بینک ملازمت حرام ہونے کی وجوہات
سوال
بینک میں جو قرضے دیے جاتے ہیں ان پر سود کی رقم وصول کی جاتی ہے؟جب کہ سود اسلام میں حرام ہے۔نیز بینک ملازم کو تنخواہ بھی اسی سودی رقم سے ادا کی جاتی ہے؟اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔(سلمان،ساہیوال)
جواب
آپ نے درست لکھا ہے کہ سودی قرضہ اور بینک ملازم کی تنخواہ حرام ہے۔ اگر چہ بینک میں حلال سرمایہ بھی ہوتا ہے مگر ملازمین کی تنخواہیں اوردیگر اخراجات توآمدنی سے ہی وضع کیے جاتے ہیں اور بینک کی غالب آمدنی حرام ہوتی ہے اور اسی سے ملازم کو تنخواہ ملتی ہے ۔ بینک ملازم کی تنخواہ اس وجہ سے بھی حرام ہے کہ اسے سودی اور ناجائز معاملات انجام دینا پڑتے ہیں اور ناجائز کام پر حلال رقم سے بھی اجرت وصول کرنا ناجائز ہوتا ہے۔