جس شخص نے بینک سے گاڑی خریدی ہو اس سے وہ گاڑی خریدنا



سوال

اگر کسی شخص نے بینک سے گاڑی خریدی ہواوراب وہ بیچنا چاہ رہا ہو تو ہم اس سے وہ گاڑی خرید سکتے ہیں جب کہ ہمارابینک سے  کوئی تعلق نہیں ہوگا جو کچھ لینا دینا ہے وہ وہی شخص کرے گا ہم صرف اسے گاڑی کی قیمت دیں گے۔؟


جواب

جائز نہیں ہے۔وجہ یہ ہے کہ اس شخص نے بینک سے بیع فاسد کے ذریعے گاڑی خریدی ہے جس کی وجہ سے اس گاڑی کے اندر خبث آگیا ہے اور آگے خریدار کےلیے اس کا خریدنا ناجائز ہوگیا ہے۔فقہ کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے بیع فاسد کی وجہ سے مبیع کے اندر بھی فساد آجاتا ہے۔حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی ؒ نے اپنی ہدایہ کی شرح میں اس کو تفصیل سے لکھا ہے۔بہرحال بینک اور اس شخص پر لازم ہے کہ اس فاسد معاہدہ کو ختم کریں ،اگر نہیں کریں گے تو دونوں پارٹیاں گناہ گار ہوں گی لیکن جب گاڑی کو آگے فروخت کردیا جائےگا تو بیع فاسد پکی ہوجائےگی اور اس کو ختم کرنے کاراستہ ختم ہوجائے گا جب کہ شریعت چاہتی ہے کہ ایسا معاہدہ فی الفور ختم ہو۔