اشیاء سے پرانی قیمت مٹانا کر نئی قیمت درج کرنا



سوال

ہماری میڈیسن مارکیٹ میں جب حکومت کی طرف سے دواوں کی قیمت میں کمی کا اعلان ہوتا ہے تو کچھ لوگ اسی پرانے ریٹ پر بیچتے ہییں مگر کچھ اسٹیکر وغیرہ اتار نئی قیمت لکھ دیتے ہیں اور نئی قیمت پر بیچتے ہیں،کیا اس طرح کرنا حلال ہے؟


جواب

الجواب۔۔۔اس مسئلے کا براہ راست تعلق اس بات سے ہے کہ حکومت اشیاء کی قیمتوں کا تعین کرسکتی ہے یا نہیں ؟عام حالات میں ،شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ لوگوں کو آزاد چھوڑدیاجائے اور بے جامداخلت سے گریز کیا جائےچنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ لوگوں کو چھوڑدو ،اللہ تعالی بعض کے بعض کے ذریعے بعض کو رزق دیتاہ ہے ۔لیکن حکومت وقت اگر محسوس کرے کہ اگر قیمتوں کا تعین نہ کیاجائے تو بعض لوگوں کی اجارہ داری قائم ہوتی ہے اورتاجر منہ مانگی قیمت وصول کرتےہیں اور گراں فروشی میں اضافہ ہوتا ہے تو حاکم وقت کو اجازت ہے کہ تاجروں کو گراں فروشی سے روکنے اور عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے اشیاء کی مناسب قیمتوں کا تعین کردے،ریاست کو یہ اجازت مفاد عامہ کی خاطر ملتی ہے اور مفاد عامہ کا تحفظ اس کابنیادی ،اخلاقی ،قانونی اور آئینی فریضہ ہے۔اس تفصیل کے پیش نظر جس دوا کی جو قیمت مقرر ہے اسے اسی قیمت پر فروخت کرنا چاہیے،اور اس حکم کی خلاف ورزی ایک ایسے جائز حکم کی خلاف ورزی ہے جس میں عام رعایا کا مفاد وابستہ ہے ۔علاوہ ازیں اس قسم کی صورت حال میں قانون یہ ہے کہ اشیاء پر پرانی قیمت بحال رکھنا اور اسی سابقہ قیمت پر بیچنا ضروری ہے جب کہ پرانی قیمت مٹانا یا اسٹیکر ہٹنانا اور خود نئی قیمت درج کرناقانون کی بھی خلاف ورزی ہے اور اس عہد کی بھی خلاف ورزی ہے کہ دوکاندار اور تاجر حضرات پروڈکٹ میں اپنی تصرف سے کوئی تصرف نہیں کریں گے۔بہرحال اس عمل کا ؐمحرک ہوس زر ہے اور اس کاارتکاب ایک جائز قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس کا نتیجہ گراں فروشی اور مہنگائی ہے۔