شہر کی کسی عمارت کے ہال میں جمعے کی نماز قائم کرنے کا حکم
سوال:
ہمارا ادارہ کراچی کے ساحلی علاقے ہاکس بے پر واقع ہے، ادارے میں موجودہ مساجد میں علمائے کرام کی راہنمائی میں جمعہ کی نماز باقاعدہ ادا کی جاتی ہے، بعض ضروریات کی وجہ سے ادارے کی ایک عمارت میں بڑے ہال میں جمعہ کی نماز کا مزید اہتمام کیا گیا ہے، بعض لوگوں کے تحفظات ہیں کہ چوں کہ یہ مسجد نہیں ہے، اس لیے جمعہ نہیں ہوتا، پوچھنا یہ ہے کہ کیا جمعہ کا اجتماع قائم کرنے کے لیے مسجد کا ہونا لازمی ہے؟ اور مندرجہ بالا صورتِ حال میں جب کہ جمعہ کی دیگر شرائط موجود ہیں جمعہ کی نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
جواب:
جمعے کی نماز کو مسجد میں ادا کرنا اگرچہ جمعے کی شرائط میں سے نہیں ہے اور مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ جمعہ کی نماز قائم کرنے سے جمعہ ادا ہوجاتا ہے، لیکن چوں کہ جمعے کی نماز کا قیام دین کے شعائر میں سے ہے اور اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ شعائرِ دین کا عظیم الشان مظاہرہ ہو، یعنی جمعےکی جماعت کے ذریعے مسلمانوں کے اجتماع اور اسلام کی شان وشوکت کا اظہار کیا جائے ، اور یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب کہ جمعے کی نماز حتی الامکان بڑی سے بڑی جماعت کے ساتھ جامع مسجد میں ادا کی جائے، اس لیے جمعہ کی نماز جامع مسجد میں جاکر ہی پڑھنا چاہیے، کیوں کہ اسی طرح سے مسلمانوں کے اجتماع اور اسلام کی شان وشوکت کا اظہار ممکن ہے، جب کہ اس کے برخلاف مختلف اداروں کے مصلوں اور ہالوں میں جمعے کی نماز ادا کرنے کی صورت میں یہ مقصد فوت ہوجائے گا، اسی لیے فقہاءِ کرام نے بلا عذر مسجد کے علاوہ دیگر جگہوں میں جمعہ کی نماز پڑھنے کو ناپسندقرار دیا ہے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر جمعے کی نماز مسجد میں ادا کی ہے۔نیز مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ جمعہ کی نماز ادا کرنے کی صورت میں مسجد کا ثواب بھی حاصل نہیں ہوگا ، اگرچہ دیگر شرائط موجود ہونے کی صورت میں نماز ادا ہوجائے گی اور فرض ذمے سے ساقط ہوجائے گا۔اس لیے آپ لوگوں کو چاہیے کہ ادارے میں موجود مساجد میں ہی جمعے کی نماز قائم کرنے کا اہتمام کریں، کسی شدید ضرورت کے بغیر مسجد کو چھوڑ کر کسی عمارت کے ہال وغیرہ میں جمعے کی نماز قائم نہ کریں، البتہ کبھی کوئی سخت عذر ہو تو الگ بات ہے۔ اور اگر مسجد نہیں ہے تو مسجد بنانے کی کوشش کریں۔