19
Jumadi ul Awwal

(غذائی مصنوعات میں حلال وحرام کے اصول (تیسری اور آخری قسط

۔داخلی اور خارجی استعمال کافرق

14۔شریعت  اشیاء کےداخلی اور خارجی استعمال میں فرق کرتی ہے۔

(1)      نجس کا داخلی اور خارجی استعمال ناجائز ہے۔

(2)      متنجس کا خارجا استعمال جائز ہے بشرطیکہ نجاست غالب نہ ہواور اگر نجاست کا غلبہ ہو تو وہ نجس العین کےحکم میں ہے۔

(3)      جو چیز سیال نہ ہو اور نشہ آور ہو جیسے افیون اور بھنگ وغیرہ ان کی اتنا مقدار کھالینا جو نشہ نہ کرے اور مقصد لہو ولعب نہ ہوجائز ہے اور اس دوا کا لگانا بھی جائز ہے جس میں یہ چیزیں شامل ہوں اور اتنا کھانا کہ نشہ ہوجائے حرام ہے۔

(4)      چارحرام شرابوں کے علاوہ اور شرابوں کا خارجی استعمال جائز ہے اور داخلی استعمال بھی کسی معتد بہ غرض کے لیے جائز ہے۔

(5)      جمادات اور نباتات کا خارجی استعمال جائز ہے۔

(6)      حشرات الارض کا خارجی استعمال جائز ہے۔

(7)      جو جانور بجز خنزیر کے ذبح کردیے جائیں وہ پاک ہوجاتے ہیں اور ان کا خارجی استعمال جائز ہوجاتا ہے۔

(8)      مردار کے بعض اعضاء جیسے بال،ہڈی،ناخن وغیرہ کا بھی بیرونی استعمال جائز ہے،اسی طرح مردار کی کھال اور آنتوں اور جھلیوں وغیرہ کا دباغت کے بعد خارجی استعمال جائز ہے۔

(9)      حلال جانور اگر مرجائے تو اس کے تھنوں کا دودھ پاک اور حلال ہے۔

(10)    حرام جانور جو دم سائل رکھتا ہو وہ اگر چہ ذبح سے پاک ہوجاتا ہے مگر اس کا انڈا پھر بھی ناپاک رہتا ہے۔

 

15۔  جو چیز ناپاک ہے اس کا کھانا حرام ہے مگر جو پاک ہے ضروری نہیں کہ اس کا کھانا حلال ہو ۔بنابر ایں:درج ذیل اشیاء پاک ہیں اس لیےان کا بیرونی استعمال جائز ہے مگر حرام بھی ہیں اس لیے  ان کا کھانا حلال نہیں:

(1)      مچھلی کے علاوہ  پانی کے تمام حیوانات اور ان کے اجزاء

(2)      کیڑے مکوڑے

(3)      خشکی کے وہ تمام جانور جن میں دم سائل نہ ہو

(4)      وہ تمام جانور جن کو شرعی ذبح کیاجائے ان کے تمام اعضاء سوا دم مسفوح کے سب پاک ہوجاتے ہیں۔

(5)      مردار کے بال،ناخن ،سینگ،پر  وغیرہ

(6)      مردار کی کھال اور اعضاء جلدی جیسے مثانہ اوجھ،پتہ،پوست،سنگدانہ وغیرہ دباغت سے پاک ہوجاتے ہیں۔

(7)      سانپ اور چھپکلی جب کہ بالشت بھر سے چھوٹے ہوں۔

(8)      وہ غیر مسفوح خون جو رگوں ،گوشت یا جلد میں رہ جائے۔

(9)      حلال پرندوں کے فضلات

(10)    ایسے حیوانات کا فضلہ جس سے احتراز بہت مشکل ہو اور اس میں عموم بلوی ہو جیسے مکھی کی بیٹ اور ریشم کے کیڑے کا فضلہ

(11)    حلال پرندوں کا لعاب،پسینہ اور میل

(12)    انسان کا لعاب،پسینہ،میل،آنسو اور قے قلیل

(13)    کیڑوں کا لعاب جن سے گھن نہ آتی ہو

(14)    جامد شی بقدر نشہ

(15)    نباتات  بقدر نشہ

(16)    غیر ماکول زندہ جانور سے الگ کیا ہوا ایسا عضو جس میں حس نہ ہو

(17)    الکحل جوانگور وکھجور سے نہ لیا گیا ہو

(18)    عورت کا دودھ علاوہ شیرخوار کےکسی اور کے لیے۔

(19)    ذبح کے بعد جو خون رگوں اور جلد میں رہ جاتا ہے اور دم کبد وطحال کے علاوہ جو خون غیر مسفوح ہو وہ بھی پاک ہے مگر حلال نہیں۔

 

ناپاک اشیاء

(1)      جو جانور شکار کرکے کھاتے رہتے ہیں

(2)      جو جانور شرعی طریقہ سے ذبح نہ کیا گیا ہو

(3)      حرام شرابیں

(4)      زندہ جانور سے جدا کیا ہوا ایسا عضو جس میں حس ہو

(5)      مردار سوائے چنداعضاءکے

(6)      خنزیر

(7)ا     ان جانوروں کا دودھ جن کا گوشت کھانا حرام  ہے۔

(8)      مردار کا انڈا اگر چہ اسے ذبح کیا گیا ہو۔

(9)      حلال جانور کا گندا انڈا جب خون بن جائے ۔

16۔    ذبح کے وقت:

(1)      عمل ذبح

(2)      ذابح

(3)      آلہ ذبح

(4)      اور مذبوح  کی تمام شرائظ کی رعایت لازم ہے۔

 سوائے مچھلی اور ٹڈی کے کسی جانور کو بغیر ذبح کیے کھانا درست نہیں۔

ذبح سے ماکول اللحم میں حلت اور غیر ماکول اللحم میں طہارت پیدا ہوجاتی ہے۔

 

17۔    ہر وہ چیز جس کے اندر کسی حیوان کے اجزاء مخلوط ہوگئے ہوں اگر چہ وہ حیوان غیر دموی ہو ،اس کا استعمال جائز نہیں۔البتہ اس اصول سے مچھلی اور ٹڈی مستثنی ہیں۔بڑی دیگ میں اگر مکھی گر جائے تو دیگ ناپاک نہیں ہوتی مگر مکھی کا کھانا پھر بھی جائز نہیں رہتا البتہ چند استثنائی مثالیں ایسی موجود ہیں کہ جہاں باوجود احتیاط کے تحرز مشکل ہو وہاں گنجائش ہے:

وقد ظھر من کلام صاحب القنیۃ فائدۃ:ھی ان کل شئ اختلط معہ اجزاء حیوان غیر ماکول ولو غیر دموی لایحل اکلہ۔قلت ویستثنی منہ مافی مطالب المومنین عبارتہ ھذہ:لایحل المیتۃ الالسمک والجراد وما فی معناھما مما یستحیل تمیزھا من الاطعمۃ کدودالجبن والتفاح فان الاحتراز عنھا غیر ممکن انتھی وھذا من اعظم الفوائد فکن علی بصیرۃ من ذلک۔ (فاکھۃالبستان فی مسائل ذبح وصید الطیروالحیوان للعلامۃ المخدوم ہاشم السندی :171ط:دارالکتب العربیۃ)

 

18۔ جن مصنوعات کی تیاری میں :

(1)      حرام جانورکا کوئی جزء ہو

 (2)     یا غیر شرعی طورپر ذبح کیے گئے حلال جانورکا کوئی جزء ہو

 (3)     یا حلال جانور کے حرام اجزاء میں سے کوئی جزء ہو

(4)      یا زندہ حلال جانور کا ذی حس  کوئی جزء ہو

اس کا خوردنی استعمال ناجائز ہوگا۔

جن مصنوعات میں:

(1)      حرام اجزاء ترکیبی شامل ہوں

(2)      غذا براہ راست مضر صحت ہو

(3)      انسانی عضو کا کوئی حصہ یا اس سےکشید کردہ کوئی حصہ شامل ہو

(4)      اس کی تیاری،پیکجنگ،اسٹوریج،ٹرانسپوٹیشن میں کوئی حرام جزء شامل ہو

(5)      ایسے برتن ،پلانٹ، اوزار، جس میں حرام مصنوعات  تیار ہوتی ہوں  اور پھر ان میں حلال تیار کیا جائے اور  حلال کی تیار سے قبل ان کی مطلوبہ پاکی کا اہتمام نہ کیا جائے

 

19۔   عموم بلوی جس طرح طہارت اور نجاست میں باعث تخفیف ہے اسی طرح حلت وحرمت میں بھی باعث تخفیف ہے۔

18۔ذبیحہ تو صرف مسلمان اور کتابی کا  حلال ہےمگرذبیحہ کے علاوہ اور خشک خوردنی اشیاء مثلا پھل فروٹ،اجناس وغیرہ ہر کافر ومشرک کے ہاتھ کے جائز وحلال ہیں۔

 جن اشیاء میں صنعت کی ضرورپڑتی ہے ان میں چونکہ ان کے ہاتھ اور برتن کا استعمال ہوتا ہے اس لیے بلاضرورت شدیدہ استعمال نہ کرے البتہ اگر طہارت کا اورکسی حرام چیز کی عدم شمولیت کا یقین ہو تو پھر استعمال میں حرج نہیں۔(ملاحظہ کیجیے:معارف القرآن مفتی شفیع رحمہ اللہ علیہ جلد سوم ص49)

 

19۔اگر علم ہو کہ کسی پروڈکٹ میں حرام شامل ہے یا کسی خاص پروڈکٹ کے بارے میں توعلم نہ ہو لیکن یہ معلوم ہو کہ  اس کاصانع بالالتزام حرام شامل کرتا ہے تو اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔

اگر کچھ علم نہ ہو اورمعاملہ گوشت یا اس سے بنی ہوئی کسی ایسی چیز کا نہ ہو جس میں اصل حرمت ہو تو وہ  چیز حلال کہلائے گی۔

اسی طرح اگر کسی شئ میں الکحل کا ملایا جانا ثابت ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ وہ انگور یا کھجور سے کشیدکیا ہوا ہے تو وہ چیز ناپاک اور حرام ہوگی۔

 اگر معلوم ہوکہ الکحل  انگو ر وکجھور کے علاوہ کسی اور چیز سےکشید کیا گیا ہے تو وہ پروڈکٹ پاک اور حلال ہوگی بشرطیکہ نشہ کی حد تک  اس میں الکحل شامل نہ ہو۔

 اگر الکحل کا ماخذ معلوم نہ ہو لیکن قرائن کی بنا پر اغلب یہ ہو کہ وہ الکحل انگور وکھجور سے حاصل کردہ نہیں ہے جیساکہ آج کل غالب یہ ہے کہ انگور اور کھجور کے علاوہ دیگر نباتات سے الکحل حاصل کیا جاتا ہےتو ایسی مصنوعات کو حلال اورپاک تصور کیا جائے گا ۔

اگر کسی چیز کے بارے میں یقینی معلوم ہو کہ وہ حرام ہے یا نجس ہے اور پھر شک پیدا ہوجائے کہ تبدیلئ ماہیت کے نتیجے میں وہ پاک وحلال ہوا ہے یا نہیں تو اسے حرام اور نجس ہی متصور کیا جائے گا کیونکہ اس کاحرام او رنجس اور ہونا یقینی  ہے جب کہ حلت وطہارت میں شک ہے اور تعارض کے وقت یقین کو شک پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔مثلا جیلاٹن بڑی مقدار میں جانور کی ہڈیوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور بنانے والے یورپی ممالک ہیں جن کے ہاں حلال ذبیحہ کا اہتمام نہیں ہوتا  گویا جیلاٹن مردار کی ہڈیوں سے بنایا جاتا ہے اور مردار کی ہڈی پر اگر چکناہٹ نہ ہو تو وہ پاک ہوتی ہے لیکن حلال نہیں ہوتی ۔حلال ہونے کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ہڈی میں انقلاب ماہیت ہوجائے لیکن انقلاب ماہیت میں شک ہو تو وہ پروڈکٹ حرام ہوگا کیونکہ ہڈی اصل میں حرام تھی اور  بذریعہ تبدیل ماہیت اس کے پاک ہونے میں شک ہے۔

اشیاء میں اصل حلت ہے مگر گوشت میں اصل حرمت ہے اس لیے گوشت  اسی وقت حلال کہلائے گا جب دلیل سے  اس کا حلا ل ہونا ثابت ہوجائے ،اس لیے غیر مسلم ممالک سے درآمد کیا گیاگوشت اسی  وقت حلال کہلائے گا جب یقینی دلیل سے اس کا حلال ہونا ثابت ہوجائے اور مسلم ممالک کا ذبیحہ حلال کہلائے گا مگر یہ کہ دلیل سے اس کا حرام ہونا ثابت ہوجائے۔

 

20۔   حلت اور حرمت اور طہارت ونجاست کا تعلق دیانات سے ہے اور دیانات میں خبر واحد قابل قبول ہے لیکن شرط یہ ہےکہ خبر دینے مسلمان ،عاقل اور بالغ ہو۔اگر مخبر فاسق ہو یا مستور الحال ہو تو تحری کے بعد غالب گمان پر عمل واجب ہے۔بچے اور معتوہ اور کافر کی خبر کا اعتبار نہیں البتہ منادی سلطان اگر چہ فاسق ہو پھر بھی اس کی خبر قبول ہے۔اگر کافر کی خبر معاملات میں قبول کرنے سے دیانات میں قبول کرنا لازم آرہا ہو تو پھر ضرورۃ دیانات میں بھی اس کی خبر مقبول ہوگی

دیانت میں اگر چہ خبر واحد مقبول میں ہے لیکن خبر واحد قبول کرنے سے اگر کسی کی ملک کا ابطال لازم آتا ہوتوپھر کامل نصاب درکار ہوگا مثلا ایک عورت زوجین میں سے کسی ایک یا دونوں کے متعلق گواہی دے کہ اس نے زوج یا زوجہ یا دونوں کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا تھا تو نکاح کے فساد کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ملاحظہ فرمائیں: فاکھۃالبستان فی مسائل ذبح وصید الطیروالحیوان للعلامۃ المخدوم ہاشم السندی،مطلب فی قبول خبر المستور والفاسق فی الدیانات :171ومابعدھاط:دارالکتب العربیۃ