ناں کسٹم پیڈ گاڑیوں کا کاروبار
سوال
اسلام علیکم اللہ جل جلالہ آپ حضرات کا سایہ تا دیر ہم سیاہ کاروں کے سر پر قائم ودائم رکھے میرا سوال یہ ہے کہ لورالائی بلوچستان اور سوات ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا قانونی طور پر اجازت ہے بلکہ سوات میں تو قانونی طور پر نمبر بھی الاٹ کئے گئے ہیں 1 کیا ان علاقوں میں ایسی گاڑیوں کا کاروبار کرنا یعنی لینا اور بیچنا جائز ہے یا نہیں۔ 2 دوسرا یہ بھی پوچھنا تھا کہ چونکے لورالائی کے اندر گاڑیوں کی قیمت کم ہے اور سوات کے اندر ان گاڑیوں کی قیمت زیادہ ہے تقریبا ہر گاڑی میں ڈیڑھ لاکھ سے 3 لاکھ یا اس سے بھی زیادہ فرق ہے اب لورالائی بلوچستان سے ان گاڑیوں کو مختلف طریقوں سے براستہ پنجاب اور اسلام آباد سوات لے جایا جاتا ہے چونکہ کہ پنجاب اور اسلام آباد میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو رکھنا قانونی طور پر ممنوع ہے اگر کسٹم پولیس یا ایکسائز والے اس گاڑی کو پکڑ لیں تو وہ اس کو قانونی یعنی حکومت کی تحویل میں لے لیتے ہیں اور اس کو نیلام کرکے بیچ دیتے ہیں کسٹم کرنے کے بعد تو کیا اس راستے سے گاڑی کو گزار کر سوات لے جانا اور وہاں پر بیچنا یا اس قسم کا کاروبار کرنا کہ لورالائی میں گاڑی لے کر اور اس کو اس راستے سے سے لے جاکر سوات پہنچا دینا اور وہاں ان کو بیچنا تو کیا یہ کاروبار جائز ہے یا ناجائز شریعت کی رو سے اس کی کیا حیثیت ہے اس کا جواب عنایت فرمائیں ڈاکٹر محمد اسد اسد لورالائی بلوچستان ان