PLS اکاؤنٹ سے صدقہ کرنے کی نیت سے منافع حاصل کرنا



سوال:
اگر ایک آدمی کو پی ایل ایس اکاؤنٹ سے منافع ملتا ہے۔ اور وہ اس منافع کو استعمال نہیں کرتا، بلکہ ضرورت مند لوگوں کو بلا نیت ثواب صدقہ کردیتا ہے، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ اور کیا ایسا شخص اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوگا؟
 
جواب:
واضح رہے کہ پی ایل ایس اکاؤنٹ پر ملنے والے  منافع شرعاً سود ہیں،اس لیے اس کا لینا اور استعمال کرنا ناجائز ہے۔نیز اس نیت سے حرام مال کمانا کہ اس کو خود استعمال نہیں کریں گے، بلکہ غریبوں پر صدقہ کریں گے،تو یہ صورت اختیار کرنا بھی  شرعاً جائز نہیں ہے،  ایسے لوگ  حرام  کا ارتکاب کرکے خود تو گناہ گارہوتے ہیں اورغریبوں کادنیوی  فائدہ کرتے ہیں، یہ بڑی نادانی ہے کہ انسان اپنا دینی نقصان کرکے دوسروں کابھلاکرے اور دوسروں کے دنیوی فائدے کے لیے اپنی آخرت بربادکرے۔
حرام  رقم اگر غلطی سے ملکیت میں آجائےتو  اسے واپس کرنا ضروری ہے اگر واپس کرنا ممکن ہو، ورنہ صدقہ کرنا لازم ہے، مگر اس کایہ مطلب نہیں کہ صدقہ کی نیت سے انسان حرام کماتا رہے،مشرکینِ مکہ سخت  قحط کے زمانے میں جواکھیلتے تھے اورجیتی ہوئی اشیاءخود استعمال میں نہیں لاتے تھے، بلکہ فقیروں پر صدقہ کردیا کرتے تھے، مگر اس کے باوجود ان کاعمل ناجائز اورحرام ہونے کی وجہ سے اس کی مذمت کی گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ صدقہ اور لوگوں کی فلاح وبہبود کی نیت سےحرام مال کمانے کی اجازت نہیں،  جیساکہ توبہ کی نیت سے گناہ کی اجازت نہیں  ہے اوراس وجہ سے بدپرہیزی کرنا معقول نہیں کہ دواموجود ہے؛ لہذا سوال میں ذکر کردہ طریقہ ناجائز ہے۔ اس  سے اجتناب لازم ہے۔