7
Rabiul Awwal

الفاظ طلاق کے اصول:تقریظ

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین وعلی وآلہ وصحبہ أجمعین۔

أما بعد:
نکاح زندگی بھر کے بندھن کا نام ہے، یہی بقائے انسانی کا حلال روحانی راستہ ہے، یہ محبتوں کا رشتہ ہے،جو ضابطوں کی بجائے رابطوں سے نبھاتے رہنا چاہیئے اور عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کی زندگی میں مختلف مشکلات اور دشواریاں بھی آتی رہتی ہیں، جنہیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، مردانہ وار ہمت وحوصلہ سے سرکرنا ہوتا ہے، مگر کبھی انسانی ہمت، فطری ضعف کی نذر ہوجایاکرتی ہے، ایسے مشکل مرحلے میں بھی اگر اسلامی تعلیمات کا سہارا لیا جائے تو اسلامی تعلیمات کی روحانیت کی بدولت مسلمان ، روحانی سکون اور نفسیاتی راحت سے ہم کنار رہتے ہوئے ان مشکل گھڑیوں میں سرخرو ہو جایاکرتا ہے۔
نکاح کا دائمی بندھن اگر اپنے حقوق وآداب کے ساتھ قائم نہ رہ سکے تو اسے قائم رکھنے کے لیے مختلف شرعی، اخلاقی اور معاشرتی ضوابط وروابط بروئے کار لانے کا حکم دیاگیاہے، اگر جوڑ کی ساری تدابیر غیرمؤثر ہوکر رہ جائیں تو شریعتِ اسلامیہ نے ’’آخری حل‘‘ کے طور پر انتہائی ناگواری اور ناپسندیدگی کے ساتھ ’’أبغض الحلال‘‘ کہہ کر مرحلہ وار طلاق کا مختصر راستہ بھی کھلا چھوڑا ہے، تاکہ بوقتِ ضرورت ازدواجی مشکلات کو حل کرنے یا ایسی مشکلات سے نکلنے کے لیے یہ ’’طلاق‘‘ کا راستہ ایک ترتیب سے اختیار کرلیا جائے، مگر افسوس کہ اسلامی تعلیمات سے دوری اور بے تکی جذباتیت کے نتیجہ میں بعض مسلمان اس آخری حل کو اولین حل کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں، اس ضرورت کے راستے کو معمول کا راستہ بنانے لگے ہیں اور طلاق کو تنبیہ وتذکیر کی گنجائش کے باوجود آخری ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں۔ اس پر مزید طوفان اس صورت میں بپا ہوجاتا ہے جب ’’طلاق‘‘ کے لیے طلاق کے الفاظ کے چناؤ میں ایسی غلطی سرزد ہوجاتی ہے کہ جس کا تدارک عمر بھر کے پچھتاوے کے علاوہ کسی اور صورت میں ممکن نہیں رہتا ، ایسے لوگ خود تو پریشان ہوتے ہی ہیں، ساتھ ساتھ اپنی پریشانی میں اندھے ہوکر طلاق کے الفاظ اور بیان میں گڈمڈ کرکے صورت مسئلہ کو بھی مشتبہ بنادیتے ہیں، جس سے مفتی صاحبان بھی پریشان ہوجاتے ہیں اور بیان کی غلطی، فتویٰ کی غلطی کا سبب بن جاتی ہے۔
ایسے ماحول میں اگر عوام الناس اپنی علمی، عملی اور جذباتی غلطیوں کی اصلاح پر توجہ نہ دیں اور اپنی غلطیوں سے باز نہ آئیں تو کم از کم اہلِ فتویٰ کو بھر پور تیقظ کی ضرورت ہے کہ وہ بھر پور تنقیح کے بعد صورت مسئلہ میں جہتِ حکم کی نبیاد متعین کریں، اس کے بعد طلاق کے لیے استعمال کردہ الفاظ میں غو ر کریں اور فقہائے کرام نے ان الفاظ کے احکام کے بیان کے لیے جن اصولوں کی رعایت کو لازمی قرار دیا ہے، ان کا پاس ولحاظ بھی رکھا جائے، تاکہ اہل فتویٰ ،بیانِ حکم میں غلطی سے محفوظ رہ سکیں۔
اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ہمارے دارالافتاء کے مستعد، باتوفیق اور باہمت رفیق، نوجوان فاضل مولانا مفتی شعیب عالم حفظہ اللہ کو، جنہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اس گنجلک موضوع کو متعلقہ اصول کی روشنی میں اہلِ علم کے غور وفکر کے لیے منقح ومرتب کرنے کی قابل قدر کوشش کی ہے، میرے سرسری مطالعہ کی روشنی میں یہ ’’مجموعہ‘‘ مندرجہ ذیل خصائص وامتیازات سے آراستہ ہے:
*
الفاظِ طلاق کے ممکنہ ومستعملہ الفاظ کا استقرا اور مناسب جمع وترتیب
*الفاظِ طلاق کے شرعی وعرفی اطلاقات ومصداقات کا بیان
*صریح وکنایہ کی متعلقہ تفصیل کے علاوہ ایک دوسرے کے موقع پر استعمال کی نشان دہی
*قرائن ودلالتِ حال کے سلبی وایجابی اثرات کی وضاحت
*متعلقہ فقہی مباحت کو مختلف صورتوں اور فوائد کی روشنی میں سمجھانا
*قضا ودیانت کے اثرات اور نتیجتاً حکم کا فرق ظاہر کرنا
*زیر بحث لائے گئے مسائل کو صریح وتائیدی حوالہ جات سے آراستہ کرنا
*اخذ ومراجعت میں ٹھوس دلائل، مضبوط مأخذ اور اکابر کے محاکمات وآرا کی روشنی میں موضوع کی تفہیم کی کوشش کرنا
الغرض کسی بھی موضوع پر خامہ فرسائی کے لیے جو بنیادی تقاضے ہو سکتے ہیں، وہ اس مجموعے میں مجھے جابجا محسوس ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس علمی کاوش کو قبول فرمائے ، عزیزم مفتی شعیب عالم سلمہ کی علمی وقلمی صلاحیتوں میں ترقی وجلاء نصیب فرمائے اور عوام وخواص کو اس علمی وتحقیقی کاوش سے نفع پہنچائے، آمین!وصلی اللہ وسلم علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین.والسلام


(مولانا ڈاکٹر) عبد الرزاق اسکندر(مدظلہ)
مہتمم جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی