روزہ نہ رکھ سکنے کا حکم



سوال:میری عمر ستر سال ہے،اور اب الحمدللہ رمضان المبارک کا مہینہ بھی قریب ہے،اللہ تعالی ہم سب کو نصیب فرمائے۔پوچھنا یہ ہے کہ مجھے کمزوری بہت زیادہ ہے تو میں کیاکروں؟کوئی کفارہ دوں یا بعد میں جب صحت بحال ہوجائے اس وقت رکھ لوں یا کوئی اورمیری طرف سے رکھ لے۔براہ کرم تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں ؟پروفیسر تجمل حسین،واہ کینٹ

جواب:روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کی ادائیگی ہر شخص پر خود لازم ہے،جیساکہ کوئی شخص دوسرے کی طرف سے نماز نہیں پڑھ سکتا ،اسی طرح کوئی کسی کی طرف سے روزہ بھی نہیں رکھ سکتا، اور جب تک خود روزہ رکھنے کی طاقت ہے، اس وقت تک روزے کا فدیہ بھی نہیں دیا جاسکتا ،البتہ اگر بڑھاپے کی وجہ سے اس قدر کمزوری ہے کہ روزہ رکھنے سے جان کا اندیشہ ہے یا سخت مرض لاحق ہونے کا خدشہ ہے اور مستقبل میں بھی صحت یابی کی امید نہیں توہر روزے کے بدلے ایک غریب کو صبح وشام پیٹ بھر کر کھانا کھلانا واجب ہے اور اگر دینا ہو تو پونے دوکلو گندم یا اس کی قیمت ایک روزے کے فدیہ کے طور پر دینا واجب ہے۔یہ فدیہ دینے کا حکم اس وقت ہے جب تجربے سے خود محسوس کرلیا ہے کہ جان چلی جائے گی یا کوئی سخت بیماری لاحق ہوجائے گی یا پھر کسی متقی معالج نے بتادیاہے کہ روزہ رکھنے میں جان جانے یا مرض لگ جانے کا سخت اندیشہ ہے۔اس بات کو وضاحت کے ساتھ کہنے کی ضرورت اس لیے پیش آرہی ہے کہ ایک تو لوگ معمولی اعذار کی بنا پر روزہ قضا کردیتے ہیں اور دوسری طرف معالج حضرات بھی ہلکے امراض میں روزہ چھوڑ نے کی تاکید کرتے ہیں ،حال آں کہ روزہ چھوڑنے اوراس کے بدلے فدیہ دینے کی اجازت اس وقت ہے جب جان جانے یا سخت مرض لگنے کا قوی اندیشہ ہو۔آج کل متقی معالج کا میسر آنا کچھ مشکل سا ہوگیا ہے،اس لیے روزہ رکھ کر خود تجربہ کرلینا چاہیے،اگر جان جانے اور شدید مرض کا اندیشہ ہو تو رمضان میں روزہ چھوڑ کر بعد میں اس کی قضا کریں اور جب تک رکھنے کے قابل نہ ہوں نہ رکھیں۔اگر اسی حالت میں موت آگئی اور صحت بحال ہوکر قضا کرنے کی مہلت نہ ملی تو نہ روزے کی قضا ہے اور نہ ہی اس کے بدلے فدیہ کی ادائیگی واجب ہے بلکہ روزہ ،قضا اور اس کافدیہ سب کچھ معاف ہے۔