23
Rabiul Awwal

قانون حقوق وتادیب اطفال

کونسل کے پچھلے اجلاس میں معززاراکین کی رائے تھی کہ ایک ایسا مسودہ بل مرتب کیاجائے جس میں بچوں کی تادیب کی اجازت اور تشدد کی حد تک سزا کی ممانعت ہو،اس   بل میں بچوں کے حقوق بھی شامل ہوں اور بل کا عنوان بھی مثبت تجویز کیا جائے تاکہ کوئی منفی تاثر نہ ابھرے ،ان ہدایات  کی روشنی میں تحریر ہذا کونسل کی خدمت میں پیش  ہے ۔جو بل بغرض تصویب کونسل  کو ارسال کیا گیا ہے ،اس میں شامل  انتظامی وضابطہ جاتی نوعیت کی دفعات ،جن میں کوئی شرعی خامی نہیں ہے ،ان کوبرقرار رکھا جاسکتا ہے۔

قانون حقوق وتادیب اطفال

تمہید :

ہر گاہ کہ قرین مصلحت ہے کہ بچوں  کے  مادی ومعنوی حقوق  اورتعلیم وتربیت اور نشوونما ونگہداشت کے متعلق  والدین،معلمان،مربیان،متولیان اور نگہبانان کے  حق تادیب کو قرآن وسنت کے احکامات وہدایات کی روشنی میں منضبط کیا جائے ،لہذا بذریعہ ہذا درج ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے ۔

دفعہ 1۔  مختصرعنوان ،وسعت  اور نفاذ:

قانون ہذا ''قانون  حقوق وتادیب اطفال''  کے نام سے موسوم ہوگا ۔

یہ پورے پاکستان پر وسعت پذیر ہوگا۔

یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

دفعہ 2۔ تعریفات :

قانون  ہذامیں بجز اس کے کہ سیاق وسباق سے کچھ اور مفہوم ظاہر ہو ،متذکرۃ الذیل الفاظ سے وہی معنی مراد ہوں گے جو بذریعہ ان کے لیے بالترتیب مقررکیے گئےہیں :

جنین :استقرار حمل کے بعد ولادت سے قبل تک حمل جنین کہلاتا ہے ۔

(۱)بلوغت :

صغر سنی کے اختتام کو بلوغت کہتےہیں ۔

(۲)علامات بلوغ :

بلوغ کی علامات لڑکے کے لیے انزال،احبال یا احتلام اور لڑکی  کے حق میں حیض،احتلام  یا انزال ہے۔

(۳)بلوغ  کی عمر :

بلوغ کی اقل مدت  لڑکے کے لیے بارہ سال اور لڑکی کے لیے نو سال اور اکثر مدت  دونوں کے لیے  پندرہ سال ہے۔

(۴)وصی:

جس کو تعمیل وصیت یا اہتمام ترکہ کی خدمت سپرد کی جائے اسے وصی کہتے ہیں ۔

(۵)ولایت :

شرعی قدرت جس کی بدولت دوسرے پر تصرف کے نفاذ کی قدرت حاصل ہو۔

(۶)ولی :

جسے نابالغ پر ولایت ذات  حاصل ہو ،ولایت مال خواہ حاصل ہو یا نہ ہو۔

(۷)معلم :

جو نابالغ کو کوئی علم  وفن ،دینی یا دنیو ی سکھاتا ہو۔

 

 

(۸)سزا:

نابالغ  کے جسم پر قوت وطاقت کا بالواسطہ یا بلاواسطہ استعمال یا بلااستعمال قوت نابالغ کو اپنی قوی اور برتر حیثیت کی وجہ سے ایسی صورت حال سے دوچار کرنا جس میں وہ درد  وتکلیف،ذہنی یا جسمانی   محسوس کرے۔ سزا سے مقصود جسمانی تکلیف  پہنچاکر اصلاح وتربیت یا کسی خاص رویے  کاترک یا تبدیلی یا حصول  ہوتا ہے۔

(۹)نگہداشت کے ادارے:

کوئی ادارہ  جو  نابالغان  کے تحفظ ،نگہداشت،نشوونما ،اصلاح  یا فلاح وبہبود کی غرض سے قائم ہو ۔

(۱۰)تعلیمی ادارے :

جہاں کسی علم وفن دینی یا دنیوی  کی رسمی یا غیر رسمی  تعلیم دی جاتی ہو ۔

حصہ اول :

بچوں کے حقوق

دفعہ ۳۔ولادت سے قبل بچوں کے حقوق :

 ازروئے شرع اسلامی بچوں کے حقوق ان کی پیدائش سے قبل شروع ہوجاتے ہیں،اس لیے  مسلمان مرد وعورت پر لازم ہے کہ اپنی ہونے والی اولاد کی خاطر مناسب وموزوں جگہ رشتہ نکاح کریں ۔

دفعہ۴ ۔اسلامی آداب کی رعایت  :

دوران مباشرت زوجین اسلامی آداب کا خیال رکھیں

دفعہ ۵۔بحیثیت جنین بچہ کا حق :

جنین کو ہر ایسے فعل  یاحرکت جیسے منشیات  یا مضراشیاء کا استعمال  یا  حمل کے لیے نقصان دہ  افعال  کے ارتکاب سے بچانا  واجب ہے ۔

دفعہ ۶۔جنین کے مالی حقوق  کی حفاظت :

حمل کے لیے وصیت ہو یا وہ وارث ٹھہرے تو اس کا حق متعلقہ اشخاص پر محفوظ رکھنا واجب ہے ۔

دفعہ ۷۔جنین کی زندگی کا تحفظ  :

جنین کو زندگی کا حق ہے،اس لیے چار ماہ دس دن کے بعد بلاوجہ شرعی اسقاط حرام ہے ۔

دفعہ ۸۔حمل کا اقرار واجب ہے:

حمل جائز ہو تو اس کا انکار حرام ہے ۔

 

 

دفعہ ۹۔ولادت کے بعد کے حقوق  :

پیدائش کے بعد نومولود کے دائیں کان میں اذان ،بائیں میں  اقامت ،تحنیک ،سر کے بالوں کی صفائی اوربالوں کے بقدر صدقہ کیا جائے ۔ساتویں  دن بچے کا اچھا اسلامی نام رکھا جائے ،اسی دن اگر نومود کی صحت اجازت دے تو ختنہ کیا جائے اوراگر مقدور میں ہوتو عقیقہ کیا جائے ۔

دفعہ ۱۰۔نسب کا حق :

والد پر لاز م ہے کہ بچے کو اپنا نام دے   ۔

دفعہ ۱۱۔بچہ کا حق رضاعت  :

ماں پر لازم ہے کہ بچے کو مدت رضاعت کی تکمیل تک اپنا دودھ  پلائے،اگر ماں کا دودھ نہ ہو یا وہ آمادہ نہ ہو یا آمادہ ہو مگر اس کا دودھ بچے کے حق میں مضر ہو یا مضر نہ ہو مگر بچہ ماں کا دودھ پیتا نہ ہو یا پیتا ہومگر زوجین کی رائے کسی اور سے دودھ پلانے کی ہو تو کسی صالحہ عورت سے دودھ پلوایا جائے،اگر کوئی میسر نہ ہو یا میسر ہو مگر رضاعت پر آمادہ نہ ہو یا آمادہ ہو مگر اجرت مانگتی ہو  اور بچے اور اس کے تنگدست ہو ں  تو ماں پر دودھ پلانا واجب ہے۔اگر کسی معقول شرعی وجہ سے ماں دودھ نہ پلاسکے تو باپ پر متبادل غذا کابندوبست لازم ہے۔

 

دفعہ۱۲ ۔پرورش اور پرداخت کا حق :

ایک اچھی اور صاف فضا  اور مناسب ماحول میں پرورش بچےکا حق ہے۔بچے کی پرورش کا اولین حق سگی ماں کو ہے اور پھر ماں کی قریب ترین عزیزہ۔

دفعہ ۱۳۔نفقہ کا حق :

بچے کا مال نہ ہو تو اس کے مصارف واخراجات باپ پر لازم  ہیں۔اگر باپ نہ ہو تو قریبی رشتہ داروں پر ان کے وراثتی حصص کے مطابق مصارف لازم ہوں گے۔

دفعہ۱۴ ۔حلال  کی فراہمی  :

بچے کا حق ہے کہ اس کے لیے حلال ذرائع سے غذا ،لباس ،رہائش  اور دیگر ضروریات کا بندوبست کیا  جائے ۔

دفعہ۱۵ ۔حضانت کے بعد کفالت کا حق :

مدت پرورش کی تکمیل کے بعد ولی پر بچے کو اپنے حفاظت وصیانت  میں لینا لازم ہے۔

دفعہ۱۶  ۔بچہ کے مال کی حفاظت  :

بچوں کے اولیاء واوصیاء پر اس کے مال کی حفاظت لازم ہے

دفعہ۱۷ ۔عبادات  کی تعلیم وتلقین  :

بچوں کی زبان کھلنے لگے تو سب سے پہلے کلمہ طیبہ سکھانا اور شعور پیدا ہونے پر اسلامی آداب سے واقف کرانا اور بری صحبت اور ماحول سے انہیں بچانا واجب ہے ۔سات سال کی عمر ہونے پر نماز کی تلقین اوردس برس کا ہونے کے بعد ان کا بچھونا الگ کرنا اور نمازمیں کوتاہی پر سرزنش کرنا واجب ہے۔

دفعہ ۱۸۔بچوں کے مادی حقوق  :

بچوں کو مادی حقوق بھی حاصل ہوتےہیں جن میں ملکیت ،وصیت،وراثت،ہبہ اور وقف وغیرہ اہم ہیں ۔

دفعہ۱۹ ۔نابالغ  کو اس کے مال کی  حوالگی :

بلوغت کے بعد بشرطیکہ عوارض اہلیت میں سے کوئی مانع نہ ہو ،بچہ کسی کے زیر ولایت نہیں رہتا بلکہ خود اپنا ولی ہوتا ہے،بلوغت کے بعد اس کامال اسے حوالہ کرنا لازم ہے ،اگر وہ سن رشد کو پہنچ چکاہو۔

دفعہ۲۰ ۔لاوارث بچوں کے حقوق  :

یتیم بچوں کو اور ایسے بچوں کو جو کہیں پڑے ملے ہوں یا جنگ کا شکار ہوئے ہوں یا جلاوطن ہوں اور کوئی ان کا سرپرست اور پرسان حال نہ ہو ،ان کو بھی ایام  طفولیت  کے تمام حقوق حاصل ہیں اور اس کی ذمہ داری معاشرے اور حکومت پر ہے۔

 

دفعہ۲۱ ۔بچوں کے عقیدہ اور جان ومال وغیرہ کا حق  :

بچوں کے عقائد میں رخنہ اندازی یا ان کے جان ومال  یا جسم وعقل پر زیادتی جرم ہے ۔

دفعہ ۔غفلت برتنے والے والدین کا حکم  :ایسے والدین جو بچوں کی  تربیت ونگہداشت میں کوتاہی برتتے ہیں جس سے وہ بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں ،حرام ہے اور شرعا  وہ لائق تعزیر ہیں ۔

حصہ ثانی :

تادیب اطفال

دفعہ ۲۲۔تادیب سے مراد :

تادیب سے مراد تنبیہ وسرزنش ہے اور اس میں آخری چارہ کار کے طور پر ضرب بھی شامل ہے ۔

دفعہ ۲۳۔والدین پر تربیت کا وجوب :

شرعی نصوص کی رو سے والدین پر تربیت اولاد کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

دفعہ ۲۴۔تربیت اولاد کا مفہوم :

تربیت کے اجزاء ترکیبی :تربیت کے بنیادی اجزاء تین ہیں :

الف ۔مناسب تربیت ونگہداشت

ب ۔دینی ودنیوی ذمہ داریوں کے متعلق  تعلیم

ج ۔درست شخصیت کی تعمیر

دفعہ ۲۵۔والدین کے بعد تربیت کی ذمہ داری کن پر ہے :

 والدین نہ ہوں ،تو بچوں کی تربیت کی ذمہ داری اوصیاء یا قریبی اولیاء یا جن کے زیر کفالت  یا زیر تحفظ بچہ ہو ،ان پر عائد ہوتی  ہے ۔اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو یہ ذمہ داری قریبی رشتہ داروں اور پھر مسلمان معاشرہ اور پھر حکومت اسلامی کی طرف منتقل ہوجاتی ہے ۔

دفعہ ۲۶۔کن امور میں تادیب جائز ہے:

دفعہ ۲۴ میں مذکور مقاصد کے حصول کےلیے بچوں کی تادیب جائز ہے،مثلا بچہ معصیت کا مرتکب ہو  یا  تعلیم میں سستی اور غفلت برتتا ہو یا بری عادات کا شکار ہو یا غلط صحبت میں بیٹھتا ہو  وغیرہ

دفعہ ۲۷۔تادیب کے طور پر سزائے جسمانی دینا کب جائز ہے :

پیدائش سے سات کی عمر ہونے تک بچے کو کسی قسم کی سزائے جسمانی دینا جائز نہیں ۔سات سال کے بعد بلوغت کے حصول سے قبل کی درمیانی مدت  میں بچے کی تادیب جائز ہے،مگر اس کا کوئی فعل یا ترک فعل خواہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو ،جرم نہ ہے ۔بلوغت کے حصول کے بعد بچہ پر فوجداری سزا کا اجراء بھی جائز ہے ۔

تشریح:

شریعت بچے کی پیدائش سے لیکر بلوغت تک کی عمر کو تین مراحل میں تقسیم کرتی ہے ۔ 
۱۔ پیدائش کے بعد بچہ ادراک و اختیا ر نہیں رکھتا ہے ، یہ حالت سات سال تک رہتی ہے اور اس دور کو عدم تمییز کا زمانہ کہا جاتا ہے اور ایسا بچہ صبی غیر ممیز یعنی ناسمجھ بچہ کہلاتا ہے ۔ 
۲۔ جب بچہ کا شعور کچھ پختہ ہوجاتا ہے مگر مکمل شعورنہیں ہوتا تو اسے صبی ممیز یعنی سمجھدار بچہ کہتے ہیں ، یہ حالت بلوغت سے قبل تک رہتی ہے ۔
۳۔ جب ادراک مکمل ہوجائے تو بچہ بالغ سمجھا جاتا ہے ، صحیح قول کے مطابق اس کی مدت پندرہ سال ہے ۔ 

دفعہ ۲۸۔سمجھ دار بچہ کی تادیب  کے تدریجی مراحل:

سمجھ دار بچہ  کی تادیب جائز ہےمگر سزا ئے جسمانی کو  اول مرحلہ کےطور پر اختیار کرنا جائز نہیں بلکہ لازم ہے کہ :

 اول چشم پوشی سے کام  لیا جائے ،دوبارہ  نامناسب فعل کے ارتکاب پرغلطی کی نشاندہی کرکے   محبت وشفقت سے سمجھا یا جائے اور باز نہ آنے پر ترغیب وتہدید کا پہلو  اختیار کیاجائے،اورتیسری مرتبہ ارتکاب  خطا پر اسے ہاتھ یا چھڑی سے سز ادی جائے مگرضروری ہے کہ ضرب کی تعداد  تین  سے زیادہ نہ ہو ۔

دفعہ ۲۹۔ضرب کی حدودوقیود :

۱۔ سزائے جسمانی کسی واقعی فعل کے ارتکاب پر دی جائے محض اندیشہ  کی وجہ سےسزا دینا جائز نہیں

۲۔نیت تادیب کی  ہو  اور ضرب میں زیادتی نہ ہو

۳۔بری مار نہ مارا جائے

۴۔بچہ کی عمر ،جسمانی ساخت اور ماحول کے مطابق جسمانی سزا دی جائے

۵۔نازک اعضاء اور چہرے پر نہ مارا جائے

۶۔سزا کی غرض نابالغ کی فلاح وبہبود ہو

۷۔سزا ایسی ہو جسے عرف میں سزا شمار کیا جاتا ہو ۔

۸۔شدید غصہ یا جذبات کی بے اعتدالی کے وقت سزا نہ دی جائے ۔

۹۔سزا اپنے ہاتھ سے دی  جائے ،اولاد کو اپنی دیگر اولاد سے اور طالب علم کو اپنے ہم جماعت سے سزا دلانا درست نہیں  ۔

۱۰۔دوران تادیب کوئی نامناسب کلمہ استعمال نہ کیاجائے۔

دفعہ ۳۰۔سزا دینےکا استحقاق کس کو ہے :

سزا دینے کا حق والد یا اس کے وصی، دادا یا اس  کے وصی  ،ولی،معلم،مربی،یا بااختیار ادارے کو ہے   ،ماں کا حق تادیب  اس شر ط کے ساتھ مشروط ہے کہ  وہ وصیہ ہو یا بچہ کی کفالت کرتی ہو یا بچہ کا والد موجود نہ ہو ۔

دفعہ ۳۱۔ضرب، اذن سے مشروط ہے :

بدون اجازت صریحی یا معنوی بجز والدین اور  بااختیار اداروں کے کسی کو نابالغ کو سزا دینے کا اختیار نہیں

دفعہ ۳۲۔اجنبی کا حق  تادیب :

اجنبی کو تادیب کے ضمن میں ضرب کا حق حاصل نہیں الایہ کہ ممیز بچہ منکر کا مرتکب ہو توازالہ منکر کے لیے درکار قوت کا استعمال اجنبی کے لیے جائز ہے یا بچہ کسی پر حملہ آور ہو تو شخص مصول کو حق دفاع حاصل ہے۔

دفعہ ۳۳۔ضرب پر تاوان کب لازم آئے گا :

باپ،دادا ،وصی  اور معلم کی ضرب  اگر شرعی حدود میں ہو اور بچہ کا کوئی عضو ضائع ہوجائے تو ان پر فوجداری مسئولیت عائدنہ ہوگی البتہ اگر ضرب غیر معمولی ہوتو ان پر تاوان لازم  ہے۔