غیر شرعی تقریبات میں شرکت



سوال

میرے چھوٹے بھائی کی شادی ھونے والی ہے اور اس میں غیر شرعی تقریبات بھی ھونگی اور گانا بجانا بھی ھوگا اور اس تقریب میں میری شرکت لازمی ھے۔۔۔ اور اگرمیری شرکت نہیں ھوئی تو میرا چھوٹا بھائی اور گھر والے ناراض ھوجائینگے۔۔۔ کیا اس تقریب میں میں میری شرکت لازمی ہے؟


جواب

شادی یا کسی اور تقریب میں شرکت اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ تقریب حلال مال سے ہو،رسم کی پابندی پیش نظر نہ ہو،دلی خوشی سے ہو،گنجائش کے مطابق ہواور منکرات اور مکروہات سے پاک ہویعنی ناچ گانا،مرد وزن کا مخلوط اجتماع وغیرہ نہ ہو۔اگر کوئی تقریب اس معیار کے مطابق ہو تو اس میں شرکت نہ صرف جائز بلکہ مندوب ہے۔لیکن اگر تقریب میں خلاف شرع امور ہوں اور پہلے سے معلوم نہ ہوں،شرکت کے بعد منکرات کا علم ہو تو اگر منکر کا ازالہ ممکن ہو تو اس کا ازالہ کرے اور اگر منکر پر نکیر کا کوئی فائدہ نہ ہو یا اس سے بڑے منکر کے برپا ہونے کا اندیشہ ہو تو صبر کرے اور خود اس منکر میں شرکت سے اجتناب کرے البتہ کوئی مقتدا شخصیت ہو یعنی کوئی ایسی ہستی ہو کہ لوگ اس کے پیچھے چلتے ہوں اور اس کے عمل کو حجت اور اپنے سند سمجھتے ہوں تو ایسے شخص کو ایسی تقریب سے لوٹ آنا چاہیے۔جس صورت میں پہلے سے معلوم ہوں کہ تقریب میں خلاف شرع ہے یا وہاں پر خلاف شرع امور ہوں گے اور یہ یقین ہے کہ منع کرنے سے وہ باز آجائیں گے تو ایسے شخص کو  منکر کے ازالے کی نیت سے شرکت کرلینی چاہیے لیکن اگر پہلے سے علم ہے کہ روکنے سے منکر روکا نہیں جائے گا اور شرکت کرنے والا کوئی مقتدا شخصیت نہیں ہے تو اس کے لیے اس کےلیے اگر یہ ممکن ہو کہ خود کو منکر سے دور رکھتے ہوئے شرکت ممکن ہے تو شرکت کرلے اور اگر اپنی ذات کو بھی منکر سے بچانا ممکن نہ ہو تو عام شخص ہو یا خاص ،دونوں کے لیے ایسی تقریب میں شرکت جائز نہیں ہوگی۔