سوال
آج کے دور میں ہر قسم کے سود کو منع کیا جاتا ہے حالانکہ قرآن کریم نے دوگنے تگنے اور دوچند سود لینے کی ممانعت کی ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ سود کی شرح بہت زیادہ نہیں ہونی چاہیے ،اگر شرح سود معقول ہے اور ظالمانہ نہ ہو تو میرے خیال میں قرآن کریم اس سے منع نہیں کرتا ہے؟
جواب
آیت کا جومطلب آپ نے سمجھا ہے وہ بالکل ہی غلط ہے۔دو چند اور سہہ چند کہہ کر قرآن کریم نے سود کی مزید قباحت کو بیان کیا ہے کہ سود خود ظلم ہے اور جب دوچند اور سہہ چند ہو تو پھر ظلم در ظلم ہے۔یہ ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد باری ہے کہ میری آیتوں کو تھوڑے داموں نے بیچو،اس آیت سے کوئی بھی عقل مند یہ نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ زیادہ دام پر قرآنی آیتوں کو بیچنا جائز ہے۔یا جیسا کہ ایک جگہ ارشاد ہے کہ اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہوں ،اس آیت کا بھی یہ مطلب سمجھنا غلط ہےکہ اگر وہ پاک دامنی نہ چاہتی ہوں تو ان کو مجبور کرنا جائز ہے۔بہرحال برائی کم ہو یا زیادہ وہ برائی ہے اور سود سے بڑھ کر کوئی برائی نہیں اور اس برائی کی جڑ سے قرآن وسنت نے سختی سے روکا ہے۔