10
Rabiul Awwal

حلال وحرام سے متعلق ریاست کی ذمہ دار-پہلی قسط

پی ایس کیو سی اے (PSQCA)اور پنیک(PNAC) ،وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے ہیں۔اول الذکر اشیاء کے لیے معیارات وضع کرکےان پر عمل درآمد کراتا ہے جب کہ مؤخرالذکر ملکی اور عالمی معیارات  کی روشنی میں  ادارہ جات مثلا لیبارٹریوں اور انسپکشن باڈیوں کی اہلیت   جانچتا ہے۔مصنوعات کے حلال وحرام ہونے کے حوالے سے ان اداروں کے لیے شرعی رہنما خطوط کیا ہوں گے اس سلسلے میں وزارت سائنس  نے حلال تصدیقی ادارے سنہا(S.A.N.H.A) کے تعاون سے ایک روزہ  تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا تھا ۔زیر نظر مضمون  اس موقع پر کی گئی ایک تقریر ہے جو وزارت   سائنس کی مرکزی عمارت اسلام  آبادمیں کئی گئی ۔شرکاء میں  وزارت کے ذیلی اداروں سمیت  بعض  دیگر ریاستی اداروں کے نمائندہ افراد   بھی شریک تھی ۔

الحمد للہ وکفی ٰ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی ٰ،اما بعدفاعوذباللہ من الشیطن الرجیم  بسم اللہ الرحمٰن  الرحیم،الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ  [الحج : 41]

شریعت اور ریاست کا تعلق

قرآن کریم بنی اسرائیل پر اپنے احسانات جتلاتےہوئے فرماتا ہے:

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ البقرة : 47]

آیت شریفہ  سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کون سی نعمت ہے جو ان کو یاد دلائی جارہی ہے لیکن سورہ بقرہ کی مذکورہ آیت  کے ساتھ سورہ  مائدہ کی آیت کو ملاکر پڑھیں تو بات صاف ہوجاتی ہے ،چنانچہ سورہ مائدہ میں ارشاد ہے:

وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا وَآتَاكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِين [المائدة : 20]

معلوم ہوا کہ نعمت  سے مراد نبوت و رسالت اور بادشاہت و ریاست ہے۔غور کیجیے ! واقعی یہ دونوں عظیم نعمتیں ہیں اور اس قابل ہیں کہ بطور احسان ان کا تذکرہ کیا جائے کیونکہ دینی اور روحانی نعمتوں کا منتہا نبوت ہے اور  دنیوی نعمتوں کا نقطہ عروج ریاست ہے۔ان دونوں کے اندر تمام دینی اور دنیوی نعمتیں سمٹ کرجمع ہوجاتی ہیں ۔

جس ریاست کا حق تعالی شانہ نے احسان جتلایا ہے اس سے مراد ایسی ریاست نہیں  جو سیاسیات کی کتابوں میں ملتی ہے اور جس کو فیثاغورث ،افلاطون ،سقراط وبقراط یا ارسطو نے بیان کیا ہے،وہ بھی  نہیں جو ہیگل ،اینجلز،ریکارڈو،اسمتھ،کانٹ ،بینتھم،روسو،میکاؤلی ،کوتلیہ چانکیہ یا لیکاک بیان کرتا ہے  بلکہ ایک ایسی ریاست مرادہے جہاں حکم الہی کی بالادستی اور شریعت کی حکمرانی ہو کیونکہ اگر ریاست شرعی نہ ہو بلکہ لادین ، جابرانہ یا ظالمانہ ہو   تو اس کاذکر بطور احسان کے کیوں کیاجائے؟

ریاست کیا ہے اور اس کے بارے میں قدیم وجدید مفکرین کیا کہتےہیں اورموجودہ مفکرین کس نظریے پر متفق ہیں، ہمیں ان تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہمارا مقصد ان کے نظریات کو معیار بناکر قرآن کریم کو جانچنا نہیں بلکہ قرآن کی بنیاد پر اپنے نظریات کی عمارت استوار کرنا ہے ۔

ریاست اگر شرعی ہو تو وہ شریعت سے الگ اور جدا کوئی چیز نہیں بلکہ اس کا عکس اور پرتو ہے۔شاہ اسماعیل شہیدؒ لکھتے ہیں کہ ریاست ظل رسالت  ہے اور امام رسول کا نائب ہے۔اصل اور عکس میں تضاد نہیں بلکہ اتحاد ہوتا ہے اور اگر تباین وتخالف ہو تو عکس عکس نہیں رہتا ۔علامہ سید سلیمان ندوی کے بقول اسلام ایک  ایسی ریاست ہے جو ہمہ تن دین ہے اور ایسا دین ہے جو سراپا ریاست ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا  کیونکہ ریاست کا وجوب ہی شریعت کی بدولت ہے اور اس پر مسلمان  مفکرین اتفاق ہے ۔امام ابو حامد الغزالی کے نزدیک بھی ریاست کی بنیاد شریعت ہے وہ اس پر کچھ عقلی ونقلی دلائل کا اضافہ بھی کرتے ہیں  مثلا رسول کامنشا ہے کہ اسلام کا باضابطہ قیام ہو۔محقق طوسی کے  نزدیک تو ریاست شریعت کا ہی ایک مذہبی ادارہ ہے اور دین اسلام  کی حیثیت ریاست کے لیے  ایک ناظم کی ہے ۔امام ماوردی ؒجو بلندپایہ اسلامی سیاسی مفکر سمجھے جاتے ہیں ،انہوں نے لکھا ہے کہ ریاست کی اولین ذمہ داری مذہبی اصولوں کا دفاع وتحفظ ہے ۔سیاسی مفکرین کے علاوہ شریعت کے رمز شناس فقہاء بھی اس بات پر ہم زبان ہیں کہ نصب الامام واجب بالاجماع۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلے خلافت کے مسئلے کو طے کیا تھا ۔حدیث یہاں تک کہتی ہے کہ تین بندے ہوں تو اپنا ایک امام بنالے ۔اگر تین افراد کو یہ حکم ہے تو  قوم   ،ملک اور معاشرے  کو بطریق اولیٰ  ہے۔

آج کل کو جو فکر پروان چڑ ھ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ریاست اور مذہب دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،یہ مغربی فکر ہے جس کی بنیاد اس پر فلسفہ پر ہے کہ جو قیصر کا حق ہے وہ قیصر کو دو اور جوخدا کاحق ہے وہ خدا کو دو۔

شریعت  ریاست سے مقدم ہے۔

اگر چہ ریاست اور شریعت لازم وملزوم ہیں اور ان میں جسم اور روح کا تعلق ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام کو باضابطہ قیام کے لیے ریاست کی ضرورت ہو تی ہے اور بے شمار شرعی احکام کی تعمیل ریاست کے  وجود پر موقوف ہے ۔اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ اسلام کا ظہور غلبہ کے لیے ہے : لیظہرہ علی الدین کلہ اس غلبے کا لازمی تقاضا یہ ہےکہ مسلم قوم غیر مسلم اقوام پر اوران کی ریاست غیر اسلامی ریاستوں پر حاوی ہو مگران سب کے باوجود اگرریاست نہ ہو یا ریاست ہو مگر دینی احکام کی تعمیل نہ کرتی ہو تو میری اور آپ کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی کیونکہ نہ تو  شریعت کا وجود ریاست پر موقو ف ہے اور نہ ہی ریاست کو شریعت پر کو ئی تقدم یا فضیلت حاصل ہے۔شریعت پہلے ہے اور ریاست بعد میں ہے۔کائنات کے اولین  انسان کے نزول کے ساتھ ہی شریعت بھی اتر گئی تھی مگر ریاست کا وجود نہ تھا ۔ریاست کا ذکر توقرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں ملتا ہے۔مکہ میں ریاست نہیں تھی مگرشریعت اتر رہی ہے ،باقاعدہ اور باضابطہ اسلامی ریاست کا اظہار تو ہجرت کے بعد ہوا ہے۔اگر  ایک مسلمان  اسلامی ریاست کی حدود ارضی سے باہر چلا جاتا ہے جہاں  ریاست کی عمل داری نہ ہو تو وہ پھر بھی بقدر امکان شریعت کا مکلف رہتا ہے۔

اسلام اور حلال وحرام

حلال وحرام کے علاوہ کوئی اورچیز نہیں ۔یہ اسلام کی دوسری تعبیر ہے اور دین کو کوئی شعبہ ایسا نہیں جو اس کے زیر اثر نہ آتا ہو ۔اسلام کی کوئی سی بھی تقسیم لے لیں حرام وحلال کا تعلق نمایاں نظر آئے گا،چاہے وہ تقسیم اس طرح ہو کہ دین  حقوق اللہ اور حقوق العباد کا مجموعہ ہے یا اس طرح  ہوکہ دین اسلام مامورات اور منہیات کا مجموعہ ہے یا اس طر ح ہو کہ اسلام عقائد، عبادات ،مناکحات،معاملات ،معاشرت اور  جنایات یعنی حدود وقصا ص کا نام ہے۔

عقائد میں حرام ہو تو اس کوکفر وشرک کہتےہیں کہ عبادات میں حرام آتا ہے تو وہ باطل اور مردود ہوجاتی ہے ،معاملات میں حرام سے معاملہ فاسد اور کمائی خبیث اور فریقین گناہ گار ہوجا تے ہیں اور معاشرت میں حرام کا ارتکاب گناہ کبیرہ ہے ۔

حلال وحرام کی حساسیت ونزاکت

حلال حرام کا مسئلہ جتنا اہم اور ضروری ہے اتنا حساس اور نازک بھی ہے۔کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کی اتھارٹی نے میرے پا س نہ آپ کے پاس نہ کسی وزارت اور مملکت  کے پاس اور نہ ہی کسی ولی، قطب،غوث اور ابدال کے پاس  اور نہ ہی کسی تابعی تبع تابعی یاصحابی کے پاس  یہاں تک کہ پیغمبر دوجہاں امام الانبیاء     علیہ الصلاۃ  والسلام  کے پاس بھی یہ اتھارٹی نہیں ہے۔سورہ تحریم کی ابتدائی آیت اس طرح ہے :

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ [التحريم : 1]

’’اے ایمان والو! اللہ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ان کو حرام قرار نہ دو، اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقین جانو کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتااور اللہ نے تمہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ،اور جس اللہ پر تم ایمان رکھتے ہو اس سے ڈرتے رہو۔ ‘‘ (المائدۃ:87، 88) 

’’ اور جن چیزوں کے بارے میں تمہاری زبانیں جھوٹی باتیں بناتی ہیں، ان کے بارے میں یہ مت کہا کرو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ حرام ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھوگے۔ یقین جانوکہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ فلاح نہیں پاتے۔‘‘ (النحل:116 ) 

اب  اگر کوئی پروڈکٹ شرعا حرام کے دائرہ میں نہ آتی ہے اور کسی نے محض کوالٹی کنٹرول یا حفظان صحت کے اصولوں خلاف ورزی کی وجہ سے حرام کہہ دیا  جب کہ  وہ پروڈکٹ حرام کے زمرے میں نہ آتی ہو تو اس نے خدائی منصب سنبھالیا یا جوکوئی شی حرام تھی مگر کسی دنیو ی مصلحت سے اسے حرام کہہ دیا تو اللہ تعالی کے اختیار کواستعمال کرلیا ۔ بعض لوگ احتیاطا کسی چیز کو حرام کہہ دیتے ہیں حالانکہ وہ اصل میں حلال ہوتی ہے یہ رویہ بھی ازروئے شرع درست نہیں کیونکہ احتیاط  کسی چیز کو حرام قرار دینے میں نہیں بلکہ" اصل ''پر عمل کرنے میں ہے اور اصل گوشت وغیرہ چند اشیاء کو چھوڑکر اباحت ہے۔