ماضی اور مستقبل کی شرائط پر قرضوں کی معافی کو معلق کرنا
سوال:
میرے ایک کاروباری دوست پر مختلف مدات میں کچھ پیسے نکلتے تھے ۔جب میں نے مانگیں تو اس نے کچھ رقم کے متعلق کہا کہ میں نے کاروبار میں لگائے تھے مگر مجھے نقصان ہوگیا اورکچھ کے بارے میں کہا کہ کسی کو ضرورت کے لیے دیے ہوئے ہیں مگر وصول نہیں ہورہے میں نے کہا کہ اگر کاروبارمیں نقصان ہوا ہے تو میں نے معاف کیے اور جس کو ضرورت کے لیے دیے تھے وہ اگروصول نہ ہوئے تو چلو وہ بھی رہنے دینا ،دینے کی ضرورت نہیں ہوگی مگر باقی میں نہیں چھوڑوں گا۔لیکن اب اس کے حالات اچھے ہیں تو میں اس سے اپنی پوری رقم مانگتا ہوں اور وہ کہتا ہے کہ آپ چھوڑ چکے ہیں جب کہ میرا کہنا ہے اسے اب دینے پڑیں گے۔
جواب:
جس رقم کے بارے میں آپ نے یہ کہا تھا کہ اگر نقصان ہوا ہے تو میں نے معاف کیے اوریہ ثابت ہوجائے کہ حقیقت میں نقصان ہوا تھا تو وہ رقم معاف ہوگئی ہے اوراس کا تقاضا اب ان سے نہیں ہوسکتا اور جس کے بارے میں یہ کہا تھا کہ اگر وصول نہ ہوئے تو رہنے دینا وہ معاف نہیں ہوئے ،یہ رقم اگر آپ کے دوست کو وصول نہ ہوئی پھر بھی آپ ان سے مطالبہ کرسکتے ہیں ۔اس کے علاوہ جو آپ کے بقایاجات ہیں اس کے متعلق تو آپ کہہ چکے تھےکہ میں نہیں چھوڑوں گا اس لیے ان کے مطالبے میں شرعی پہلو سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ (الدرالمختار 2/225- مجمع الانھر3/517)