1
Muharram

خط بنام اسلامی نظریاتی کونسل:

 

خط بنام اسلامی نظریاتی کونسل:"حجاج کے ساتھ علماء کی ہمراہی ضروری قرار دی جائے۔"

 

محتر م المقام قابل صد احترام چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل  مولانا محمد خان شیرانی صاحب

السلام علیکم

بعد از تحیہ مسنونہ عرض ایں کہ ہر سال کی طرح امسال بھی پاکستانیوں کی کثیر تعداد حج بیت اللہ کی سعادت سے مشرف ہوئی۔تقبل اللہ زیارتھم

حکومت نے اس سلسلہ میں جو انتظامات کیے تھے وہ بھی  پچھلے سالوں کے مقابلے میں بہتر تھے۔شکراللہ مساعیھم

مدعاتحریریہ ہے کہ حکومت جس طرح حاجیوں کی آمدورفت،قیام وطعام اورعلاج ومعالجہ  وغیرہ کے  انتظامات کرتی ہے ،اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ ضروری ہے کہ  ان کی روحانی تربیت  اور مناسک کی درست ادائیگی  کا  بھی انتظام کرے۔اس سلسلے میں تجویز یہ ہےکہ اگر ابتدائی طورپر حاجیوں کے پانچ سو افراد پر مشتمل گروپ بنائے جائیں اور ان میں ایک عالم دین کا  تقرر لازمی قراردیا جائے تو میرے خیال میں درج ذیل فوائد کا حامل ہوگا:

1۔اگر حاجی کو ہر قسم کی ظاہری سہولت میسر ہو  مگر اس کا حج سنت کے مطابق ادا  نہ ہوتو  وہ خسران مبین کا مصداق ہے۔اس گھاٹے سے اسے بچانا  حکومت وقت کا مذہبی کے علاوہ آئینی فریضہ بھی  ہے جیسا کہ آرٹیکل 31۔(1)  میں  صراحت ہے اور آنجناب نے  بھی کونسل کے گزشتہ اجلاس میں  کونسل کے حوالے سے ریمارکس دیے تھے کہ انفرادی زندگی میں  راہنمائی کرنا بھی کونسل کی ذمہ داری ہے۔

2۔اگر چہ حج  کےلیے روانگی سے قبل حکومتی اور پرائیوٹ سطح پر حاجیوں کے لیے تربیتی پروگرام تشکیل دیے جاتے ہیں۔یہ سلسلہ مفید ضرور ہے مگر کافی نہیں  کیونکہ حج جیسی عبادت کے لیے موقع پر موجود راہنما کی ضرورت ہوتی ہے،یہی وجہ معلوم  ہوتی ہے کہ آنحضرتﷺ نے پہلے حضرت صدیق اکبر کو مسلمانوں کو امیر حج بنا کے بھیجا اور اگلے سال بنفس نفیس تشریف لے  گئے جس میں واضح سبق ہے کہ حج کے ارکان محض  پڑھائے یا سمجھائے نہ جائیں بلکہ امت کو کرکے دکھائے جائیں۔امر واقعہ بھی  یہ ہے کہ جس طرح حج کے برکات وثمرات   جاننے کے لیے وہاں حاضری  شرط قرار دی گئی ہے   لیشھدوا منافع لھم ،اسی طرح حج کی ادائیگی کا طریقہ کاربھی جائے قیام میں لاکھ اسباق کے باوجود بہتر طریقے سے سمجھ میں نہیں آسکتا ،یہ سبق اسی عملی میدان میں ذہن نشین ہوسکتا ہے  اور اس میدان میں ہمہ وقت حاضر عملی نمونہ کی ضرورت ہے۔

3۔حج کا دورانیہ عام حجاج کے لیے چالیس یوم پر مشتمل ہوتا ہے۔اس مدت کو نفوس کے تزکیہ اور قلوب کی اصلاح میں خاص دخل ہے۔اس لیے چالیس یوم ایک مزکی ومربی کی صحبت میں گزارنے سے اغلب یہی ہے کہ حاجی کی زندگی میں واضح تبدیلی آئے گی اور وہ معاشرے کا ایک صالح رکن ثابت ہوگا۔

4۔سرور کونین ﷺ  کا حج کے موقع پر اسوہ یہ ہے کہ آپ خیمہ خیمہ تشریف لے جاتےاور وفود کوتوحید ورسالت   کی دعوت دیا کرتے تھے۔پیغبر دوجہاں ﷺکی یہ سنت آج ریاستی طور پر اپنا احیاء چاہتی ہے۔

5۔یہ اقدام اندرون وبیرون ملک پاکستان کے اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے اور اس کی نیک نامی کا باعث ہوگا،اگر چہ یہ مقصود بالذات نہیں مگر تلک عاجل بشری المومن میں داخل ہے۔

6۔بعض خلیجی ممالک میں حجاج کرام کے ساتھ مفتی اور واعظ کا ہونا ضروری ہے۔

7۔اس اقدام کے معاشی بوجھ کو خود حجاج پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔اگر  حکومت اس مد میں فی حاجی پانچ سو روپیہ بھی وصول کرے تو  ایک گروپ کے لیے معلم کا بسہولت بندوبست ہوسکتا ہے۔حاجیوں کے دینی جذبات کے پیش نظر امید یہی ہے کہ ان کو اس مد میں کٹوتی گراں بھی نہیں گزرے گی اور وہ بصد خوشی اس پر آمادہ ہوں گے۔

درج مقاصد کے حصول کے لیے ضروری  ہوگا کہ معلم  بالفاظ دیگر گروپ کا رہنما ومقتدا متذکرۃ الذیل صفات کا حامل ہو:

متقی وپرہیزگار ہو

پختہ  علمی صلاحیت کا حامل ہو اور  بطور خاص حج کے مسائل پر عبور رکھتا ہو

زبان وبیان پر قدرت رکھتا ہو

خود متعدد مرتبہ حج کی سعادت حاصل کرچکا ہو

اصلاح وتربیت کا جذبہ وتڑپ رکھتا ہو وغیرہ

 کونسل سے استدعا ہے کہ اگر وہ درج بالا خیال  سے اتفاق  کرتی ہے تو ایک سفارش مرتب کرکے وزارت مذہبی امور کو روانہ کرے تاکہ جلد سے جلد اس نیک اور ضروری منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔

والسلام

مفتی امداداللہ

رکن اسلامی نظریاتی کونسل