ممبر شپ حاصل کرکے بولی میں شریک ہونا



سوال

سوال۔۔۔۔۔ایک کمپنی ہےجو ماہانہ پندرہ سو روپے فیس وصول کرتی ہے۔فیس جمع کرانے کے بعد آپ اس کے ممبر بن جاتے ہیں اور بولی لگاسکتے ہیں۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ کمپنی نے آٹھ پروڈکٹ رکھے ہیں اورممبر کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ ان پڑوڈکٹس کی بولی لگائی ،جس کی بولی زیادہ ہوگی پروڈکٹ اسے مل جائے لیکن ہارنے والے سے علاوہ ماہانہ فیس کے مزید کچھ وصول نہیں کیا جائے گا۔ممبر کا فائدہ یہ ہے کہ کمپنی اسے پروڈکٹ مارکیٹ سے چالیس فیصد سےکم پر فراہم کرتی ہے۔اور ممبر کا بھی کوئی نقصان نہیں ہے بلکہ اگر اس کی بولی کامیاب ہوجائے تو اسے بازار سے چالیس فیصد کم پر پروڈکٹ مل جاتا ہے۔میں اس کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں۔بظاہر کاروبار کا یہ طریقہ درست معلوم ہوتا ہے  کیونکہ کمپنی بازار سے پروڈکٹ خرید کر زیادہ بولی لگانے والے کو فراہم کرتی ہے۔


جواب

جواب۔۔۔۔کاروبار کی یہ صورت ناجائز ہے کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بولئ لگانے والے کو کم قیمت پر رعایت کے ساتھ کوئی پروڈکٹ مل جائے اوریہ بھی ممکن ہے کہ اس کی ایک بولی بھی کامیاب نہ ہو اور اس کے پندرہ سو روپے ضائع چلے جائیں۔ایسا معاملہ جس میں کوئی جانب یقینی نہ ہو اور معاملہ نفع ونقصان کے درمیان دائر ہو شریعت کی نگاہ میں قمار کہلاتا ہےاور قمار ناجائز ہے۔آپ کا یہ فرمانا کہ کمپنی اپنا نقصان کرتی ہے،ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن ہر کاروبار کے شروع میں اس طرح ہوتا ہے اور جب ممبر بڑھ جائیں گےتو کمپنی کو ممبر شپ کی فیس کی مد میں ایک بڑھی رقم جمع ہوجایا کرے گی اور وہی وقت کمپنی کے نفع کمانے کا ہوگا۔اس لیے بظاہر محسوس ایسا ہوتا ہے کہ کمپنی کا ہدف زیادہ سے زیادہ ممبر بنانا ہوگا تاکہ زیادہ  سے زیادہ فیس جمع ہو اور اسی فیس سے کمپنی اپنا خسارہ پورا کرے گی بلکہ اسی سے نفع کمائی گی مگر یہ فیس چونکہ داو پر لگی ہوئی ہوتی ہے اس لیے اصل قباحت اسی فیس میں ہے اور اسی کی وجہ سے یہ معاملہ ناجائز ہے۔