلا الجراد خاصۃ‘‘۔ 
(ہندیۃ:الباب الثانی فی بیان ما یؤکل من الحیوان ،ص:۲۸۹،ج:۵،کوئٹہ
 

(4) کیڑے طبعی طور پر مرغوب نہیں ہوتے ہیں، سلیم طبیعتوں کو ان کے کھانے سے گھن آتی ہے۔ جن چیزوں سے ذوقِ سلیم اور طبع مستقیم کوکراہت محسوس ہو ،وہ شرعاً بھی ناجائز ہوتی ہیں۔تنقیح ا لفتاوی الحامدیہ میں ہے:
’’ضبط أھل الفقہ حرمۃ التناول إما بالإسکارکالبنج وإما بالإضرار بالبدن کالتراب والتریاق أو بالإستقذارکالمخاط والبزاق وھذا کلہ فیما کان طاھراً‘‘ ۔ (ص:۳۶۳،ج:۲،ط:المکتبۃ الحبیبیۃ)
’’ولایحل ذوناب یصید بنابہ ...ولاالحشرات)ھی صغار دواب الأرض واحدھا حشرۃ... ثم قال:والخبیث ما تستخبثہ الطباع السلیمۃ...وتحتہ فی الرد:قال فی معراج الدرایۃ:أجمع العلماء علی أن المستخبث حرام بالنص وھو قولہ تعالی:ویحرم علیھم الخبائث...‘‘۔ 
(رد المحتار، کتاب الذبائح، ص:۳۰۵،۳۰۶،ج:۶،ط:ایچ ایم سعید )
’’وحل غراب الزرع ...لا الأبقع...والحشرات...یعنی ھذہ الأشیاء لاتوکل...والحشرات فلأنھا من الخبائث وقد قال تعالٰی۔:ویحرم علیھم الخبائث...‘‘۔ (البحرالرائق ،کتاب الذبائح،ص:۱۷۲،ج:۸،ط:رشیدیہ)
یہی مضمون’’ بہشتی زیور‘‘ میں بھی ہے:
’’جاننا چاہئے کہ شریعت مطہرہ میں استعمال کے منع ہونے کی وجہیں چار ہیں: نجاست...مضر ہونا ...استخباث، یعنی طبیعت سلیمہ کا اس سے گھن کرنا، جیسے کیڑے مکوڑوں میں،اور نشہ لانا‘‘۔ (بہشتی زیور ،نواں حصہ، ص:۹۸،میر محمد کتب خانہ
مذکورہ بالا عبارت سے کچھ پہلے ایک دوسرے مقام پر ہے:
’’...اسی طرح سرکہ کو مع کیڑوں کے کھانا یا کسی معجون وغیرہ کو جس میں کیڑے پڑگئے ہوں،مع کیڑوں کے یامٹھائی کومع چیونٹیوں کے کھانا درست نہیں اور کیڑے نکال کر درست ہے۔‘‘بہشتی زیور،نواں حصہ،ص:۱۰۴)

(5) فتاویٰ مظاہر العلوم میں ہے:
’’مکھی غیر ذی دم مسفوح ہے، لہٰذا جب سالن میں گر جاتی ہے تو اس کے مرنے سے سالن ناپاک نہیں ہوتا ۔لہذا اس سالن کا کھانا شرعاً جائز قرار پایا ،اور چونکہ مکھی منجملہ خبائث کے ہے اور تمام خبائث کا کھانا حرام ہے ،لہٰذا مکھی کا کھانا اور کھلانا حرام ہوگا۔کتاب الحظر والإباحۃ،باب الأکل والشرب، ص:۲۹۸،ج:۱،ط:مکتبۃ الشیخ
کوچنیل ایک کیڑا ہے جس میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا ہے۔حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ لکھتے ہیں:
’’حشرات کو غیر ذی دم مسفوح مانا گیاہے‘‘۔ بہشتی زیور ،نواں حصہ،ص:۱۰۶
فتاویٰ رحیمیہ میں ایک ایسا فتوی درج ہے جو لگتا ہے کہ کوچینل ہی کے متعلق ہے، صرف نام کی صراحت نہیں ہے:
سوال: یہاں دکانوں میں لال شربت ملتا ہے،اس کے اندر جو سرخی اور لالی ہوتی ہے وہ ایک قسم کی مکھی سے کشید کی جاتی ہے۔اس مکھی کو پیس کر یا کسی اور طریقہ سے سرخی کشید کرتے ہیں اور اس کو شربت میں ملاتے ہیں تو اس شربت کا پینا کیسا ہے؟
الجواب: ’’مکھی اور چیونٹی میں دم سائل نہیں ہے، اس لئے پاک ہے، مگر کھانا حلال نہیں، خارجی استعمال درست ہے،داخلی استعمال درست نہیں،لہٰذا اس کا کوئی جزء شربت میں پڑتا ہوتو اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔‘‘
(کتاالحظروالإباحۃ،باب ما یجوز أکلہ ومالا یجوز، ص:۱۳۸،ج:۹،ط:دارالإشاعت)
بہشتی زیور میں بھی یہی بات کہی گئی ہے:
’’کیڑے مکوڑے اور خشکی کے جملہ وہ جانور جن میں دم سائل نہ ہو،پاک ہیں، جیسے حشرات الارض بچھو ،تیتے،چھوٹی چھپکلی جس میں دم سائل نہ ہو،چھوٹا سانپ جس میں دم سائل نہ ہو،خارجاً ان کا استعمال ہر طرح درست ہے اور داخلاً سب حرام ہیں،سوائے ٹڈی کے۔‘‘ بہشتی زیور ،نواں حصہ، ص۱۰۴ط:میر محمد کتب خانہ

 

(6)حشرات میں دم غیر مسفوح ہوتا ہے اور دم غیر مسفوح پاک تو ہے، مگر اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔بہشتی زیور میں ہے:
’’مذبوح جانور کی گردن میں موضع ذبح پر جو خون لگا ہوتا ہے وہ دم مسفوح ہے،بلا دھوئے اور خون چھوٹے طہارت نہیں ہوسکتی۔ہاں جو خون رگوں کے اندر یا جلد وغیرہ میں رہ جاتا ہے وہ غیر مسفوح ہے اور دفعاً للحرج کھانے میں بھی مضائقہ نہیں اور سوائے اس کے اور خون غیر مسفوح پاک تو ضرور ہیں، مگر داخلاً جائز نہیں،جیسے کوئی کھٹمل کا خون کھانا چاہے۔‘‘ 
بہشتی زیور ،نواں حصہ ،ص:۱۰۶،میر محمدکتب خانہ

(7)برطانیہ کی(HASCG)نامی تنظیم بچوں کے لئے اس رنگ کے استعمال کو منع کرتی ہے:
\"Important E-Numbers to Avoid:
Some countries have displayed a more responsible attitude and, as you will see from the lists below, have banned certain substances.....Any substance marked with * means that it is derived from animals (mostly pigs) and should be avoided if a child has pork allergies.
Colourant E numbers banned in some countries:
..., E120* Cochineal, red colour, ...\"
(http://www.safekids.co.uk/enumberstoavoid.html)
\"E120 Cochineal, Carminic acid, Carmines 
Red colour; made from insects; rarely used; the HASCG recommends to avoid it, especially hyperactives, rhinitis sufferers, urticaria, asthmatics and aspirin cause of allergic reactions. Typical products includealcoholic beverages, dyed cheeses, puddings, icings, sweets, sauces, fizzy drinks, cakes, soups and pie fillings. Banned in USA.\" (http://mbm.net.au/health/100-181.htm)
The World Health Organisation has found that cochineal extract may cause asthma in some people. Others may see an allergic reaction.
(http://www.dailymail.co.uk/femail/article-2120796
/Starbucks-admits-Strawberry-Frappuccino
-contains-crushed-bugs.html)