یتیم کا مال کس کے پاس کے رہے گا؟
سوال
ایک صاحب کا انتقال ہوا ۔ورثاء میں چھوٹے نابالغ بچے ہیں ،بیوہ بھی حیات ہیں،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم نے بہت بری جائیداد چھوڑی ہے جس میں بلڈنگ ،فیکٹری،کیش،سرٹیفکٹ سب ہی کچھ ہے ،اب یہ مال کن کی حفاظت میں رہے گا؟مرحوم کے بھائی اور بچوں کے ماموں کے حیات ہیں وہ یہ ذمہ داری ادا کرنے کو تیار ہیں؟
جواب
نابالغ کا ولی مال اس کا باپ ہوتا ہے یا ہھر جس کو باپ مقرر کرے پھر دادا ہوتا ہے پھر جس کو دادا مقرر کرے ۔اگر یہ اشخاص نہ ہوتو پھر عدالت کو اختیار ہوتا ہے۔چچا اور ماموں اور بھائی وغیرہ نابالغ کے ولی مال نہیں ہوتے اس لیے ان کو یتیم کا مال نہیں دیا جاسکتا البتہ یتیم جس کو پرورش میں ہو اس یتیم کی ضروریات کے لیے خریدوفروخت کا اختیار ہوتا ہے اور بوقت ضرورت وہ منقولی جائیداد بھی فروخت کرسکتا ہے مگر غیر منقولہ جائیداد کی فروخت کا اسے بھی اختیار نہیں ہوتا ۔لہذا مذکورہ نابالغ بچوں کا مال کورٹ کے پاس رہے گا یا جس کو کورٹ مقرر کرے اور چچا اور ماموں وغیرہ کو ولایت مال حاصل نہیں اس لیے ان کے انتظام میں نابالغوں کی جائیداد نہیں دی جائے گی البتہ ماں کو صرف اس حیثیت سے کہ بچے اس کے زیر پرورش ہیں ،بچوں کی ضروریات کےبندوبست کا اختیار ہوگا۔اسی طرح وہ بچوں کے مال کی حفاظت بھی کرسکتی ہے مگر غیر منقولہ جائیداد کی خریدوفروخت کا وہ بھی اختیار نہیں رکھتی اور چچا اور ماموں وغیرہ کو تو کوئی اختیار حاصل نہیں کیونکہ نہ وہ ولی ہیں نہ مربی ،