10
Dhil Hijja

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوۂ ہندکے متعلق چنداحادیث

بسم اللہ الرحمن الرحیم
حامداً ومصلیاً
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوۂ ہندکے متعلق چنداحادیث منقول ہیں،جن سے مجموعی اعتبارسے چندباتیں معلوم ہوتی ہیں:
۱۔۔۔غزوۂ ہندمیں شرکت کی ترغیب۔
۲۔۔۔غزوۂ ہندکے شہداء افضل شداء ہوں گے۔
۳۔۔۔اس میں شرکت کرنے والوں کوجہنم سے حفاظت کی بشارت۔
۴۔۔۔سندھ بقیہ ہندسے قبل اسلام کے زیرنگیں ہوگا۔
۵۔۔۔یہ غزوہ ایک روایت کے مطابق نزول  عیسیٰ علیہ السلام کے   قرب میں پایاجائے گا،کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پھرجب وہ واپس پلٹیں گے توعیسی بن مریم کوشام میں پائیں گے۔
(البدایۃ والنھایۃ،الاخبارعن غزوۃ الہند۶؍۲۲۳ )(الفتن لنعیم بن حماد،غزوۃ الہند،۱؍۴۰۹،رقم الحدیث:۱۲۳۶۔)
احادیث کے ان اجمالی خاکہ کے بعد احوال سندھ وہندکی طرف نظراجمالی نظر ڈالی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں حرف بحرف صادق نظرآتی ہیں،چنانچہ برصغیرپاک وہندمیں سندھ کوباب الاسلام کہاجاتاہے،سندھ اوربرصغیرکے مختلف علاقوں میں ۲۵؍صحابہ کرام اور۳۶؍دیگرحضرات کی تشریف آوری بھی تاریخ سے ثابت ہے،جنہوں نے اس خطہ کودین کے انوارسے منورکیا،سب سے پہلے بمبئی کے قریب تھانہ بندرگاہ ۱۵ھ میں عربوں کاحملہ ہوا،حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں سیستان فتح ہوگیاتھا لیکن یہاں کی بغاوتوں کو فروکرنے کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حضرت عبدالرحمن بن سمرۃ رضی اللہ عنہ نبردآزماہوئے اوران تمام علاقوں پرقابض ہوئے جوآج کل مکران اورسیستان میں شامل ہیں،گویاخلفاء راشدین کے عہدزریں ہی میں برصغیرکے مختلف علاقوں میں اسلام کاپرچم لہرانے لگا،اورپھرمختلف ادوارمیں یہاں کے مسلمان سردارمقررکیے جانے لگے،۸۶ھ میں دمشق کے تخت شاہی پرولیداموی متمکن ہوا اوراس کی طرف سے حجاج بن یوسف کو ان علاقوں کا نگراں بنایاگیاتھا،اسی زمانے میں لنکا میں کچھ عرب تاجروں کاانتقال ہواتو وہاں کے راجہ جس کو مسلمانوں سے خیرخواہی کاجذبہ تھا،اس نے ان عورتوں اوربچوں کوایک جہازمیں سوارکرکے عراق روانہ کیا، راستہ میں دیبل کے قریب کچھ قزاقوں نےانہیں لوٹ لیااورعورتوں اوربچوں کے قیدکرلیا۔حجاج نے ابتداً مصلحت سے کام لیتے ہوئے خط لکھا کہ ان لوگوں کوبحفاظت واپس کردیں لیکن راجہ داہرنے جواب دیاکہ میں ان قزاقوں پرقدرت نہیں رکھتاتوحجاج نے پہلے عبداللہ اسلمی اورپھربدیل بن طہقہ کولشکرکے ساتھ روانہ کیا، بعدازاں محمدبن قاسم کوسندھ کا والی مقررکرکے چھ ہزارشامی فوج کے ساتھ روانہ کیا،انہوں نے ۹۳ھ میں سندھ پرحملہ کیااورتین سال میں محمدبن قاسم نے پنجاب کی سرحد(ملتان)سے لیکرگچھ تک اورمالوہ کی سرحدپرقبضہ کیا لیکن ۹۶ھ میں جب ولیدکی جگہ سلیمان تخت نشین ہواتواس نے ذاتی عنادکی وجہ سے محمدبن قاسم کوبلوایااورپھرقتل کرادیا۔
بہرحال! اسلام برصغیرمیں فاتحانہ شان سے دیبل کے راستہ سے پہلی بار داخل ہوا اگرچہ اسلامی نورسے منورکرنے کے لیے کچھ لوگ پہلے بھی اس خطہ میں قدم رکھ چکے تھے۔
محمدبن قاسم نے جوسرچشمہ فیض بہایاتھا اسے اس کے عرب دوست مزیدوسعت اورگہرائی نہیں دے سکے ،پنجاب اورشمالی ہندکے باقی علاقوں میں آبیاری ان لوگوں نے کی جوعرب سے نہیں تھے بلکہ افغانستان سے تھے۔چنانچہ ۷۱۳ھ میں سندھ اورملتان فتح ہوئے ،اس کے بعدکوئی اڑھائی تین سوسال تک راجپوت شمالی ہندوستان میں بالکل بے کھٹکے حکومت کرتے رہے،اورباہرسے کوئی مسلمان تلوارکادھنی ہندوستان میں نہیں آیا۔پھر۹۸۰ھ کے قریب امیرسبکتگین کی نگاہ اس طرف پڑی اس وقت پشاوراورکابل کاعلاقہ پنجاب کے راجہ جے پال کے زیرنگیں تھے، امیرسبکتگین نے ۹۹۷ھ میں وفات پائی،ان کی جگہ محمودتخت نشیں ہواجس کی فتوحات کاسلسلہ سکندرکی یاددلاتاہے، اس نے جے پال کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور۱۰۱ھ میں اسے اٹک کے قریب شکست سے دوچارکیا،پھراس کے بیٹے نندپال سےسامناہوتارہا،بالآخرپشاورمیں اسے بھی راستہ سے ہٹاکر کانگڑھ تک چڑھ آیا،اس دوران محمودنے ہندوستان پرکئی حملے کیے ،اورمتھرا،قنوج اورسومناتھ کے علاقے فتح کیے اوربہت مال غنیمت حاصل کیالیکن مسلمانوں نے فتوحات کے بعدان علاقوں پرباقاعدہ اسلامی حکومت قائم نہیں کی حتی کہ دہلی کاراجہ پرتھوی راج جب مرا تو اس کے بیٹے ابن ابی کو سلطان نے ۵۸۸ھجری میں دہلی کا راجہ بنادیا اور اطاعت وخراج گزاری کا وعدہ لے کر اس کی حکومت برقرار رکھی۔
یہ مختصر روئیداد ہند اور سندھ میں اسلام کی فاتحانہ شان سے داخلہ کی ہے۔ اس کے بعد بھی حق وباطل نبرد آزما ہوتے رہے چنانچہ مختلف شورشوں اور بغاوتوں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں ۔غرض اسلام کا اثر و رسوخ بڑھتا رہا اورصوفیاء کرام اور علماء اسلام کی محنتوں سے لوگ اسلام سے ہم آغوش ہوتے رہے،یوں حلقہ اسلام وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا تا آنکہ ۳شعبان ۶۰۲ھجری کو جب سلطان شہاب الدین غوری شہادت کے مقام بلند پر سرفراز ہوئے تو اس وقت ہندوستان کے مستقل دارالحکومت دہلی کے ماتحت تمام سندھ ، ملتان ، ممالک متحدہ آگرہ ،اودہ ، گجرات ، بہار ، بنگال ، آسام ، تبت آچکے تھے اور آج کل جس براعظم کو ہندوستان کہا جاتا ہے اس میں صرف دکن اور مدراس باقی تھے ورنہ اس کے سوا پورے ہندوستان پر اسلامی حکومت آب وتاب کے ساتھ قائم ہوچکی تھی۔اس کے بعد تیمور ، بابر ہمایوں ، شیرشاہ سوری اور اکبر کا زمانہ نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ جس میں حضرت مجدد الف ثانیؒ نے قرون اولیٰ کی یاد تازہ کی اور استقامت کا کوہ بن کر ہر فتنہ کا مقابلہ کیا اور اسلام کی نشرو اشاعت کیلئے اپنی پوری توانائی صرف کی ۔ہندوستان میں اصلاحی کوششوں کے حوالہ سے ایک عظیم شخصیت حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی ؒ کی ہے جن سے اسلام کے اقدار کو تقویت ملی ، مگر داخلی کمزوریوں اور تعیش پسندی نے مسلمانوں کو اندر سے کھوکھلا کردیا تھا ۔سلطان ٹیپو اس کمزور عمارت کا آخری دفاعی حصار ثابت ہوئے چنانچہ سقوط سرنگاہٹم پر جرنل بیرڈ نے کہا کہ ’’اب دنیا کی کوئی طاقت ہندوستان کو ہماری غلامی سے نہیں بچاسکتی ‘ ‘ الغرض مسلمانوں کی آزادی کا ٹمٹماتا ہوا چراغ جو ٹیپوسلطان کی صورت میں موجود تھا وہ بھی گھناؤنی سازشوں ،عیاریوں اور میر صادق جیسے قوم فروشوں کی غداری کے سبب گل ہوگیا اور ہم ایک بھوکی ننگی قوم’’ انگریزوں‘‘ کے غلام بن گئے جوکہ حصول رزق کیلئے دنیا بھر کی خاک چھانتی پھرتی تھی۔انگریز نے سب کچھ تہہ وبالا کردیا اور مسلمان غلامی کے چکی تلے پستے رہے مگر پھر قوم نے انگڑائی لی اور اپنے دست وبازو سے کام لیتے ہوئے برسراقتدار حاکم قوم سے جاٹھکرائی،اگر چہ
۱۸۵۷ ء ؁کی جنگ آزا دی میں مسلمانوں کو شکست ہوئی مگر اس جنگ کا مقصد انگریز سے آزادی حاصل کرکے پورے ہندوستان پر اسلام کا پھریرا لہرانے کا تھا۔ یہ مقصد اگر چپ کلی طور پر حاصل نہ ہوا مگر کلیۃ فوت بھی نہیں ہوا اور مسلمانوں کو مملکت خداداد ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘‘کی صورت میں اپنے خواب کی تعبیر مل گئی۔اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اللہ تعالی سے کیے ہوئے عہد کو نبھائیں،آئین پاکستان میں ہم نےجو اجتماعی اقرار کیا ہے اس کو پورا کریں اور پاکستان کی صورت میں ایک صحیح اسلامی ریاست تشکیل دیں اور پھر اس کو بنیاد بناکر پورے ہند اور تمام عالم میں اسلام کی عظمت رفتہ کو بحال کریں۔حق تعالی سے امید ہے کہ پاکستان کے وجود کا مقصد حاصل ہوگا اور ہم پاکستان کو مرکز بنا کرایک مرتبہ پھر اسلام کی وہ شان و شوکت دیکھ سکیں گے جس کے لیے اولیاء اللہ نے یہاں قدم رکھے تھے ،بیرونی مسلمان فاتحین نے جس مقصد کے لیے یہاں کا رخ کیا تھا اور نظریہ پاکستان کی صورت میں جس کا ہم نے اپنے رب سے عہد کیا ہے۔ وماذلک علی اللہ بعزیز
زیر نظر کتاب میں مؤلفہ محترمہ ارم صدیقی صاحبہ نے متذکرہ بالا مقصد کے پیش نظرمختلف مورخین کی کتابوں کے اقتباسات پیش کیے ہیں اور اپنی سوچ اور خیالات کو بالخصوص حضرت ڈاکٹر غلام مصطفی خان رحمۃ اللہ علیہ کے نظریہ کوتفصیلات کے ساتھ بیان کیاہے۔کتاب میں ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی سے قیام پاکستان تک کا تاریخی مواد زیادہ ہے۔تاریخ کے متعلق یہ بات بدیہی ہے کہ مورخ کے قلم کی جنبش اس کے انصاف کی محتاج ہواکرتی ہے اور وہ تاریخ کو پس منظر اور پیش منظر کی مدد سے اپنے مقصد کے بیان استعمال کرتا ہے، اس لیے تاریخی مواد کے تجزیے اور تحلیل اور استنباط کے وقت ضروری نہیں کہ ہر قاری کو اس سے اتفاق ہو مگر جس زاویہ نظر سے مواد کو پیش کیا گیا ہے وہ قاری کو غوروفکر کی دعوت ضرور دیتا ہے ۔
قیام پاکستان سے قبل کی تاریخ اس لحاظ سے حساس بھی ہے کہ دونوں ہی جانب اکابر علماء کرام اور بزرگان دین تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جانبین اپنی آراء میں مخلص اور صادق تھے مگر آراء میں اختلاف تھا،اس قسم کی اختلافی آراء کے بیان کے وقت سلامتی کی راہ یہی ہوتی ہے کہ جانبین آراء سامنے رکھ کر فیصلہ قاری پر چھوڑدیا جائے۔
کتاب میں عنوان کی مناسبت سے اصل مواد ساتویں باب سے آگے کا ہے تاہم اس سے قبل ہمارے بزرگوں کا تذکرہ ہے اور ان کی تعلیمات پر روشنی جو ڈالی گئی ہے وہ بھی مفید اور نافع ہے۔
کتاب میں بعض شرعی اصطلاحی الفاظ جیسے معجزہ،کرامت وغیرہ کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے،بالغ نظر قارئین سیاق وسباق اور موقع ومحل کی مناسبت سے اس کا مفہوم متعین کرسکتے ہیں۔آیات واحادیث بھی کتاب میں جابجا مذکور ہیں ،آیندہ ایڈیشن میں اگر ان کا اردو مفہوم کسی مستند کتاب کے حوالہ سے درج ہوجائے تو کتاب کی وقعت میں اضافہ کا باعث ہوگا۔امید ہے کہ فتح ہند اور پاکستان کو اسلامی مرکز بننے کی آرزو میں لکھی گئی کتاب (جیسے ڈاکٹر غلام مصطفی خان ؒ کی خواہش میں مرتب کیا گیا ہے )کو اللہ تعالی نفع بخش بناکر ہم سب کی اخروی نجات کا ذریعہ بنائیں گے۔
وصلی اللہ علیہ وسلم  علی خیر خلقہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین
مفتی اسداللہ