سحری بہت جلدی کرتا اور اِفطاری کے وقت تاخیر کرنا



سوال:۔ ہمارے ہاں بعض لوگ سحری میں بہت جلدی کرتے ہیں، اور اِفطاری کے وقت دیر سے اِفطار کرتے ہیں، کیا ان کا یہ عمل صحیح ہے؟

جواب:سورج غروب ہونے کا یقین ہوجائے تو پھر افطار کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔حدیث شریف میں ہے کہ لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے،جب تک کہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے۔(مشکوۃ بحوالہ بخاری ومسلم،ص ۱۷۵)ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے بندوں میں سے وہ لوگ زیادہ محبوب ہیں جو افطار میں جلدی کرتے ہیں۔(مشکوۃ بحوالہ ترمذی:۱۷۵)ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ہے کہ دین ہمیشہ غالب رہے گا ،جب تک کہ لوگ افطار کرنے میں جلدی کریں گے کیوں کہ یہود ونصاری تاخیر کرتے ہیں۔(مشکوۃ بحوالہ ابوداود،ص۱۷۵)سحری بھی آخری وقت میں کھانا مستحب ہے۔مسند احمد کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری امت خیر پر رہے گی جب تک کہ سحری کھانے میں تاخیر اور (سورج غروب ہونے کے بعد)روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے۔(مسند احمد ۵؍۱۷۲)ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مذکورہ لوگوں کا طرز عمل نبی کریم ﷺ کے ارشادات اور دینی ہدایات کے برعکس ہے۔