کیا رمضان کے روزے معراج کے موقع پر فرض ہوئے ؟



سوال :
رمضان المبارک کے روزے سنہ 2 ہجری میں فرض ہوئےتھے ۔ دوسری طرف سفر معراج میں 5 نمازیں اور 1 ماہ کے روزوں کا تحفہ دیا گیا ۔ جبکہ معراج کا واقعہ مکی دور میں پیش آیا ۔ دونوں میں کیا مطابقت ہے ؟
 
جواب:
 رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت معراج کے موقع پر نہیں ہے، بلکہ سن ۲ ہجری میں فرض ہوئے ،اس سے پہلے  مکی دور میں  رسول اللہ ﷺ  اہتمام سے عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور مدینہ منورہ آنے کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں کو بھی بہت اہتمام سے اس کا حکم دیا، بہت سے فقہاء کے مطابق اس وقت عاشوراء کا روزہ فرض تھا، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کے روزے کی حیثیت استحباب کی رہ گئی۔ جیساکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عاشوراء کے دن قریش جاہلیت کے زمانے میں روزہ رکھتے تھے اور آپ ﷺ بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو بھی عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا، پھر جب رمضان کے روزے فرض کردیے گئے تو اب وہی فرض ہیں، اور عاشوراء کے روزے کی فرضیت چھوڑ دی گئی، اب جو چاہے رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔  (حدیث صحیح، جامع الترمذی، ابواب الصوم، باب ماجاء فی الرخصۃ فی ترک صوم یوم عاشوراء، (1/158) ط: قدیمی)
جب کہ  معراج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطاء کی گئیں، جس کی تفصیل صحیح مسلم  (1 / 157)کی اس حدیث میں مذکور ہے:
 ''حضرت عبداللہ  ؓ  فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کے لئے سیر کرائی گئی تو آپ ﷺ کو سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا جو کہ چھٹے آسمان میں واقع ہے زمین سے اوپر چڑھنے والی چیز اور اوپر سے نیچے آنے  والی چیز یہاں آکر رک جاتی ہے،  پھر اسے لے جایا جاتا ہے،  اللہ نے فرمایا: (اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) [ النجم : 16] کہ ڈھانک لیتی ہے وہ چیزیں کہ جو ڈھانک لیتی ہیں،  حضرت عبداللہ نے فرمایا:  یعنی سونے کے پتنگے۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں :
(۱) پانچ نمازیں۔ (۲) سورت البقرہ کی آخری آیتیں  (۳) اور آپ ﷺ کی امت میں ہر ایک ایسے آدمی کو بخش دیا گیا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور کبیرہ گناہوں سے بچا رہے۔