بیوی کو ''چھوڑدیا''کہنا



سوال:
میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ میرے شوہر نے غصے سے کہا کہ “میں نے تمھیں چھوڑ دیا “ پھر میں نے دوبارہ پوچھا کہ چھوڑ دیا ؟ تو انھوں نے کہا کہ “ہاں“۔ پھر یہ کہا کہ اپنے گھر چلی جانا۔یہ بتائیے گا کہ اس میں کتنی طلاق ہوئی تھیں؟ اور طلاق بائن ہوئی تھی یا رجعی؟ پھر تقریبًا  2  سال بعد انھوں نے پھر مجھے صاف الفاظ میں کہا کہ میں نے تمھیں طلاق دی ۔اور رجوع کر لیا ۔ اور چلی جاؤ کے الفاظ کئی دفعہ کہے ۔ مگر کہتے ہیں کہ کوئی طلاق نیت سے نہیں دی ۔دوسرا سوال یہ  ہے کہ طلاق کی صورت میں بچے کی پرورش کا حق دار کون ہوگا۔ اگر باپ سود کھا تا ہو ؟ بدعتی ہو؟ شرکیہ عقائد رکھتا ہو ؟ کیا ایسا شخص بچے کی پرورش کا حقدار ہوسکتا ہے ؟
 
جواب:
1. پہلی مرتبہ جوالفاظ کہے گئے تھے " میں نے تمہیں چھوڑدیا " اوراس کے بعد آپ کے سوالوں کے جواب میں " ہاں " کہناپھر "اپنے گھرچلی جانا"، ان تمام الفاظ سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی تھی۔ اس کے بعد اگر دوران عدت آپ کے شوہر نے رجوع نہیں کیا تھا توبعدازعدت دی جانے والی طلاقیں واقع نہیں ہوئیں اوراگردورانِ عدت رجوع کرلیا تھا یابعدازعدت دوبارہ نکاح کرلیا تھا توبعد میں دی جانے والی طلاق سے مجموعی طورپردو طلاقیں ہوگئیں۔ " چلی جاؤ " کےالفاظ سے اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ آئندہ کے لیے آپ کے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار ہے۔
2.   علیحدگی واقع ہونے کی صورت میں بچہ سات سال تک اوربچی نوسال کی عمر تک ماں کی پرورش میں رہیں گے اس کے بعد ان کی پرورش کا حق باپ کو حاصل ہے لیکن اگر باپ فسق و فجور میں اوربدعقیدگی میں مبتلا ہو توایسی صورت میں باپ پرورش کا حقدار نہیں بلکہ ایسی صورت میں پرورش کا حق صحیح العقید ہ اور دیندار ہونے کی شرط کے ساتھ دادا یا چچاؤں کو بالترتیب حاصل ہوگا۔