مختلف فنڈز جو ادارے کی جانب سے ملازمین کو ملتے ہیں،ان کا حکم



سوال

سوال ۔ایک شخص کا دوران ملازمت انتقال ہوا۔اب اس کے محکمے کی جانب سے اس کے اہل خانہ کو ایک خطیر رقم ملی ہے ۔مسئلہ اب عدالت میں گیا ہے اور عدالت نے پوچھا ہے کہ مذکورہ رقم کس کو ملے گی؟


جواب

جواب۔۔۔۔۔۔مختلف اداروں اور کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کو جو رقوم ملتی ہے،ان کے نام اور نوعیت مختلف ہوتی ہے اس لیے ان کا حکم بھی مختلف ہوتا ہے مثلا جی پی فنڈ،بینوولنٹ فنڈ،گریجویٹی،اہمپلائیز ویلفیئر فنڈ وغیرہ،اس کے علاوہ سیلری بھی ہوتی ہے اور بعض محکموں میں اگر ملازم اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے وقت انتقال کرجائے مثلا کوئی پولیس سپائی دہشت گردوں کے ہاتھوں جاں بحق ہوجائے تو محکمہ امداد اور تعاون کے نام سے اس کے اہل خانہ کے ساتھ تعاون کرتاہے،اس کے علاوہ بسا اوقات حکومت بھی کسی حادثے یا واقعے میں فوت ہوجانےوالے کے ورثاء کے امداد کا اعلان کرتی ہے۔کچھ ادارے اپنی ملازمین کے ورثاء کو اپنے ہاں ملازمت دیتے ہیں۔الغرض مختلف قسم کے فنڈز ہوتے ہیں،جن کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ادارہ ملازم کی تنخواہ سے ماہ بماہ ایک مخصوص مقدار میں رقم کاٹتا ہے اور پھر اضافہ کرکے ملازم کو واپس دے دیتا ہے ۔ان میں سے کچھ فنڈز تو ایسے ہوتے ہیں جو ملازمت سے سبک دوشی کے وقت ملتے ہیں اور کچھ پوری زندگی ملتےہیں اور کچھ تنخواہ کا حصہ ہوتے ہیں اور کچھ گورنمنٹ یا ادارے کی طرف سے انعام ہوتےہیں۔ذیل میں ان کامختصر حکم ذکر کیا جاتا ہے۔
پینشن اور گریجویٹی
اادارہ اپنے ملازم کے ساتھ تعاون اور ہمدردی کے جذبے سے اور اس کے خدمات کے اعتراف میں مالی معاونت کرتا ہے مگر اس مقصد کےلیے ادارہ جو رقم دینے کا ارادہ رکھتا ہے اسے دو برابر حصوں میں تقسیم کردیتا ہے۔کچھ رقم تو ملازمت سے استعفی یا برطرفی یا انتقال کی صورت میں فوری طور دے دی جاتی ہے جسے گریجویٹی کہتے ہیں۔بقیہ آدھی رقم یکمشت نہیں دی جاتی بلکہ ملازم جب تک زندہ ہے یہ رقم اسے تھوڑی تھوڑی کرکے اور توڑ توڑ کردی جاتی ہے ،اس دوسری رقم کو پنشن کہتے ہیں۔ان دونوں کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے کی طرف سے انعام ہوتا ہے انہیں تنخواہ یا تنخواہ کا حصہ سمجھنا 
درست نہیں اور جب یہ انعام ہیں تو انعام کا اسی کا ہوتا ہے جسے دینے والے دیتا ہے اس لیے فنڈز ان کے ہوں گے جن کو ادارہ نامزد کرے گا۔
ایمپلائز ویلفیئر فنڈ
بعض ادارے میں اس مد ملازم کی تنخواہ سے ایک مخصوص مقدار میں رقم کی کٹوتی کرتے ہیں۔یہ کٹوتی لازمی ہوتی ہے اور تنخواہ سے ہوتی ہے اور تنخواہ ملازم کا قانونی حق ہوتا ہے،اس لیے اس رقم کو ملازم اپنی حیات میں لینے کا حق بھی رکھتا ہے اور اگر ملازم اپنے حین حیات وصول نہ کرے تو اس کا حق ہونے کی وجہ سے اس کے پس مرگ یہ اس کا ترکہ ہوتا ہے اور وراثت کے اصولوں کے مطابق اس کے ورثاء میں یہ فنڈ تقسیم ہوگا۔
بینوولنٹ فنڈ
اس مد میں بھی ملازم کے تنخواہ سے کچھ رقم کاٹی جاتی ہے اوریہ کٹوتی بھی لازمی ہوتی ہے اور اگر ملازم اپنی زندگی میں یہ رقم حاصل کرنا چاہےتو اسے اختیار نہیں ہوتا بلکہ اس کی موت کے بعد ادارہ جسے چاہے یہ رقم عطیہ کردیتا ہے۔اس فنڈ کا حکم یہ ہے کہ یہ ادارے کی طرف سے اس شخص کو ہدیہ ہوتی ہے جس کو ادارہ دیتا ہےاور یہ ملازم کی وراثت نہیں ہوتی۔
پراویڈنٹ فنڈ
اس مد میں بھی ملازم کی تنخواہ سے کچھ فیصد رقم کاتی جاتی ہے اور محکمہ اس میں اضافہ کرتا ہےاور اضافے سمیت یہ رقم ملازم کا حق ہوتاہے اور اگر ملازم چاہے تو اپنے حین حیات اسے وصول کرسکتا ہے۔اس رقم کا حکم یہ ہے کہ یہ ملازم کا ترکہ ہوتی ہے اور اس کے پسماندگان میں وراثت کے اصولوں کے تحت تقسیم ہوتی ہے۔
یہ ان فنڈز کا مختصر تعارف تھا جو ملازم کو ملتے ہیں۔درج بالا تفصیل کے مطابق مذکورہ رقم کی تقسیم ہوگی۔