حضرت مفتی محمد صالح شھید رحمہ اللہ

دریائے سندھ اورڈیورنڈلائن کے درمیان کا علاقہ پاکستان کاسرحدی اور قبائلی علاقہ کہلاتاہے۔دریائے سندھ تو مشہور ومعروف دریا ہے جبکہ ڈیورنڈ لائن وہ خطِ فاصل ہے جو برطانوی حکومت کی ایماء پر ہندوستان کو افغانستان سے متمیز کرنے کے لیے کھینچا گیا تھا،اس خط کی وجہ سے وہاں کی مقامی آبادی پاک اور افغان دو حصوں میں بٹ گئی ہے مگرقبائل نے زمین کی تقسیم کو دلوں کی تقسیم کا ذریعہ نہیں بننے دیا ہے۔
سیاسی لحاظ سے سرحدی صوبہ یعنی خیبر پختونخوادوحصوں میں تقسیم ہے۔ ایک تو آزاد قبائل کا علاقہ ہے جو مالاکنڈ،مہمند،کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان وغیرہ ایجنسیوں پر مشتمل ہے اور دوسرا زیرِقانون علاقہ ہے جیسے ہزارہ،مردان،پشاور،ڈیرہ اسماعیل خان وغیرہ،اس کے علاوہ کچھ پٹیاں ہیں جو انتظامی ضروریات کے تحت زیرِ قانون اضلاع کے ماتحت ہیں،انہیں ہم نیم قبائلی علاقے کہہ سکتے ہیں۔
ہزارہ ڈویژن جو دریائے سندھ کی مشرق میں واقع ہے اورجہاں سرکار کی عمل داری ہے، اس سے ملحقہ ایک نیم قبائلی علاقہ ہے جو ’’کالاڈھاکہ‘‘ کے نام سے جانا جاتاہے۔ہمارے ممدوح ومحبوب اورراہِ حق کے شہیدمفتی صالح محمدؒ کا تعلق اسی سرزمینِ سے تھا۔ یہ علاقہ صدیوں سے آزاداورخودمختار چلاآرہاتھا،قبائلی روایات اور طرزِ معاشرت کواس نے من وعن محفوظ رکھا تھااوریہاں کے باشندے اپنے نزاعات کاتصفیہ شریعت اور مقامی رسم ورواج کے مطابق کیا کرتے تھے،اس علاقے کی تاریخ بتاتی ہے کہ سکھ یہاں اپناتسلط نہیں جماسکے ،مغل بھی اسے زیر نہ کرسکے اور انگریز کو بھی یہاں لاشیں چھوڑ کر بھاگنا پڑا،اب یہ علاقہ باقاعدہ حکومتِ پاکستان کا حصہ بن چکاہے اور مقامی آبادی چونکہ پشتون اکثریت پر مشتمل ہے اس لیے ان کی زبان کی رعایت سے اس کانام’’تورغر‘‘رکھا گیاہے۔تذکرہ اور تاریخ کی کتابوں میں اسے ’’کوہ سیاہ ‘‘اور تبلیغی جماعت کے عرف میں اسے’’ بیت السلام‘‘ کہاجاتا ہے۔مؤخر الذکر کے علاوہ سب کا مطلب تورغر یعنی کالا پہاڑہے۔’’تسمیۃ الکل باسم الجز‘‘درسی زبان کی ایک مشہور اصلاح ہے ورنہ مجموعی لحاظ سے یہ علاقہ سبز پوشاک اوڑھے رہتا ہے،جو پہاڑ قد میں اونچے ہیں وہ موسم سرما میں سَروں پر سفید عمامے سجالیتے ہیں۔گرمیوں میں جب سورج تپتا ہے تواس کی گرم شعاعیں ان پہاڑوں پر جلتی آگ کا منظر پیش کرتی ہیں۔ان ہی پہاڑوں کے درمیان چٹانوں سے ٹکراتا،شورمچاتااوربل کھاتا ہوادریائے سندھ بہتاہے جو پاکستان کا عظیم آبی ذخیرہ ،زرعی حیات کا ضامن اورپرشکوہ تہذیبوں کامحافظ ہے، جس کی قدامت،وجاہت اور عظمت نے ہر دور کے شعراء ،قلمکاروں اوردانشوروں سے خراج تحسین وصول کیا ہے۔
دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر تا تاری نسل کے ہندوحکمراں چلے آتے تھے۔ایک طرف مداخیل اور دوسری طرف امازئی آباد تھے۔حضرت اخون سالاک کابل گرامیؒ جو سترھویں صدی کے بزرگ گزرے ہیں ان کی جہادی مہم کے نتیجے میں یوسف زئی قبیلے نے اُن ہندوؤں کویہاں سے بیدخل کیا۔اب زمانہ موجودہ میں دریا کے مشرقی سمت پر حسن زئی،چغرزئی،بسی خیل اور نصرت خیل آباد ہیں اور مغربی جانب امازئی اور مداخیل کی آبادیاں ہیں۔مفتی صالح محمدکاروڑیؒ اسی مداخیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔
عربوں میں جس طرح قومیت اور خاندان کا شاخ درشاخ سلسلہ ہے اور اتحادِ نسب کا بعید ترین تعلق’’شعب‘‘سے ظاہر کیا جاتاہے اور آخری اور قریبی حلقہ’’اسرۃ‘‘اور ’’ عائلۃ‘‘ہے اور درمیان میں اوپر سے نیچے آتے ہوئے شعب کے بعد’’ قبیلہ‘‘ پھر’’ عمارہ‘‘ پھر ’’بطن‘‘ پھر’’ فخذ‘‘ اور پھر’’ فصیلہ‘‘ ہے،اسی طرح قبائلی بھی ایک پیچ درپیچ اور شاخ درشاخ خاندانی سلسلے میں منقسم ہیں۔پہلے قوم ہے پھرقبیلہ ہے پھر خیل ہے پھر خاندان ہے اور خاندان گھرانوں میں تقسیم ہے۔مفتی صاحب پشتونوں میں یوسف زئی اوریوسف زئیوں میں مداخیل اورمداخیل کی شاخ حسن خیل اوراس کی شاخ مندامانہ اور مندامانہ کی شاخ موسی خیل سے تعلق رکھتے تھے۔
آپ کے گاؤں کا نام’’کاروڑ‘‘ہے،جوکہ اصل میں ’’کہروڑ‘‘تھا اور ایک ہندو کا نام تھا مگر امتدادِزمانہ سے کاروڑ ہوگیا،اسی نسبت سے آپ کاروڑی لکھتے اور کہلاتے تھے۔یہ گاؤں تقریباََ پانچ سو گھرانوں پر مشتمل ہے اوربجلی،گیس،ٹیلیفون،سڑک اور ہسپتال جیسی ضروری اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ٹیبل نما پہاڑوں پر واقع ہونے کی وجہ سے گاؤں تک چڑھنے کا راستہ بہت دشوارگزارہے اور ضروریاتِ زندگی سرپراٹھاکریا جانوروں پر لاد کر اوپر پہنچائی جاتی ہے۔اسی پسماندہ اور دور افتادہ گاؤں میں داواخان بن مقتدر خان کے گھرانے میں جس بچے نے آنکھ کھولی، اسی کانام صالح محمد ہے۔آپ کی دوبہنیں ہیں اورتینوں بھائیوں میں آپ منجھلے تھے،دو بیوائیں،دوبیٹے اور تین بیٹیاں آپ نے سوگوار چھوڑی ہیں۔
شہید مفتی صاحب کا گاؤں دریائے سندھ کے کنارے آباد ہے۔ارد گرد کا ماحول انسانی مزاج کی تشکیل اور سیرت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتاہے۔یہ ایک طاقتور عامل سمجھا جاتاہے جو انسانی خد وخال سے لے کراس کی طرزِمعیشت ومعاشرت اور جذبات وخیالات تک کو متاثرکرتاہے۔مفتی صاحب کی طبیعت میں اس عامل کاگہرا اثر پایاجاتاتھا۔دریائے سندھ میں تموج اور تلاطم رہتاہے تو اس کے فرزند کی زندگی میں بھی ایک ہیجان اور اضطراب تھا،یہ ریگ زاروں کو گلزاروں میں بدلتاہے تواس کے سپوت کامشن بھی بنجراور سوختہ زمینوں کو لہلہلاتے سبزہ زاروں میں تبدیل کرنے کاتھا،اس کی تند وتیز موجیں پہاڑوں سے سر ٹکراکرآگے بڑھتی ہیں تواس کا بیٹا بھی کسی خارجی سہارے کے بغیر محض اپنی فطری لیاقت اورذاتی صلاحیت کے بل بوتے پر آگے بڑھاتھا۔اے دریا...!اگر تجھ پر زرعی حیات کا انحصار ہے تو ان پر روحانی حیات کا مدار تھا،تو اگر تہذیبی اور تمدنی روایات کاامین ہے تو وہ دینی اقدار اور نبوی علوم کا محافظ تھا،چٹانیں کھسک کر تیرے پیندے میں آگرتی ہیں مگر تو اپنا راستہ تبدیل کرتاہے نہ ہی تیرا ہیجان اور روانی متاثر ہوتی ہے،پھر تعجب کیا ہے کہ تیرے بیٹے نے مخالف بادِمخالف اورنامساعد حالات کو کبھی اہمیت نہیں دی،یہ سبق تیرا ہی سکھایا ہواتھا،اگر وہ کشادہ دل اور وسیع الظرف تھے اور سب کے لیے سینے میں جگہ رکھتے تھے توتیرا معاون دریاؤوں کوسینے سے لگانا اورانہیں دامن میں بھر کربہنا کیا معنی رکھتا ہے؟،تو تبت سے نکل کر بحیرہ عرب میں اپنا وجود گم کردیتا ہے،اگر انہوں نے اپنی ہستی مٹادی اور جان جاں نثار کردی تویہ خصلت تیری بدولت ان کی فطرت میں ودیعت تھی۔
دریا کو بہنے اور پھیلنے کے لیے وسیع رقبہ چاہیے تودریا صفت انسان کو بھی کام کا وسیع میدان چاہیے ہوتاہے۔پانی پڑے پڑے گدلاہوجاتاہے،مشینری زنگ آلود ہوجاتی ہے،صلاحیت بھی اگر آزمائی نہ جائے تو مرجھاجاتی ہے۔مفتی صالح محمدؒ جس قوم اور قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ان کے مزاج میں انفرادیت پسندی ہے ،دنیا سے ان کا ربط وضبط کم ہے اور پہاڑوں نے انہیں باقی دنیا سے الگ تھلگ رکھا ہے،وہ ان پہاڑوں کو شدت سے چاہتے ہیں، اپنے حال پر نازاں ہمہ دم فرحاں اور سدا بہارشاداں رہتے ہیں،بعض قبائلی بوڑھے ایسے ہیں جنہوں نے آج تک اپنے علاقے سے باہر قدم نہیں رکھا ہے،ان باتوں کا تقاضاتھا کہ آپ تمام عمر بے نام اور گمنام رہتے اور آپ کو اپنی فطرت میں ودیعت صلاحیتیں آزمانے کا موقع ہی نہ ملتا مگر اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمایااورآپ کو اس نعمت سے نوازاجس کا احسان اس نے خاندانِ یوسف علیہ السلام پریہ کہہ کر جتلایا ہے کہ ہم تمھیں دیہات سے لے آئیں’’وجاء بکم من البدو...الآیۃ(یوسف:۱۰۰)
دیہات سے شہر آنے کا حقیقی سبب تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوا،مگر اس کاظاہری سبب وہ رسم ہے جوصدیوں سے قبائل میں رائج ہے اور ابتدائی اسرائیلی عہد کی یادگار ہے،جس کے تحت قبیلہ اور اس کے تحتی افراد کے درمیان وقتاََ فوقتاََ زمین کا تبادلہ ہوتارہتا ہے۔یہ رسم’’ویش‘‘کے نام سے مشہور ہے۔اس کے پسِ پشت فلسفہ یہ ہے کہ ہر خاندان اور خاندان کا ہر فرد کچھ عرصے کے لیے بہترین زمین سے متمتع ہوسکے تاکہ اقتصادی قوت کے بل بوتے پر سیادت کے ارتقا کو روکا جا سکے۔ گویا زمین کی عارضی تقسیم کا نام’’ ویش ‘‘ہے۔
قبائل جب ان زمینوں پر پہنچے تھے تو انہوں نے زمین کی تقسیم کا یہ منصفانہ نظام وضع کیا تھا،اس نظامِ اراضی کے تحت تقریبا آدھی زمین شاملات یعنی مشترکہ چراگاہ کے طور پر چھوڑی گئی اور بقیہ تمام خیلوں میں برابر تقسیم کردی گئی اور خیل کا حصہ اس کے مختلف خاندانوں میں بانٹ دیا گیا،وراثتی نظام کے تحت پشت درپشت منتقلی اور خاندان کے پھیلاؤاور ان میں تقسیم کی وجہ سے فر د کا حصہ اتنا قلیل رہ گیا کہ گزراوقات اس پر مشکل ہوگئی،نتیجۃََ قبائل کے افراد ہجرت پر مجبور ہوگئے۔تعجب خیز امریہ ہے کہ عموما یہ تبادلے بلا کشت وخون ہوتے ہیں اور کبھی زمین اور چراگاہوں کے ساتھ رہائش گاہیں بھی تبدیل ہوجاتی ہیں۔دس پندرہ سال قبل حسن زئی قوم میں اسی قسم کی تقسیم ہوئی تھی۔اس رسم سے کمال واقفیت مفتی صاحب کے لیے اراضی اور شاملات کے متعلق نزاعات کے تصفیے میں بہت آسانیاں پیدا کرتی تھی۔
بہرحال ہجرت کی وجہ جو بھی ہو،مفتی صاحب پانچ سال کی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ کراچی منتقل ہوئے،اولین رہائش نرسری کے علاقے میں ایک ڈیرے میں تھی،اسی علاقے میں تیسری جماعت تک تعلیم حاصل کی،آپ کے والد کا بیان ہے کہ میں موم بتی کی روشنی میں انہیں پڑھایا کرتا تھا۔نرسری سے آپ قصبہ کالونی منتقل ہوئے اورمدرسہ اشاعت القرآن میں ناظرہ پڑھنا شروع کیا،قاری سلطان عمر صاحب دینی علوم میں آپ کے اولین استاد ہیں،اس کے بعد جامعہ ربانیہ میں ثانیہ تک کی کتب پڑھیں،اس دوران آپ کی والدہ ماجدہ بھی گاؤں سے کراچی تشریف لے آئیں،چھٹیوں میں دورہ تفسیر کے لیے شاہ پور چلے گئے اور ارادہ سوات میں درس نظامی کی تکمیل کا تھامگر والد صاحب راضی نہ ہوئے اور بادل نخواستہ کراچی واپس آنا پڑا،رابعہ تک مخزن العلوم بنارس میں پڑھا اور خامسہ سے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ لیااور یہی سے ۱۹۹۳میں سند فراغت حاصل کی،جامعہ کے استاداورجامع مسجد بنوری ٹاؤن کے امام مولانا سید یوسف حسن طاہر الحسینی اور جامعہ کے مدرس مولانا قاری زبیر احمد صاحب اور مولانا عزیز الحق صاحب(حال مقیم برطانیہ)آپ کے ہم درس اورہم سبق رہے ہیں۔جامعہ ہی سے مفتی نظام الدین شامزی شہیدؒ اور مفتی عبدالسلام چاٹگامی مدظلہ العالی کے زیر سایہ افتاء کی مشق کی اور تخصص کی سند حاصل کی،آپ کی تشنگی دوسالہ تخصص سے دور نہیں ہوئی اس لیے چار سال مزید فتوی نویسی کی مشق کے لیے آتے رہے حالانکہ حضرت قاری ضیاء الحق صاحب کے مدرسے جامعہ تعلیم القرآن متصل الفلاح مسجد میں بہ حیثیت مدرس آپ کا تقرر ہوچکاتھا۔
حضرت مفتی نظام الدین شامزیؒ سے فرمایا کرتے تھے کہ’’ لڑکے صرف فاضلِ وفاق ہونے کو کافی سمجھتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ دنیا ان کی قدرنہیں کرتی‘‘۔یہ فرمانے کے بعدروئے سخن مخاطبین کی طرف کرکے فرماتے تھے:’’تم اپنے اندر کمال پیدا کرلواور پھر آبادیوں سے دور نکل جاؤاور کسی اونچے پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ جاؤ،دنیا تمھیں وہاں بھی ڈھونڈ نکالے گی،المیہ یہ ہے کہ لوگ کمال اور صلاحیت پیدا کیے بغیر دنیا سے ناقدری کی شکایت کرتے ہیں۔‘‘یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ جوہر شناس نگاہوں اور کمال کی قدردان شخصیتوں سے آپ اوجھل رہ جاتے،اس لیے ۱۹۹۸ میں جامعہ کے دارالافتاء میں بہ حیثیت مفتی آپ کا تقرر عمل میں آیا۔
جامعہ میں خدمتِ افتاء کے ساتھ آپ جامعہ درویشیہ میں تخصص کے نگراں اور مشرف تھے اور وہاں دورہ حدیث میں ترمذی شریف کا درس بھی آپ کے سپرد تھا،اس کے علاوہ جامعہ احیاء العلوم پیر کالونی بھی ایک آدھ گھنٹے کے لیے تشریف لے جاتے،شہادت کے سال جامعہ میں اصول فقہ کی کتاب نورالانوار آپ کے زیر تدریس تھی۔
حضرت شہید نام کے بجائے کام اور دعووں سے زیادہ عمل پر یقین رکھتے تھے۔آپ کی باتوں میں تو تقریر کا زور اور فصاحت وبلاغت کا جوش نظر نہیں آتا تھا اور زبان میں بھی کسی قدر علاقیت کی جھلک تھی جس کی بناء پر آپ کی حقیقی شخصیت پردہ خفاء میں رہتی اورنووارد آپ کے متعلق درست قائم کرنے میں غلطی کرجاتاتھا، مگر آپ کے ہاں عملیت تھی اوربقول مولانا سید سلیمان ندویؒ کے اسی کی دنیا کو ضرورت ہے ورنہ دلکش نعروں،بلند بانگ دعووں،میٹھی میٹھی باتوں،مؤثر تمثیلوں اور دل آویز حکایتوں کی یہاں کمی نہیں۔آپ کی اسی عملیت پسندی کا نمونہ آپ کی قائم کردہ جامع مسجد نور اور اس سے ملحقہ جامعۃ النور الاسلامیۃ ہے۔مدرسے میں سات سو کے لگ بھگ بچے حفظ وناظرہ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں جس میں اسی(۸۰) کی تعداد سایہ پدری سے محروم یتیم بچوں کی ہے۔خود آپ کی زندگی عسرت اور تنگی میں گزری ہے،جس کی ایک وجہ قلیل پر قناعت اورنزاع کے خوف سے اپنے حق سے دستبرداری بھی ہے، شہادت سے کچھ ہی عرصہ قبل قرض کے بار سے سبکدوش ہوئے تھے مگر ان بچوں کے لیے آپ کے ہاں بہت کچھ تھا،خود ان کے دروازے پر جاکر ان کو ضروریات مہیا کرتے تھے۔نجی مجلس میں فرمایا کرتے تھے کہ مجھے مکتب اور مدرسے اور ان معصوموں کی بدولت اللہ تعالی سے نرمی کی امید ہے۔اسی جذبے کی تحت آپ نے ایک مطلقہ بیوہ سے عقد ثانی فرمایا تھااور اس کے پہلے شوہر سے بچے بھی اپنے زیر کفالت اورزیر تربیت لے لیے تھے۔
عام زندگی میں آپ سادگی پسنداور جفاکش دکھائی دیتے تھے،طبیعت کے ہنس مکھ اور خوش مزاج تھے ،قد درمیانہ،بدن ٹھوس اور جسم چست وچابک تھاجس کی وجہ وہ ماحول تھا جس میں محنت اور جفاکشی کے بغیر گذارا مشکل ہے۔محنت اور غیرت،خودداری اور خود اعتمادی آپ کے خون میں شامل تھی،اپنی دنیا کے آپ بادشاہ اور دوسروں کی بے جا اطاعت سے ناآشنا تھا،اپنے کام میں مگن ،اردگرد کی غیر تعلیمی سرگرمیوں سے لاتعلق اور نمایاں ہونے کے شوق سے قطعا نابلد تھے۔میلے ٹھیلوں اور غیر ضروری بھکیڑوں میں الجھنے کی آپ کو فرصت نہ تھی،بڑوں سے مؤدبانہ،رفقاء سے دوستانہ اور چھوٹوں سے مشفقانہ اور خیر خواہانہ رویہ رکھتے تھے ،وقت کے پابند تھے،سردی ہو یا گرمی،حالات پر امن ہو یا گولیوں کی گھن گرج ہو،مفتی صالح محمد اپنی نشست پر موجود ہوتے تھے۔گھریلو کام خود انجام دینے کے عادی تھے،پچاس کلو کی بوری خود ہی اٹھا کر گھرلایا کرتے تھے،اپنا ذاتی مکان تعمیر کیا تھا جس کا نقشہ،کٹنگ،شیٹرنگ اور مہارت کے متقاضی تمام کام خود انجام دیے تھے،صرف تعمیری سازوسامان کے لانے،اٹھانے،ملانے وغیرہ کے کام اجرت پر کرائے تھے۔رات کے اوقات میں ایک ماربل فیکٹری میں تشریف لے جاتے،وہاں کے منتظم کریم صاحب کا بیان ہے کہ اپنی ذکاوت اور ذہانت کے بدولت مفتی صاحب کچھ ہی عرصہ میں نوے فیصد کام جان گئے تھے۔اہل علاقہ اور آپ کے درمیان کوئی فاصلے نہیں تھے ۔تخصص کے جو طلبافارغ ہوکر جاچکے ہیں وہ مسلسل آپ سے ربط میں رہتے تھے اورآپ ان کی معاونت اور رہنمائی فرماتے اور انہیں مفید مشوروں سے نوازتے تھے،شام کے اوقات میں اسی وجہ سے آپ کا فون بہت مصروف ملتاتھا،منٹوں اور سیکنڈوں کو مادیت کے ترازوں میں تولنے والی ذہنیت کے نزدیک آپ کا یہ عمل اوقات کا ضیاع تھا مگر جس کا مقصد ہی ہمہ وقت خیر کا فیضان ہو اس کے لیے یہ باتیں بے معنی تھیں۔
جو علمی سرمایہ آپ نے یادگار چھوڑا ہے ان میں فقہ کی مشہور کتاب’’کبیری‘‘پر آپ کے تعلیقات اور اضافہ عنوانات ہیں،مرحوم شہید اپنی حیات میں اس کا تذکرہ کیا کرتے تھے ، اللہ کرے زیور طبع سے آراستہ ہوجائے ۔کبیری پر کا م کا آغاز دوران حج حرمِ مدنی میں کرلیا تھا۔کفایت المفتی اور فتاوی رحیمیہ آپ کی تخریج شدہ متداول ہیں۔فتاوی دارالعلوم دیوبند کوابواب پر مرتب کیاتھا،فتاوی محمودیہ پر کسی قدر کام کیا تھا مگر کسی عارض کے سبب سے روک دیا تھا۔سب سے اہم استنساخ(کلوننگ)کی موضوع پر آپ کی کتاب ہے،جو اپنے موضوع پر نہایت قیمتی معلومات،پر مغز تبصروں اور جدید طبی اصولوں کے بیان پر مشتمل ہے،کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ مواد کے جمع کرنے میں غیر معمولی محنت اٹھائی گئی ہے،کسی کو ان کی آراء اور قائم کردہ فیصلوں سے اختلاف ممکن ہے مگروہ مؤلف کی تحقیق اور دلائل کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا ہے ،اس موضوع پر اردوزبان میں اس سے بہتر ،معلومات آفرین اور محققانہ کتاب شاید ہی کوئی ہو۔
لطف کی بات یہ ہے کہ یہ تمام کام فراغت کے بعد ابتدائی یا زیادہ سے زیادہ درمیانی سالوں کا ہے،آخری سالوں میں کچھ لکھنے لکھانے کا سلسلہ متروک تھاحالانکہ تحقیق وتصنیف کا ذوق رکھتے تھے ،قلم وقرطاس سے تعلق کے انقطاع پر حزین تھے اوراپنے علمی منصوبوں کی عدم تکمیل کا حسرت سے ذکر کیا کرتے تھے،تصنیف وتالیف کایہ سلسلہ جاری کیوں نہ رہ سکا،رفتار کم بلکہ ختم کیوں ہوئی؟اب اس کا ذکر فائدہ تو کوئی نہیں رکھتاالبتہ غم میں مزید اضافے کا سبب ضرور ہے۔
فقہ کے علاوہ سیاست اوراس کا خاص باب بین الاقوامی تعلقات آپ کا پسندیدہ موضوع تھا۔اس موضوع پر گفتگو کے وقت معلوم ہوتا تھا کہ کسی یونیورسٹی میں آئی آرکا پروفیسراس موضوع پر لیکچر دے رہا ہے۔خطے کی صورت حال،داخلی حالات اور مستقبل کے امکانات پر اپنی مخصوص رائے رکھتے تھے ،اقوام عالم میں افغان قوم کے متعلق اقبال کے نظریے ’’افغان باقی کہسار باقی‘‘سے متفق تھے،پاکستانی قوموں کی عادات وخصائص اور ان کی اصل ونسل کو بیان کرتے ہوئے شاخ درشاخ تقسیم کرکے بالکل تحتانی درجے تک پہنچ جاتے تھے۔کسی مبالغہ اور رنگ آمیزی کے بغیر بعض قوموں کے متعلق اتنی واقفیت رکھتے تھے کہ وہ خود اپنے آپ کے متعلق بھی اتنا نہیں جانتی ہوں گی۔
ان سطور کے تحریر کے وقت مفتی صالح محمدکی شہادت کو ایک مہینے سے زائد ہوگیا ہے مگر دل اب بھی اسے ایک حقیقتِ واقعہ کے طور پر قبول کرنے کوتیار نہیں ہے اور کیسے تسلیم کرلے جبکہ جذبات سے عاری اور داخلی احساسات سے خالی بے جان اشیاء میں بھی صرف جسمانی قربت سے ایک تعلق پیدا ہوجاتاہے اورایک کے الگ کرنے سے دوسرا مزاحمت کرتاہے ،انسان تو پھر انسان ہے ،سینے میں دل اور دل میں جذبات رکھتاہے ۔ ہم زبان کو شہداء کی یاد سے بند رکھیں یہ تو طاقت میں ہے مگر دل پر کس کازروچلتاہے اور سوچ پر کیسے پہرے بٹھائے جاسکتے ہیں جبکہ پورا کا پوراماحول ان کی یاد دلاتا ہے ، جب ان کی نشست کی طرف نگاہ اٹھتی ہے توچشم تخیل میں وہ بیٹھے نظرآتے ہیں،لوگوں کا مجمع ان کے اردگرد لگاہواہے ،زبانی دریافت کرنے والے سامنے جبکہ تحکیم کے لیے تشریف لانے والے ٹولیاں بنائے انتظار میں بیٹھے ہیں،ہجوم اتناہے کہ برابر میں استاذمحترم مفتی عبدالقادر صاحب کو اپنی نشست تک پہنچنے میں دقت ہورہی ہے،آوازیں اتنی بلند ہورہی ہیں کہ رفقاء کا کام متاثر ہورہاہے اور انہیں باربارآوازپست رکھنے کی تلقین کی جارہی ہے،فون ابھی رکھا نہیں کہ دوبارہ بجنے لگتاہے،دائیں طرف خواتین پردے میں اپنا دکھڑا سنارہی ہیں تو سامنے کاغذات کا ڈھیر لگاپڑا ہے،کچھ فتاوی دستخط کے منتظرتو کچھ تصحیح طلب،طلباکچھ کاغذ اٹھاتے ہیں اوراس سے زیادہ رکھ دیتے ہیں،اس دوران پوچھنے والے کو جوابات،طلبا کو ہدایات اور سامنے کاؤنٹر والوں کو احکامات دیے جارہے ہیں۔
اس قدر کام کا دباؤکہ ذھن ماؤف اور اعصاب جواب دے جائیں اور انسان سب کچھ چھوڑ چھاڑ دور نکل جائے،مگر وہ اللہ کا بندہ نہ تھکتا ہے نہ ضبط نفس کھوتا ہے اورنہ مزاج میں کوئی چڑچڑا پن پید اہوتاہے،زیر تربیت طالب علم کی کسی فحش غلطی کی وجہ سے اگرتھوڑی دیر کے لیے طبیعت میں کوئی جھنجھلاہٹ پیدابھی ہوتی ہے توفورااس پر قابو پالیتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ذھنی اوردماغی کام خصوصا فتوی نویسی جیسی نازک اور حساس ذمہ داری پرسکون علمی ماحول چاہتی ہے مگروہ یہاں مفقود ہے جس کی وجہ وہی کثرت سے لوگوں کی مراجعت ہے۔مفتیان کرام کتابوں کے درمیان براجمان ضرور ہوتے ہیں مگر کام کے اوقات میں ان کتابوں کو چھونے کی نوبت کم ہی آتی ہے،صرف سابقہ تجربات اورپچلھی معلومات کے سہارے کام چلانا پڑتاہے۔
فتوی ایک طرح کی نیم عدالتی کاروائی ہے۔مفتی عدالتی کاراوئی میں مدد دیتا ہے۔اس طرح کی نیم عدالتی کاروائی میں صورت حال اس وقت بہت نازک ہوجایا کرتی ہے جب فریقین غصے سے مغلوب ہوجاتے ہیں،پہلے تو صرف آوازیں بلند ہوتی ہیں،پھر گالم گلوچ شروع ہوجاتی ہے اوربالآخر ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں مگرمفتی صاحب ایسے ماحول کا ذرا برابر اثر نہیں لیتے تھے،ان کاذہن مسلسل اپنے ہدف پر مرکوزرہتا تھا۔
قبائلی علاقوں کے سوالات خاص دلچسپی سے آپ حل کرتے تھے جس کی وجہ ان کے ماحول،رسم ورواج اور عرف وعادات سے آپ کی واقفیت تھی۔بدل،ننواتی،شرمالہ،تور،توئی،ویش،جغ وغیرہ رسومات سے اور میاں،آستانے دار،ملا،تورے دار وغیرہ اقوام کی تقسیم سے ایسے واقف تھے جیسے پوری زندگی ان ہی کے درمیان گزری ہو۔میں تو صرف یہ دیکھ کر حیران ہواجاتا تھاکہ آپ مختلف بولیاں سمجھتے کیسے ہیں۔مہینے ڈیڑھ پہلے ایک سوال آیا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ ’’کفارت ‘‘کے روزے رکھوں گی،آپ نے جواب میں دو مہینے مسلسل روزے رکھنا تحریر کیا،اس پر کچھ اختلاف رائے ہوا،طے یہ ہو اکہ عرف کی تحقیق کی جائے،جب ایسا کیا گیا تو حقیقت وہی نکلی جو آپ نے تحریر کی تھی۔کسی جرگے کا فیصلہ آپ کے سامنے پیش کیا جاتا تو اس نظر سے دیکھتے کہ آیا جرگے نے حق وباطل اور جائز ناجائز کا فیصلہ کیا ہے یا صرف صورتحال کو پرامن رکھنے کی کوشش کی ہے یا صرف قبائلی روایات بیان کرکے مسئلہ نمٹادیا گیا ہے۔
کسی سوال کے جواب میں جب ضرورت محسوس کرتے وضاحت طلب کرتے مگر انداز ایسا اختیار کرتے تھے کہ سوال کا منشا ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے،جس سے سائل آپ کے ذہن کوپڑھنے سے قاصر رہتا تھا۔نوآموز لوگ تنقیح لیتے ہوئے جواب بھی سمجھادیتے ہیں اور جواب معلوم ہونے کے بعدلوگ اسی کے مطابق وضاحت دیتے ہیں،دیانت عام ہوتی تو ایساکرنے میں حرج نہیں تھا مگرجس کرپٹ معاشرے میں ہم جی رہے ہیں اس میں تنقیح کے ضمن میں اصل مسئلہ بتادینا لوگوں کے حقوق ضائع کرنا ہے۔مدعی یا مدعی علیہ پر بھی اگر فیصلے سے پہلے فیصلے کے آثار ظاہر ہوجائیں تو وہ فیصلے کے ڈر سے تاخیری حربے یا کاروائی کوسبوتاژ کرنے یامنصف بدلنے یا پھر کم ازکم اس کی نیت پر شک کرناشروع کردیتا ہے۔
مفتی صاحب مرحوم تحکیم طلب مسائل کی بھی سماعت فرمایا کرتے تھے ،اس خدمت کوجس احسن طریقے سے انہوں نے نبھایا اس کی وجہ’’ تنازعات کے تصفیہ‘‘کاوہ خداداد ملکہ تھاجوحق تعالی نے انہیں مرحمت فرمایا تھا۔ان کی یہ صفت ہمارے لیے باعث رشک اور ان کے لیے قابل فخر تھی ۔ظاہر میں یہ ایک وحدانی صفت ہے مگر حقیقت میں کئی صفات کا مجموعہ ہے مثلاکسی تنازع کے حل کے لیے اولین شرط معاملہ فہمی ہے۔مفتی صاحب اس قدر زیرک اور معاملہ فہم واقع ہوئے تھے کہ سرسری سی سماعت کے بعد مسئلے کی جڑ تک پہنچ جاتے تھے مگرہمدردی اور خیرخواہی کا جذبہ تھا کہ فیصلہ واضح ہوجانے کے باوجوداسے جلد صادر نہیں فرماتے تھے بلکہ حتی الامکان صلح وصفائی اور مصالحت کی کوشش کرتے تھے،فریقین کو بار بار اس کا موقع دیتے تھے ،اس سلسلے میں وقت کا سوال ان کے نزدیک غیر اہم تھا،اس کا نتیجہ تھا کہ اہل معاملہ گلے مل کر اور خنداں وفرحاں ان کے پاس سے رخصت ہوتے تھے۔
ثالث کا کردار اداکرتے وقت الفاظ سے زیادہ معانی اور تعبیر سے زیادہ مقصود پر نگاہ رکھنی پڑتی ہے ،بعض لوگ دعوی لے کر آتے ہیں مگر ان کا مقصد کسی نئے حق کا حصول نہیں بلکہ اپنے موجودہ حقوق کو مدعی علیہ کی مداخلت سے محفوظ کرنا ہوتا ہے،گویا وہ اقدام کے پردے میں دفاع چاہتے ہیں مگر صاف لفظوں میں اس کا اظہار نہیں کرتے ہیں،کبھی مدعی کا ظاہر ی دعوی کچھ ہوتاہے مگر اصل مطلوب کچھ اور ہوتاہے،کچھ لوگ اپنی طلاقت لسانی اور زور بیانی سے منصف کا ذہن متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ایسی کوئی کوشش یا چالاکی ان کے سامنے کامیاب نہیں ہوسکتی تھی۔
سماعت کے خاتمے پرجو فیصلہ تحریر فرماتے تھے،اس میں واقعات کا خلاصہ،فیصلہ طلب امور،متنازع امور کا فیصلہ،فیصلہ کی وجوہات اور شہادات وغیرہ سب کا بیان ہوتاتھا، ایک عدالتی فیصلے کی پوری روح اور حقیقت اس میں موجود ہوتی تھی صرف اصطلاحات کا بیان رہ جاتا تھا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تحکیم کو شعبہ کووسعت دی جائے اور اسے ایک منظم ادارے کی صورت میں سامنے لایا جائے،زمانے کو اس کی ضرورت ہے ،شریعت اسے تسلیم کرتی ہے،دورنبوت میں اس کا ثبوت ملتاہے ،قضاء کا یہ اہم باب ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں،عکاظ کے میلے میں نزاعات کو فیصل کرنے کے لیے ثالث مقرر ہواکرتے تھے۔خودہمارے ہاں قانون ثالثی کے نام سے جو قانون رائج ہے اس کی رو سے اگر جانبین یہ معاہدہ کرلیں کہ ہم آپس میں پیدا شدہ تنازع کا فلاں سے فیصلہ کرائیں گے توتمام عدالتوں کا اختیار سماعت ختم ہوجاتاہے،مگر بدقسمتی یہ ہے کہ قانون ثالثی وہی قانون ہے جو پورا کا پورا انگلستان کا ہے اور اٹھا کر یہاں نافذ کردیا گیا ہے۔ساٹھ سال میں ہم اس میں کوئی ترمیم بھی نہیں کرسکے ہیں اور جہاں کی ہے وہاں اسے بہت الجھادیا ہے۔اگر تنازعات کے تصفیہ کے اس متبادل نظام کو منظم اور مرتب کیا جائے تو یہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی خدمت ہوگی۔لوگ مروجہ عدالتی نظام سے مایوس ہوچکے ہیں،ضرورت پڑنے پر بھی عدالت کا سہارا لینا پسند نہیں کرتے ہیں،کیونکہ وہاں وقت اور پیسہ بہت خرچ ہوتاہے،نظام طویل اور پیچیدہ ہے اور یہاں کے کلچر اور ثقافت کے خلاف ہے ،نتیجہ یہ ہے کہ دیوانی مقدمے کے بعد فوجداری مقدمہ شروع ہوجاتاہے اور ایک مرتبہ عدالت جانے کے بعد پھروہاں سے نکلنا دشوار ہوجاتاہے۔گورنمٹ قانون پر قانون بناتی ہے مگر اصل مسئلہ قانون کی روح کے مطابق اس پر عمل درآمد کا ہے ، قانون بذات خود اتنی اہمیت نہیں رکھتا جتنی اہمیت وہ ہاتھ رکھتے ہیں جو اسے نافذ کرتے ہیں،ایسے ہاتھ کرپٹ اور بد عنوان ہیں،بالائی عدالتوں میں کرپشن کم ہوئی ہے لیکن عوام کازیادہ تر واسطہ نچلی سطح کی عدالتوں سے پڑتاہے۔اگر کسی کے حق میں دعوی ڈگری ہوجائے تو اس کے بعداہم مرحلہ اس کے نفاذ آتا ہے ،یہاں آکر کمزور بے بس ہوجاتاہے،ایک بڑھیا کس طرح ایک طاقتور مافیا سے قبضہ چھڑا سکتی ہے اوراگر نہیں چھڑاسکتی تو کاغذکا وہ پرزہ اس کے کس کام کا ہے؟ایک محترم جج صاحب کے بقول ہمارے ہاں انصاف پانے کے لیے عمرنوح،صبر ایوب،گنج قارون اور حیات خضر چاہیے۔
عدل وانصاف آسمانی کتابوں کا مقصد اور پیغمبروں کی تعلیم وتبلیغ کا حصہ رہا ہے،اس نظامِ عدل کا ایک جزء تحکیم بھی ہے اور تحکیم کے احیاء واصلاح کی ہمیں قدرت بھی ہے اس لیے اس موضوع پر گفتگو ذرا طویل ہوگئی ورنہ اصل مقصود تو مرحوم شہید کے طریقہ انصاف کو بیان کرنا تھا۔وہ انصاف کرتے تھے اس لیے ان کے ساتھ بھی انصاف ہوگا۔یہاں اگر عدالتِ انصاف نہیں لگتی تو عن قریب ایک بڑی عدالتِ انصاف لگنے والی ہے،مفتی صالح کو وہاں کچھ کہنے کی ضرورت نہ ہوگی،لہو پکارے گا کاشاعرانہ تخیل اس دن حقیقت کا روپ دھارے گااور وہی دن ہوگاجب صحیح معنی میں سینے کی جلن اور کلیجے کی تپش ٹھنڈی ہوگی۔ ہماری تسکین اور ہمت افزائی کے لیے شہید کے والد کے وہ وجد آفریں ،ایمانی قوت سے بھرپوراور جذبہ تسلیم ورضامیں ڈوبے ہوئے کلمات کافی ہیں جو انہوں جواں سال اور خون میں لت پت بیٹے کے لاشے کو دیکھ کر کہے تھے کہ’’مجھے فخر ہے کہ میرا بیٹا خاندان کا پہلاعالم تھا، خاندان کا پہلا مفتی تھااور اب یہ اعزاز بھی مجھے حاصل ہوگیا ہے کہ میرا بیٹا اپنے خاندان کا پہلا شہید ہے۔