شرط بازی کرنا



سوال

زید عمرو کی دکان پر جوتا خریدنے گیا اور زید نے جوتے کا دام دریافت کیا ،عمرو نے جوتے کا دام ۴۵ روپیے بتایا،لہذا زید نے عمرو سے کہا کہ یہ جوتا بازار میں ۴۰ روپیے کے دام میں ملتا ہے ،تو عمرو نے زید سے کہا کہ اگر آپ یہ جوتا ۴۰ روپیے کا کہی سے لاکر مجھے دو تو میں آپ کو۲لاکھ روپیے بطور انعام کے دوں گا اور واقعی بازار میں یہ جوتا ایک دکان میں ۴۰ روپیے میں مل رہا تھا جس کا عمرو کو علم نہیں تھا زید وہاں سے یہ جوتا ۴۰ روپیے کا حقیقتاً بازار سے خرید کر لے آیا تو کیا عمرو کے لیے زید کو ۲ لاکھ روپیے بطور انعام کے دینا لازم ہے ؟ (۱)کیا زید کے لیے عمرو سے ۲ لاکھ روپیے لینا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) کیا یہ معاملہ شرط بازی پر محمول ہوگا؟ (۳) یک طرفہ شرط جسے عُرف میں شرط لگانا یا شرط بازی بھی کہتے ہیں کن کن أمور میں جائز ہے ؟ (۴)کیا یک طرفہ شرط بازی مطلقاً جائز ہے یا کن شرائط کے ساتھ جائز ہے ،نیز صرف علمی مباحث میں ہی جائز ہے ؟واضح فرمایے ۔


جواب

زید پر عمرو کو دو لاکه روپے دینا لازم نہیں.زید نے وعدہ کیا ہے اور وعدہ پر کا ایفاء مستحسن ضرور ہے مگر ایفائے وعدہ کے لئے کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا.
شرط بازی کن امور میں جائز ہے اور کن میں ناجائز? یہ ذراتفصیلی موضوع ہے جو کسی اور مناسب وقت پر تحریر کردیا جائے گا.