ولایت مال کے متعلق ایک سوال پر شبہ کا جواب
سوال
آپ نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ باپ دادا اور ان کے اوصیاء کے علاوہ کسی اور کو ولایت مال حاصل نہیں جب کہ کتابوں میں ہے کہ بچہ جس کی پرورش وہ بچہ کے لیے ہبہ وغیرہ قبول کرسکتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ بچہ اگر ماں یا بہن کی پرورش میں ہو تو ان کی مال قبول کرنےکی ولایت حاصل ہوجاتی ہے جبکہ آپ نے منع لکھا ہے۔
جواب
جواب وہی ہے جو پہلا لکھا ہے۔ولایت مال صرف ان لوگوں کو حاصل ہے جن کا ذکر اس جواب میں ہے۔ماں کو یا جس کی پرورش میں بچہ ہو اس کو زیر پرورش کے لیے ہبہ قبول کرنے کا اختیار حاصل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کے لیے ہبہ قبول کرنے کا اختیار دواشخاص کو حاصل ہے ،ایک وہ جو نابالغ کا ولی ہو اور دوسرا وہ جو ولی تو نہ مگر مربی ہو یعنی بچہ اس کی پرورش میں ہو۔لہذا اگر ماں کے زیر تریبت بچہ ہے تو ماں اس کے لیے ہبہ قبول کرسکتی ہے لیکن اگر اس کے زیر پرورش نہ ہوتو پھر ولی کو ہبہ قبول کرنے کاحق حاصل ہوتا ہے مگر ماں کو نہیں ہوتا۔اس سے بھی معلوم ہوا کہ ماں کو صرف تربیت وپروش کی وجہ سے ہبہ قبضہ کرنے کاحق حاصل ہے چنانچہ اگر بچہ اس کی پرورش میں نہ ہوتو اسے یہ حق حاصل نہ ہوگا۔بہرحال جواب وہی ہے جو پہلے لکھا گیا ہے اور کسی کو اس مسئلے کی تحقیق مطلوب ہو تو وہ کسی فقہی کتاب کے کتاب الہبہ اور کتاب النکاح کا مطالعہ کرسکتا ہے۔علامہ خالد الاتاسی نے مجلہ کے کتاب الھبہ میں اس مسئلے پر مفصل بحث کی ہے۔