قرآن مجید میں موجود علامات ترقیم
سوال: کیا قرآن مجید میں موجود علامات ترقیم جو وقف اور سکتہ وغیرہ کے بارے میں لگائی گئی ہیں، ان پر رکنا یا سکتہ کرنا لازم ہے اگر کوئی اس کا لحاظ نہ رکھے جیسا کہ عام طور پر لاعلمی میں کیا جاتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر مشکور فرمائیں ۔
جواب:علامات ترقیم کا لحاظ رکھ کر تلاوت کرنی چاہیے،کیوں کہ بعض مقامات پر وقف کرنا ضروری ہوتاہے اور وقف نہ کرنے سے معنی فاسد ہوجاتاہے،مثلا ’’اصحاب النار‘‘پر وقف کیے بغیر وصل کرتے ہوئے یوں پڑھا’’اصحاب النار الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربہم ‘‘تو نماز تو فاسد نہ ہوگی ،لیکن مکروہ ضرور ہوگی۔اور اگر ایسی جگہ وقف کیا جہاں وقف کا موقع نہ تھا ،مثلا’’شہد اللہ انہ لاالہ ‘‘پر وقف کرنے کے بعد پھر ’’الا ھو‘‘پڑھا تو اکثر علماء کے نزدیک نماز فاسد ہوگئی ۔فتوی اگر چہ اس پر ہے کہ عام لوگ تمییز نہیں رکھتے،اس لیے نماز فاسد نہ ہوگی تاہم ایسا کرناکراہت سے خالی نہیں۔احیتاط کا تقاضا اور کراہت سے بچنے کی ترکیب یہی ہے کہ علامات ترقیم کا لحاظ رکھ کرقراء ت کی جائے۔