زکوٰۃ فنڈ کو کاروبار میں لگانا



 

 

محترم جناب مفتی صاحب !
ہمارا ادارہ ایک رفاہی وفلاحی ادارہ ہے۔ادارے میں جو زکوٰۃ جمع ہوتی ہے، اس سے بیواؤں اور نادار افراد کو وظائف دیئے جاتے ہیں،غریبوں کی اعانت کی جاتی ہے،علاج ومعالجہ کیا جاتا ہے۔اور یہ سب کچھ ایک سسٹم کے تحت ہوتا ہے اور زکوٰۃ کی آمدوخرچ کا مکمل حساب رکھاجاتا ہے۔اس کے ساتھ ہر سال ہمارا آڈٹ ہوتا ہے اور رپورٹ شائع کی جاتی ہے۔
ادارے کے پاس جمع شدہ زکوٰۃکے متعلق یہ تجویز آئی ہے کہ اسے کسی محفوظ اورنفع بخش کاروبارمیں لگادیا جائے،یا پھراس مقصد کے لئے فنڈکو اسلامی بینکنگ سسٹم میں مخصوص مدت کے لئےinvest کردیا جائے یا کسی اسلامی بینک سے سرٹیفکٹس خرید لئے جائیں جو بوقتِ ضرورت cashکرائے جاسکتے ہوں اور ملنے والا نفع زکوٰۃ ہی کی مد میں استعمال کیاجائے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمادیں کہ کیا ایسا کرنا درست ہے؟والسلام محمد عبداللہ
الجواب باسمہٖ تعالیٰ
آنجناب کے سوال میں تین متعلقہ فریق ہیں:
۱۔۔۔اہل خیر۔۲۔۔۔ادارہ۔۳۔۔۔غرباء ومساکین۔
ہمیں دیکھناہے کہ تینوں کے حالات کیاتقاضا کرتے ہیں۔
پہلا فریق اہل خیر (یعنی زکوٰۃ دینے والوں)کا ہے۔ اہل خیرحضرات پرزکوٰۃ کی صورت میں ایک دینی فریضہ عائدہوتاہے اوردینی فریضے سے جلدسبکدوشی بہتراورغیرمعمولی تاخیرگناہ ہوتی ہے، اس لئے یہ حضرات بجاطورپریہ خواہش رکھتے ہیں کہ جلدازجلداپنے فریضے سے سبکدوش ہوجائیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ان کامال ممکنہ عجلت کے ساتھ مستحقین تک پہنچادیا جائے۔
جہاں تک ناداراورمستحق افرادکاتعلق ہے توزکوٰۃ کے مقاصدمیں سے ایک اہم مقصدان کی معاشی کفالت اورمالی حاجت روائی ہے ۔ ضرورت مندوں کی بعض مشکلات توفور ی حل طلب نہیں ہوتی ہیں، مگربعض ضروریات فوری تکمیل چاہتی ہیں اورزبانِ حال سے’’ ابھی یاکبھی نہیں‘‘ پکاررہی ہوتی ہیں،مثلًاغریب کاچولہاٹھنڈاہو،مریض دوائی کے لئے سسک رہاہو،بچیاں جہیزکے انتظارمیں بیٹھی بوڑھی ہورہی ہوں،نوجوان وسائل نہ ہونے سے تعلیم سے محروم ہوں،سفیدپوش دستِ سوال درازکرنے ،خود دار حضرات غناءِ نفس کی چادر اتارپھینکنے اور معززین ذلیل پیشے اختیار کرنے پر مجبور ہوں اوران حالات میں ان کی فوری اشک شوئی اورحاجت روائی کی بجائے انہیں ان کے حق سے محروم رکھا جائے یا ان کے حق میں ان ہی کے لئے اضافہ کیا جائے ،جو ان حالات میں روکنے ہی کے مترادف ہے، تو یہ طرزِعمل انتہائی نامناسب اور یہ سوچ انتہائی غیر معقول ہوگی اور ہرعقل سلیم اورفکر مستقیم رکھنے والاشخص اسے مستردکرے گا۔مگرکیاکیجئے کہ ایسے ادارے بھی مشاہدے میں آتے ہیں جویا تو زکوٰۃ کو ذخیرہ کرتے ہیں یاقطرہ قطرہ غریبوں کے منہ میں ٹپکاتے ہیں جس سے نہ ان کے درد کی دوا ،غم کا مداوا ،تکلیف کا ازالہ اور پیاس کی تسکین ہوتی ہے اورنہ ہی معاشی مشکل کاکوئی پائیدارحل نکلتاہے۔ایسے ادارے گویا دوا کے لئے صحت کا انتظار کرتے ہیں کہ مریض صحت یاب ہوجائے، پھر اُسے دواپلائی جائے۔
ایک فریق خودادارہ ہے۔جب اہل ثروت اورناداردونوں حضرات کے حالات کاتقاضا جلدی کاہے توجوفریق دونوں کے درمیان واسطہ اورذریعہ ہے اورجس کاکام ایک سے لے کردوسرے کودیناہے،اورجوفریقین کے درمیان ایک’’پُل‘‘کاکرداراداکرتاہے اورغریب اور امیر کومربوط کرتاہے، اس کاکام بھی جلدی کاہوگا،کیونکہ طرفین کے حالات اس کی ذمہ داری کاتعین کرتے ہیں۔
یہ سوچ قابل قدر اوریہ جذبہ قابل ستائش ہے کہ غریب کے حق میں غریب کے لئے اضافہ کیاجائے، مگراس کے لئے جوتدبیراختیارکی جائے اس کابھی موافق شریعت ہوناضروری ہے۔صرف نیت کا خلوص اور جذبے کی پاکیزگی کسی عمل کی صحت کے لئے کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ ظاہر ی شریعت کی رعایت بھی لازم ہوتی ہے ۔کوئی کام اسی وقت اچھا ہے جب شریعت کے مطابق ہو ،اگر ایسا نہ ہوتو وہ اچھا نہیں ہے، اگر چہ دنیا اُسے اچھا سمجھ رہی ہو۔
زکوٰۃ کی investment(انوسٹمنٹ) کا متوقع فائدہ یہ ہے کہ اس میں اضافہ ہوگا اور زیادہ زکوٰۃ سے زیادہ افراد کے ساتھ تعاون کیاجاسکے گا ،مگر نہ تو ہم اس کے مکلف ہیں،اورنہ ہر فائدہ قابل حصول ہوتا ہے اورنہ ہی کسی کام کامفید ہونا اس کے جواز کا تنہا معیار ہوتا ہے ۔
زکوۃمال دار کے پورے مال کا ایک حصہ ہوتی ہے،جب مال دار تجارت کرتا ہے تو اس کے پورے مال میں اضافہ ہوتا ہے اور پورے مال میں اضافے سے اس ایک حصے میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔شریعت پورے سال ان کو یہ موقع دیتی ہے کہ کل میں اضافے کے ضمن میں اس جزء کے اندراضافہ کرتے رہیں۔سال کے اختتام پر جب وہ زکوٰۃ نکالتے ہیں تو یہ وہی رقم ہوتی ہے جوسال بھر ان کے پاس رہی اور وہ اس میں اضافہ کرتے رہے۔ اس قدر اضافے کو شریعت کا فی تصور کرلیتی ہے، اگر اس قدر کو بھی کافی نہ سمجھا جائے توپھر اضافے کی کوئی حد نہیں ہے ۔مزیدیہ کہ اگر سال بھر کے تجارتی عمل کے باوجودزکوٰۃ میں مزید بڑھوتری مقصود ہوتی تو پھر بہتر یہ تھا کہ مالداروں کو حکم نہ دیا جا تا کہ وہ چلتے ہوئے کاروبار سے رقم نکالیں، کیونکہ اس طرح اضافے کا عمل رک جاتا ہے، بلکہ اسے دوچند اورسہ چند کرنے کا موقع دیا جاتا۔
اتنی گفتگوکے بعداب ہم براہِ راست کتاب وسنت کی طرف رجوع کرتے ہیں،سلف صالحین سے رہنمائی لیتے ہیں اور ان کے واقعات سے اسلام کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قرآن کریم میں زکوٰۃ کے مصارف کے بیان میں سب سے پہلے فقراء اورمساکین کاذکرہے، اس کے بعدعاملین کاتذکرہ ہے جواسلامی ریاست کی طرف سے زکوٰۃ جمع کرنے کے لئے مقررکئے جاتے ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا...‘‘(التوبہ:۶۰)
اس تقدیم اور تاخیر سے معلوم ہوتا ہے کہُ عمَّال کا تقررزیادہ سے زیادہ زکوٰۃ جمع کرنے کے لئے نہیں ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ :
’’تؤخذ من أغنیاءھم وترد إلی فقراءھم‘‘۔
یعنی’’ مسلمان مال داروں سے زکوٰۃ لی جائے گی اور مسلمان فقراء کو لوٹا دی جائے گی‘‘۔ یہ مشہور حدیث ہے اور بخاری اور مسلم سمیت حدیث کی کئی کتابوں میں درج ہے۔اس حدیث میں’’ترد‘‘(لوٹادی جائے گی)کا لفظ قابل غور ہے کہ لوٹائی وہ چیز جاتی ہے جو لی جاتی ہے۔اس طرز تعبیر میں یہ اشارہ ہے کہ جو کچھ اور جیسا کچھ اغنیاء سے زکوٰۃ کی مد میں وصول کیا جائے، وہی کچھ فقراء کو لوٹادیا جائے۔
خوددورِنبوت ہمارے لئے سب سے زیادہ مثالی اورلائق تقلیدہے اورپھران خلفاءؓ کادورجنہوں نے آغوشِ نبوت اوردرگاہِ رسالت میں تربیت پائی تھی۔ہماری سعادت اورنجات اس بات پرمنحصرہے کہ زیادہ سے زیادہ ان کے نقش قدم پرچلنے کی کوشش کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کامال ایک ہی نشست میں تقسیم فرمادیاتھا۔دورصدیقی میں کوئی خزانہ قائم نہیں ہوا،بلکہ ’’جوآیابانٹ دیا‘‘کے اصول پر عمل ہوتا تھا،اگراس مقصدکے لئے کوئی گھرتھابھی، تواس پرہروقت تالاپڑارہتاتھا۔خود حضرت عمررضی اللہ عنہ کافرمان تھاکہ’’یہ لوگوں کاحق ہے،اگرگِن گِن کردیاجاسکاتوگِن کردوں گا،ورنہ لپّوں سے دوں گا، ورنہ بوریاں بھرکردوں گا‘‘۔
دورِ فاروقی میں جب عام فتوحات شروع ہوئیں تومسجدنبوی مال سے بھرجاتی تھی ۔ہر زمانے کی طرح اس زمانے میں بھی نادار اور محتاج ہوتے تھے اور وہ مال ان پرتقسیم کردیا جاتا تھا۔ ملکی اور بین الاقوامی تجارت اس وقت بھی ہواکرتی تھی،عرب و ہند کے تجارتی تعلقات تو زمانہ اسلام سے بھی پہلے کے قائم تھے، مگر اس مال کو تجارت میں لگانے کا خیال ان کو نہ آیا،حالانکہ غریبوں کی ہمدردی کاجذبہ ان میں کچھ کم نہ تھااور رعایا کی ضروریات سے بھی وہ خوب واقف تھے اورنہ صرف اس کی خبر رکھتے تھے، بلکہ اپنے آپ کو ان کی تکمیل کا ذمہ داربھی سمجھتے تھے۔ایک ایسے معاشرے میں جس کاہر فرد دوسرے کا حقیقی محسن ہو اور دینی خیرخواہی کے علاوہ اپنے بھائی کا دنیوی فائدہ بھی چاہتاہو، اس معاشرے میں اگر کوئی کام باوجود ضرورت اور دواعی کے نظرانداز کردیا گیا ہو تو اسے ترک کرنے میں ہی بھلائی اور عافیت ہے۔یہ ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے میں موجود یتیموں کی طرف ان کی نگاہ جائے اوروہ ان کے مال میں تجارت کا حکم دیں، مگر غریبوں کا مال جو حاکم وقت ہونے کی وجہ سے خودان کی اپنی دسترس میں رہتا تھا اس میں کاروبار کے ذریعے اضافے کی طرف ان کا خیال نہ جائے۔
جس صورت میں زکوٰۃ فنڈمیں رقم فاضل ہواورایک خاص مدت تک بہرصورت جماعت کے پاس رقم موجودرہتی ہو،اس صورت میں یہ سوچ ذرا معقول معلوم ہوتی ہے کہ غریبوں کی بہبودکی خاطراس میں اضافہ کیاجائے، مگریہ سوچ بھی اپنے اندرکچھ مشکلات رکھتی ہے۔ذیل میں اختصار کے ساتھ ان میں سے چندکاذکرکیاجاتاہے۔
۱...سب سے بڑی مشکل اور اولین رکاوٹ یہ ہے کہ شریعت کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔ اب تک کی ہماری گفتگو اسی نقطے کی وضاحت کے لئے تھی۔
۲...دوسری مشکل حساباتی ہے۔ادارے کو ہر شخص کی رقم اور اس پر حاصل ہونے والے نفع کا حساب رکھنا ہوگا،کیونکہ ادارے کی حیثیت زکوٰۃ دھندگان کے نمائندگان کی ہے۔رقم کا ادارے کے پاس ہونا گویاخود زکوٰۃ دھندہ کے پاس ہونا ہے۔جب تک غریب کا قبضہ نہ ہوگامال کی ملکیت غریب کی طرف منتقل نہیں ہوگی اور ملکیت منتقل نہ ہو تومال دار کی ملکیت زائل نہیں ہوگی اور ملکیت زائل نہ ہوتو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔اس دوران اگرزکوٰۃ دینے والے کا انتقال ہوگیا تووکالت ختم ہوجائے گی اور رقم مع نفع یا تو اس کے ورثاء کو واپس کی جائے گی یا اجازت کے بعد استعمال کی جاسکے گی اوراگراس کے ورثاء میں سے کوئی نابالغ یامجنون ہواتواس کی اجازت بھی کالعدم ہوگی اوربہرصورت اس کاحصہ رسدی اُسے لوٹایاجائے گا۔
۳....ایک مشکل یہ ہے کہ کاروبارنفع اورنقصان دونوں پہلورکھتاہے۔اگرنقصان ہوگیاتوادارے کی منتظمہ اس کاتاوان اداکرے گی،مگرمنتظمہ سے تاوان کون وصول کرے گا؟۔ اس کے علاوہ کوئی ایساجائزکاروبارجس میں نفع کی امیدیقین کی حدتک ہو،آج کے معاشی حالات میں مشکل ہے۔دنیاعالمی کساد بازاری کا شکار ہے ،صنعتیں بند ہورہی ہیں،ادارے آپس میں مدغم ہورہے ہیں ،بینک بیٹھ رہے ہیں ،کمپنیاں جبراََ اپنے ملازمین کو برطرف کررہی ہیں ۔وطن عزیز میں تو صورت حال اور دگرگوں ہے،رہی سہی کسر امن کی مخدوش حالت نے پوری کردی ہے۔امن نہ ہو تو روزگار،کاروباراورمعاشی خوش حالی ایک خواب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی ہے۔سوال میں جن ذرائع کا ذکر ہے کہ اسلامی بینکوں کے سرٹیفکٹس خرید لئے جائیں،یہ سوال بعد کا ہے۔اگر ہمیں کاروباری میدان میں اترنے کی اجازت ہو تو اس کے بعد کسی مخصوص کاروبارکے کرنے یا نہ کرنے کا سوال پیدا ہوسکتا ہے۔ 
۴....مزید یہ کہ جماعت کی حیثیت امین کی ہے اورامین امانت میں حسب منشاء تصرف نہیں کرسکتا،بلکہ ہدایت کاپابندہوتاہے، جبکہ زکوٰۃدینے والوں کی طرف سے ان کے مال میں تصرف کی اجازت نہیں ہوتی، بلکہ ان کامقصدصرف اپنی زکوۃ کی ادائیگی ہوتاہے۔
۵....اصل بات یہ ہے کہ رفاہی اورفلاحی اداروں کاحقیقی سرمایہ ان کاحجم اوروسائل کی کثرت نہیں ہے، بلکہ عنداللہ قبولیت اور عندالناس مقبولیت ہے اور یہ دونوں چیزیں جس قدر احکام شریعت کی پابندی سے حاصل ہوتی ہیں، اتنا کسی اور چیز سے حاصل نہیں ہوتی ہیں۔عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا راز بھی یہی ہے اوربرکت کا باعث بھی یہی چیز ہے۔برکت کا قرآنی وعدہ جس طرح افراد سے ہے، اسی طرح جماعتوں اور انجمنوں سے بھی ہے اور عوام کا اعتماد جن اداروں نے حاصل کرلیا ہے انہیں کبھی وسائل کی تنگی کا سامنا نہیں ہوا ہے۔ اس کے برعکس حکومت ریاستی سطح پر زکوٰۃ جمع کرتی ہے، مگر شرعی تقاضوں کا خیال نہیں رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں بھی ناکام ہے اور برکت سے بھی محروم ہے، اسی لئے زکوٰۃ کے مطلوبہ فوائد وثمرات سامنے نہیں آرہے ہیں۔ فقط واللہ اعلم